سیکیورٹی خدشات;پاکستان کا بھارت میں ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کھیلنے سے انکار
( اصغر علی مبارک )
پاکستان نے بھارت میں سیکیورٹی خدشات پر ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی کھیلنے سے انکار کردیا ہے جبکہ بھارتی ہاکی فیڈریشن نے پاکستان کی ایونٹ کو نیوٹرل وینیو منتقل کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی 2026 کا انعقاد 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک بھارت کے شہروں جالندھر اور موہالی میں شیڈول ہے۔خیال رہے کہ پاکستان نے بھارت میں اپنے میچز کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے مقابلے نیوٹرل وینیو پر کرانے کا کہا تھا۔ ایونٹ میں پاکستان، بھارت، چین، جاپان، ملائیشیا اور کوریا کی ٹیمیں شریک ہیں، جبکہ ٹورنامنٹ کے میچز جالندھر اور موہالی میں کھیلے جانے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست 2025 میں پاکستان نے بھارت میں سیکیورٹی خدشات پر ایشیا کپ میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا, پی ایچ ایف نے آر ایس آر کی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستان ہاکی ٹیم کا بھارت نہیں بھیجا تھا۔
بھارتی ریاست بہار کے شہر راج گیر میں 29 اگست سے 7 ستمبر2025 تک ایشیا ہاکی کپ شیڈول تھا ، بھارت نے ایشیا ہاکی کپ سے پاکستان کو باہر کرکے بنگلہ دیش کو شامل کرلیا گیا تھا پاکستان ہاکی فیڈریشن نے خط کے ذریعے اے ایچ ایف کو سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا تھا ایشین ہاکی فیڈریشن نے بھارت کے دباؤ میں آکر یکطرفہ طور پر پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کو شامل کیا تھا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق پاک بھارت موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر ایشین چیمپئنز ٹرافی کو نیوٹرل مقام پر منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ایڈہاک صدر محی الدین احمد وانی کا کہنا تھا کہ ایشین ہاکی فیڈریشن سے مینز ایشین چیمپئنز ٹرافی 2026 کے ٹورنامنٹ یا پاکستان کے تمام میچز کسی غیر جانب دار مقام پر منتقل کیے جائیں۔ پاکستان قومی کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے محفوظ ماحول چاہتا ہے، اسی لیے ایونٹ کے مقام کی تبدیلی کی درخواست کی گئی۔دوسری جانب بھارتی ہاکی فیڈریشن نے واضح کیا ہے کہ ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی بھارت میں ہی شیڈول کے مطابق کھیلی جائے گی۔بھارتی ہاکی فیڈریشن کے صدر بھولا ناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر پاکستان ایونٹ میں شرکت کے لیے بھارت نہیں آتا تو متبادل ٹیم کو ٹورنامنٹ میں مدعو کیا جائے گا۔