سپریم کورٹ کے فیصلےپر وزیراعظم عمران خان کااظہار مایوسی ;دھمکی آمیز خط پر کمیشن بنانے کا اعلان; جنرل (ر) طارق خان کی معذرت……۔(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک) وزیراعظم عمران خان نے ڈپٹی اسپکر قاسم خان سوری کی تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے سے خطاب میں ایک خط لہراتے ہوئے کہا تھا کہ بیرون ملک سے حکومت گرانے کی سازش کی گئی ہے اور حکومت کو دھمکی دی گئی ہے,ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک تیار کی گئی سازش کے لیے اپوزیشن نے ساتھ دیا تاہم اس وقت انہوں نے ملک کا نام نہیں بتایا تھا بعد ازاں انٹرویوز میں کہا امریکا نے پاکستان کے اندر حکومت تبدیل کرنے کی دھمکی دی تھی۔بعد ازاں 3 اپریل کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اسی سازش کو حوالہ دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا اور وزیراعظم عمران خان نے صدر مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش کی تھی اور اس کی منظوری بھی دی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر ازخود نوٹس لیا اور 5 روز تک سماعت کے بعد اس کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور قومی اسمبلی بحال کردی تھی، جس کے بعد وفاقی کابینہ نے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تقریبا26 سال پہلے تحریک انصاف شروع کی اور کبھی یہ اصول تبدیل نہیں ہوئے، خود داری، تحریک کا نام انصاف، پھر فلاحی ریاست تھی، ان تین اصولوں پر چلا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر مجھے مایوسی ہوئی، سپریم کورٹ کی میں عزت کرتا ہوں، ایک دفعہ جیل گزاری ہے وہ آزاد عدلیہ کی تحریک دوران گیا۔ ان کا کہنا کہ عدلیہ کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں اور افسوس اس لیے ہوا کیونکہ ڈپٹی اسپیکر نے تحریک اس لیے روکی تھی، اس لیے باہر سے سازش ہوئی تھی۔۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کم از کم اس پر تحقیات کرتی، اس مراسلے کو بلا کر دیکھ لیتا، جس کو ہم کہتے ہیں سازش اور حکومت تبدیلی کی سازش ہے، کیا یہ سچ ہے یا نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اتنا جلدی فیصلہ آیا، 63 اے، کھلے عام ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے، بچے بچے کو پتہ ہے، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، یہ کہیں کسی جمہوریت میں نہیں ہوتا ہے، اس پر از خود نوٹس ہوتا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ سائفر ہے، ہمارے سفیر بیرون ملک سے کوڈ میں دستاویزات بھیجتے ہیں، سائفر پیغام اعلیٰ خفیہ ہے، اس پر کوڈ ہے اس لیے میں عوام میں نہیں دے سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ دے دوں تو بیرون ملک ہمارا کوڈ پتہ چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عہدیدار سے ہمارے سفیر کی ملاقات ہوئی، اس نے کہا کہ عمران خان کو روس نہیں جانا چاہیے، سفیر نے بتایا تو اس نے کہا کہ نہیں یہ عمران خان گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب یورپی یونین کے سفیروں نے یہاں پروٹوکول کے خلاف بیان دیا کہ پاکستان کو روس کے خلاف بیان دینا چاہیے تو کیا ہندوستان میں ایسا بیان دینے کی جرات ہے، کیونکہ ہندوستان ایک خود مختار ملک ہے، ہم ساتھ ہی آزاد ہوئے تھے، قوم نے ہی اپنی خود مختاری کی حفاظت کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اپنے نوجوانوں سے بات کرتا ہوں کہ میں اس امپورٹڈ حکومت کو بالکل تسلیم نہیں کروں گا اور میں قوم کے ساتھ نکلوں گا۔عمران خان نے بتایا کہ ابھی پاکستان میں عدم اعتماد نہیں آئی تھی اس سے پہلے کہا کہ اگر عمران خان عدم اعتماد سے بچ جاتا ہے تو پاکستان کو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہارجاتا ہے تو ہم معاف کردیں گے، جو بھی آئے گا اس کو معاف کردیں گے، اس کو سب پتہ تھا کہ کس نے اچکن سلائی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ لوگوں کی کتنی توہین ہے، ہمیں حکم دیتا ہے، میں سربراہ ہوں مجھے نہیں دے رہا ہے، کسی اور کہہ رہا ہے کہ اس کے نتائج ہوں گے، اگر گیا تو معاف کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ ہم 