دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کاعزم —
( اصغر علی مبارک)
ریاست پاکستان اور عسکری قیادت نے سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی کو ریاست کی پوری طاقت سے کچلنے اور ملک سے اس ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے تہیہ کر رکھا ہے۔ اس عزم کا اعادہ اعلیٰ سطح پر دوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ، ”سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو ریاست پوری طاقت سے کچل دے گی۔عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ دشمن کے پراکسی نیٹ ورکس کو پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں عوام کی بھرپور حمایت سے شکست دی جائے گی
فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے باضابطہ طور پر بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا ہے۔وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی دہشتگردی کے فتنے کے جڑ سے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے قومی عزم کو دہرایا ہے وطن عزیز کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک بار پھر اس عزم مصمم کا اعادہ کیا ہے کہ مسلح افواج ملک کو در پیش قومی سلامتی کے بدلتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش اور سرحد پار سے پھیلائی جانے والی دہشت گردی کو پوری ریاستی قوت کے ساتھ کچل دیا جائے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق، جی ایچ کیو (GHQ) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ بلوچستان بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں کے متحرک، باہمت اور محبِ وطن عوام اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر (“فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان”) بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جنہیں مسلح افواج عوام کے اتحاد سے ناکام بنا دیں گی فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ بلوچستان بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں کے متحرک، باہمت اور محبِ وطن عوام اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر (“فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان”) بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، جنہیں مسلح افواج عوام کے اتحاد سے ناکام بنا دیں گی چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں پوری قوت اور عزم کے ساتھ اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔عاصم منیر نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم پاکستان کی مسلح افواج عوام کی یکجہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور بلوچستان کے محب وطن، باہمت اور جفاکش عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔ عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ قریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خود مختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے جاری منصوبوں کا مقصد ایک عوامی حکمت عملی کے تحت بلوچستان کے سماجی و اقتصادی منظرنامے کو تبدیل کرنا ہے۔قومی یکجہتی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ ملک کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، ثابت قدمی اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
مسلح افواج جنگ کی جدید نوعیت کے مطابق اپنی آپریشنل اور ترقیاتی حکمت عملی کو از سر نو ترتیب دے رہی ہیں تاکہ مستقبل کے چیلنجز کا موثر سامنا کیا جا سکے۔ عسکری قیادت ملکی سالمیت کے خلاف سرگرم ریاستی معاونت یافتہ عناصر کی کوششوں سے پوری طرح باخبر ہے۔پاکستان کا یہ دیرینہ اور اصولی مؤقف رہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی پشت پناہی میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ پاکستانی حکام، سلامتی کے ادارے اور عسکری قیادت مسلسل اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی، سی پیک (CPEC) جیسے اسٹریٹجک منصوبوں اور اندرونی امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لیے بیرونی نیٹ ورکس کا استعمال کیا جا رہا ہےپاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا یہ حتمی اور واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور تخریب کاری کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ حکومت اور پاک فوج نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کالعدم تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے سے روکیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بارہا خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان کو دہشت گرد تنظیموں اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔پاکستان کے سیکیورٹی حکام کے مطابق، افغان سرزمین پر موجود “فتنہ الخوارج” (کالعدم ٹی ٹی پی) اور “فتنہ الہندوستان” مل کر بھارتی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیںپاکستان کے سیکیورٹی حکام کے مطابق، افغان سرزمین پر موجود “فتنہ الخوارج” (کالعدم ٹی ٹی پی) اور “فتنہ الہندوستان” مل کر بھارتی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔۔ آئی ایس پی آر (ISPR) نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی طرف مؤثر بارڈر مینجمنٹ کرنے اور سرحد پار دراندازی روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہے پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے اپنے عالمی وعدوں اور “ڈوھا معاہدے” کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ (UN) اور یورپی یونین سمیت عالمی برادری نے بھی پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔پاکستان کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ افغانستان ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی سرزمین سے آپریٹ کرنے والے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو اکھاڑ پھینکے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے پاکستان کا بچہ بچہ اپنی مسلح افواج اور قومی سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ جدوجہد کے لیے آمادہ و تیار ہے۔ تاہم جیسا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں اظہار کیا ہے اور ان سے قبل بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بار بار قوم کو یہ تلقین کرتے رہے کہ فتح و کامرانی اور جدوجہد کی کامیابی کے لیے ایمان اتحاد اور نظم ضبط کی صفات لازم ہیں۔ آج وقت کی شدید ضرورت ہے کہ عوام خصوصاً نئی نسل کے دل و دماغ میں ایمان ، اتحاد اور تنظیم کا فراموش شدہ سبق از سر نو راسخ کیا جائے!
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں شہریوں، فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اگرچہ متعدد بڑے آپریشنوں کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیموں کی کمر توڑی گئی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خطرات کی نوعیت تبدیل ہوتی گئی۔ آج ملک کو روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ پراکسی جنگ، ہائبرڈ وارفیئر اور ریاست مخالف نیٹ ورکس کی شکل میں ایسے چیلنجز درپیش ہیں جو بظاہر منتشر دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کے پس منظر میں ایک منظم حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کے مباحث میں اب صرف سرحدوں کے دفاع کی بات نہیں کی جاتی بلکہ ریاستی اداروں، معیشت، سماجی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کے تحفظ کو بھی مساوی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جس انداز میں دشمن کی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر کے خلاف دو ٹوک موقف اختیار کیا، وہ دراصل پاکستان کو درپیش بدلتے ہوئے سیکیورٹی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بیان کا اہم پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کو محض ایک داخلی مسئلہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک منظم بیرونی منصوبہ بندی سے جوڑا گیا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ جب کسی ملک کی معاشی ترقی کا سفر تیز ہونا شروع ہوتا ہے تو بعض مخالف قوتیں براہِ راست تصادم کے بجائے غیر ریاستی عناصر کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بلوچستان میں دوران پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دہشت گرد عناصر اب بھی نرم اہداف کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ عام شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی شہادت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا پہلا وار ہمیشہ معاشرے کے کمزور اور غیر مسلح طبقات پر ہوتا ہے۔ تاہم اس صورتحال کا دوسرا رخ بھی قابلِ توجہ ہے۔ بلوچستان کے عوام کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون اس بات کا مظہر ہے کہ دشمن کی توقعات کے برعکس مقامی آبادی اور ریاست کے درمیان تعلق مضبوط ہوا ہے۔ دنیا بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے کامیاب تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ کوئی بھی ریاست صرف عسکری قوت کے ذریعے مستقل کامیابی حاصل نہیں کر سکتی، جب تک کہ عوام اس جدوجہد میں شریک نہ ہوں