ریکوڈک کیس ;پاک فوج کی کاوشوں سے 11 ارب ڈالر کا جرمانہ ختم ہوا ………(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……………..پاکستان کی ترقی کی بنیاد امن اور خوشحالی ہے۔ ملکی سلامتی ، یکجہتی، دفاع ، آزادی، سالمیت اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے پاک فوج کا کردار بڑا شاندار رہا ہے پاک فوج ملک میں سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے پائیدار امن کے حصول کے لیے کوشاں ہےحالیہ مثال ریکوڈک کیس پاک فوج کے زمہ داران کی خصوصی کاوشوں سے پاکستان پر عائد 11 ارب ڈالر کا جرمانہ ختم ہواہے ۔ریکوڈک سونے کی کان سمیت لاتعداد قدرتی معدنیات کے ذخائر سرزمین بلوچستان میں پائے جاتے ہیں .حکومت بلوچستان اور بیرک گولڈ کارپوریشن آف کینیڈا نے نئے معاہدے پر 20 مارچ 2022 کودستخط کیے, اگست 2019ء میں کان کنی کی جلد ترقی کے مقصد کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی، اس کوشش میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پاک فوج کے زمہ داروں اورمشیروں کی مدد حاصل تھی، پاک فوج کی کاوشوں سے پاکستان پر عائد 11 ارب ڈالر کا جرمانہ ختم ہوا, ریکوڈک ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل ہے۔ریکوڈک میں سونے اور تابنے کے ذخائر دریافت کرنے کیلئے پاکستان اور بیرک گولڈ کارپوریشن کے درمیان طویل المدتی شراکت داری کیلئے اصولی معاہدہ طے پا گیا ھے، عالمی کمپنی ابتدائی طور پر 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، ریکوڈک سےسونے اور تانبے کی پہلی پیداوار 2027 میں متوقع ھے۔ ریکوڈک منصوبے کا سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ جائزہ لے گی ،قانونی معاملات طے ہونے کے بعد ہم فریم ورک معاہدہ کرینگے، بیرک گولڈ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک برسٹو اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے پر رواں سال اگست میں کام شروع ہوجائیگا جبکہ پیداواری عمل 2027 تک متوقع ہے منصوبے کی بدولت بلوچستان کے لوگوں کو تعلیم ، صحت غذائی تحفظ و بنیادی سہولیات سمیت ساڑھے سات ہزار سے زائد روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جن میں ساڑھے چار ہزار کے قریب طویل المدتی ملازمتیں بھی شامل ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلٰی سیکرٹریٹ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مارک برسٹو نے کہا کہ ریکوڈک بلو چستان میں سب سی بڑی غیرملکی سرمایہ کاری کی بدولت پا ئیدارخوشحالی کاباعث بنے گا ،حکومت پاکستان اور بیرک کمپنی کے درمیان حتمی معاہدوں پر کام جاری ہے، شراکت داری کے تحت 50 فیصد حصہ بیرک کمپنی کا ہوگا جبکہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کے پاس 25،25 فیصد حصے ہوں گے، بلوچستان حکومت کو بنا کسی سرمایہ کاری کے رائلٹی اور ڈیویڈنڈ بھی حاصل ہوں گے،بلوچستان اور اس کے عوام کو ان کے جائز حقوق ملیں گے، بیرک کمپنی قانونی اقد امات کے بعد فیزیبیلٹی سٹڈی کو اپ ڈیٹ کرے گی۔






انہوں نے کہاکہ ریکوڈک ذخائر سے تانبے اور سونے کی پہلی پیداوار سال 2027 تک متوقع ہوگی،ریکوڈک کی کان کی منصوبہ بندی روایتی اوپن پٹ سے کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ کمپنی دومرحلوں میں سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی ، پہلے مرحلے میں چار ارب ڈالر جبکہ دوسرے مرحلے میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔سی ای او نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پلانٹ تقریباً 40 ملین ٹن سالانہ کے حساب سے دھات کی پراسیسنگ کرے گا جسے پانچ سال کے عرصے میں دو گنا کیا جا سکے گا، ریکو ڈک کان کی عمر کم سے کم 40 سال ہوگی،منصوبہ ساڑھے سات ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر سکے گا جن میں چار ہزار کے قریب طویل مدتی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی،بلوچستان میں صحت، تعلیم، فوڈ سکیورٹی کی بہتری سمیت متعدد ترقیاتی پروگراموں کا بھی آغاز کیا جائے گا۔
