دفاع، سلامتی، قومی تعمیر ; ”پیپلز لبریشن آرمی اور پاک آرمی برادرز ان آرمز”بن گئے…..….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……….. پاک چین سٹرٹیجک پارٹنر شپ پہاڑوں سے اونچی ، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے اور ملٹری ڈپلومیسی اور ملٹری ٹو ملٹری تعاون ہمیشہ بلندیوں کو چھوتا رہا ہے۔ فوجی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں پاکستان اور چین نے مشکل دور میں اپنی تزویراتی شراکت داری کا اعادہ کیا۔ خاص بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ واحد فوجی رہنما ہیں جنہوں نے چینی صدر کی دعوت پر بیجنگ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کی جوائنٹ ملٹری کوآپریشن کمیٹی کا حصہ ہے جو فوجی تعاون کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے پاکستان کی مسلح افواج کے دورے کے ثمرات دونوں ملکوں کے مفادات اور فوجی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں.پاک چین دوستی کی ابتداء 21 مئی 1951 سے ہوئی ۔ پاکستان مسلم دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا۔ اس سفارتی پیش قدمی کو چین نے کبھی نہ بھلایا۔ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دوطرفہ تعلقات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا جو تمام موسموں اور حالات کے اتار چڑھائو کے باوجود قائم و دائم ہے۔ دراصل اس تعلق کو شروع ہی سے ایک دوسرے کی عزت اور ملکی مفادات کو محترم رکھنے کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ لہٰذا دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کی علاقائی اور بین الاقوامی پالیسیوں کی حمایت کی ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک اور چین کی افواج دفاع، سلامتی، قومی تعمیر میں برادرز ان آرمز ثابت ہوئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے قیام کی 95 ویں سالگرہ کی مناسبت سے جی ایچ کیو میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں چین کے سفیر اور چینی سفارت خانے کے حکام نے تقریب میں خصوصی شرکت کی اور چینی سفیر نے تقریب کی میزبانی پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر چینی سفیر کا کہنا تھا پاکستان اور چین میں برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ چین اور پاکستان کی مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس حال ہی میں منعقد ہوا جو باہمی تعلقات میں نئی پیشرفت ہے، پاک چین فوجی تعاون کے فروغ کے لیے نیا سیٹ اپ بنایا گیا ہے، یہ نظام فوجی رابطوں میں فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے چین کے دفاع، سلامتی اور قومی تعمیر میں پیپلز لبریشن آرمی کے کردار کو سراہا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں گہری ہیں، پی ایل اے اور پاک آرمی برادرز ان آرمز ثابت ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر تعاون جاری رہے گا۔چینی پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی 95 ویں سالگرہ کی تقریب جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ مہمانِ خصوصی تھے۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان میں چینی سفیر اور چینی سفارت خانے کے حکام نے تقریب میں شرکت کی۔ چینی سفیر نے تقریب کی میزبانی پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور چین میں برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ پاک چین مشترکہ تعاون کی کمیٹی کا اجلاس حال ہی میں منعقد ہوا ہے، یہ اجلاس باہمی تعلقات میں نئی پیش رفت ہے۔ چینی سفیر نے یہ بھی بتایا کہ اجلاس میں پاک چین فوجی تعاون کے فروغ کے لیے نیا سیٹ اپ بنایا گیا ہے، یہ نظام فوجی رابطوں میں فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہو گا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑی گہری ہیں۔ انہوں نے چین کے دفاع، سلامتی اور قومی تعمیر میں پی ایل اے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پی ایل اے اور پاک آرمی برادرز ان آرمز ثابت ہوئے ہیں۔