: اصغر علی مبارک

کھیلوں کی صحافت کے میرے طویل کیریئر میں کئی ایسے لمحات آئے جنہوں نے روح کو گرما دیا، لیکن کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جن پر وقت کی دھول کبھی نہیں جمتی۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) اور پاکستان اسپورٹس کمپلیکس، اسلام آباد میں منعقدہ وہ پروقار تقریب میری زندگی کی سب سے یادگار دستاویزی تاریخ بن گئی۔

یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب ہماری فاتح اسکواڈ آسٹریلیا میں دنیا پر حکمرانی کرنے کے بعد وفاق کے دارالحکومت میں لینڈ کر چکی تھی۔ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل (DG) پی ایس بی سے آفیشل ملاقات کے لیے جمع ہونے والی اس تقریب کے دوران، میں پاکستان ہاکی کی تاریخ کی سب سے معتبر اور مقدس امانت—آفیشل ایف آئی ایچ ورلڈ کپ ٹرافی—کے بالکل روبرو کھڑا تھا۔

میرے ساتھ کوئی عام انسان نہیں، بلکہ پاکستان کا وہ قومی ہیرو کھڑا تھا جس کے دستانوں نے ہالینڈ کے فولادی عزائم کو خاک میں ملا کر کروڑوں پاکستانیوں کو جشن منانے کا موقع دیا تھا۔ جی ہاں، میرے ساتھ سڈنی ورلڈ کپ 1994 کے عظیم ہیرو اور مایہ ناز گول کیپر منصور احمد مرحوم (لوہے کی دیوار) چہرے پر وہی روایتی اطمینان سجائے کھڑے تھے۔ یہ وہی منصور احمد تھے جنہوں نے 23 نومبر تا 4 دسمبر 1994 کو کھیلے گئے سڈنی ورلڈ کپ کے فائنل میں، ۴ دسمبر کی شام ہالینڈ کے آخری پینلٹی اسٹروک کو روک کر کمنٹیٹر کی زبان سے یہ تاریخی جملہ نکلوایا تھا: “پاکستان از دی ورلڈ چیمپئن فار دی فورتھ ٹائم!”


فائنل کا وہ پوشیدہ راز جو کبھی میڈیا پر نہ آیا

اسی تقریب کے دوران، جب میں نے منصور احمد سے سڈنی فائنل کے ان آخری سنسنی خیز لمحات کے بارے میں گفتگو شروع کی، تو انہوں نے مجھ (اصغر علی مبارک) سے ایک ایسا سنسنی خیز اور حیرت انگیز نفسیاتی انکشاف کیا جو اس سے پہلے کبھی کسی میڈیا کے سامنے نہیں آیا تھا۔

منصور احمد کا تاریخی اقتباس:
“اصغر صاحب! جب ہالینڈ کے اسٹار کھلاڑی جیروئن ڈالمی (Jeroen Delmee) آخری پینلٹی اسٹروک لینے آئے، تو دونوں ملکوں کا پورا دارومدار اسی ایک ہٹ پر تھا۔ جیسے ہی میں نے وہ اسٹروک روکا، میدان میں تاریخ رقم ہو گئی، لیکن اس کے فوراً بعد پچ پر ایک انسانی المیہ بھی جنم لے چکا تھا۔”

منصور احمد نے انکشاف کیا کہ پینلٹی اسٹروک مس کرنے کا شدید نفسیاتی صدمہ ڈچ کھلاڑی ڈالمی برداشت نہ کر سکا اور وہ وہیں گراؤنڈ پر گر کر بے ہوش ہو گیا۔ وہ بے ہوشی عارضی نہیں تھی، بلکہ وہ کافی دیر تک ہوش میں نہ آ سکا۔ جب طبی عملے نے سخت تگ و دو کے بعد اسے ہوش میں لایا، تو وہ شدید صدمے کی وجہ سے ایک انتہائی خطرناک ذہنی حالت (Shock) میں جا چکا تھا، جہاں اس کا دماغ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے سراسر انکار کر رہا تھا کہ ہالینڈ ورلڈ کپ ہار چکا ہے۔


خالی اسٹیڈیم میں طبی ماہرین کا انوکھا تجربہ

طبی ماہرین اور اسپورٹس ماہرِ نفسیات نے اس کی نازک ذہنی حالت کو دیکھتے ہوئے ایک عجیب مگر ناگزیر مشورہ دیا۔