بیرک گولڈکارپویشن کے صدر اورچیف ایگزیکٹیو برسٹوکاکہنا تھاکہ ریکوڈ ک گولڈپراجیکٹ کمپنی بلوچستان حکومت اورسرکاری انٹر پرائیززکے مابین ایک پارٹنرشپ ہے جوآنے والی نسلوں کےل¿ے پائیدارخوشحالی کاباعث بنے گا ۔ برسٹو کا کہنا تھا کہ بیرک و حکومت پاکستان نے اس امر کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا ہے کہ بلوچستان کو ریکوڈک سے حاصل ہونے والے فوائد کا خاطر خواہ حصہ ملے، ریکوڈک میں بلوچستان کی شیئر ہولڈنگ کی فنڈنگ کلی طور پر اس کے پارٹنرز و وفاقی حکومت کی جانب سے کی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کو کان کی تعمیر و آپریشنز کی مد میں بناکسی مالیاتی حصہ داری کے اپنی25 فیصد ملکیت کے مطابق ڈویڈنڈز ، رائلٹی اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ بھی اہم ہے کہ بلوچستان اور اس کے عوام کو شروع دن سے یہ فوائد نظرآئیں، ریکوڈک کان کی تعمیری مرحلے کے آغاز سے قبل جب قانونی عمل میں اپنی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہوگا ہم اس وقت ہی علاقے بھر میں صحت و تعلیم فوڈ سیکورٹی و ووکیشنل ٹریننگ کی بہتری و پینے کے صاف پانی نا فراہمی پر مشتمل متعدد سماجی ترقیاتی پروگرام شروع کردیں گے، تعمیری مرحلہ پر سماجی بہبود کے پروگراموں کا تاحال تخمینہ تقریباََ 70 ملین ڈالر ہے اس کے علاوہ ریکوڈک ایڈوانس رائلٹی کی مد میں حکومت بلوچستان کو پہلے سال کے اختتام تک 5 ملین ڈالر، دوسرے سال کے اختتام تک 7.5 ملین ڈالر تک جبکہ کمرشل پیدوار کے آغاز تک اگلے ہر سال 10 ملین ڈالر سالانہ تک ادا کرے گا جس سے ایڈوانس ادائیگیوں کا مجموعی حجم زیادہ سے زیادہ 50 ملین ڈالر ہوجائے گا۔ فزیبلٹی سٹڈی کی نظرثانی کے نتائج کی بنیاد پر ریکوڈک کی کان کی منصوبہ بندی روایتی اوپن پٹ و ملنگ آپریشن پر کی جائے گی جس سے ریکوڈک سے اعلیٰ معیار کے سونے و تانبے کا کنسٹریٹ حاصل ہوگا۔
اس کی تعمیر دو مرحلوں میں کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں پلانٹ اندازا40 ملین ٹن سالانہ کے حساب سے دھات کی پراسیسنگ کرے گا جسے پانچ سال کے عرصہ میں دوگنا کیا جاسکے گا۔ وسیع پیمانے لوسٹرپ اور اچھے گریڈ کے منفرد مجموعے کا حامل ریکوڈک طویل مدتی کان ہوگی کس کی کم از کم عمر 40 سال کے لگ بھگ ہوگی۔ اس پروجیکٹ کے تعمیر کے مرحلے کے عروج پر امید کی جارہی ہے کہ یہ 7,500سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرے گا اور پیداوار کے مراحل میں یہ پروجیکٹ 4,000 کے قریب طویل مدتی ملازمتیں پیداکرےگا۔ بیرک کی مقامی سپلائرز کی سروسز کے حصول اور مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کی ترجیح کی پالیسی علاقائی معیشت پر بہتر اثرات مرتب کرے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق ہماری تجاویز سے اتفاق کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے تمام مطالبات کو من و عن تسلیم کرکے بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لئے فضاءسازگار ہے اور حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اپنے مہمانوں کے تحفظ کیلئے پیش پیش ہے ریکوڈک سمیت تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل سیکورٹی فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے متعلق کوئی بات خفیہ نہیں رکھی گئی اراکین صوبائی اسمبلی کو نو گھنٹے ان کیمرہ بریفنگ دی گئی، سردار اختر جان مینگل، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور محمود خان اچکزئی سمیت تمام سیاسی قیادت سے ملاقات کرکے انہیں ریکوڈک منصوبے سے متعلق آگاہی دی اور اس ضمن میں صوبائی حکومت نے اتفاق رائے کے بعد ہی فیصلہ کیا ہے ۔