خیال رہےکہ گُزشتہ سال بھی جی ایچ کیو میں پیپلزلبریشن آرمی کے یوم تاسیس تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی اور پاک فوج مشکل وقت کے بھائی ہیں۔ باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے ہمارے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اورچین کے منفرد اور انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ ہرچیلنج کے دوران پاک چین تعلقات مثالی نوعیت کے رہے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ باہمی شراکت داری علاقائی امن واستحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ا ماضی اورحال میں ہرچیلنج میں ہم نےایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ چین کے دفاعی اتاشی نے کہا کہ پاک چین اسٹریٹجک تعلقات خطے میں مثالی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اورچین اسٹریٹجک پارٹنراور آہنی بھائی ہیں۔چین کے دفاعی اتاشی کا کہنا تھا کہ دنیا بدل سکتی ہے لیکن ہم ہمیشہ ساتھ کھڑے ہیں۔ انہون ںے کہا کہ جغرافیائی تحفظ اور علاقائی امن واستحکام کے لیے متحد ہیں۔ اس کے علاوہ یکم اگست کو چینی عوامی سپاہ آزادی کے قیام کی 95 ویں سالگرہ کے حوالے سے چین کے مرکزی فوجی کمیشن نے بیجنگ میں اعلی ترین فوجی اعزاز “آرڈر آف اگست فرسٹ ” اور اعزازی ایوارڈزدیئے جانے کی تقریب منعقد کی ۔ چینی صدر شی جن پھنگ جو کہ سی پی سی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اورمرکزی فوجی کمیشن کےچیرمین بھی ہیں، نے ایوارڈ جیتنے والوں کو تمغےاور سرٹیفیکٹ دیے اور اعزاز حاصل کرنے والے اداروں کو اعزازی پرچموں سے نوازا۔ عوامی جمہوریہ چین کی وزارت قومی دفاع نے 31 جولائی کو چینی پیپلز لبریشن آرمی کے 95 ویں یوم تاسیس کو منانے کے لیے ایک شاندار تقریب کا انعقاد بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں کیا۔ چینی صدر مملکت شی جن پھنگ اور وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ سمیت پارٹی اور ریاستی رہنماؤں نے اس تقریب میں شرکت کی۔ اسی دوران پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے اقتصادی و تجارتی منصوبوں پر عملدرآمد میں سابق حکومت کی عدم دلچسپی کی حد تک سست روی اور اس پر چین کی جانب سے ظاہر ہونے والے تحفظات، سرد مہری اور بر ہمی کی افسوسناک اطلاعات کی موجودگی میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے اعلیٰ سطحی وفد کا 9سے 12جون تک غیر اعلانیہ دورہ چین کیا گیا تھاایپکس کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا چینی سنٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئر مین جنرل ژانگ یوشیا سے باہمی، علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال اور اس کے نتیجے میں پاک چین مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے فوجی تعاون بڑھانے، تزویراتی شراکت داری اور رابطوں میں تسلسل سمیت تربیت، ٹیکنالوجی اور دہشت گردی کے انسداد میں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر اتفاق کیا گیادونوں ملکوں کی لازوال دوستی کی روشن علامت ہے۔چین کے ساتھ ایک اور بڑی پیش رفت یہ ہے کہ چین نے اس موقع پر پاکستان کو کم شرح پر دو ارب ڈالرز قرضے کی یقین دہانی کرائی, چین مشکل وقت میں پہلے سے زیادہ عزم اور سرگرمی کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دے گا۔چین میں پاکستانی سفیر کے توسط سے موصول ہونے والے سفارتی رابطہ کاری مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے معاشی اور سٹرٹیجک تعلقات کو وسیع اور مضبوط بنانا چاہتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق چینی قیادت نے وزیر اعظم شہباز شریف کو یقین دلایا ہے کہ چین نہ صرف پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ سرگرمی کے ساتھ موجودہ وزیر اعظم کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔یاد رہے کہ چین شہباز شریف کے فلسفہ گورننس کا بہت بڑا مداح ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کو درپیش موجودہ چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے۔ شہباز شریف کی اسی خوبی کی وجہ سے چینی حکومت نے ان کے لئے ’’شہباز سپیڈ‘‘ کی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔ چین پاکستان کو جس شرح پر دو ارب ڈالر دے رہا ہے وہ اس سے بھی کم ہے جس پر وہ دوسرے دوست ملکوں کو دے رہا ہے۔چین کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی آئی ایم ایف کے دائرے میں رہ کر پاکستان کی مالی امداد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لئے توقع ہے کہ چین اور دوسرے دوست ممالک کی اعانت سے پاکستان اپنے معاشی معاملات پر قابو پالے گا۔ اس حوالے سے سی پیک کی رفتار بڑھانا بھی بہت ضروری ہے جس سے پاکستان میں اقتصادی انقلاب کی راہ ہموار ہو گی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ ، بھارت اور بعض چین مخالف مغربی ممالک شروع ہی سے سی پیک پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ڈالتے رہے ہیں اور وہ اب بھی چین دشمنی میں اس عظیم منصوبے کو روکنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کے سوا تقریباً تمام ہمسایہ ایشیائی ملکوں کے علاوہ کئی یورپی ممالک بھی اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں ۔حال ہی میں پاک چین فوجی تعاون کے فروغ کے لیے نیا سیٹ اپ بنایا گیا ہے، یہ نظام فوجی رابطوں میں فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں گہری ہیں، پی ایل اے اور پاک آرمی برادرز ان آرمز ثابت ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر تعاون جاری رہے گا۔دوستی دنیا بھر کے لئے پاک چین دوستی ایک مثال ہے۔ پاکستان اور چین نہایت قریبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی تعلقات کی بنا پر دنیا بھر میں جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات پچھلی سات دہائیوں پر محیط ہیں۔ اس تعلق کی جڑیں نہایت گہری اور پائیدار ہیں جو کہ یقیناً دونوں ممالک کی قیادت کی سمجھ بوجھ اور مستقبل کے مشترکہ نقطہ نظر کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہےپاکستان اور چین میں برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔بھارت کی چین کے ہاتھوں 1962 کی جنگ میں شکست سے جنوبی ایشیا کی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اسی زمانے میں پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی حد بندی کی بات چیت شروع ہوئی۔ دراصل اس وقت چین بھی دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ وہ اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ مناسب اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ امریکہ کی بھارت کو فوجی امداد نے پاکستان کو اتحادی بننے کی پالیسی سے بیزار کر دیا تھا۔ پاکستان یہ جان چکا تھا کہ بھارت کے امریکی ہتھیار نہ صرف چین بلکہ پاکستان کے خلاف بھی استعمال کئے جائیں گے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان دنیا میں ایک آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی اپنانے کا خواہشمند بھی تھا۔ انہی ساری وجوہات نے پاکستان اور چین کو بہت قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرحدی حد بندی کے معاہدے پر مارچ1963 میں دستخط ہوئے۔ جس کے تحت پاکستان نے1,942کلومیٹر مربع میل کا سرسبز علاقہ حاصل کیا۔ اس معاہدے پر بھارت نے سخت اعتراض کیا۔ پاکستان اور چین نے فضائی تعاون کا معاہدہ بھی کیا شنگھائی فضائی سروسز کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس معاہدے کی اہمیت اس لئے بھی بہت زیادہ تھی کیوںکہ پاکستان سے اس معاہدے کی بنا پر چین نے ان تمام کوششوں کو پسِ پشت ڈال دیا تھا جو بین الاقوامی سطح پر چین کو تنہا کرنے کے لئے کی جارہی تھیں۔کی جنگ میں پاکستان کی چین سے دوستی نے بھارت پر ایک دبائو رکھا۔ جب 16ستمبر کو چین نے بھارت کو الٹی میٹم دیا کہ اگر تین دن کے اندر بھارت نے سکم چین سرحد سے اپنی فوج نہ ہٹائی تو نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہو گا۔ اس وقت چینی الٹی میٹم نے مغربی پاکستان کے سیالکوٹ سیکٹر سے فوجی دبائو کم کرنے میں مدد کی۔ اس چینی پالیسی سے روس اور امریکہ کے رویے میں بھی تبدیلی آئی اور دونوں ممالک نے پاکستان اور بھارت پر زور ڈالا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت جنگ بندی پر عمل کریں ۔ چین کی اس پالیسی سے جنوبی ایشیا میں امن کی کوششوں کو تقویت ملی۔صرف یہی نہیں 1966 میں جب امریکہ نے پاکستان پر فوجی سازوسامان کی ترسیل بند کی اس وقت بڑی تعداد میں چینی ہتھیار جن میں ایم آئی جی 15
