


''صحافی ’قتل‘ کیلئے آسان ہدف'' سال 2018 فرائض کی انجام دہی کے دوران 53 صحافیوں کو قتل کیا گیا، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس
….رپورٹ ..اصغر علی مبارک سے … پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کے محافظوں کی طرف سے نجی ٹی وی چینل سما کے کیمرہ مین واجد علی پر تشدد کا واقعہ کوئی نیا نہیں تھا یہ واقعہ قومی اسمبلی کے احاطے سے نواز شریف کی روانگی کے وقت پیش آیا اور اس کے ویڈیو کلپس سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شیئر کیے گئے یہ واقعہ عام نہیں بلکہ اسے صحافتی پابندیوں کی ایک جھلک قرار دے سکتے ہیں صحافتی پابندیوں کے خلاف عالمی یوم آزادیِ صحافت منانے کا آغاز1991سے نمیبیا سے شروع ہوا جبکہ 1993 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے3 مئی کو ہر سال اس دن کو منانے کا اعلان کیا۔ ۔اس دن اہل صحافت اس بات کی تجدید کرتے ہیں کہ پر تشدد عناصر یا ریاستی دباؤ کے بغیر آزاد صحیح اور ذمہ دارانہ اطلاعات عوام تک پہنچانے کے بنیادی حق کے لیے لڑتے رہیں گے اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی یکسوئی سے جاری رکھنے کا عزم کرتے رہیں گے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ آزادیِ صحافت ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی ہے۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی ایف جے کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں صحافی خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک میں گلوبل پاور گیم کی وجہ سے صحافیوں کو آزادانہ اور شفاف رپورٹنگ کے دوران بڑھتی ہوئی سختیاں بھی جھیلنی پڑتی ہیں بلکہ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جس کی کئی مثالیں بلوچستان کے صحافیوں سے لی جا سکتی ہیں۔ اب تک بلوچستان میں تقریبا 45 صحافی احسن طریقے سے کام کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔سال 2018 میں جنگ اور تنازعات کا خطرہ تو کم ہوگیا لیکن صحافیوں کو ان کے کام کی بنا پر حملوں کا نشانہ بنائے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ، سال 1990 سے لے کر اب تک دنیا بھر میں 2500 صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے اور تین مئی کو آزادی صحافت کے عالمی دن صحافتی حقوق کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کے مطابق صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔30 اپریل صحافیوں کے لیے بہت سخت دن تھا جب افغانستان میں دو علیحدہ واقعات میں 10 صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔دوسری جانب، اسی دن افغانستان کے خوست کے علاقے میں بی بی سی کے نمائندے احمد شاہ کو موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے ان کے گھر کے نزدیک قتل کر دیا۔پہلے کابل میں ایک خودکش دھماکے کے بعد جب جائے وقوع پر صحافی جمع ہوئے تو 15 منٹ کے بعد وہاں پر خود کو صحافی کی طرح پیش کرنے والے ایک اور خودکش بمبار وہاں پر حملہ کر دیا۔
نوے کی دہائی میں مرنے والے صحافیوں کی تعداد زیادہ تھی اور یہ وہ دور تھا جب الجزائر، سابق یوگوسلاویہ اور افریقی ملک روانڈا میں خانہ جنگی جاری تھی۔ اس کے بعد بتدریج کمی دیکھنے میں آئی لیکن پھر 2003 میں عراق جنگ کے شروع ہونے کے بعد تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہوا اور 2006 اور 2007 صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک سال ثابت ہوئے تھے جب بالترتیب 155 اور 135 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میڈیا واچ ڈاگ ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ (سی پی جے) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل ہونے والے 53 میں سے 34 صحافیوں کو باضابطہ طور پر ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔نیو یارک سے تعلق رکھنے والے میڈیا واچ ڈاگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ صحافیوں کو رواں سال ان کے کام کی بنا پر قتل کے لیے نشانہ بنائے جانے والے واقعات کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دگنی رہی، جس کی بنا پر فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد بھی زیادہ ہے۔