راولپنڈی جنگلات اراضی قبضہ کیس میں بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کی عبوری ضمانت میں 8 دسمبر تک توسیع
خصوصی رپورٹ :اصغر علی مبارک سے
راولپنڈی کی انسدادِ بدعنوانی عدالت (اے سی سی) نے بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 8 دسمبر تک توسیع کردی ھے ۔انسدادِ بدعنوانی عدالت (اے سی سی) کے اسپیشل جج مشتاق احمد تارڑ نے محکمہ جنگلات کی ایک ہزار ایک سو 70 کنال اراضی پر قبضہ کیس میں ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت کی، ملک ریاض اور دیگر وکیل زاہد بخاری کے ھمراہ انسدادِ بدعنوانی عدالت (اے سی سی) میں پیش ہوئے۔ ابتدا میں مقدمے میں نامزد بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض موجود نہ تھے جبکہ دیگر 10 ملزمان عبوری ضمانت کے لیے انسدادِ بدعنوانی عدالت میں پیش ہوئے
دوران سماعت بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کے وکیل اور جج جناب مشتاق احمد تارڑ کے درمیان مکالمہ ہوا جس میں بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کیس ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) قومی احتساب بیورو (نیب) اور ڈی جی انسدادِ بدعنوانی آپس میں بیٹھ کر کیس کے ٹرائل کا فیصلہ کر لیں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ یہ تو آپ یکطرفہ بتا رہے ہیں۔اس حوالے سے محکمہ انسدادِ بدعنوانی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اے ڈی) نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ڈی جیز کی ملاقات ہو چکی ہے لیکن ابھی تک اس میں ہونے والے فیصلے سے آگاہ نہیں ہیںَ اے ڈی اینٹی کرپشن نے عدالت سے استدعا کی کہ تاریخ دے دیں تاکہ اس وقت تک کلئیر ہو جائے گا کہ ٹرائل کس نے کروانا ہے۔جس پر عدالت اسپیشل جج مشتاق احمد تارڑ نے ملک ریاض کی عدم حاضری کے بارے میں استفسار کیا کہ کیا مقدمے میں نامزد تمام ملزمان عدالت میں حاضر و موجود ہیں جس پر چیئرمین بحریہ ٹاؤن کے وکیل زاہد بخاری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم ملک ریاض کو سیکیورٹی خدشات پر پیش نہیں کیا گیا ھے ۔ اسپیشل جج مشتاق احمد تارڑ نے کہا کہ عبوری ضمانت میں ملزم کو پیش ہونا پڑے گا جس پر ملک ریاض کے وکیل نے جواب دیا کہ آپ حکم دیتے ہیں تو ملزم پیش ہو جائے گا، جس پر عدالت نے ملک ریاض کو ساڑھے دس بجے تک عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔بعد ازاں ملک ریاض عدالت میں پیش ہوئے جس پر عدالت کے اسپیشل جج مشتاق احمد تارڑ نے ان کی اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانت میں 8 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔پیشی کے بعد میڈیا کے سوال پر ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ’ہم ڈیم فنڈ میں پورا حصہ ڈالیں گے سب سے زیادہ حصہ ہمارا ہی ہوگا‘۔
تاہم جب اراضی پر قبضے کے حوالے سے صحافی نے سوال کیا تو وہ ’اللہ اللہ‘ کہہ کر سوال کو نظر انداز کرگئے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ تھانہ اینٹی کرپشن سرکل راولپنڈی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی سفارشات پر ملک ریاض اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس مقدمے میں دھوکا دہی، سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی، مجرمانہ غفلت اور جعل سازی کی دفعات شامل کی گئیں تھیں۔مقدمے میں محکمہ جنگلات کے حکام، ریونیو افسران سمیت سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے چیف سیکریٹری جی ایم سکندر کو بھی نامزد کیا گیا تھا، جن پر دھوکا دہی کے ذریعے زمین فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے خلاف اس سے قبل بھی ’زمین پر قبضے‘ سے متعلق مقدمات درج ہوچکے ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کو زمین کی اراضی دینے پر عدالت عظمیٰ فیصلہ بھی دے چکی ہے۔رواں سال مئی میں عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2 ہزار 2 سو 10 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔مقدمہ درج ہونے کے بعد راولپنڈی کی عدالت نے 23 اکتوبر کو ان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔جس کے بعد ملک ریاض ضمانت میں توسیع کے لیے 10 نومبر کو عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں ان کی ضمانت میں توسیع کردی گئی تھی تاہم جج مشتاق تارڑ کی رخصت کے باعث سماعت 24 نومبر تک ملتوی کردی گئی تھی۔راولپنڈی کے محکمہ اینٹی کرپشن نے جنگلات کی 1170 کینال اراضی پر قبضہ کرنے کے الزام میں بحریہ ٹاؤن، اس کے چیف ایگزیکٹو ملک ریاض اور دیگر ملزمان پر مقدمہ درج کیا ھے ۔یہ مقدمہ تھانہ اینٹی کرپشن سرکل راولپنڈی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) کی سفارشات پر درج کیا گیا۔ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ ٹیکنیکل فارسٹری اینڈ وائلڈ لائف اینڈ فشریز شاہد راشد اعوان کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں دھوکا دہی، سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی، مجرمانہ غفلت اور جعل سازی کی دفعات شامل کی گئیں۔مقدمہ محکمہ جنگلات کی سرکاری زمین پر ہاؤسنگ سوسائٹی تعمیر کرنے پر قائم کیا گیا جبکہ اس میں جے آئی ٹی کی تحقیقات کو بھی حصہ بنایا گیا۔اینٹی کرپشن سرکل میں درج مقدمے میں موقف اپنایا گیا کہ 1170 کینال سرکاری زمین کا تبادلہ کرکے ہاؤسنگ سوسائٹی تعمیر کی گئی۔مقدمے میں محکمہ جنگلات اور ریونیو افسران کو بھی نامزد کیا گیا جبکہ سابق سیکریٹری وزیر اعلیٰ پنجاب جی ایم سکندر کو بھی نامزد کیا گیا۔واضح رہے کہ بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کے خلاف اس سے قبل بھی ’زمین پر قبضے‘ سے متعلق مقدمات درج ہوچکے ہیں جبکہ غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کو زمین کی اراضی دینے پر عدالت عظمیٰ فیصلہ بھی دے چکی ہے۔رواں سال مئی میں عدالت عظمیٰ نے اپنے ایک فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا تھا اور کہا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا تھا۔ساتھ ہی سپریم کورٹ کی جانب سے نیب کو مزید ہدایت دی گئی کہ وہ راولپنڈی میں غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے کو دیکھے۔یہ بھی یاد رہے کہ اگست میں راولپنڈی کی مقامی عدالت نے ملک ریاض کو آئندہ اپنی اسکیموں میں بحریہ ٹاؤن کا نام استعمال کرنے سے بھی روک دیا تھا۔