سعودیہ ,پاکستان. ترکیہ , تین مختلف نظام حکومت،لیکن مقصد ایک ..
(اصغر علی مبارک)
سعودی عرب,پاکستان اور ترکیہ میں تین مختلف نظام حکومت ہیں ، لیکن ایک مقصد کے لیے یکجا ہے,
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی سب سے منفرد اور تاریخی خصوصیت ہی یہ ہے کہ اس میں شامل تینوں ممالک کے نظامِ حکومت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، لیکن تزویراتی ضرورت اور خطے کی سلامتی کے بڑے مقصد نے ان کو یکجا کر دیا ہے.مزید برآں،پاکستان کے سینئر سیاسی اور سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق بین الاقوامی تعلقات میں یہ ایک غیر معمولی مثال ہے جہاں سیاسی نظریات کے بجائے قومی مفادات اور مشترکہ بقا کو ترجیح دی گئی ہے ان تینوں مختلف نظاموں کا دفاعی اشتراک درج ذیل ہے:

- سعودی عرب: مطلق العنان بادشاہت
(Absolute Monarchy)
نظامِ حکومت: سعودی عرب میں صدیوں پرانا روایتی بادشاہت کا نظام ہے، جہاں تمام اہم فیصلے شاہی خاندان بالخصوص ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے گرد گھومتے ہیں۔ یہاں کوئی مغربی طرز کی پارلیمان یا سیاسی جماعتیں موجود نہیں ہیں۔
اس اتحاد میں سعودی عرب کا بنیادی کردار مالیاتی انجن اور جغرافیائی مرکز کا ہے۔ وہ اپنے وسیع معاشی وسائل اور تیل کی دولت کے ذریعے اس اتحاد کے مشترکہ دفاعی و پیداواری منصوبوں کو فنڈ کر رہا ہے - پاکستان: پارلیمانی جمہوریت , نظامِ حکومت;
پاکستان میں وفاقی پارلیمانی جمہوری نظامِ حکومت ہے، جہاں سویلین وزیرِ اعظم شہباز شریف انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے۔
تاہم، ملک کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسیوں میں پاک فوج اور عسکری قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تزویراتی کردار انتہائی مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔
پاکستان اس اتحاد کا سب سے بڑا عسکری ستون اور واحد جوہری طاقت ہے۔ پاکستان کی 17 لاکھ سے زائد فعال و ریزرو عسکری افرادی قوت اور ایٹمی بازدارندگی (Nuclear Deterrent) اس اتحاد کو نیٹو کی طرح مضبوط بناتی ہے - ترکیہ: صدارتی جمہوریت (Presidential Republic)
ترکیہ ایک سیکولر آئین کے تحت چلنے والی صدارتی جمہوریت ہے، جہاں صدر رجب طیب اردوان کے پاس وسیع تر انتظامی اختیارات حاصل ہیں اور وہ براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ ترکیہ نیٹو (NATO) کا باقاعدہ رکن بھی ہے۔ ترکیہ اس اتحاد کا تکنیکی اور صنعتی مغز (Brain) ہے۔
ترکیہ اپنی انتہائی جدید اور خود کفیل دفاعی صنعت .بشمول ففتھ جنریشن لڑاکا طیارے اور ڈرونز کے ذریعے اس اتحاد کو جدید ترین مغربی و نیٹو معیار کی ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے
تین مختلف نظاموں کا ایک مقصد:
“دفاعی یکجہتی”سیاسی سائنس کے ماہرین کے مطابق، ان تینوں ممالک نے اپنے ملکی نظامِ حکومت کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ جب بقا اور علاقائی سلامتی خطرے میں ہو تو اتحاد کے لیے ایک جیسے سیاسی نظام کا ہونا ضروری نہیں ہوتا اس منفرد اشتراک نے تینوں ممالک کو درج ذیل فوائد دئیے ہیں:
سعودی عرب کو امریکی سیکیورٹی پر انحصار کم کر کے دو بڑی مسلم فوجوں کا عملی تحفظ مل گیا ہے
پاکستان کو اپنی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے خلیج سے مضبوط مالیاتی اور توانائی کا تحفظ حاصل ہوا ہے
ترکیہ کو اپنی دفاعی مصنوعات کے لیے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی صورت میں ایک بہت بڑی اور مستقل مارکیٹ مل گئی ہے
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےمیں شامل تینوں بڑے مسلم ممالک سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا مجموعی سالانہ عسکری بجٹ تقریباً 125 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جاتا ہے۔
جیو پولیٹیکل اور مالیاتی اعتبار سے ان تینوں ممالک کے دفاعی بجٹ کا موازنہ انتہائی دلچسپ ہے، کیونکہ یہ تین مختلف معاشی حجم اور دفاعی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔
دفاعی بجٹ (مالی سال 2025-2026) کا تقابلی جائزہ درج ذیل ہے: سعودی عرب کا عسکری بجٹ دنیا کے سب سے بڑے دفاعی بجٹوں میں شمار ہوتا ہے، جو اس وقت 72 سے 83 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ رقم پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ عسکری بجٹ سے بھی دو گنا سے زیادہ ہے۔
سعودی عرب کا زیادہ تر بجٹ جدید ترین امریکی اور یورپی فضائی نظام (F-15SA)، پیٹریاٹ میزائل، اور تھاڈ (THAAD) ایئر ڈیفنس سسٹمز کی خریداری اور دیکھ بھال پر خرچ ہوتا ہے۔
مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب اس اتحاد کے مشترکہ مینوفیکچرنگ پروجیکٹس کا بنیادی فنانسر ہے
ترکیہ کا دفاعی اور اندرونی سیکیورٹی بجٹ حالیہ علاقائی تنازعات اور جدید کاری کی مہم کے باعث بڑھ کر 27 سے 30 ارب ڈالر (تقریباً 2.155 ٹریلین لیرا) تک پہنچ چکا ہے۔
نیٹو کا رکن ہونے کے ناطے ترکیہ کا ہدف اپنے جی ڈی پی کا 2 فیصد سے زیادہ دفاع پر لگانا ہے۔ ترکیہ اپنے بجٹ کا بڑا حصہ درآمدات کے بجائے اپنی ملکی دفاعی صنعت (بشمول KAAN ففتھ جنریشن طیارہ، اسٹیل ڈوم ایئر ڈیفنس اور بائرکتار ڈرونز) کی تحقیق اور ترقی (R&D) پر خرچ کرتا ہے، جس کی برآمدات 7 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔
پاکستان نے علاقائی سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر شدید معاشی چیلنجز اور آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کے دباؤ کے باوجود دفاعی بجٹ بڑھا کر 3,000 ارب روپے (تقریباً 10.8 ارب ڈالر) مختص کیا ہے,
امریکی ڈالر کے لحاظ سے پاکستان کا بجٹ سعودی عرب اور ترکیہ سے بہت کم ہے، لیکن اس کم بجٹ کے باوجود پاکستان اس اتحاد کی سب سے بڑی فعال عسکری قوت 17 لاکھ فعال و ریزرو اہلکار اور واحد جوہری اسٹریٹجک صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کا زیادہ تر بجٹ فوجیوں کی تنخواہوں، پینشن، آپریشنل اخراجات اور چین کے ساتھ مشترکہ جے ایف-17 (JF-17) جیسے دفاعی پلیٹ فارمز پر خرچ ہوتا ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق، مکہ معاہدے کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ بجٹ کی یہ ناہمواری عسکری میدان میں ایک دوسرے کی طاقت بن جاتی ہے:مزید برآں،سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان فوجی اتحاد اور مشترکہ مشقیں خطے کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ تینوں ممالک باقاعدگی سے مشترکہ فوجی، فضائی اور بحری مشقیں منعقد کرتے ہیں جن کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ، سمندری سیکیورٹی اور فضائی دفاع میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان “الکساح” اور “الصمصام” جیسی مشقیں انسدادِ دہشت گردی اور پہاڑی جنگی مہارتوں کو نکھارتی ہیں، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کی “اتاترک” مشقیں دونوں افواج کی آپریشنل صلاحیتوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی “شمالی گرج” (North Thunder) اور پاکستان کی “امن” (AMAN) بحری مشقوں میں یہ تینوں ممالک بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ یہ فوجی تعاون محض مشقوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ پاکستانی فوج سعودی عرب کی جغرافیائی سلامتی کی ضامن رہی ہے جبکہ ترکیہ پاکستان کی فضائی اور بحری افواج کو جدید ترین دفاعی ہتھیار اور تربیت فراہم کر کے اس اتحاد کو مزید مستحکم کرتا ہے۔سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ تین بالکل مختلف طرزِ حکومت رکھنے کے باوجود علاقائی استحکام، دفاعی خود انحصاری اور معاشی جدیدیت کے ایک مشترکہ مقصد کے تحت ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان کے زراعت اور مائننگ کے شعبوں میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری اور ترکیہ میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی فنڈنگ کے ذریعے مالیاتی سرمایہ اور توانائی کی سیکیورٹی فراہم کرتا ہے۔ دوسری طرف ترکیہ ایک تکنیکی اور صنعتی پاور ہاؤس کا کردار ادا کر رہا ہے جو پاکستان کو جدید جنگی بحری جہاز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کو تاریخی دفاعی معاہدوں کے تحت جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان ان دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم پل کا کام کرتا ہے جو سی پیک کے ذریعے تزویراتی تجارتی راہداری، ہنرمند افرادی قوت کا ایک بڑا ذخیرہ اور خلیج کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط فوجی قوت پیش کرتا ہے۔ یہ تینوں ممالک اپنی انفرادی طاقتوں یعنی سعودی سرمایہ، ترکی کی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی سٹریٹجک پوزیشن کو ملا کر ایک ایسا باہمی مسلم اتحاد بنا رہے ہیں جس کا مرکز مشترکہ معاشی بقا اور عالمی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنا ہے۔ پاک بحریہ اور ترک دفاعی صنعت کے درمیان ‘ملجم’ (MILGEM) پروجیکٹ اس شراکت داری کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید ترین جنگی جہاز (جیسے بابر کلاس کارویٹ) تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کی سب سے خاص بات ٹیکنالوجی کی پاکستان منتقلی ہے۔ یہ جہاز نہ صرف ترکیہ میں بلکہ پاکستان کے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (KS&EW) میں بھی تیار کیے جا رہے ہیں، جس سے پاکستان کی بحری دفاعی پیداوار کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عسکری ہوا بازی (Aviation) کے شعبے میں ہیلی کاپٹرز کی دیکھ بھال، اسپیئر پارٹس کی مقامی تیاری اور اپ گریڈیشن کے مشترکہ مراکز قائم کیے گئے ہیں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) اور ترک دفاعی اداروں کے درمیان جدید بکتر بند گاڑیوں اور ٹینک ٹیکنالوجی کے اشتراک پر کام جاری ہے تاکہ دونوں ممالک کی زمینی افواج کو جدید ترین دفاعی ہتھیار فراہم کیے جا سکیں۔اس پیداواری اشتراک کو سب سے بڑا فائدہ سعودی عرب کی مالیاتی معاونت سے مل رہا ہے۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب ان تمام بڑے مینوفیکچرنگ منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز فراہم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کی افرادی قوت و عسکری تجربہ اور ترکیہ کی ٹیکنالوجی مل کر ان منصوبوں کو تیزی سے مکمل کر رہے ہیں۔ یہ سہ فریقی ماڈل تینوں ممالک کو مغربی ممالک کے مہنگے ہتھیاروں کی بلیک میلنگ سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ نیٹو کی طرز پر بنے اس معاہدے کے تحت ان تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر حملہ، تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس نے خلیج کی سیکیورٹی میں پاکستان کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے
پاکستان کی خارجہ اور عسکری پالیسی کا یہ غیر متزلزل اصول ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور مقدس مقامات (حرمین شریفین) کو خطرہ ہونے کی صورت میں پاکستان عملی فوجی مداخلت کرے گا۔
پاکستان نے اپنے باہمی دفاعی معاہدوں کے تحت ہزاروں فوجی اہلکار، جے ایف-17 جنگی طیاروں کا اسکواڈرن اور جدید فضائی دفاعی نظام (HQ-9 Air Defense) سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں تاکہ خلیج پر منڈلاتے سیکیورٹی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کویت نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ ایک اہم دفاعی مینیفیڈ معاہدے کی توثیق کی ہے، جس کے تحت پاکستان کویت کی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ایئر ڈیفنس کے شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد، سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے 14 ملکی بحری دفاعی اتحاد میں پاکستان بھی شامل ہے تاکہ خلیج کی تیل کی سپلائی لائنز کو محفوظ رکھا جا سکے۔سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والا ملٹی نیشنل میرین ڈیفنس الائنس جولائی 2026 کے آخر میں ریاض میں قائم کیا گیا جس کا بنیادی مقصد خلیجِ عدن، بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں عالمی تجارتی اور توانائی کی سپلائی لائنز کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ اس 14 ملکی اتحاد کا مستقل ہیڈ کوارٹر سعودی عرب میں بنایا گیا ہے اور اگست 2026 کے آغاز میں سعودی ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری کو اس فورس کا پہلا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس اتحاد کے بانی ارکان میں سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، کویت، بحرین، قطر، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائیجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں جبکہ عمان اور متحدہ عرب امارات اس کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ فورس انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ بحری گشت اور آپریشنل پلاننگ کے ذریعے کام کرتی ہے جس کا ڈھانچہ فائنل کرنے کے لیے اگست 2026 کے وسط میں ایک اور اہم اجلاس طے پایا ہے۔ اس اتحاد میں پاکستان کی تجربہ کار بحری فوج اور ترکیہ کی جدید بحری ٹیکنالوجی مل کر خلیج کی سیکیورٹی کو مضبوط ترین دفاعی کور فراہم کرتی ہیں۔ خلیج میں کشیدگی کی صورت میں پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان خلیج کو جنگ سے بچانے کے لیے سفارتی مصالحت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ ۔ملٹی نیشنل میرین ڈیفنس الائنس کے تحت پہلی باضابطہ مشترکہ بحری گشت کی تیاریاں تیزی سے مکمل کی جا رہی ہیں، کیونکہ جولائی 2026 کے آخر میں اس اتحاد کے قیام کے بعد اگست کے آغاز میں سعودی ریئر ایڈمرل عبداللہ بن سالم الشہری کو اس فورس کا پہلا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ یہ پہلی گشت بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیجِ عدن کے انتہائی حساس بحری راستوں پر مرکوز ہوگی جس کا بنیادی مقصد تجارتی گزرگاہوں پر ہونے والے حملوں کو روکنا اور بین الاقوامی توانائی کی سپلائی لائنز کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔ اس گشت کے تمام تر آپریشنز کو سعودی عرب میں قائم مستقل ہیڈ کوارٹرز اور کمبائنڈ میرین آپریشنز سینٹر سے مانیٹر کیا جائے گا جہاں تمام 14 رکن ممالک کے درمیان ریئل ٹائم انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ معلومات شیئر کی جائیں گی۔ اس پہلی گشت میں پاکستان نیوی کے جدید گشتی جہاز (طغرل کلاس فریگیٹس) اور ترکیہ کے تیار کردہ ملجم (MILGEM) کلاس کارویٹس اہم ترین دفاعی کور فراہم کریں گے جن کے پاس جدید ترین اینٹی شپ اور ایئر ڈیفنس سسٹمز موجود ہیں۔ اس بحری مشن کو ترکیہ کے بائرکتار اکینجی ڈرونز اور سعودی عرب کے فضائی نگرانی کے نظام کا تعاون بھی حاصل ہوگا جو فضا سے سمندری راستوں کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کریں گے۔ اگست کے وسط میں ہونے والے اگل اجلاس میں پہلی مشترکہ گشت کے ابتدائی نتائج کا جائزہ لے کر بحری راستوں کی نگرانی کا ایک مستقل ہفتہ وار شیڈول فائنل کیا جائے گااس بحری اتحاد میں شامل پاکستان نیوی کے جدید ترین جہاز، بالخصوص طغرل کلاس فریگیٹس اور بابر کلاس ملجم کارویٹس، دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں اور دفاعی سسٹمز سے لیس ہیں۔ فضائی دفاع کے لیے طغرل کلاس فریگیٹس پر 32 سیل کا ورٹیکل لانچ سسٹم نصب ہے جو 70 کلومیٹر تک دشمن کے طیاروں اور میزائلوں کو تباہ کرنے والے HQ-16 میزائل فائر کرتا ہے، جبکہ بابر کلاس کارویٹس پر یورپ کا جدید ترین الباٹروس این جی میزائل سسٹم نصب ہے جو تجارتی جہازوں کو ڈرونز اور گائیڈڈ بموں کے حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اینٹی شپ اور زمین پر حملے کے لیے یہ جہاز پاکستان کے مقامی طور پر تیار کردہ ‘حربہ’ اور جدید سپرسونک اینٹی شپ کروز میزائلوں سے لیس ہیں جن کی رینج 280 سے 400 کلومیٹر تک ہے اور یہ انتہائی تیز رفتاری سے سمندر کی سطح کے ساتھ تیرتے ہوئے دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اچانک اور انتہائی قریبی فضائی حملوں یا خودکش ڈرونز کو روکنے کے لیے ان جہازوں پر ترکیہ کا تیار کردہ ‘اسپیشل عاصیلساں گوکدنیز’ 35 ملی میٹر کلوز ان ویپن سسٹم اور اوٹو میلیرا 76 ملی میٹر کی مین گنز نصب ہیں جو سیکنڈوں میں سینکڑوں گولیاں برساتی ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کے اندر سب میرینز کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ان پر ‘مارک 32’ لائٹ ویٹ ٹارپیڈو ٹیوبز اور اینٹی سب میرین ہارس-900 جیسے جدید سونار سسٹمز بھی موجود ہیں جو کسی بھی زیرِ آب خطرے کا پہلے سے پتہ لگا کر اسے ناکارہ بنا دیتے ہیں۔پاکستان خلیجی ممالک کو صرف افرادی قوت ہی فراہم نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنی نیوکلیئر صلاحیت، اسٹریٹجک گہرائی اور مکہ دفاعی معاہدے کے تحت خلیج کے پورٹ فولیو کا سب سے مضبوط حفاظتی ستون بن چکا ہے