رپورٹ میں پیرس سے تعلق رکھنے والے میڈیا واچ ڈاگ ’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ کی اسی طرح کی رپورٹ پر خدشات کی گونج بھی سنائی دی، جس نے بلاگرز، شہری صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ملا کر رواں سال قتل کیے جانے والے صحافیوں کی تعداد 80 بتائی تھی۔دونوں رپورٹس میں کہا گیا کہ رپورٹرز کو انتقام کے لیے نشانہ بنانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، ساتھ ہی واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کو ’ڈھٹائی‘ قرار دیا گیا۔سی پی جے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ صحافیوں کو کام کے دوران قتل کیے جانے کے واقعات کی تعداد گزشتہ تین سالوں کے دوران سب سے زیادہ ہے، لیکن تنازع کے دوران ہلاک صحافیوں کی تعداد 2011 کے بعد کم ترین سطح پر رہی۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں 47 صحافی قتل ہوئے تھے جن میں سے 18 کو باضابطہ طور پر نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔رواں سال صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک ’افغانستان‘ رہا جہاں شدت پسندوں کی جانب سے صحافیوں پر منصوبہ بندی کے تحت حملوں میں اضافہ ہوا۔سی پی جے نے صحافیوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی قیادت کے فقدان کو افسوسناک قرار دیا، جس کی وجہ سے صحافیوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی ایلانا بیسَر کا کہنا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق جس ریاست کے سربراہ نے سب سے زیادہ بات کی وہ ترک صدر رجب طیب اردوان تھے، جن کی حکومت نے موثر طور پر آزاد میڈیا کی آواز بند کی اور جہاں مسلسل تیسرے سال دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ صحافیوں کو جیل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ’وائٹ ہاؤس، جو عام طور پر میڈیا کی آزادی کا سب سے زیادہ دفاع کرتا ہے، اس نے خاشقجی کے قتل کے الزم پر ٹال مٹول سے کام لیا، اس سے بڑھ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا وہ ممالک جو امریکا سے وافر تجارت کرتے ہیں، وہ نتیجے کی پرواہ کیے بغیر صحافیوں کو قتل کرنے کے لیے آزاد ہیں۔واچ ڈاگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ 2018 میں دیگر 23 صحافیوں کے قتل کی تحقیقات بھی کر رہا ہے، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ ان کی ہلاکت فرائض کی انجام دہی کے دوران ہوئی یا نہیں۔علاوہ ازیں پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد بھی صحافیوں کے لیے ایک غیر محفوظ شہر بنتا جا رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں گزشتہ پانچ ماہ میں کم از کم پانچ صحافیوں پر حملے ہو چکے ہیں۔صحافی احمد نورانی پر 27 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے علاوہ کم و بیش اسی طرز پر مخلتف اداروں کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کیا گیا یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا نشانہ مقامی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے لیے کام کرنے والے صحافی بھی بنے۔مقامی ٹی وی چینل وقت نیوز سے وابستہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان چوبیس ستمبر کو اتوار کے دن اسلام آباد میں بارہ کہو کے مقام پر اپنی گاڑی میں تھے جب ایک موٹر سائیکل پر دو سوار آئے۔ ان میں سے پیچھے بیٹھے شخص نے ونڈ سکرین پر اینٹ دے ماری جس سے ڈرائیونگ سائڈ کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی۔ گاڑی میں اس وقت مطیع اللہ جان کے بچے بھی موجود تھے۔
یکم جون کو ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے لیے کام کرنے والے نوجوان صحافی زیشان علی کو دو مسلح افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ذیشان رمضان کے سلسلے میں کوریج کے بعد اپنی موٹر سائیکل پر جی سِکس سیکٹر میں واقع دفتر واپس آ رہے تھے جب موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے ان کا راستہ روکا اور تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ارنا کے بیورو چیف کے مطابق حملہ آور سادہ لباس میں تھے، ان کے پاس پستول اور چاقو تھے۔ انہوں نے زیشان علی سے کیمرہ چھینا اور مار پیٹ کی۔