دانش اسکولزوزیرِ اعظم شہباز شریف کا ہر بچے تک معیاری تعلیم پہنچانے کا وژن
(اصغر علی مبارک )
دانش اسکولز، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا ایک ایسا وژن ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر بچے تک معیاری تعلیم پہنچے، قطع نظر اس کے کہ اس کا پس منظر یا مالی حالات کیسے ہیں۔
کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کے تعلیمی نظام کی مضبوطی اور اس تک رسائی کی برابری پر ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں طبقاتی تقسیم نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، تعلیم کا شعبہ بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ ایک طرف وہ اشرافیہ ہے جس کے بچے مہنگے ترین نجی تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور دوسری طرف وہ اکثریتی پسماندہ طبقہ ہے جس کے بچے بنیادی سہولیات سے محروم سرکاری اسکولوں یا تعلیمی نیٹ ورک سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ اس بھیانک طبقاتی خلیج کو پاٹنے اور محروم طبقات کے ہونہار بچوں کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے “دانش اسکولز” کا انقلابی وژن پیش کیا۔
دانش اسکولز محض اینٹ اور گارے سے بنی عمارتوں کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا تعلیمی فلسفہ ہے جس کی اساس سماجی انصاف، معاشی مساوات اور میرٹ کی بالادستی پر رکھی گئی ہے۔ اس وژن کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ غریب، یتیم، بے سہارا اور پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیم، رہائش، خوراک اور دیگر تمام سہولیات اس معیار کی فراہم کی جائیں جو ملک کے مہنگے ترین ایچی سن کالج یا دیگر نجی بورڈنگ اسکولوں میں امیر ترین طبقے کو حاصل ہیں۔ یہ نظام اس فکری نظریے پر قائم ہے کہ ذہانت اور قابلیت کسی طبقے، امیر کی حویلی یا مخصوص جغرافیائی خطے کی جاگیر نہیں ہوتی؛ اگر کچی آبادیوں اور پسماندہ دیہاتوں کے بچوں کو بھی بہترین ماحول اور وسائل میسر آئیں، تو وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قوم کا نام روشن کر سکتے ہیں۔

اسٹیٹ آف دی آرٹ انفراسٹرکچر اور کیمپس ڈیزائن
دانش اسکولز کی کامیابی میں ان کے جدید ترین اور عالمی معیار کے انفراسٹرکچر کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ہر دانش اسکول کیمپس کو وسیع رقبے پر قائم کیا گیا ہے جہاں طلبہ کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے تمام ضروری تعمیرات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ کیمپس کے ڈیزائن میں تعلیمی بلاک، ایڈمنسٹریٹو بلاک، رہائشی ہاسٹلز، ڈائننگ ہال، آڈیٹوریم اور کھیل کے میدان شامل ہوتے ہیں۔ کلاس رومز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہاں جدید تعلیمی آلات، جیسے سمارٹ بورڈز اور پروجیکٹرز کا استعمال آسانی سے کیا جا سکے۔
آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور عملی تجربات کے بغیر تعلیمی سفر ادھورا رہتا ہے۔ دانش اسکولز میں اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید ترین سائنسی لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔ فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کی لیبز میں وہ تمام آلات اور کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو بین الاقوامی معیار کے اسکولوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور کمپیوٹر لیبز دانش اسکولز کا ایک اور ممتاز پہلو ہیں۔ ہر اسکول میں جدید ترین کمپیوٹرز، تیز مقررہ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور سافٹ ویئر ٹولز فراہم کیے گئے ہیں، جہاں طلبہ کو ابتدائی کلاسوں ہی سے کوڈنگ، پروگرامنگ اور ڈیجیٹل ڈیزائننگ سکھائی جاتی ہے۔
ہاسٹل لائف اور متوازن خوراک کا نظام