14 اگست کو آزادی کا جشن کیوں مناتےہیں، باہر سے دھمکی آتی ہے، پھر لوگ جانے شروع ہوجاتے ہیں، ہمارے لوگ چلے جاتےہیں اور ایک دم عمران خان کی برائی پتہ چلی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو شرم نہیں آئی کہ ایک پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر وہاں جارہے ہیں اور وہ بھی ان کی حمایت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پتہ چلتا ہے کہ امریکی سفارت کا اپوزیشن کے لوگوں سے مل رہے ہیں، خیبرپختونخوا سے عاطف خان نے بتایا کہ ہماری رکن اسمبلی شاندانہ نے بتایا کہ انہیں بتایا کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد آرہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے، ہم خود دار یا غلام بنتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ اپنا پیسہ بچانے کے لیے کرتے ہیں، اور ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس طرح کا پاکستان چاہتے ہیں، مجھے افسوس ہوتا ہے، ہندوستان کے ساتھ ہم آزاد ہوئے تھے اور میں ہندوستان کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک خود دار قوم ہیں، کسی سپر پاور کی جرات نہیں ہے اور یہ تصور بھی نہیں کرسکتے ہیں یہ کریں، حالانکہ روس سے وہ تیل درآمد کر رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں پابندیاں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے لیے پہلے اپنی قوم ہے اور کسی اور کی خاطر اپنی قوم کو قربان نہیں کرسکتا، قبائلی علاقوں میں کیا گزری تھی، 35 لاکھ مہاجر ہوئے، کسی نے جائزہ بھی لیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے صاحب اقتدار لوگ ڈالرز کے لیے ہمیں جنگوں کے لیے اندر پھنسا دیتےہیں، روس کے خلاف جنگ میں ہم صف اول میں تھے۔انہوں نے کہا کہ پیسے لے کر جب کسی کی جنگ میں شرکت کرتے ہیں تو وہ آپ کی عزت نہیں کرتے، روسیوں کے جانے کے دو سال بعد پاکستان پر پابندیاں لگائیں اور کسی نے پاکستان کی تعریف نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملک نے کبھی یہ فیصلہ کرنا ہےکہ ہماری خارجہ پالیسی جب تک ہمارے لوگوں کی بہتری کے لیے نہیں ہوگی اس وقت تک کسی اور قسم کی خارجہ پالیسی نہیں بنانی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 22 کروڑ لوگوں کو کیسے غربت سے نکالنا ہے، اس وقت نکال سکتے ہیں جب ہم کسی تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے اور امن کا شراکت دار بنیں۔وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے، جمہوریت کی حفاظت فوج نہیں کرسکتی، باہر سے کوئی نہیں کرسکتا ہے، آج جو ہماری خود مختاری پر حملہ ہوا ہے، آج اس پر اسٹینڈ نہیں لیں گے تو آگے جو بھی پاور میں آئے گا تو سب سے پہلے یہ دیکھے گا کہ سپرپاور ناراض تو نہیں ہورہا ہے اور وہ وہی کرے گا جو سپرپاور چاہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی آزاد ہونی چاہیے، اپنے ملک کے عوام کے لیے ہونی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم سب سے اچھے تعلقات رکھیں، ہم امریکا کو سمجھائیں کہ عمران خان امریکا مخالف نہیں ہیں، ہم ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہونے والی قوم نہیں ہیں۔ دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کابینہ نے عالمی سازش کو سامنے رکھ کر لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے جبکہ مبینہ خط کے مواد کو اراکین قومی اسمبلی کے سامنے بھی رکھا جائے گا۔ا تاہم لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان نے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کرلی ہے۔یفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان نےفیصلے سے حکومت کو آگاہ بھی کردیا ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے آج ایک بار پھر عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا، کابینہ نے اپنے عزم کو دہرایا کہ پوری قوم کی طرح ہم بھی وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جس طرح سے حکم جاری کیا، اسبملی کا اجلاس بھی خود طلب کرلیا، اجلاس کے وقت کا تعین بھی خود کیا، اس سے پارلیمنٹ کی بالادستی خطرے میں پڑ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس اسپیکر کی رولنگ کا مواد نہیں تھا تو پھر کیسے عدالت اس پر یہ فیصلہ دے سکتی ہے کہ اسپیکر نے اپنا ذہن استعمال کیا ہے یا نہیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر عدالت رولنگ سے متعلق فیصلہ کرنا چاہتی تھی تو اس کو تمام مواد کو دیکھنا اور اس کا جائزہ لینا چاہیے تھا جو اسپیکر کے پاس موجود تھا، یا جس کی بنیاد پر اسپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے اور اجلاس ملتوی کرنے کے فیصلے تک پہنچے تھے۔