اور ٹینک شامل ہیں یومِ پاکستان کی پریڈ میں نمائش کے لئے پیش کئے گئے۔ ساتھ ہی1966 میں دونوں ممالک کے درمیان120 ملین کی فوجی امداد کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ دراصل ان سارے تعلقات سے دنیا کو اور خاص طور پر پاکستان کے دشمن بھارت کو ایک واضح پیغام دیا گیا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ کھڑا ہے۔تعلقات میں اہم سنگِ میل شاہراہ ریشم کا راستہ کھلنا تھا۔ جس نے چین کے صوبہ سنکیانگ کو وادی ہنزہ سے ملادیا تھا۔1969 تک شاہراہ قراقرم پر کام جاری تھا۔ اس شاہراہ پر تقریباً15000 پاکستانی اور چینی مزدوروں نے صبح شام کی انتھک محنت کے بعد تقریباً774کلومیٹر اور16,072 فٹ اونچائی پر کام مکمل کیا۔ شاہراہ قراقرم نے تعلقات کو مزید وسعت دی جو سیاسی تعلقات کے بعد معاشی ، فوجی اور معاشرتی تعلق کی صورت میں وسیع تر ہوگئی۔پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک عظیم حصہ وہ تاریخی کردار ہے جس کو نہ صرف چین نے بلکہ دوسرے ممالک خاص طور پر امریکہ نے بھی سراہا۔ پاکستان نے امریکی سیکرٹری خارجہ ہنری کسنجر کے بیجنگ کے خفیہ دورے کے انتظامات کئے۔ جس کی وجہ سے بالآخر چین امریکہ سفارتی تعلقات قائم ہوسکے۔ انہی تعلقات کی وجہ سے امریکہ نے چین کی اقوامِ متحدہ میں رکنیت کی مخالفت ترک کی اور چین اقوامِ متحدہ کا ممبر اور سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بن سکا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے چین اور عرب دنیا خاص طور پر سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ اس پاکستانی کردارکو چین نے کبھی فراموش نہیںکیا۔ چین نے شروع ہی سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ۔ خاص طور پر اقوامِ متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور بار بار پاکستان کی اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل میں حمایت کی۔ خاص طور پر جب امریکہ نے بھارت کو سلامتی کونسل کا ممبر بنانے کی کوششیں شروع کیں تو چین نے شروع ہی سے اس کی شدید مخالفت کی۔کی پاک بھارت جنگ کی چین نے مخالفت کی کیونکہ چین جنوبی ایشیا میں تسلط کی سیاست کی مخالفت کرتا آرہا تھا۔ چاہے وہ تسلط کسی عالمی طاقت کا ہو یا اس کے کسی اتحادی کا۔1971 کی جنگ میں چینی کردار صرف ہتھیاروں کی ترسیل تک محدود رہا۔ 1971کی پاک بھارت جنگ کی چین نے مخالفت کی کیونکہ چین جنوبی ایشیا میں تسلط کی سیاست کی مخالفت کرتا آرہا تھا۔ چاہے وہ تسلط کسی عالمی طاقت کا ہو یا اس کے کسی اتحادی کا۔1971 کی جنگ میں چینی کردار صرف ہتھیاروں کی ترسیل تک محدود رہا۔ 70کی دہائی میں جنوبی اور وسطی ایشیا کی سیاست میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد اور جواب میں افغان مجاہدین کی جنگ، امریکہ کا اس خطے میں ساز وسامان کے ساتھ مدد اور پاکستان کا افغانستان جنگ میں کردار اور اس کے ساتھ ہی خطے میں ایرانی انقلاب کی وجہ سے پاکستان اپنے داخلی اور بیرونی مسائل میں شدت سے گِھر گیا۔ امریکی امداد کی وجہ سے کچھ عرصے کے لئے چین بھارت تعلقات میں بہتری پیداہونے لگی لیکن یہ بہتری وقتی ثابت ہوئی۔90 کی دہائی میں پاک چین تعلقات میں تعطل ختم ہوا اور ایک بار پھر گرم جوشی پیدا ہوئی۔ چین نے پاکستان کی تقریباً ہر شعبے میں مدد کی۔ اس وقت چین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ چین کی اس وقت سب سے بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں ہے۔ دونوں ممالک کی مشترکہ تجارت کا حجم 18بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔چین میں کمیونسٹ انقلاب کی کامیابی پر مائوزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد 21ستمبر 1949 میں رکھی۔ 