پی ٹی آئی لانگ مارچ شروع، اسلام آباد داخلےکی اجازت نہیں , وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کیا , محسن نقوی

(اصغر علی مبارک)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آج سے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چار اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ سے چند گھنٹے قبل ہونے والا مذاکرات کا دوسرا دور کئی گھنٹوں کی مسلسل بات چیت کے باوجود کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ہفتے کی شام پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت شروع ہونے والی یہ اہم نشست ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے کے بعد تک جاری رہی، مگر تمام تر کاوشوں کے باوجود فریقین کسی مشترکہ نقطے پر نہ پہنچ سکے۔ اس سے قبل ایسی خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ دونوں فریقین نے معاہدے کے ابتدائی ڈرافٹ کو حتمی شکل دے کر دستخط بھی کر دیے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے رہنما رانا ثنا اللہ نے حکومتی مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ”انشاء اللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے۔“ مارچ کا روڈ میپ بتاتے ہوئے لکھا کہ ”چار اکتوبر دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی اس مارچ کا حصہ بنیں گے، جبکہ یہ قافلہ رات کو کرک کے قریب پہنچ کر اپنا پڑاؤ ڈالے گا۔“وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بتایا کہ پانچ اکتوبر دن بارہ بجے کرک کے عوام ان کے ساتھ شامل ہوں گے اور ساڑھے بارہ بجے روانگی کے بعد رات کوہاٹ کے قریب گزاری جائے گی۔ چھ اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی کے اضلاع سے لوگ شامل ہوں گے اور یہ قافلہ پشاور متنی کے قریب قیام کرے گا۔
سہیل آفریدی کے مطابق، سات اکتوبر کو بڈھ بیر کے مقام سے ضلع خیبر اور پشاور کے مختلف حلقوں کے عوام موٹروے ٹول پلازا اور کوہاٹ روڈ پل پر ان کا استقبال کریں گے اور رات چارسدہ انٹرچینج پر گزاریں گے۔ جبکہ آٹھ اکتوبر کو پورے خیبرپختونخوا کے لوگ خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہوں گے اور وہیں رات گزار کر آئندہ کا حتمی لائحہ عمل دیا جائے گا۔
اس سیاسی پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی آڑ میں ایسے اقدامات نہیں کیے جانے چاہئیں جن سے خیبرپختونخوا کے عوام میں نفرت، تقسیم یا تناؤ پیدا ہو، یا صوبے کے مینڈیٹ، خودمختاری اور اختیارات متاثر ہوں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ایک اچھا معاہدہ تقریباً طے پا گیا تھا اور فریقین 99 فیصد نکات پر متفق ہو چکے تھے، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے آخری مرحلے میں مذاکرات کو سبوتاژ کیا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں بنیادی مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی اور اس کے خلاف صوبائی حکومت کے کردار سے متعلق تھا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خلوص نیت سے مذاکرات کیے اور حکومت نے بھی اپوزیشن کے ساتھ نیک نیتی سے تقریباً 12 گھنٹے تک بات چیت کی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے بعد تحریری معاہدے کا مسودہ چار مرتبہ تیار کیا گیا اور ہر مرتبہ اس میں تبدیلی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مرحلے ایسا بھی آیا کہ تمام لوگ معاہدے پر 99 فیصد متفق ہو گئے اور ایک اچھا معاہدہ تیار ہو چکا تھا۔
محسن نقوی کے مطابق حکومت کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخوا حکومت وفاق کے ساتھ کھڑی ہو۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پولیس ایکٹ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دہشت گردی سے متعلق معاملات زیر بحث رہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کو مینڈیٹ دیا تھا، تاہم بعد میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے مذاکرات کے عمل میں رکاوٹ پیدا کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ معاملات طے کر دیے جائیں تو لانگ مارچ ملتوی کر دیا جائے گا۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کا مقصد سیاسی معاملات کے بجائے دہشت گردی کے مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا اور خواہش تھی کہ صوبائی حکومت انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ہونے والے مذاکرات ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے تھے۔ مذاکرات میں بنیادی اختلاف کی وجہ انسدادِ دہشت گردی اور وفاق کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون سے متعلق نکات بتائے جارہے ہیں۔