انہوں نے کہا سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے سے متعلق ہماری قانونی ٹیم مشاورت کر رہی ہے، قانونی ٹیم فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے سمیت دیگر قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے جو حیرت انگیز فیصلہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ جو ہمارے منحرف اراکین ہیں وہ ووٹ ڈال سکیں گے جبکہ وہ کیس تو سپریم کورٹ میں سنا ہی نہیں گیا، سپریم کورٹ کے سامنے تو یہ کیس ہی نہیں تھا کہ وہ ووٹ ڈال سکتے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جس طرح سے ہارس ٹریڈنگ کی گئی ہے اس پر پوری قوم کو تشویش ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ روز کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اداروں کا اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے کا اصول متاثر ہوا ہے، پاکستان میں ‘سیپیریشن آف پاور’ کے اصول کی بری طرح خلاف ورزی ہوئی ہے، پارلیمنٹ کی حاکمیت اور بالادستی اب برقرار نہیں رہی، حاکمیت اور بالادستی اب پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ کی جانب منتقل ہوگئی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اب پاکستان کے عوام ملک کے حاکم نہیں رہے بلکہ چند ججز اب ملک کے فیصلے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور ہم اس پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف موجودہ تحریک عدم اعتماد کوئی عام تحریک نہیں جو عام حالات میں پیش کردی گئی ہو، اگر یہ عام روایت کے مطابق تحریک ہوتی تو اس کا خیر مقدم کیا جاتا لیکن یہ تحریک عدم اعتماد عالمی سازش کے تحت لائی گئی ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے سامنے اب تک جو مواد موجود ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ تحریک عدم اعتماد وزیر اعظم کے خلاف ایک عالمی سازش کے تحت لائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تحریک عدم اعتماد کی پشت کے اوپر چند بڑے مافیاز اور ممالک ہیں اور جس طرح سے اس کو پاکستان کے عوام تک پہنچایا جارہا ہے تمام مراحل اور اقدامات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ عالمی سازش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مراسلے کے معاملے پر غور و خوض کے بعد کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مواد جو اس وقت وفاقی حکومت کے پاس موجود ہے اسکو ‘اورجنل سائفر’ دیے بغیر تمام اراکین اسمبلی کے سامنے رکھے جائیں، جو اس تحریک عدم اعتماد کی شہادتیں ہیں وہ اراکین اسمبلی کے سامنے رکھی جائیں اور اس کے بعد بھی کوئی تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینا چاہتا ہے تو پھر پاکستان کے عوام فیصلہ کریں گے کہ کون کس جانب کھڑا ہے۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو اگر میر جعفر جیسے مقامی لوگ اس کے ساتھ نہیں ملتے تو ہندوستان کبھی محکوم نہیں ہوتا۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما مرتضی جاوید عباسی نے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے۔سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے غیر آئینی رولنگ دی، سپریم کورٹ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو آئین سے متصادم قرار دے چکی ہے، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ رولنگ غیر آئینی تھی، قاسم خان سوری نے اپنے عہدے کی پاسداری نہیں کی,تحریک عدم اعتماد کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ قاسم سوری نے ایوان چلاتے ہوئے بدترین طریقہ اختیار کیا، انہوں نے آئینی شقوں کی پامالی کی، ایوان چلاتے ہوئے بدترین مثال قائم کی۔






