سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا مثالی کردار……….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…………پاکستان آرمی وطنِ عزیز کا ایک ایسا ادارہ ہے جس نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی ایک ٹھوس اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ پاک فوج کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دن رات مثالی کردار ادا کرنے سے دیگر اداروں کے کارکنوں کے جذبے میں اضافہ دیکھنے کو نظرآیاھے وقت گواہ ہے کہ اگر اس پاک سرزمین نے لہو کا خراج مانگا تو وہاں افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے ہمیشہ سبقت لی, اسی طرح ملک نے جب بھی ہنگامی حالات کا سامنا کیا پاک فوج کے جانبازوں نے ملک کے وقار کو بلند کیا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بحفاظت نکالنا ہو یا ان لوگوں کو ریلیف مہیا کرنا ہوں ، پاک فوج نے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں اپنا کردار نبھایا۔ . آج کل پاک فوج کے دستے ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ سیلابی ریلے سے متاثرہ علاقوں می امدادی سرگرمیوں اور ریسکیو آپریشنز میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں، فوج نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں عالمی ادارہ صحت نے رواں ہفتے انسداد ہیضہ کی ویکسینیشن مہم شروع کی تاکہ پانی کے سبب پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کی جا سکے۔ بلوچستان میں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال میں ہزاروں گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ اموات کی تعداد 104 ہو چکی ہے۔۔پاک فوج نے حب، لسبیلہ، اوتھل، زیروپوائنٹ، دیودر اور غذر جی بی میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں جہاں لوگوں کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔ لسبیلہ، اوتھل، جھل مگسی، خضدار اور دیگر متاثرہ علاقوں میں 7.5 ٹن غذائی اشیاء، پناہ گاہیں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ پاکستان آرمی اور ایف سی بلوچستان کی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں متاثرہ آبادی کو بنیادی غذائی ضروریات اور طبی امداد فراہم کرنے میں مسلسل مصروف ہیں۔متاثرہ علاقوں سے ڈی واٹرنگ پمپوں اور ٹینکروں کے ذریعے پانی نکالا جا رہا ہے۔ بولان، لسبیلہ، اوتھل اور جھل مگسی اور غذر میں سیلاب کے دوران پھنسے 700 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔امدادی سرگرمیوں اور سیلاب کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے مختلف مقامات پر اسٹینڈ بائی ریسپانس ٹیمیں تعینات ہیں۔پاک فوج کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں پانی کو صاف کرنے اور متاثرہ آبادی کو بنیادی غذائی ضروریات اور طبی امداد فراہم کرنے میں مسلسل مصروف عمل ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے دستے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔پاک فوج کی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں متاثرہ آبادی کو غذائی اور طبی امداد دے رہی ہیں۔پاک فوج کی ڈی واٹرنگ ٹیمیں ضلع جامشورو، گھارو گرڈ اسٹیشن میں موجود ہیں۔پاک فوج کی ٹیمیں کراچی کے ضلع جنوبی سمیت شارعِ فیصل، نیپا چورنگی، صوبہ بلوچستان میں جنوبی لسبیلہ، تربت اور کوئٹہ میں بھی امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔پاک فوج کی ٹیموں نے طبی سہولتوں سمیت ریلیف کیمپ قائم کیے اور مقامی رہائشیوں میں ضروری خوراک اور راشن بھی تقسیم کیا ہے۔ بلوچستان میں 14 جون سے شروع ہونے والی بارشوں کے سبب سڑکوں اور پلوں کے ساتھ ساتھ چار ہزار سے زائد گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے بتایا گیا کہ بارشوں کے سبب ملک بھر میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 337 تک پہنچ چکی ہے۔ بلوچستان کے صرف ضلع لسبیلہ کے مختلف دیہات میں سینکڑوں افراد سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ پاک فوج متاثرہ افراد کو خوراک، رہائشی خیمے اور دیگر ضروری سامان فراہم کر رہی ہے۔پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں گزشتہ روز کہا گیا کہ پاکستانی فوج صوبہ بلوچستان میں سیلاب میں گھرے افراد کو نکالنے کے لیے مقامی انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان طوفانی بارشوں نے ہر جگہ تباہی پھیلائی، بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، چترال، کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں بے پناہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور بے پناہ نقصانات ہوئے، اللہ سے دعا ہے کہ جانے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد سے جلد صحت عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت چوکنا ہے، اس صورتحال کے حوالے سے چاروں صوبوں کے ساتھ اجلاس کر چکا ہوں، جہاں لوگ زخمی ہیں اور لوگ اللہ کو پیارے ہوئے اور جہاں مالی نقصانات ہوئے، وہاں پر صوبائی حکومتیں پوری طرح دن رات کام کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وفاق نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں بھرپور طریقے سے وفاقی حکومت شریک ہے، نقصان زیادہ ہے، جو لوگ اللہ کو پیارے ہو گئے ان کے لیے کسی بھی حد تک مالی تعاون سے ان کے دل کی تسلی نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ وفاقی حکومت قطعاً کسی بھی طرح پیچھے نہیں رہے گی، جو ہم نے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے اس میں مزید اضافہ کریں گے، ایک اور اجلاس بلایا ہے، جس میں متعلقہ اراکین قومی اسمبلی، متعلقہ ادارے اور سرکاری افسران شامل ہوں گے، تمام معزز اراکین کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی سفارشات کے پیش نظر کر ہم مزید فیصلے کریں گے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کسانوں کو جو نقصان ہوا ہے، اس حوالے سے بھی بھرپور کردار ادا کریں گے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جو کچھ کرسکتی ہے وہ کریں گے، پورے پاکستان میں جہاں پر بھی نقصانات ہیں ان کا مداوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کل اس حوالےسے ایک اور اہم اجلاس طلب کیا ہے، کسانوں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کریں گے، بارش سے متاثرہ افراد کی امداد کا سلسلہ جاری ہے، وفاق اور این ڈی ایم اے صوبائی حکومتوں کی مدد کر رہے ہیں۔حالیہ مہینوں کے دوران بلوچستان میں ہیضے کے سبب 28 اموات ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان میں اکثر ہیضہ کی وبا پھیل جاتی ہے کیونکہ وہ بہت سے لوگوں کی پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہوتی۔طبی حکام کے مطابق انسداد ہیضہ کی ویکسینیشن مہم کا آغاز 25 جولائی کو ہوا تھاپاکستان میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جولائی سے شروع ہو کر ستمبر تک جاری رہتا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں جو 337 افراد ہلاک ہوئے، ان میں بہت سے بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان صوبہ بلوچستان میں ہوا۔ لیکن انہی حالات نے مشرقی صوبہ پنجاب اور جنوبی صوبہ سندھ میں بھی معمول کی سماجی اور کاروباری زندگی کو بہت نقصان پہنچایا۔پاکستان کو اپنے ہاں مون سون کی شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلابوں سے تقریباﹰ ہر سال ہی نمٹنا پڑتا ہے اور کئی شہری اور دیہی علاقے زیر آب آ جانے کی وجہ سے حکومتی منصوبہ بندی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔دوسری طرف پاکستان میں یہی بارشیں ملکی زرعی شعبے کی اچھی پیداوار اور ان ڈیموں کے دوبارہ بھر جانے کے لیے بھی بہت ضروری ہیں، جن میں شدید گرمی کے موسم میں پانی کی سطح بہت کم ہو جاتی ہے۔