1950 کے بعد یکم اکتوبر چین کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس سنہری ہفتے کی تقریبات مرکزی تیان مین اسکوائرمیں منعقد ہوتی ہیں۔دفاعی شعبے میں چین نے پاکستان کی تینوں مسلح افواج کی مختلف شعبوں میں امداد کی۔ خاص کر پاکستان کی دفاعی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہیوی مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے علاوہ چینی معاونت سے کامرہ میں ٹینک اور بھی لگایا گیا جبکہ 1986 میں ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کا منصوبہ ہری پور میں شروع کیا گیاپاکستانی افواج کی تینوں شعبوں میں چینی ہتھیاروں کی درآمد ہوئی جس میں بری اور بحری، زمین سے فضا میں نشانہ مارنے والے میزائل، ہلکے اور بھاری ہتھیار اور گولہ بارود شامل ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ٹینک کی صنعت میں خاص پیش رفت ہوئی اور نئی ٹینک ٹیکنالوجی خاص کر الخالد ٹینک چینی مشاورت اور معاونت سے تیار کیاگیا۔ دنیا کی تنقید کے باوجود پاک چین اشتراک سے مختلف میزائلوں کی ٹیکنالوجی کی بہتری میں بھی اہم پیش رفت ہوتی رہی۔امریکہ بھارت نیوکلیئر ٹیکنالوجی برائے امن معاہدے کے بعد پاکستان نے چین کے ساتھ اس مخصوص نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے بات چیت کی جو بہت کامیاب رہی۔ چین نے پاکستان کے لئے نیوکلیئر توانائی کے پرامن استعمال کی پالیسی کی حمایت بھی کی اور اس کے حصول میں مدد کی,چین کی پاکستان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی شکل میں شروع ہوئی ہے۔ سی پیک سے پاکستان کا چین کے مغربی سنکیانگ صوبے سے بذریعہ شاہراہ رابطہ ہو جائے گا۔ جس سے معاشی ترقی کا ایک نیا دور منسلک ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ سی پیک منصوبہ سے پاکستان کے توانائی کے مسائل حل ہو جائیں گے اور اس کے ساتھ یہ منصوبہ شاہراہوں اور ریلویز کا ایک جال بچھا دے گا۔ سی پیک کے منصوبے کی بنیاد 2013میں رکھی گئی اور نومبر 2016 میں اس بڑے پروجیکٹ کے ایک حصے نے کام شروع کر دیا جب کہ کچھ اشیاء ٹرک کے ذریعے چین سے گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے مغربی ایشیا اور افریقہ کی منڈی میں بھیجی گئیں۔ اس کامیابی کے بعد چین نے اس منصوبے پر سرمایہ کاری میں اضافے کا عندیہ دیا جو اب 62بلین تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سی پیک کی کامیابی کے لئے پرامید ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سی پیک پاک چین دوستی میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا اور دونوں ممالک کو اس منصوبے کی تکمیل سے بے انتہا معاشی فوائد ہوں گے۔معاشی تعلقات کی بنا پر چین پاکستان ایک ایسے سیاسی بندھن میں بندھ گئے ہیں جس کو سیاسی زبان میں اتحاد کہا جاتا ہے۔ اس منصوبے کی مخالفت بھارت اور امریکہ کی طرف سے شدت سے آئی کیوںکہ یہ دونوں ممالک چین کی بڑھتی ہوئی معاشی اور سیاسی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔ بھارت کے لئے پاکستان کی سرزمین سے راستہ اس خوف میں مزید اضافہ ہے۔ پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے یہ چین سے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ممالک کا راستہ رہا ہے۔ ان علاقوں تک آسان رسائی براستہ پاکستان کم خرچ اور آسان ہے۔چین نے پاکستان کے ساتھ دوستی نبھائی۔ پاکستان کی ٹیکنالوجی، ہتھیار اور سرمایہ کاری کی فراہمی اور مختلف بحرانوں سے نکلنے میں خلوص سے مدد کی۔چین اور پاکستان کی مشترکہ تعاون کمیٹی میں پاک چین فوجی تعاون کے فروغ کے لیے نیا سیٹ اپ بنایا گیا ہے، یہ نظام فوجی رابطوں میں فروغ کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چین کے دفاع، سلامتی اور قومی تعمیر میں پیپلز لبریشن آرمی کے کردار کو سراہا۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں گہری ہیں، پی ایل اے اور پاک آرمی برادرز ان آرمز ثابت ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ہر سطح پر تعاون جاری رہے گا۔

