دانش اسکولز بنیادی طور پر مکمل رہائشی (Boarding) اسکول ہیں، جہاں طلبہ چوبیس گھنٹے ایک منظم اور محفوظ ماحول میں زندگی گزارتے ہیں۔ ہاسٹل کی زندگی کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ بچوں کو گھر جیسا آرام دہ اور پرامن ماحول مل سکے۔ ہر ہاسٹل میں وارڈنز اور ہاؤس ماسٹرز موجود ہوتے ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، ان کی پڑھائی کے اوقات کی نگرانی اور ان کی اخلاقی رہنمائی کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
طلبہ کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے اسکولوں میں ایک جامع اور متوازن خوراک کا نظام (Messing System) موجود ہے، جہاں ماہرینِ غذائیت کی نگرانی میں تیار کردہ مینو کے مطابق روزانہ تازہ، صاف ستھری اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی جاتی ہے۔ اسکول کے کیمپس کے اندر ہی ایک ڈسپنسری اور طبی عملہ بھی چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے جو بچوں کی صحت کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کرتا ہے۔
دانش اسکولز کا سفر پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع سے شروع ہوا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جب پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے اس منصوبے کا آغاز کیا، تو ابتدائی اسکول رحیم یار خان اور چشتیاں (بہاولنگر) جیسے دور دراز اضلاع میں قائم کیے گئے۔ ان علاقوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہاں غربت کی شرح انتہائی زیادہ تھی اور معیاری تعلیمی اداروں کا نام و نشان تک نہ تھا۔ شروع میں اس منصوبے کو شدید تنقید اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ غریب بچوں پر اتنے زیادہ وسائل اور فنڈز خرچ کرنا اسراف ہے، لیکن شہباز شریف اپنے اس عزم پر قائم رہے کہ غریب کا بچہ بھی اتنے ہی بہترین وسائل کا حقدار ہے جتنا کسی امیر کا بچہ۔
جب ان اسکولوں کے پہلے بیج نے میٹرک کے امتحانات میں بورڈ بھر میں پوزیشنز حاصل کیں اور نجی اسکولوں کے مہنگے ترین بچوں کو پیچھے چھوڑ دیا، تو تمام ناقدین کے اعتراضات ختم ہو گئے اور یہ ماڈل کامیابی کی ایک روشن مثال بن کر ابھرا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع، جیسے حاصل پور، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، اٹک اور راجن پور میں قائم دانش اسکولوں نے تعلیمی میدان میں جو ریکارڈ قائم کیے ہیں، وہ حیران کن ہیں۔ ہر سال پنجاب کے تعلیمی بورڈز کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں دانش اسکولوں کے طلبہ و طالبات ٹاپ پوزیشنز حاصل کرتے ہیں۔
پنجاب میں کامیابی کے بعد اب یہ وژن وفاق، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، بلوچستان اور خصوصاً خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں تک پھیلایا جا رہا ہے۔
ملک گیر توسیع کا وژن;…
پنجاب میں دانش اسکولز کی غیر معمولی کامیابی اور پائیداری کو دیکھتے ہوئے، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے وفاق کا منصب سنبھالنے کے بعد اس نیٹ ورک کو پورے ملک میں پھیلانے کا فیصلہ کیا۔ اس ملک گیر توسیع کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے تمام صوبوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کے غریب بچوں کو بھی تعلیمی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جا سکے۔
- وفاقی علاقے اور گلگت بلتستان: اسلام آباد کے نواحی اور دیہی علاقوں کے علاوہ گلگت بلتستان کے دور دراز اضلاع میں بھی دانش اسکولز قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں مقامی بچوں کو جدید ترین ڈیجیٹل تعلیم اور رہائشی سہولیات مل رہی ہیں۔
