.ضمنی انتخابات میں پاک فوج کا مثبت کردار………….کالم نگار۔۔۔اصغرعلی مبارک۔۔۔۔۔کالم۔۔اندر کی بات۔۔……… پاک فوج کے مثبت کردار اور جنرل قمر جاوید باجوہ مدبرانہ سوچ و پروفیشنل اپروچ کے اپنے بیگانے سب اسیر ہوچکے ہیں کیا عام دیہاتی سے لیکر بیرون ملک کے سفراء باجوہ ڈاکٹرائن کے گن گاتے نظر آتےہیں, آرمی چیف جنرل باجوہ قانونی معاملات عدالتوں اور سیاسی معاملات کو پارلیمان میں حل کروانا چاہتے ہیں۔ اور فوج اس سے دور رہنا چاہتی ہیں۔پنجاب کے ضمنی انتخابات کے دوران پاک فوج کے مثالی کردار نے شفاف ۔پرامن انتخاب کو یقینی بنایا جس پر اپنے بیگانے سب تعریفیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ پنجاب پولیس اور ایف سی کے کردار کو سراہا ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن صوبائی حکومت کے تمام عہدیداران اور اہلکاروں کے کردار کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 7حلقوں میں سیکیورٹی کی فراہمی کیلئے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا جس کے بعد راولپنڈی، خوشاب، بھکر، فیصل آباد، شیخوپورہ اور جھنگ کے دو حلقوں میں فوج اور رینجرزکو تعینات کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں,۔پنجاب کے ضمنی انتخابات کے دوران پاک فوج کے مثالی کردار نے شفاف ۔پرامن انتخاب کو یقینی بنایا جس پر اپنے بیگانے سب تعریفیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ فوج ہی ملک و قوم کے تحفظ اور سالمیت کی واحد ضامن ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اس بار عملی طور پر خود کو سیاست سے دور رکھا, لاہور میں صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی تین سیٹوں پر کامیاب ٹھہری ہے جبکہ نون لیگ کے حصے میں یہاں صرف ایک سیٹ آئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو جن شہروں میں کامیابی ملی ہے ان میں لاہور کی تین اور جھنگ کی دو نشستوں کے علاوہ ملتان، خوشاب، شیخوپورہ، فیصل آباد، ساہیوال، لودھراں، مظفر گڑھ، بھکر ، لییہ اور ڈیرہ غازی خان کی ایک ایک نشست شامل ہے۔ جبکہ نون لیگ نے بہاولنگر، لاہور، ، راوالپنڈی اور مظفرگڑھ سے ایک ایک نشست حاصل کی ہے۔ مجموعی طور پر ان بیس حلقوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح پچاس فی صد کے قریب رہی ماضی میں بھی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے سیاستدانوں کو پیغام دیاجاتارہا ھے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے مگر پی ٹی آئی کی قیادت نے ہمیشہ فوج پر تنقید کو اپنا حق سمجھا اور انہیں بدنام کرنے کی تمام حدیں پار کردیں ملک میں حالیہ ضنمی انتخابات کے دوران صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک بار پھر مثالی کردار اداکیا اب یہ سیاست دانوں کا کام ہے کہ وہ عقلمندی سے کام لیتے ہوئے سیاسی فیصلے خود کریں اور اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر رولز آف گیم تیار کریں اور اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر بنیادی فیصلے ہمارے سیاسی رہنماوں نے کر لیے اور نگران حکومت قائم ہو گئی تو پھر ملک میں عدم استحکام پیدا نہیں ہوگا۔ ’’آئی ایم ایف کے کاغذات پر دستخط نگران حکومت بھی کر سکتی ہے۔ پاکستان میں سویلین بالادستی کا دور ہےماضی میں بھی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے سیاستدانوں کو پیغام دیاجاتارہا ھے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے مگر پی ٹی آئی کی قیادت نے ہمیشہ فوج پر تنقید کو اپنا حق سمجھا اور انہیں بدنام کرنے کی تمام حدیں پار کردیں, فوج اور آرمی چیف کیخلاف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر ملکی دفاع کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے۔