وزیر اعلی ٰبلوچستان نے کہا کہ آج تاریخی دن ہے جب ہم ریکوڈک منصوبے سے متعلق اہم پیش رفت کرنے جاررہے ہیں بلوچستان کے لوگ بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار بلوچستان کا رخ کرہے ہیں ریکوڈک معاہدہ بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر آمدن کا کا 25 فیصد حصہ بلوچستان کو ملے گا منصوبے کا تخمینہ ستر ملین ڈالر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایڈوانس رائلٹی میں پہلے سال بلوچستان کو پانچ ملین ڈالر جبکہ دوسرے سال ساڑھے سات ملین ڈالر ملیں گے اور کمرشل پیداور کے آغاز پر ہر سال دس ملین ڈالر بلوچستان کو ملیں گے جس صوبے میں ترقی کے نئےدور کاآغاز ہوگا۔
بیرک گولڈ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مارک برسٹو نے نے کہا ہے کہ پاکستان اور بیرک کے درمیان مذاکرات میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق ملیں گے انہوں نے کہا کہ تانبے اور سونے کی اعلیٰ معیار کی کان کنی، حکومت پاکستان اور بیرک گولڈ کارپوریشن کے درمیان اصولی معاہدہ طے پا گیا، سی ای او بیرک گولڈ کارپوریشن نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ شراکتداری کے تحت 50 فیصد حصہ عالمی کمپنی اور 50 فیصد حکومت پاکستان اور بلوچستان کے حقوق ہونگے، پاکستان اور بیرک گولڈ مل کر حتمی معاہدوں پر فریم ورک تیار کر رہے ہیں، تانبے اور سونے کی پہلی پیداوار 2027-28 تک متوقع ہے ۔مارک برسٹونے کہا کہ پراجیکٹ کی سو فیصد نوکریاں مقامی لوگوں کو فراہم کی جائیں تاکہ بلوچستان سے پسماندگی کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ 75,000 سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے جو کہ دوسرے مرحلے کے مکمل ہونے پر سالانہ 400,000 ٹن تانبے کی پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک کان کو دو مرحلوں میں تعمیر کیا جائے گا، جس کا آغاز ایک ایسے پلانٹ سے ہوگا جو سالانہ تقریباً 40 ملین ٹن ایسک پر کارروائی کر سکے گا جسے پانچ سالوں میں دوگنا کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے 7,500 افراد کو ملازمت دینے کی توقع تھی اور ایک بار جب اس کی پیداوار شروع ہو جائے گی تو اس سے 4,000 طویل مدتی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ بیرک کی مقامی ملازمتوں اور سپلائرز کو ترجیح دینے کی پالیسی سے معیشت پر مثبت اثر ڈالے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسے دو مرحلوں میں تعمیر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جو کہ ایک اپڈیٹ فزیبلٹی اسٹڈی کے ساتھ مشروط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ تصوراتی مائن پلان ریکوڈک پراجیکٹ کے اندر چار پورفیری ڈیپازٹس پر مبنی ہے۔ سی ای او نے کہا کہ تانبے اور سونے کی کئی بڑی کانیں جو ارضیاتی طور پر ریکوڈک سے ملتی جلتی تھیں ٹیتھیان بیلٹ کے ساتھ کامیابی سے تیار اور چلائی گئی ہیں۔مارک برسٹو نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ 2010 کے تاریخی فزیبلٹی اسٹڈی کو اپ ڈیٹ کرنے کی کوششیں کی جاری ہیں، جس میں بجلی، پانی اور انتظام جیسے اہم تکنیکی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور ریکوڈک کے دستیاب اختیارات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اہم موضوعات پر ٹریڈ آف اسٹڈیز انجام دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سائٹ کے متعدد دورے مکمل کیے ہیں اور حکومت بلوچستان کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ ریکوڈک منصوبے کا باقاعدہ آغاز 14 اگست کو کیا جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے بیرک گولڈ کارپوریشن کے سربراہ مارک برسٹو کے ہمراہ ریکوڈک منصوبے سے متعلق پریس کانفرنس کے دوران یہ بات کہی,انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کا 25 فیصد حصہ ہے، صوبے کو اس منصوبے سے سالانہ ایک ارب ڈالرز کی آمدن ہو گی، 7500 افراد کو روزگار ملے گا جن میں مقامی افراد کو ترجیح دیں گے۔ سماجی بہبود کے پروگرامز کے لیے 70 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں، ریکوڈک منصوبہ 40 سال تک جاری رہنے کا امکان ہے۔عبدالقدوس بزنجو نے منصوبے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں پلانٹ سالانہ 40 ملین ٹن دھات کی پروسیسنگ کرے گا، جسے 5 سالوں میں دگنا کیا جائے گا۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ سونے تانبے کی کان کنی کےلیے بیرک گولڈ کارپوریشن کی سرمایہ کاری کی امید ہے۔کمپنی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ریکوڈک کو عالمی معیار کی کان کے طور پر ترقی دینے کا وژن رکھتے ہیں، ریکوڈک پراجیکٹ پاکستان اور آئندہ نسلوں کے لیے انتہائی اہم رہے گا۔ بیرک گولڈ کارپوریشن کمپنی کے عہدیدار مارک برسٹو سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مجھے یقین ہے یہ سرمایہ کاری بلوچستان اور پاکستان کو بدل کر رکھ دے گی۔
دوسری جانب اس منصوبے پر ملک میں سرمایہ کاری کرنے والی بیرک کمپنی کے سی ای او مارک برسٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بیرک کمپنی کے درمیان حتمی معاہدوں پر کام جاری ہے، شراکت داری کے تحت 50 فیصد حصہ بیرک کمپنی کا ہوگا منصوبے پر کمپنی7 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گی، پہلے مرحلے میں 4 ارب ڈالرز، دوسرے مرحلے میں 3 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو گی، منصوبے سے 7500 سے زائد افراد کو روزگار مل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کا 25 فیصد حصہ حکومتِ پاکستان اور 25 فیصد حصہ بلوچستان کے پاس ہو گا۔بلوچستان حکومت کو بغیر کسی سرمایہ کاری کے رائلٹی اور ڈیویڈنٹ بھی حاصل ہوں گے۔خیال رہے حکومت اور بیرک گولڈ کارپوریشن نامی کمپنی کے درمیان ضلع چاغی میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے پراجیکٹ ریکوڈک منصوبے کو دوبارہ شروع کیا ہے ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چاغی میں ریکوڈک پراجیکٹ پر تنازع کے باعث گذشتہ کئی سال سے کام بند تھا۔اس تنازعے کے باعث غیر ملکی ٹھیتیان کاپر کمپنی نے ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا جن میں سے ایک نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور پاکستان پر جرمانہ عائد کیا تھا۔اس کے علاوہ حکومت کو مقدمہ بازی پر مجموعی طور پر سات ارب روپے سے زائد کے اخراجات اٹھانے پڑے۔ریکوڈک کیس ;پاک فوج کی کاوشوں سے 11 ارب ڈالر کا جرمانہ ختم ہوا حکومت نے ٹھیتیان کاپر کمپنی میں دونوں شیئر ہولڈرز سے مذاکرات کیے تھے جن میں سے کینیڈا کے ’بیرک گولڈ‘ نامی کمپنی نے منصوبے پر دوبارہ کام کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی اس منصوبے سے بلوچستان کو مجموعی طور پر 33 فیصد مالی فوائد حاصل ہوں گے۔دس سالہ قانونی جنگ اور مذاکرات کے بعد یہ کامیابی ملی ہے۔ اس حوالے سے کان کنی کے لیے لیز دی گئی ہے اوردیگر لائسنس اور حقوق بھی دیے گئے ہیں۔اس منصوبے میں بعد میں جتنے بھی معاہدے کیے جائیں گے ان کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت کے علاوہ سپریم کورٹ کو شامل کیا جائے گا۔معاہدے میں بلوچستان کے تمام ٹیکسوں، رائلٹی اور سی ایس آر کا تحفظ کیا گیا ہے معاہدے میں علاقے کی ترقی کا خصوصی پیکج بھی شامل کروایا گیا ہے جبکہ منصوبے سے روزگا کے آٹھ ہزار مواقع دستیاب ہوں گے۔پراجیکٹ کمپنی ریکوڈک منصوبے پر آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جو کہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔لوچستان کے ضلع چاغی میں واقع معدنیات کے ذخائر کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ دنیا میں وہ کاپر اور سونے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہیں جن پر آج تک مکمل انداز میں کام شروع نہیں ہو سکا ہےپاکستان کی حکومت نے ان ذخائر کی تلاش کے لیے 28 برس قبل ریکوڈک منصوبے کا آغاز کیا لیکن اس سے ملک کو کسی فائدے کے بجائے ناصرف چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا بلکہ سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو نمٹانے کے لیے ثالثی کے دو بین الاقوامی اداروں میں مقدمہ بازی پر خطیر اخراجات بھی ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان پر صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں تقریباً چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ 2013 میں جب ریکوڈک پر کام کرنے والی کمپنی ٹھیتیان کاپر کمپنی کو مائننگ کا لائسنس نہیں دیا گیا تو کمپنی نے اس کے خلاف سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو نمٹانے والے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا۔ان میں سے ایک انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپویٹس (ایکسڈ) کا تھا۔ معلومات کے مطابق سات سال کے دوران ان فورمز پر مقدمہ بازی پر مجموعی طور پانچ ارب، 33 کروڑ 80 لاکھ آٹھ ہزار دو سو دو روپے کے اخراجات ہو ئے ہیں۔ان کیسوں میں برطانیہ کی سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اہلیہ چیری بلیئر بھی پاکستان کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔حکومت بلوچستان نے یہاں کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ریکوڈک کے حوالے سے سنہ 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر کیا گیا تھا۔چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے اس معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس معاہدے کی شقوں میں دستیاب رعایتوں کے تحت بی ایچ پی نے منکور کے نام سے اپنی ایک سسٹر کمپنی قائم کر کے اپنے شیئرز اس کے نام منتقل کیے تھے۔منکور نے بعد میں اپنے شیئرز ایک آسٹریلوی کمپنی ٹھیتیان کوپر کمپنی (ٹی سی سی) کو فروخت کیے۔نئی کمپنی نے علاقے میں ایکسپلوریشن کا کام جاری رکھا جس کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ریکوڈک کے ذخائر معاشی حوالے سے سود مند ہیں۔ بعد میں کینیڈا اور چِلی کی دو کمپنیوں کے کنسورشیم نے ٹی سی سی کے تمام شیئرز کو خرید لیا۔ریکوڈک کے حوالے سے بلوچستان کے بعض سیاسی حلقوں میں تحفظات پائے جاتے تھے۔ ان حلقوں کی جانب سے معاہدے کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا مگر ہائی کورٹ نے اس حوالے سے مقدمے کو مسترد کر دیا اور بعد میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک بینچ نے قواعد کی خلاف ورزی پر ٹی سی سی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیاتھا۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹی سی سی نے مائننگ کے لائسنس کے حصول کے لیے دوبارہ حکومت بلوچستان سے رجوع کیا۔بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر 2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ریکوڈک بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔ تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔ریکوڈک منصوبے پر اگست میں کام شروع ہوجائیگا،پیداواری عمل 2027 تک متوقع ، ساڑھے سات ہزار روزگار کے مواقع میسر آئیں گے،جس سے صوبے کو سالانہ ایک ارب ڈالر کی آمدن ہوگی جب کہ پراجیکٹ سے7500افراد کو روزگار ملے گا جس میں مقامی افراد کو ترجیح گے، یہ منصوبہ 40سال تک جاری رہنے کا امکان ہے




