ریاست، سیاست,معیشت اور حکومت ؟ .(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک).. ……پاکستانی سیاست میں شدت پسندی اور انتہاپسندی کا عنصر شامل ہونے سے معیشت کےبعد رہاست کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں معیشت میں بہتری نہیں ریاست اور حکومت تب ہی آگے جا سکتے ہیں جب سیاست کے شعبے میں بھی ڈیڈ لاک ختم ہو، انتخابی اصلاحات کا عمل شروع ہو، دیگر قانون سازی ہو تاکہ نظام کی اصلاح ہو اور ہم بطورِ قوم آگے بڑھ سکیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ سیاست میں ابھی دور دور تک مذاکرات کا امکان بھی نہیں۔ سیاست میں وہی ڈیڈلاک ہے، وہی منفی رویے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں ڈائیلاگ تک کے لئے تیار نہیں ہیں گویا معیشت میں بہتری آنے کے بجائے اب تو سیاست بدتر ہو تی جا رہی ہے۔ اور اگر سیاستدانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں پاکستانی معیشت روزانہ کی بنیادی پر پیدا کی جانے والی خوش فہمیوں اور سیاسی طور پر غیر فعال نظام کے توسط ترقی نہیں کر سکتی۔ جس سیاسی تجربے کے توسط معیشت کو نئے انداز سے چلانے کا تجربہ کیا گیا تھا اس نظام نے اسی معیشت کا گلہ گھونٹ دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان ایجی ٹیشن کی سیاست کی طرف جارہے ہیں انہیں اگر زمہ داروں نے نہ روکا تو گلی گلی خون خرابہ ہوسکتاہے جس کی ریاست متحمل نہیں ہوسکتی آنے والے دنوں میں تمام تر خواہشات کے باوجود عمران خان کی مقبولیت کا گراف نیچے جائے گا اوپر نہیں۔ ۔عمران خان اگر کرشماتی طور پر خود میں نئی روح پھونک بھی لیں تب بھی وہ 2018 کے انتخابات میں مہیا کی ہوئی سہولت کے توسط حاصل شدہ نتائج سے زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ عمران خان کو طاقت میں لانے کی منصوبہ بندی اور ایک تیز رفتار معاشی ترقی کا تصور افغانستان میں امن اور ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات سے پیوست تھا۔ خیال یہ تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں سے انخلا کروا کر امریکی انتظامیہ کے ساتھ اچھی دوستی کے راستے کھولے جائیں گے جن کو استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کو بات چیت کی میز پر لا کر مشرقی سرحد کا دباؤ دوستی کے باب میں تبدیل کر دیا جائے گا۔مگرایسا نہ ہوسکا اور امیدوں کا محل زمین بوس ہوگیااب تو عوام یہ سوال کررہی ھے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کی شام آزادی مارچ دھرنے کا اعلان کس نے اور کیوں کروایا اور یہ کہ آزادی لانگ مارچ کم دھرنا دراصل فائدہ کس کو دے گا؟اب ناکامی کی صورت حکومتی اتحاد اگلا ڈیڑھ سال بخوبی گزار سکتی ہے جبکہ کامیابی کی صورت پاکستان میں حکومتیں جتھوں کی طاقت سے بدلنے کا رواج پڑ جائے گا۔ن لیگ اور اتحادی مقتدر حلقوں سے صرف دو ضمانتوں کے متقاضی ہیں۔ ایک پٹرول کی سبسڈی کے خاتمے کے اعلان کے بعد اگر مقتدر قوتیں تحریک انصاف کی دھرنا سیاست سے بلیک میل ہو گئیں تو کیا ہو گا؟ دوم یہ کہ معاشی مسائل کا حل موجودہ حکمران اتحاد کرے تو پھل کوئی اور کھائے، ایسا کیسے ممکن ہے؟ اس مسئلے کا حل ہے حکمران اتحاد آئینی مدت مکمل کرے غیر معمولی حالات میں اسمبلی کی مدت بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔یہ تو طے ہے کہ ’اب نیوٹرل رہنے‘ کا مشورہ دینے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کو معلوم ہو چکا ہے کہ صورتحال خراب ہوئی تو ادارے نیوٹرل نہیں بلکہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ معاشی صورتحال پر حکمران اتحاد اور مقتدر حلقے کسی صورت پاکستان کو سری لنکا نہیں بننے دیں گےدنیا میں ہر ملک کے اندر حکومت اور اپوزیشن ہوتی ہیں، ان کے آپس میں اختلافات بھی فطری ہیں لیکن مہذب جمہوری ممالک اور پسماندہ ممالک میں فرق یہ ہے کہ وہاں حکومت خارجہ پالیسی اور مالیاتی پالیسی سمیت ہر اہم ریاستی معاملے پر اپوزیشن سے ڈائیلاگ کرتی ہے، قانون سازی کے معاملے میں تو حکومت اور اپوزیشن میں مسلسل تعاون اور مشورہ جاری رہتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں بات تک کرنے کو تیار نہیں سیاست میں جب بھی کسی سے مذاکرات کئے جاتے ہیں تو اس وقت ماحول کو خوشگوار اور سازگار بنایا جاتا ہے۔ حکومت اس حوالے سے پیش رفت کرنے کو تیار نہیں،سیاست میں وہی ڈیڈلاک ہے، وہی منفی رویے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن آپس میں ڈائیلاگ تک کے لئے تیار نہیں ۔حکمران اتحادی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد کے لیےآزادی مارچ سے روکنے کا اعلان کیا ہےاتحادی جماعتوں کے راہنماوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ آزادی مارچ کے نام پر فتنہ فساد مارچ کیاجارہاہے اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نےکہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 25 مئی کو لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد مارچ کیا جارہا ہے، یہ کوئی جمہوری مارچ نہیں بلکہ قوم کو تقسیم کرنے، ملک میں افراتفری اور انتشار کو فروغ دینے کے لیے کیا جارہا ہے جس قسم کی یہ گفتگو کرتے رہے ہیں کہ یہ ‘خونی لانگ مارچ’ ہوگا، ہم وہاں آکر فتنہ فساد پھیلائیں گے، جیسی تمام چیزیں ریکارڈ پر ہیں، یہ بھی کہا گیا کہ اس لانگ مارچ کے نتیجے میں ہم حکومت کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ 2014 میں بھی انہوں نے کہا کہ ہم پر امن احتجاج کے لیے آرہے ہیں اور اسلام آباد کی انتظامیہ سے معاہدہ کیا کہ ایک جگہ پر محدود رہیں گے لیکن وہاں رکنے کے بجائے ریڈ زون میں داخل ہوئے، وزیراعظم ہاؤس کا گھیراؤ کیا، سول نافرمانی پر لوگوں کو اکسایا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے انہیں لانگ مارچ کے نام پر فتنہ فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں روکا جائے گا تا کہ یہ قوم کو تقسیم کرنے، گمراہی کا ایجنڈا آگے نہ بڑھا سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اس سے پہلے بھی وعدہ خلافی کی تھی اور اب بھی یہ گالیوں سے گولیوں پر آگئے ہیں جس کے باعث لاہور میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شہید ہوگیایہ صرف اتحادی حکومت، ایک سیاسی جماعت یا ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے اور اس میں تمام اداروں، سیاسی جماعتوں، میڈیا کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے اور اس فتنے فساد کو روکنا چاہیے، یہ یاد رہےکہ ریاستی انتظام کے متعلق یہ زمہ دار افراد، جو مکمل طور پر فوج سے تعلق نہیں رکھتے وہ پاکستان کی سیاست، دفاع اور جوہری پروگرام کے پالیسی فیصلوں کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں بہرحال زمہ دار ادارے ہوں یا اسٹیبلشمنٹ , سیاسی جماعتیں ہوں یاعدالتیں….. اب وقت آچکا کہ کسی ایک کافیصلہ , انتخاب کرناہے سیاست یا ریاست؟ریاست ہے تو سیاست ۔ معیشت جہموریت ۔ عدالت ہے ورنہ کچھ بھی نہیں۔۔