فوج دشمن قوتوں کو مایوسی ہوگی، فوج موجودہ بحران سے سرخرو ہو کر نکلے گی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی جارجیت کا ہمیشہ دندان شکن جواب دیا، فوج اور آرمی چیف ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے ہیں، آرمی چیف کو نشانہ بنانے کا مطلب فوج کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشت گردی کے خاتمے میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں، عالمی سطح پر ملک و قوم کے وقار کو بلند کرنے کے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ ضنمی انتخابات کے دوران ن لیگ کو اس کی ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی لے ڈوبی،ن لیگ والے سمجھ رہے تھے کہ وہ تو اپوزیشن میں بھی ضمنی الیکشن جیتتے رہے ہیں اب تو ان کی اپنی حکومت ہے۔ منحرفین کے چھوڑ جانے اور پھر پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن لڑنے پر پی ٹی آئی کے ورکروں کو بہت غصہ تھا اور وہ جوش اور جذبے کے ساتھ انتخابی مہم میں دن رات متحرک رہے پی ٹی آئی کی ایک کامیابی یہ بھی ہے کہ اس نے پوری انتخابی مہم میں اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت کی ناکامیوں پر فوکس نہیں ہونے دیا بلکہ وہ عالمی شازش اور مخالفوں کی کرپشن کے گرد ہی باتیں کرتے رہے۔ پی ٹی آئی کا بیانیہ بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لئے مشکلات کا باعث بنتا رہا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی زمینی حقائق کا ادراک کرتی ہے یا نہیں . لیکن دوسری طرف مسلم لیگ نون کے روایتی کارکن اپنے حلقوں میں ان لوگوں کو ٹکٹ ملنے پر ناراض تھے جنہوں نے انہیں پچھلے عام انتخابات میں ہرایا تھا۔ وہ مریم نواز کے جلسوں میں تو آئے لیکن انہوں نے ووٹروں کو متحرک نہیں کیا۔پنجاب ملنے کے بعد پی ٹی آئی کے لئے اسلام آباد پر یلغار کرنا بہت آسان ہو جائے گا۔ یہ صورت حال 1988والی ہونے جا رہی ہے جب مرکز میں بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی اور پنجاب میں وزیراعلی نواز شریف تھے۔ ان کی محاذ آرائی دونوں حکومتوں کو لے ڈوبی تھی۔اگر آنے والے دنوں میں محاذ آرائی بڑھی تو اس سے سیاسی تناو میں اضافہ ہو گا اور معاشی استحکام کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں گی,ضنمی انتخابات کے دوران تقریبا سارے ہی تجزیہ نگاروں کے اندازے غلط نکلے۔ وہ جس پارٹی کو پانچ سے زیادہ نشستیں نہیں دے رہے تھے اس نے پندرہ نشستیں حاصل کر لیں۔ اصل میں وجہ اس کی یہ ہے کہ ہمارے تجزیہ نگار عوام کی سوچ کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ عوام میں نہیں جاتے اور اوپر اوپر سے حالات و واقعات کا جائزہ لے کر اپنی رائے بنا لیتے ہیں۔پنجاب کے ضمنی انتخابات میں عمران خان کے بیانیے کو عوام کی طرف سے زوردار تائید ملی ہے مسلم لیگ نون نے اپنی شکست کو تسلیم کرکے اچھی روایت قائم کی ہے۔ اب حمزہ شہباز کو وزارت اعلی سے مستعفی ہونا چاہیے اور نئے زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اگر شہباز شریف نئے انتخابات پر آمادگی ظاہر کر دیں تو پھر عمران خان کو حکومت سے مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو کھلے دل سے نتائج تسلیم کرنے چاہییں ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے فیصلے کے سامنے سر جھکانا چاہیے، سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے، دل بڑا کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاں جہاں کمزوریاں ہیں ان کی نشاندہی کرکے انھیں دور کرنےکے لیے محنت کرنی چاہیے، انشاءاللّہ خیر ہوگی.پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما ملک احمد خان نے بتایا کہ ہمارے پاس عددی برتری نہیں رہی۔ “پنجاب ہمارے ہاتھ سے جا رہا ہے۔ ہم عوام کی رائے کا احترام کریں گے۔”پنجاب کے وزیر اعلی حمزہ شہباز کی حکومت اب محض چند دنوں کی مہمان ہے اور تحریک انصاف کے اتحادی چوہدری پرویز الہی صوبے کے نئے وزیر اعلی بن سکتے ہیں۔تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے، پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب کے ضمنی الیکشن کی بیس نشستوں میں سے پندرہ پر کامیابی حاصل کر لی۔ اس طرح پنجاب کے وزیر اعلی حمزہ شہباز کی حکومت اب اگلے چند دنوں کی مہمان ہے اور پی ٹی آئی کے اتحادی چوہدری پرویز الہی کے وزیر اعلی پنجاب بننے میں بظاہر کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی ہے۔تحریکِ عدم اعتماد آتے وقت یہ واضح نہیں تھا کہ فوج کا مؤقف کیا ہے مگر اب اس حوالے سے فوج کا مؤقف اور عدلیہ کا فیصلہ آ چکا ہے چنانچہ مبینہ امریکی سازش کے بیانیے میں زیادہ وزن نہیں رہا عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں تحریکِ عدم اعتماد اور بعد میں عدلیہ کے فیصلے نے کردار ادا کیا ہے۔ ’فوج کے نزدیک یہ بات ایک سیاسی آلے کے طور پر استعمال ہو رہی تھی اور اُنھوں نے اب اس بات کا برملا اظہار کر دیا ہے کہ اُن کے نزدیک اس معاملے میں ایسا کچھ نہیں تھا۔سابق وزیر اعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران اپنی جیب سے ایک مبینہ خط نکالا اور اُسے لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ متحدہ اپوزیشن ایک ’بیرونی سازش‘ کے ذریعے اُن کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ خط اس مبینہ سازش کا ثبوت ہے۔بعد میں کہا گیا کہ یہ خط دراصل ایک سفارتی مراسلہ ہے۔
اس جلسے کے بعد انھوں نے متعدد مواقع پر بارہا یہ دعویٰ کیا کہ اس مراسلے کے مطابق ایک امریکی سفارتکار نے پاکستانی سفیر سے ایک سرکاری ملاقات کے دوران مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی تو پاکستان کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔عمران خان کہتے رہے کہ سات مارچ کو ہونے والی اِس ملاقات کے وقت تک تحریک عدم اعتماد کا کوئی وجود نہیں تھا۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اپوزیشن کئی ہفتے پہلے یہ اعلان کر چکی تھی کہ وہ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ہٹائیں گے۔تین اپریل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دن اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے مسلسل تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے مطالبات کے بعد ڈپٹی سپیکر نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘عدم اعتماد کی تحریک آئین، قانون اور رولز کے مطابق ہونی ضروری ہے۔ کسی غیر ملکی طاقت کو حق نہیں کہ سازش کے تحت پاکستان کی منتخب حکومت کو گرائے۔‘اس کے فوراً بعد وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر صدر عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی لیکن سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو آئین سے متصادم قرار دے کر سات اپریل کو قومی اسمبلی کو بحال کر دیا۔نو اپریل کو تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہو گئی لیکن وہ پھر بھی اپنے خلاف سازش کے بیانیے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ ڈپٹی سپیکر کی 3 اپریل کی رولنگ سے پہلے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ میں تیار ہونے والی یہ ’سازش‘ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ’بے نقاب‘ کی گئی جہاں فوجی سربراہوں کی موجودگی میں اس سازش کی تفصیل بتائی گئی۔انھوں نے کہا تھا کہ ’نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کے مِنٹس میں یہ بات لکھی گئی کہ یہ جو عدم اعتماد آئی ہے اس کی سازش باہر تیار ہوئی۔‘عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے مبینہ غیر ملکی سازش اور اس حوالے سے ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس کی کارروائی سے متعلق جواب دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فوج نے اس حوالے سے اپنا مؤقف میٹنگ میں دیا جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں واضح ہے کہ میٹنگ میں کیا کہا گیا تھا۔ ’اعلامیے کے اندر بڑے واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے کہ کیا تھا اور کیا نہیں تھا، آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا سازش کا لفظ ہے اس اعلامیے میں، میرا نہیں خیال۔‘حالیہ چند دنوں میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان میں سڑکوں سے لے کر سوشل میڈیا تک فوجی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے کئی سوالوں نے جنم لیاعمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے اور اب حکومت جانے کے بعد بھی مبینہ غیر ملکی سازش کو اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔عمران خان کی طرف سے حکومت کے خاتمے کو ’بین الاقوامی سازش‘ قرار دینے کا بیانیہ ان کے حامیوں میں بظاہر زور پکڑتا نظر آ رہا ہے اور اس سب کے درمیان ان کی حکومت کی کارکردگی پر بحث کہیں دب کر رہ گئی ہے۔ فوج نے خود کو اس معاملے کے کافی سارے پہلوؤں سے دور کر لیا ہے۔پنجاب کے ضمنی انتخابات کے دوران پاک فوج کے مثالی کردار نے شفاف ۔پرامن انتخاب کو یقینی بنایا تحریک انصاف کے اتحادی چوہدری پرویز الہی صوبے کے نئے وزیر اعلی بن سکتے ہیں۔حمزہ شہباز کے بطور وزیر اعلیٰ رہنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت کو اسمبلی میں 186 ارکان کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ضمنی انتخابات میں کم از کم 10 نشستیں درکار تھیں، جبکہ پرویز الہٰی کو حمزہ شہباز شریف کی جگہ لینے کے لیے 13 نشستیں درکار ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں اس وقت ارکان کی تعداد 350 ہے، پی ٹی آئی کے 163 اور اس کی اتحادی مسلم لیگ (ق) کے 10 ارکان ہیں، مسلم لیگ (ن) کے ایوان میں 164 ارکان ہیں جبکہ اس کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے 7، 4 آزاد اور ایک کا تعلق راہ حق پارٹی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے اپریل میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے بعد 25 نشستوں میں سے 5 مخصوص نشستوں کے علاوہ 20 خالی نشستوں پر پولنگ ہوئی ، سپریم کورٹ کی ہدایت پر 22 جولائی کو وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے دوبارہ انتخاب ہوگا۔ ضمنی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 40 فیصد سے زیادہ رہا جو کسی بھی ضمنی انتخاب میں غیر معمولی ہے۔ 3ہزار 140پولنگ اسٹیشنز میں سے 14 پر معمولی تصادم ہوا پنجاب پولیس نے لاہور کے حلقہ پی پی 167 میں انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریلیاں نکالنے پر پی ٹی آئی کے 13 کارکنوں کو گرفتار کیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی حتمی پولنگ اسکیم کے مطابق ان حلقوں میں مجموعی طور پر 45 لاکھ 79 ہزار 898 رجسٹرڈ ووٹرز تھے ان 20 حلقوں میں کُل 3 ہزار 131 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، مردانہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 731، خواتین کے لیے 700 جبکہ 1700 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے 20 میں سے خاص طور پر 5 حلقوں میں فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی قسم کے پر تشدد واقعے سے بچنے کے لیے الرٹ رکھا گیا ، جن میں سے 4 لاہور میں اور ایک ملتان میں تھا۔ وزارت داخلہ نے 2 ہزار ایف سی اہلکار بھی سیکیورٹی کی صورت حال بہتر رکھنے کے لیے تعینات کیےتھے۔ وزارت داخلہ نے 2 ہزار ایف سی اہلکار بھی سیکیورٹی کی صورت حال بہتر رکھنے کے لیے تعینات کیےتھے۔ خیال رہے کہ دس بارہ امیدوار تو وہ تھے جو گزشتہ انتخابات میں دونوں پارٹیوں کے مقابلے میں جیتے تھے اور اب کی بار تحریک انصاف چھوڑ کر مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے۔ باقی وہ تھے جو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوکر منحرف ہوئے اور ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑرہے تھے۔ تحریک انصاف کا مقابلہ اپنے ہی منحرفین سے تھا۔ جبکہ ن لیگ ان کا اخلاقی بوجھ اُٹھا کر تحریک انصاف کی جیتی نشستیں چھین لینے کی تگ و دو کررہی تھی ۔ تحریک انصاف نے بھی کچھ جگہوں پر ن لیگ کے منحرفین کو ٹکٹ دیا تھا اور زیادہ تر نشستوں پر مقابلہ منحرفین ہی میں تھا۔لوٹے قرار دیے نمائندگان ملک کے مستقبل قریب کی سیاست کا تعین کریں گے۔ انتخابات سے چند روز قبل سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے نے عمران خان کے بیرونی سازش کے بیانیے سے کافی ہوا نکال دی، لیکن اس کا فائدہ پہلے ہی عمران خان کو مل چکا تھا۔ مہنگائی کا بوجھ اس بار وزیراعظم شہباز شریف پر تھا اور دو روز قبل انہوں نے تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر کے کچھ بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کی بھی تو اثرات بعد میں آنے ہیں اس دوران عمران خان کے بیانیے نے ایک بڑا یوٹرن لیا جس کے وہ بڑے ماہر ہیں۔ پہلے وہ اسٹیبلشمنٹ یا فوج کے سیاست میں نیوٹرل ہونےکی مخالفت کر تے تھے اور مسلسل دباؤڈال رہے تھے کہ فوج ان کا ساتھ کیوں نہیں دے رہی۔ اب کچھ دنوں سے وہ XY کا ذکر کرتے ہوئے فوج سے انتخابات میں نیوٹرل رہنے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ فوج بھی نیوٹرل رہنے پہ مصر ہے۔ سیاسی کشیدگی کی انتہا پہ تینوں فریقین میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں غیر جانبدار کردار بارے اتفاق رائے حیران کن طور پر خوشگوار ہے۔ اتحادی حکومت کی کابینہ نے ڈپٹی اسپیکر،ا سپیکر، وزیراعظم اور صدر کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کے دوران آئین و قانون کی پامالی کے جرم میں آئین سے غداری کا مقدمہ (آرٹیکل6) قائم کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دے کر ایک انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ اگر سیاستدانوں نے ایک دوسرے کو غدار قرار دے کر آرٹیکل چھ کا اطلاق کرنا شروع کیا تو سیاست بچے گی نہ آئینی حکمرانی۔ پاکستان کی معاشی بنیاد انتہائی نحیف ہے اور اسی پر ریاست و سلامتی کے بوجھ حد سے زیادہ ہیں۔ یوں کہئے کہ پاکستان معاشی و ریاستی اعتبار سے ناپائیدار ہے۔ اور پائیداری کے ہمارے آزمودہ اسٹریٹجک نسخے بار بار ناکام ہوچکے ہیں۔ سیاستدانوں کی ناکامی کہیں پاکستان کوبدقسمتی سے ناکام ریاست میں نہ بدل دے۔ اتحادی حکومت، تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ اس ملک کے دیر پا اور پائیدار جمہوری و معاشی مستقبل کے لئے تین بنیادی نکتوں پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے جسے رولز آف گیم بھی کہا جاتا ہے۔ (1) اقتدار کے تمام ستونوں، سول ملٹری تعلقات، وفاق اور صوبوں میں آئین کی مکمل عملداری اور آئینی و جمہوری تسلسل۔ (2) معیشت کے بنیادی تقاضوں پہ اتفاق رائے، شراکتی اور پائیدار ترقی، خواص کے قبضے کا خاتمہ اور غریبی و آبادی پہ موثر کنٹرول۔ (3) پرامن اور علاقائی تعاون پہ مبنی سلامتی و خارجہ پالیسیاں۔ یہ سب ممکن ہے بشرطیکہ تینوں فریق معروضی تقاضوں کے سامنے سر جھکانے کے لئے تیار ہوں او راپنے اپنے مفاد کی خاطر وطن عزیز کو داؤپر لگانے سے اجتناب کریں تمام سروے ہمارے بتا رہے تھے کہ آج تحریک انصاف کامیاب ہوگی، 22 جولائی کو چوہدری پرویز الہٰی وزیراعلیٰ پنجاب بن جائیں گے۔ نتائج سے پاکستان کی پوری سیاست بدل گئی ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں 15 نشستیں جیتنے کا دعویٰ کیاتھا تحریک انصاف سے زیادہ اب مسلم لیگ ن کی ضرورت ہے کہ نئے انتخابات ہوں۔
ضمنی انتخابات میں پاک فوج کا مثبت کردار………….کالم نگار۔۔۔اصغرعلی مبارک۔۔۔۔۔کالم۔۔اندر کی بات۔