- آزاد کشمیر کا نیٹ ورک: لائن آف کنٹرول (LoC) کے قریب واقع پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں بھی دانش اسکولز نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے تاکہ غریب اور مستحق بچوں کو ان کی دہلیز پر عالمی معیار کی مفت رہائشی تعلیم میسر آ سکے۔
- بلوچستان کے لیے پیکیج: بلوچستان کے دور دراز علاقوں، جیسے ڈیرہ بگٹی، خضدار اور لورالائی میں ان اسکولوں کا قیام وہاں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم ہے، جہاں قبائلی پس منظر کے بچوں کو مفت بورڈنگ تعلیم دی جا رہی ہے۔
خیبر پختونخوا پیکیج اور ڈیجیٹل انقلاب;…
خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) طویل عرصے تک دہشت گردی، بدامنی اور ترقیاتی محرومیوں کا شکار رہے ہیں۔ ان اضلاع کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے اور یہاں کے نوجوانوں کو بندوق کے بجائے قلم تھمانے کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے بھاری وفاقی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ اس تاریخی ترقیاتی پیکیج کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے شعبے، اور خاص طور پر ضم شدہ اضلاع میں دانش اسکولز سسٹم کو قائم کرنے کے لیے وقف کیا گیا ہے۔
ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک مخصوص فارمولا وضع کیا ہے۔ اس فارمولے کے تحت پیکیج کے کل فنڈز کا 70 فیصد حصہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، جبکہ باقی 30 فیصد حصہ خیبر پختونخوا کے سیٹلڈ اضلاع کے پسماندہ علاقوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ فنڈز کا بڑا حصہ ان علاقوں میں نئے دانش اسکولوں کی تعمیر اور جدید تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی فراہمی پر خرچ کیا جا رہا ہے تاکہ قبائلی اضلاع کے بچے بھی ملک کے کسی بھی دوسرے حصے کے بچوں کی طرح فخر سے آگے بڑھ سکیں۔
جدید تعلیمی معیارات اور فیکلٹی کا انتخاب;…
دانش اسکولز نے اساتذہ کی بھرتی کے لیے ایک انتہائی کڑا، شفاف اور سخت میرٹ پر مبنی نظام نافذ کیا ہے۔ تحریری امتحانات، پینل انٹرویوز اور عملی تدریس کے مراحل کے بعد صرف اعلیٰ ترین اساتذہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یونیسکو (UNESCO) اور دیگر بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے اشتراک سے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
کروم بکس، اے آئی اور ڈیجیٹل منتقلی;..
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا تعلیمی وژن ہمیشہ سے ٹیکنالوجی کے فروغ سے جڑا رہا ہے۔ اب اسکولوں میں کمپیوٹر لیبز سے آگے بڑھ کر طلبہ کو کروم بکس اور تیز رفتار مائی فائی (Mi-Fi) انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ تعلیم کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑا جا سکے۔ نیٹ ورک کے مختلف اسکولوں میں اب اسمارٹ کلاس کلاس رومز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی تعلیمی ٹولز متعارف کروائے جا رہے ہیں، جہاں طلبہ کو کوڈنگ، مشین لرننگ کے بنیادی اصول اور ڈیٹا سائنس کے ابتدائی تصورات سکھائے جا رہے ہیں۔
دانش اسکولز کا سب سے بڑا سماجی معجزہ یہ ہے کہ یہ نسل در نسل چلی آرہی غربت (Intergenerational Poverty) کے چکر کو توڑنے کا سب سے موثر ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔ جب کسی غریب یا یتیم خاندان کا بچہ اس نظام سے نکل کر ڈاکٹر، انجینئر، یا سافٹ ویئر ڈویلپر بنتا ہے، تو وہ اپنے پورے خاندان کو ہمیشہ کے لیے غربت کی دلدل سے نکال لیتا ہے۔ دانش اسکولز کا یہ نیٹ ورک جیسے جیسے خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور بلوچستان کے دیہاتوں تک پھیل رہا ہے، یہ اپنے ساتھ امن، ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا سورج لے کر آرہا ہے جو آنے والے کل کے ایک روشن اور مستحکم پاکستان کا ضامن ہے۔