جون ہی کے پہلے ہفتے میں جیو نیوز سے وابستہ صحافی اعزاز سید کو ایک کار اور ایک موٹر سائیکل پر سوار نا معلوم افراد نے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ بنی گالا پولیس سٹیشن کے قریب پارک روڈ پر ان کی گاڑی کو روک کر انہیں باہر آنے کو کہا گیا لیکن وہ گاڑی روکے بغیر شہزاد ٹاؤن کے تھانے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔دو اکتوبر کو اسلام آباد میں احتساب عدالت میں وفاقی وزیر احسن اقبال کو رینجرز کی جانب سے عدالت میں داخلے سے روکا گیا۔ اس دن مبینہ طور پر صحافیوں نے فوج کے ایک افسر کی ویڈیو ریکارڈ کر لی جس میں صحافی ان سے سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ جج سے ملاقات کر کے آرہے ہیں جس پر جواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ویڈ یو سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ویڈیو بنانے والے صحافی کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی دباؤ میں تھے اور اب وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند یا ڈی ایکٹیویٹ کر چکے ہیں۔ جیو نیوز میں کام کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ ادارے کی جانب سے انہیں فوج پر براہ راست تنقید یا سوال کرنے پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مقامی اخبار ‘کے ٹو ٹائمز’ کے بیوروچیف بخشش الہیٰ اتوار کو اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ موٹرسائیکل سواروں نے ان کا پیچھا کیا اور بیچ سڑک انھیں گولیاں مار کر فرار ہو گئے تھے
گذشتہ سال دنیا بھر میں 262 صحافیوں کو جیل کی سزا ہوئی تھی اور یہ تعداد گذشتہ تین دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔واضح رہے کہ ان عداد و شمار کے مطابق ترکی میں 73 صحافی جیل میں ہیں جبکہ چین میں تعداد 41 اور مصر میں 20 ہے۔پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں چھبیس صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ ان صحافیوں کے قاتل ابھی تک قانون کی گرفت سے باہر ہیں پاکستان کو دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جہاں میڈیا کارکن اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہیں۔ پاکستان میں دو ہزار تیرہ سے لے کر آج تک دو درجن سے زائد صحافیوں کے قتل اور میڈیا کارکنوں کو ڈرانے دھمکانے کے سینکڑوں واقعات کو کئی ماہرین اس وجہ سے بھی پریشان کن اعداد و شمار قرار دے رہے ہیں کہ جمعہ دو نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کے سزاؤں سے بچ جانے کے خلاف اقوام متحدہ کا عالمی دن منایا جا تا ہے۔
صحافیوں پر حملوں اور دیگر وارداتوں سے متعلق معلومات جمع کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک نے اس سلسلے میں بتایا،’’فریڈم نیٹ ورک کی یہ تازہ رپورٹ گزشتہ پانچ سال میں صحافیوں کے سیفٹی اور سکیورٹی کے جو مسائل ہیں، ان کے حوالے سے ہے۔ سن 2000 سے آج تک ایک سو بیس سے زائد پاکستانی صحافیوں کا قتل ہو چکا ہے جبکہ دو ہزار تیرہ سے دو ہزار اٹھارہ کے درمیان چھبیس صحافیوں کا قتل ہوا۔ پاکستان میں صحافیوں کو پیش آنے والی مشکلات اور ان پر کیے جانے والے حملوں کے بارے میں کافی معلومات میسر ہیں لیکن وہ صحافی جن کو قتل کر دیا جاتا ہے، ان کے لواحقین کو انصاف ملنے کے بارے میں ہمارے پاس بالکل کوئی معلومات نہیں ہیں۔ دو ہزار تیرہ سے دو ہزار اٹھارہ کے درمیان ان چھبیس صحافیوں کے لواحقین کو بھی انصاف نہیں ملا۔’’2013 سے 2018 کے درمیان قتل کیے جانے والے چھبیس صحافیوں کے قاتلوں میں سے کسی ایک پر بھی ابھی تک کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ ان میں سے گیارہ کیسز تو ایسے تھے، جن میں پولیس کو اپنی تحقیقات مکمل بھی نہیں کرنے دی گئیں جبکہ صرف پندرہ ایسے کیس تھے جنہیں کورٹ میں پیش کرنے کے قابل سمجھا گیا۔ لیکن ان میں بھی کسی ملزم کو سزا نہیں سنائی جا سکی۔ دوسری جانب ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق رواں برس کے دوران 73 صحافی اور میڈیا کارکنان قتل کیے گئے۔ یہ تمام جنگی اور تنازعات کے شکار علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران ہی ہلاک نہیں کیے گئے۔ گزشتہ کئی سالوں سے صحافی برادری کو مختلف قسم کی مشکلات اور خطرات کا سامنا ہے۔..
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ، خاندان کے افراد کو اپنے حفظ و امان میں رکھے؛آمین




