پُرتشدد انتشار ,9 مئی واقعات: عسکری قیادت کا دوٹوک فیصلہ
(اصغر علی مبارک)
جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت منعقدہ 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک کے داخلی استحکام کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے پُرتشدد انتشار اور 9 مئی جیسے سانحات کے حوالے سے انتہائی سخت اور واضح پالیسی گائیڈ لائن جاری کی گئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے اعلامیے کے مطابق، ریاست مخالف اور شرپسند عناصر کے لیے عسکری قیادت کا پیغام درج ذیل تزویراتی (Strategic) فیصلوں پر مشتمل ہے:








- فیصلہ کن طاقت کا استعمال:
فورم نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ کسی بھی سیاسی یا ذاتی جواز کے تحت، ملک میں قانون ہاتھ میں لینے، پُرتشدد بدامنی پھیلانے یا 9 مئی جیسے حالات دوبارہ پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو کچل دیا جائے گا اور ایسی ہر سازش کا جواب فیصلہ کن ریاستی طاقت سے دیا جائے گا۔ - بلاامتیاز اور بلا جھجھک کارروائی:
کور کمانڈرز نے واضح کیا کہ داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے نیٹ ورکس، ان کے ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی میں کوئی امتیاز یا جھجھک آڑے نہیں آئے گی، اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ - داخلی استحکام پر کوئی سمجھوتا نہیں:
کانفرنس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور بقا کے لیے داخلی استحکام انتہائی اہم ہے، لہٰذا کسی بھی گروہ یا جماعت کو ملک کو انتشار کی دلدل میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستانی عوام کی غیر متزلزل حمایت مسلح افواج کی اصل طاقت ہے اور پاک فوج قوم کے تعاون سے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنے والے ہر داخلی و خارجی فتنے کا قلع قمع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے• دفاعی معاہدے اور سعودی عرب: کانفرنس کے شرکا نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کا خیرمقدم کیا جبکہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حرمین شریفین کے تقدس کے تحفظ کا اعادہ کیا گیا۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے خطے میں سلامتی، خودمختاری اور مشترکہ دفاع کے نئے تزویراتی ڈھانچے کی عکاسی کرتے ہیں۔ حالیہ عرصہ، بالخصوص اگست اور ستمبر 2026 میں ہونے والی اہم ترین پیش رفت کے بعد، پاک سعودی دفاعی تعلقات ایک نئی تزویراتی نہج پر پہنچ چکے ہیں۔
ان دفاعی معاہدوں اور ان سے جڑے حالیہ واقعات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ (Makkہ Joint Defense Pact)
- معاہدے پر دستخط: 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین یہ تاریخی سہ فریقی معاہدہ طے پایا۔ اس پر وزیر اعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب ایردوان نے دستخط کیے۔
- بنیادی اصول (ایک پر حملہ سب پر حملہ): یہ معاہدہ نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا اور وہ مشترکہ طور پر اس کا جواب دینے کے پابند ہوں گے۔
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے 29 ستمبر 2026 کو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ پر کیے گئے ڈرون حملے کے بعد، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 2 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹیجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اگلے ہفتے ریاض میں طلب کر لیا گیا ہے۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں عسکری قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے حوالے سے واضح موقف اپنایا: - مکہ معاہدے کا خیرمقدم: عسکری فورم نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پرجوش خیرمقدم کیا۔
- حوثی حملوں کی شدید مذمت: پاک فوج نے سعودی عرب پر ہونے والے حالیہ حوثی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
- حرمین شریفین کا تحفظ: عسکری قیادت نے اعادہ کیا کہ پاکستان حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان اس معاہدے پر میڈیا ڈسکشن کے بجائے مکمل اور عملی نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔
3۔ پاک سعودی اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ (2025)
مکہ سہ فریقی معاہدے سے قبل، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعلقات کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی تھی: - تاریخِ دستخط: یہ دوطرفہ اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے دورے کے دوران طے پایا تھا۔
اس معاہدے کے تحت سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی اور خلائی دفاع جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس وقت بھی تاریخی تسلسل کے تحت تقریباً 13 ہزار سے زائد پاکستانی فوجی اہلکار اور تکنیکی ماہرین سعودی عرب کی مسلح افواج کی تربیت اور دفاعی معاونت کے لیے وہاں موجود ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ اور پاک سعودی روابط اب صرف رسمی بیانات تک محدود نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں کسی بھی بڑی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط سیکیورٹی امبریلا کی شکل اختیار کر چکے ہیں • دہشت گردی اور افغانستان:
پاک فوج نے افغانستان سے ہونی والی دہشت گردی کے خلاف حقِ خود ارادیت اور ٹارگٹڈ کارروائیوں کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز) کی زیرِ صدارت منعقدہ 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں افغان سرزمين سے پاکستان میں ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے اعلامیے اور حالیہ عسکری صورتحال کے مطابق دہشت گردی اور افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف درج ذیل تزویراتی نکات پر مبنی ہے:
1۔ حقِ خود دفاع اور ٹارگٹڈ کارروائیاں - دفاع کا آئینی حق: عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے افغانستان سے آپریٹ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف حقِ خود دفاع (Right to Self-Defence) کے تحت سرحد پار بھی ٹارگٹڈ کارروائیاں کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔
- افغان طالبان کی ذمہ داری: فورم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ افغان طالبان کی فریب خوردہ قیادت، جو بھارت کے ایما پر پاکستان میں دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی ہے، اس کے تمام سنگین نتائج کی خود ذمہ دار ہوگی۔