“جب فائنل میچ ختم ہوا اور تمام تماشائی اسٹیڈیم سے باہر نکل گئے، تو ڈالمی کو اس خالی اور خاموش اسٹیڈیم کے میدان میں دوبارہ لایا گیا۔ ماہرین کے مشورے پر، وہاں بالکل پینلٹی اسٹروک کی طرح ایک فرضی صورتحال بنائی گئی اور ڈالمی کو دوبارہ گیند دی گئی اور اس سے کہا گیا کہ وہ گیند کو گول پوسٹ اور خالی نیٹ کے اندر دھکیل دے۔ جب اس نے خالی نیٹ میں گیند کو ہٹ کر کے گول اسکور کیا، تو اس کے دماغ پر چھایا ہوا شدید دباؤ آہستہ آہستہ کم ہوا اور کچھ دیر بعد وہ نفسیاتی طور پر نارمل حالت میں واپس آیا۔”


ورلڈ کپ 2026: کیا تاریخ خود کو دہرائے گی؟

آج جب میں اس تاریخی تقریب کی تصویر کو دیکھتا ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ایک کھلاڑی کے کندھوں پر اپنے ملک کی لاج رکھنے کا کتنا بھاری وزن ہوتا ہے۔

اب جبکہ ابوبکر محمود کی کپتانی میں پاکستان کی قومی ٹیم ایف آئی ایچ ورلڈ کپ 2026 کے آفیشل شیڈول کے تحت نیدرلینڈز کی سرزمین پر پہنچ چکی ہے، تو میری اسپورٹس جرنلسٹ کی نظریں ایک بار پھر تاریخ کے دہرائے جانے کی منتظر ہیں۔ پول ڈی (Pool D) میں بھارت، انگلینڈ اور ویلز کے خلاف کڑے مقابلوں کا آغاز ہونے والا ہے۔

میں اپنے طویل صحافتی تجربے کی بنیاد پر یہ دعوے اور امید کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہمارے نوجوانوں نے منصور احمد والے روایتی جذبے اور عزم کے ساتھ کھیل کا مظاہرہ کیا، تو موجودہ ورلڈ کپ کے شیڈول کے مطابق، پاکستانی ٹیم ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی مضبوط ترین ٹیم کو ان کے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایک بار پھر چونکانے (Stun) اور تاریخ دہرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

منصور احمد کی وہ مسکراہٹ، پی ایس بی کمپلیکس کی وہ تقریب، مجھ سے کیا گیا یہ تاریخی انکشاف اور موجودہ ٹیم سے جڑی ورلڈ کپ کی امیدیں، پاکستان اسپورٹس ہسٹری اور میری صحافتی زندگی کا وہ قیمتی سرمایہ ہے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کو اس عظیم فائنل کی سچی اندرونی کہانی سناتا رہے گا۔پاکستان ہاکی فیڈرشن کی موجودہ منیجمنٹ ہاکی کھیل کو بام عروج پر
پہنچا نے کے لیے کوشاں ہے ،
صدر پی ایچ ایف اپنی کوشش میں دن رات مصروف ہیں ،یہ وقت پلیرز کی حوصلہ افزائی کا ہے پاکستان کا قومی کھیل ہاکی , دنیا میں پاکستان کی پہچان ہے ،دنیا کے بیشتر لوگ پاکستان کو ہاکی کھیل کی شاندار فتوحات کی بدولت جانتے ہیں ،
ہاکی ورلڈ کپ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) کی طرف سے منعقد ایک بین الاقوامی ہاکی ٹورنامنٹ کو 1971 میں شروع کیا گیا. جو ہر چار سال بعد منعقد ہوتا ہے،
پاکستان سب سے زیادہ کامیاب ٹیم ہے، جس نے چار بار ہاکی ورلڈ کپ ٹورنامنٹ جیتا . ہالینڈ اور آسٹریلیا نے تین تین بار ، جرمنی نے دو بارجبکہ بھارت نے ایک ٹورنامنٹ جیتا
سڈنی ورلڈ کپ 1994 کا وہ تاریخی نفسیاتی انکشاف جو منصور احمد نے مجھ سےکیا جنگ 1965 ،کے ہیرو,پاکستان ہاکی فیڈرشن کے سابق صدر ایئر مارشل نور خان کی طرف سے پیش کیا گیا تھا.
انہوں نے اپنا آئیڈیا پی ایچ آئی میگزین کے ایڈیٹر پیٹرک روولی کے ذریعے ایف آئی ایچ کو پیش کیا گیا تھا. ان کاآئیڈیا 26،اکتوبر 1969 کو منظور کیا گیا اور 12 اپریل 1970 کو برسلز میں ایک اجلاس میں ایف آئی ایچ کونسل نے منظور کیا.
ایف آئی ایچ نے فیصلہ کیا کہ پہلا ورلڈ کپ اکتوبر 1971 میں پاکستان میں کھیلا جائے گا.1971ہاکی ورلڈ کپ میں صرف دس ممالک ٹیمیں شامل تھیں . 1978 ورلڈ کپ کے بعد سے 12 ممالک کی ٹیمیں حصہ لیتی رہی ہیں ،
ہاکی ورلڈ کپ ٹرافی پاکستانی انجنیئر بشیر موجید کی طرف سےطرف ڈیزائن کیا گیا جسکو پاکستانی آرمی نے تیار کیا ہے .
27 مارچ، 1971 کو برسلز میں، ٹرافی FIH صدر رین فرینک کو بیلجیم میں پاکستانی سفیر مسٹر ایچ ای مسعود نے حوالےکی .
ورلڈ کپ ہاکی ٹرافی چاندی اور سونے سے تیار کی گئی ہے جسکی چوٹی پر ایک ماڈل ہاکی اور گیند ہے.
اس کیبیس کے بغیر، ٹرافی 120.85 ملی میٹر (4.758 انچ) بلند جبکہ . بیس سمیت، ٹرافی 650 ملی میٹر (26 انچ) ہے. اسکاکل وزن 11،560 کلو گرام ، جن میں سونا 6،815 گرام ،چاندی(240.4 گرام) ، عیوری3،500 گرام استعمال ہوئی,
ماضی میں پاکستان کی ہاکی کھیل میں پاکستانی فتوحات اب صرف لندن ہاکی میوزیم میں تاریخ کا حصہ بن کر رہ گئی ہے تاریخی پاکستان ہاکی ایک تاریخ ہے جو شاندار ماضی کی یاد دلاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جس وقت ٹیم ناکامیوں کی داستان رقم کر رہی تھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے انگلینڈ ہاکی اور ایف آئی ایچ کے باہم اشتراک سے چلنے والے لندن ہاکی میوزیم میں پاکستانکے سات عظیم کپتانوں کی دستخط شدہ ہاکی بطور تحفہ پیش کی تھی ۔ ہاکی لیجنڈ شہباز احمد سینئر کی جانب سے یہ تحفہ سی ای او انگلینڈ ہاکی سیلی مینڈے کو ہاکی سٹیڈیم کوئین اولمپکس پارک میں دیا گیا۔ تاریخی ہاکی پر پاکستان ہاکی کے سات عظیم کپتانوں کے دستخط ہیں جن میں 1950 کے اولمپکس میں پاکستان کے لئے گولڈ میڈل ٹیم کپتان بریگیڈئر (ر) عبدالحمید حمیدی۔1960 اولمپکس گولڈ میڈل لانے والی ٹیم کپتان ڈاکٹر طارق عزیز۔1984 اولمپکس پاکستان کے لئے گولڈ میڈل لانے والی ٹیم کے کپتان منظور الحسن جونئیر 1971ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان خالد محمود۔1978 پاکستان کے لئے ورلڈ کپ جیت کر لانے والی ٹیم کے کپتان اصلاح الدین۔1982میں پاکستان کے لئے ورلڈ کپ جیت کر لانے والی ٹیم کے کپتان اختر رسول ،1994میں پاکستان کے لئے ورلڈ کپ جیت کر لانے والی ٹیم کے کپتان شہباز احمد سینئر کے دستخط موجود ہیں۔


Asghar Ali Mubarak, Mansoor Ahmed Hockey, 1994 Hockey World Cup, Pakistan vs Netherlands 1994, Pakistan Sports Board, FIH World Cup 2026, Pakistan Hockey Team, Sports Psychology