حالیہ بارشوں کی وجہ سے صرف پنجاب میں ایک لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ سرکاری ادارے حالیہ غیر معمولی بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، شدید بارشوں سے لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد ڈویزنز میں بھی زرعی فصلیں تباہ ہوئی ہیں، اگرچہ اس سلسلے میں حتمی سروے شروع کر دیا گیا ہے لیکن ابتدائی اندازوں کے مطابق ان بارشوں سے متاثر ہونے والے زرعی رقبہ ایک لاکھ ایکڑ تک ہو سکتا ہےآئندہ ہفتے بارشوں کا ایک اور سیلابی سلسلہ پاکستان میں داخل ہونے والا ہے اس لیے کاشت کاروں کو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے ماہرین کا خیال ہے کہ بارشوں سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ملک میں گندم کی پیداوار کا ہدف پورا ہونا مشکل ہو جائے گا بلکہ اس سے مارکیٹ میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا بھی امکان ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں ایک نیا رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ اب بارشیں محدود علاقوں میں کافی زیادہ شدت کے ساتھ ہوتی ہیں,حالیہ بارشوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں سیلاب آیا اس میں بھی پاکستان آرمی نے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں باقی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا، خاص طور پر کراچی میں اس سال بارشیں معمول سے کہیں زیادہ ہوئیں۔ شہر قائد تقریباً آدھے سے زیادہ پانی سے بھر گیا۔ نکاسی کے نالوں میں گنجائش کم اور بہائو زیادہ ہونے کی وجہ سے پانی سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں داخل ہوگیا جس نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا۔ شہریوں کی زندگی کے ساتھ ساتھ اہم قومی تنصیبات بھی فوری توجہ کی متقاضی تھیں۔ پاک فوج نے 83 نکاسی آب کے آلات، 20 کشتیوں اور دیگر ضروری مشینری اور سازوسامان کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا۔پاک فوج نے متاثرین کو بذریعہ ہیلی کاپٹرز ریسکیو کیامیڈیکل کیمپس بھی لگائے گئے جہاں لوگوں کو طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ راشن بھی فراہم کیا گیا۔ ماضی قریب میں کرونا وائرس جب 2020ء میں پاکستان پہنچا تو وطن عزیز کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے بننے اداروں نے بھی اس کو زیادہ پھیلنے سے روکنے میں مدد کی۔ یہاں بھی پاک فوج نے ایک منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا۔ نہ صرف حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا بلکہ بطور ایک ادارہ بھی لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکالا۔ ضرورت مند ہم وطنوں کو ان کے دروازوں پر راشن فراہم کیا۔ چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے ریلیف پیکجز دئیے گئے جو اقلیتوں کے لئے بھی تھے۔ ابتدائی اقدامات کے تحت عوام کو شعور و بیداری مہم کے ذریعے احتیاطی تدابیر سے روشناس کروایا۔ ہنگامی بنیادوں پر سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر قرنطینہ مراکز میں آئسولیشن وارڈز کی سہولیات مہیا کیں، حفاظتی اقدامات کے تحت لاک ڈائون کی پالیسی پر مؤثر اور جامع حکمت عملی کے ذریعے عمل درآمد کرایا۔ٹریک اینڈ ٹریس پالیسی کے تحت مشتبہ مریضوں کی اطلاع پر انہیں ہسپتال تک پہنچانے کے لئے ٹیمیں تشکیل دی گئیں کرونا کی وجہ سے ہنگامی صورت حال کے سبب دیگر مسائل بھی پیدا ہوئے۔ جنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے بھی پاک فوج نے دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر اقدامات کئے۔ ان میں سرفہرست عام لوگوں تک خوراک کی عمومی و سستی فراہمی تھا۔ لاک ڈائون سے غریب اور محنت کش طبقہ اور چھوٹے تاجر بہت متاثر ہوئے۔ ان حالات میں افواجِ پاکستان نے لوگوں میں اشیائے ضروریہ تقسیم کیں۔ احساس پروگرام کے تحت غریب لوگوں میں رقم کی تقسیم کے لئے جو مقامات مختص کئے گئے ان کی سکیورٹی کے لئے بھی افواج پاکستان نے اپنی خدمات پیش کیں۔ ابھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اقدامات جاری تھے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ٹڈی دَل کی آفت نمودار ہوئی جس سے ملک کی بہت سی فصلیں تباہ ہوئیں۔ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ریسکیو اور دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان نے بھی ملک کو اس آفت سے نکالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ ماہرین کے نزدیک اگر ٹڈی دَل کا خاتمہ نہ کیا جائے تو یہ پوری دنیا میں پھیل سکتی ہیں جس کے نتیجے میں غذائی قلت کے قوی امکانات ہوتے ہیں، لہٰذا یہاں بھی اس پر قابو پانے کے لئے انتظامات تیز کردئیے گئے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور پاکستان آرمی کی مشترکہ ٹیمیں اس کے خاتمے کے لئے بھرپور اور مؤثر آپریشنز کررہی ہیں۔
پاک فوج اس کے لئے تقریباً دس ہزار جوان و افسر تعینات کرچکی ہے۔ اسی سلسلے میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر کا دورہ بھی کیا اور کہا کہ پاک فوج ٹڈیوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ پاک فوج نے، پاک فوج نے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں اپنا کردار نبھایا۔پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت سے جس طرح ہماری افواج نے نکالا اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ پاک افواج نہ صرف دہشت گردوں کا خاتمہ کیا بلکہ دہشت گردی کے عوامل کو بھی جڑ سے اُکھاڑنے کی جدوجہد کی جس میں یہ کامیابی سے ہمکنار ہوئیں بلوچستان، وزیرستان اورکراچی میں امن وامان کی بحالی اور استحکام افواجِ پاکستان، عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کے ذریعے ہی ممکن ہو پایا ہے، دہشت گردی کی اس جنگ میں افواجِ پاکستان نے ہراول دستے کے طور پر کام کیا۔ سوات سے شروع ہونے والا آپریشن، آپریشن ردالفساد تک جاری ہے۔ ابھی تک اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو ختم کیا جارہا ہے۔ہر سال مون سون کی بارشوں سے پاکستان میں سیلاب آتا ہے اور حکومت پاکستان اپنے اس ادارے کی خدمات بھی حاصل کرتی ہے۔ اس لئے افواج پاکستان نے باقاعدہ ایک ادارہ بنایا ہوا ہے۔ جسے آرمی فلڈ پروٹیکشن اینڈ ریلیف آرگنائزیشن (1977) کا نام دیا گیا ہے جو کہ انجینئرنگ ڈائریکٹوریٹ کے تحت کام کرتا ہے۔
حالیہ بارشوں سے پاکستان کے مختلف شہروں میں سیلاب آیا اس میں بھی پاکستان آرمی نے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں باقی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا، اس سال بارشیں معمول سے کہیں زیادہ ہوئیں۔ شہر قائد میں نکاسی کے نالوں میں گنجائش کم اور بہائو زیادہ ہونے کی وجہ سے پانی سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں داخل ہوگیا جس نے شہری زندگی کو شدید متاثر کیا۔ شہریوں کی زندگی کے ساتھ ساتھ اہم قومی تنصیبات بھی فوری توجہ کی متقاضی تھیں۔ پاک فوج نے نکاسی آب کے آلات، کشتیوں اور دیگر ضروری مشینری اور سازوسامان کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا۔ے گنجان آباد علاقوں میں پھنسے افراد کو گاڑیوں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیا اور ضرورت مند لوگوں میں راشن پیکٹس تقسیم کئے گئے۔ پانی کی نکاسی اور انڈر پاسز سے پانی نکال کر ٹریفک کو رواں کیا۔ مختلف علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس لگائے اور لوگوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔پاکستانی قوم پر آئی ان آزمائشوں اور پاک فوج کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں دن رات مثالی کردار سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ آسانیاں مشکلات کے بعد ہی آتی ہیں اور اگر آزمائش کی ان گھڑیوں میں سب مل کر کام کریں تو مشکلیں مشکل نہیں لگتیں…