2۔ دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی اور “را” کا گٹھ جوڑ - پراکسی نیٹ ورکس کی پناہ گاہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے حالیہ بیانات کے مطابق، کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (سرکاری نام: فتنہ الخوارج) اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے قائم کیے ہوئے ہیں۔
عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ ان دہشت گرد گروہوں کو پاکستانی سرحدوں کے اندر تخریب کاری کے لیے افغان طالبان کے سائے میں بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی ‘را’ (RAW) کی جانب سے مالی اور عسکری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
3۔ آپریشن غضبِ لاحق (Operation Ghazab-lil-Haq) - سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیاں: افغان سرزمین سے مسلسل حملوں اور دوہا معاہدے کی خلاف ورزیوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضبِ لاحق کے تحت افغان سرحد کے ساتھ واقع دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ اور لاجسٹک مراکز پر انتہائی درست اور مؤثر فضائی حملے (Airstrikes) کیے ہیں۔
- دہشت گردوں کا صفایا: حالیہ سرحدی اور انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں درجنوں سرحد پار دہشت گرد مارے جا چکے ہیں اور پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ جب تک افغان انتظامیہ اپنی زمین کا پاکستان کے خلاف استعمال بند نہیں کرتی، یہ عسکری کارروائیاں جاری رہیں گی۔
عسکری قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کائنیٹک آپریشنز (فوجی کارروائیوں) کے ساتھ ساتھ نان کائنیٹک اقدامات، جیسے کہ مقامی سطح پر طرزِ حکمرانی کی بہتری، عوامی رابطہ مہم اور جرائم و دہشت گردی کے باہمی گٹھ جوڑ کو توڑنا، خطے میں مستقل امن کے لیے ناگزیر ہیں • ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ کا خاتمہ:
مخصو ص سیاسی یا مفاداتی عناصر کے زیرِ سایہ چلنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ (Terror-Crime Nexus) کو توڑنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً پولیس کی آپریشنل استعدادِ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت منعقدہ 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کا جائزہ لیتے ہوئے ٹیرر کرائم (دہشت گردی اور جرائم) گٹھ جوڑ کے خاتمے پر خصوصی زور دیا گیا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق، عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے کے لیے مجرمانہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس ضمن میں کور کمانڈرز کانفرنس کے اہم نکات اور فیصلے درج ذیل ہیں: - مخصوص عناصر کی سرپرستی کا خاتمہ: فورم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور سنگین جرائم کا یہ گٹھ جوڑ مخصوص مفاد پرست عناصر کے زیرِ سایہ کام کر رہا ہے، جسے ہر قیمت پر توڑنا ضروری ہے۔
- صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں: عسکری قیادت نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف صرف زمینی یا کائنیٹک (Kinetic) کارروائیاں کافی نہیں، بلکہ ان کے ساتھ غیر عسکری اقدامات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
- عوام پر مرکوز طرزِ حکمرانی (Governance): کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے نچلی سطح پر عوام دوست گورننس قائم کی جائے اور انتظامی ڈھانچے کو بنیادی سطح پر عوام کے قریب لایا جائے۔
- پولیس کی استعدادِ کار میں اضافہ: کرائم ٹیرر گٹھ جوڑ کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص پولیس کی آپریشنل اور تکنیکی استعدادِ کار (Capacity Building) کو مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
- نیشنل ایکشن پلان اور عزمِ استحکام: یہ تمام اقدامات نیشنل ایکشن پلان (NAP) اور وژن عزمِ استحکام کی روشنی میں مزید تیز کیے جائیں گے تاکہ اسمگلنگ، بھتہ خوری، اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے تمام نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ جب تک جرائم اور دہشت گردی کے اس باہمی گٹھ جوڑ کو مقامی اور سیاسی سطح پر ملنے والی سہولت کاری سے الگ نہیں کیا جاتا، ملک میں پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا، اور ریاست اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی مسئلہ کشمیر: کور کمانڈرز کانفرنس کا تاریخی اور دوٹوک موقف
جی ایچ کیو راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت منعقدہ 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں تنازعہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی، تاریخی اور تزویراتی موقف کا بھرپور اعادہ کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے اعلامیے کے مطابق، عسکری قیادت نے بھارتی ہتھکنڈوں کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔
کشمیر کے حوالے سے عسکری فورم کے بنیادی اعلانات درج ذیل اہم نکات پر مشتمل ہیں: - اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل: کور کمانڈرز کانفرنس نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد اور پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد میں ہی پنہاں ہے۔
- کشمیریوں کی امنگوں کی پاسداری: فورم نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو ان کی امنگوں کے مطابق حقِ خودارادیت (Right to Self-Determination) دیا جائے۔ کشمیریوں کی مرضی کے بغیر مسلط کیا گیا کوئی بھی یکطرفہ بھارتی فیصلہ خطے میں امن کا ضامن نہیں ہو سکتا۔
- مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کی مذمت: عسکری قیادت نے انڈین الیگلی آکیوپائیڈ جموں و کشمیر (IIOJK) میں جاری ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، اور کشمیری قیادت کی قید و بند کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
- خطے کے امن کے لیے بنیادی خطرہ: کانفرنس کے شرکا نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کا خواب اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک بھارت اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر بنیادی تنازعے یعنی کشمیر کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ قدم نہیں اٹھاتا۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اور ان کی جائز آزادی کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کی حمایت دہرائی گئی۔
آرمی چیف نے آپریشنل تیاریوں کو سراہتے ہوئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مستحکم کرنے کی ہدایت کی اور پاکستان کی سلامتی کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔




