.جنرل قمر باجوہ کی قیادت میں پاک فوج کی جنگی صلاحیتوں میں اضافہ…..کالم نگار؛اصغرعلی مبارک) ……….آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی قیادت میں پاک فوج کی جنگی صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جنرل قمر جاوید باجوہ نے بین الاقوامی دفاعی نمائش اور سیمینار کراچی ایکسپو سینٹر آئیڈیاز 2022 کے مختلف اسٹالز کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے بحرین، اٹلی، سری لنکا، لیبیا، زمبابوے اور یو اے ای سمیت مختلف دورے کرنے والے مندوبین سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
بعد ازاں آرمی چیف نے ملیر گیریژن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ سی او اے ایس نے افسران اور دستوں سے اپنے الوداعی خطاب کے دوران ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور ڈیوٹی سے لگن کو سراہا۔ آرمی چیف نے حالیہ شدید سیلاب کے دوران لوگوں کی مدد کے لیے فوجیوں کی امدادی کوششوں کی تعریف کی۔ قبل ازیں آمد پر کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہوتی ہے پاک فوج کی صلاحیت کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے بہترین پروفیشنلزم سے سرشار موسم کی سختیوں اور وقت کی آزمائش کی وجہ سے دنیا کی بہترین فوجبن چکی ہے ۔ اپنی مغربی سرحد پر اپنے حریف کو اس کی حدود میں رکھنا، ہائبرڈ جنگ کی زد سے گزرنا، سیلاب، زلزلے جیسی قدرتی آفات سےلوگوں کو بچانا اور یہاں تک کہ صحرائی ٹڈی دل سے لڑنا کچھ ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے پاک فوج کو ایک چٹان کی طرح مضبوط بنا دیا ہے۔ تیز اور ناقابل شکست. تاہم کسی بھی فوج کا اولین فرض مادر وطن کی حفاظت کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے اسے خطے کے بدلتے فوجی منظر نامے کے لیے تیاری سے گزرنا پڑتا ہے اور اپنی تیاری کو اعلیٰ ترین معیار پر رکھنا پڑتا ہے۔ بھارتی پائیلٹ ابھیی نندن کی گرفتاری، ایل او سی پر بھارت کی اشتعال انگیزیوں کا منہ توڑ جواب اور بھارت کی جانب سے ہونے والے بھاری جانی نقصان نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ پاک فوج اپنی علاقائی سرحدوں کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہندوستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے کے خلاف پاک فوج کےمؤثر طریقے سے احتجاج درج کرانے میں قیادت کا کردار اہم رہا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے متاثرہ لوگوں کے لیے ایک مضبوط آواز بھی ہے۔


















اس کا سہرا پاکستان کی مسلح افواج کی جنگی صلاحیت کو جاتا ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف بھارتی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔ ایل او سی کو عبور کرنے کی مہتواکانکشی سازشوں کے باوجود، بھارت محض جھوٹے اور نام نہاد ’سرجیکل اسٹرائیکس‘ کے دعوے کرنے کے باوجود اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکا۔
2014 سے 2020 کے درمیان بھارت نے لائن آف کنٹرول پر متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں جن کا موثر جواب دیا گیا۔ نتیجے کے طور پر، ہندوستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کی کئی پوسٹیں تباہ کر دی گئیں۔ اس کے علاوہ ایل او سی پر متعدد بھارتی ڈرون مار گرائے گئے۔
نتیجتاً، 2003 کا سیز فائر معاہدہ پاکستان-بھارت کے ڈی جی ایم او کے کامیاب باہمی رابطے کے بعد واپس آ گیا، جو ابھی تک برقرار ہے۔
پاکستان اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے نہ صرف بھارتی دفاعی بجٹ میں بے مثال اضافے کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا
جس کے تحت اس نے S-400 رافیل جنگی طیارے، جدید ترین ٹینک اور بندوقیں، جوہری آبدوزیں اور میزائل بھی حاصل کیے جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت مقامی اور جدید ہے۔
جنگی صلاحیت میں اضافہ
ملک کو متعدد محاذوں پر درپیش چیلنجوں کی کثرت اور محدود وسائل کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی جنگی صلاحیتوں میں کبھی کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی۔
گزشتہ پانچ سالوں کے دوران، پاکستان نے دستیاب وسائل کے ساتھ خود انحصاری کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا ہے، اور مختص بجٹ کے اندر نئے آلات خریدے ہیں اور موجودہ ہتھیاروں اور دفاعی نظام کو اپ گریڈ کیا ، خاص طور پر پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی جنگی صلاحیت کو جدید خطوط پر استوا کیا ہے۔ایئر ڈیفنس
آج کی جدید دنیا میں موثر فضائی دفاع بہر حال بہت اہم ہے۔ ہمارے فضائی دفاع نے مختلف لڑائیوں میں دشمن کے 71 جنگی طیاروں کو تباہ کیا ہے۔ اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاک فوج نے طیارہ شکن بندوقیں، 40 کلومیٹر ہٹ رینج کے ساتھ LY-80، 15 کلومیٹر ہٹ رینج کے ساتھ FM-90، اور 125 کلومیٹر رینج کی گیم چینجر HIMADS HQ-9 حاصل کی ہیں۔ /P زمین سے فضا میں مار کرنے والے اس میزائل سسٹم نے بہت زیادہ اہمیت حاصل کی ہے جس نے دشمن کے کسی بھی حملے کے خلاف پاکستان کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا ہے۔ بھارتی فضائیہ کے مقابلے میں پاک فوج نے اپنے فضائی دفاع کو نہ صرف مضبوط بلکہ ناقابل تسخیر بنایا ہے۔آرمرڈ کور
جنگ میں آرمرڈ کور کا کردار ہمیشہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان نے گزشتہ 5 سالوں میں دنیا کا بہترین 125 ملی میٹر گن والا VT-4 ٹینک متعارف کرایا ہے۔ اس نے مقامی طور پر شاندار طریقے سے لیس الخالد-1 ٹینک تیار کیے ہیں، اس کے علاوہ T-80UD، T-85 اور الضرار ٹینکوں کو جدید دور کی تکنیکی ضروریات کے مطابق مقامی طور پر اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
توپ خانے
جنگ میں فائر پاور زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ لہذا، 120 کلومیٹر رینج کے ساتھ فتح-1 ملٹی بیرل گائیڈڈ میزائل لانچنگ سسٹم اور A-100 راکٹ سسٹم کی شمولیت پاکستانی فوج کے لیے سنگ میل کی کامیابیاں ہیں۔ اس کے علاوہ، 53 کلومیٹر رینج کی SH-15 بندوقوں کے حصول نے پاکستان آرٹلری کی فائر پاور کی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔
J-10 C/ گن شپ ہیلی کاپٹر – آرمی ایوی ایشن
چین کے جدید ترین جدید ترین J-10C طیاروں کا حصول پاکستان کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے اور اس کی آپریشنل صلاحیت کو بڑھانے کے لیے پاکستان کی فوجی سفارت کاری کی ایک اہم کامیابی ہے۔ پاکستان ایئر فورس نے 14 مارچ 2022 کو ان جنگی طیاروں کو فخر کے ساتھ شامل کیا۔
مزید برآں، پاکستان آرمی ایوی ایشن کی کوششیں T-129 ترک ہیلی کاپٹرز اور چینی Z-10 گن شپ ہیلی کاپٹرز کے حصول کے آخری مراحل میں ہیں۔ ساتھ ہی، موجودہ ایوی ایشن فلیٹ کو جدید خطوط پر اس کی دیکھ بھال کے انتظامات کے ساتھ اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ تاکہ زرمبادلہ کے تناسب کے بھاری بوجھ سے بچا جا سکے۔ یہ جدید ہیلی کاپٹر آرمی ایوی ایشن کی صلاحیت اور طاقت میں مزید اضافہ کریں گے۔
پاکستان آرمی ایوی ایشن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ فخر کی بات یہ ہے کہ اس نے مقامی طور پر اپنے ایوی ایشن اسٹیمولیٹرز بنائے، جس نے قومی خزانے سے اربوں روپے کی بچت میں بہت مدد کی۔ڈرون کی صلاحیت
مسلح ڈرونز
پاکستان نے اپنی مسلح ڈرون صلاحیت کی تعمیر میں اہم پیش رفت کی ہے۔ مسلح ڈرون کی متعدد کامیاب آزمائشی پروازیں کی جا چکی ہیں۔ اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں Shahper-2 اور CH-4 ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جس سے دہشت گردوں کے خاتمے میں کافی مدد ملی ہے۔
آئی ایس آر کی صلاحیت
آج کے دور میں روایتی دشمن اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مکمل طور پر آگاہی حاصل کرنے اور ہدف کے علاقے کی نگرانی کرنے کے لیے، پاکستان نے مقامی طور پر بنائے گئے ڈرونز کے ساتھ ساتھ UAVs کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے۔ اس عمل میں، Burraq ڈرون، Shahper-II، Uqqab، Scout، Huma، Burraq UAVs، VTOL، اس لیے انتہائی اہم طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان ڈرونز کو مسلح ڈرونز کے ساتھ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے اور تباہ کرنے کے لیے کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
براق ڈرون
براق ڈرون 20 ہزار فٹ کی بلندی پر 8 گھنٹے پرواز کرنے کی صلاحیت کے ساتھ 8 کلومیٹر کے فاصلے سے 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہدف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شاہپر II ٹوہی UAV
Shahper-II Reconnaissance UAV سطح سمندر سے 20 ہزار فٹ سے اوپر 14 گھنٹے کی نان اسٹاپ پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عقاب UAV
Uqqab UAV دن کی روشنی میں اور رات کے اندھیرے میں، 8 گھنٹے کی نان اسٹاپ پرواز تک 150 کلومیٹر چوڑے علاقے پر آسانی سے نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سکاؤٹ-1
Scout-1 10 کلومیٹر کے فاصلے میں ایک علاقے کی لائیو ویڈیو دکھاتا ہے۔ یہ ہاتھ سے لانچ کیا جانے والا ڈرون ہے جو کسی بھی جگہ پر آسانی سے اتر سکتا ہے۔
سکاؤٹ II
Scout-II 40 منٹ کی بلا روک ٹوک پرواز کے ساتھ 5 کلومیٹر تک کے علاقے کی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہما یو اے وی
ہما ایک ٹیکٹیکل UAV ہے، جو کسی بھی جگہ پر رکھے ہوئے لانچ پیڈ کے ذریعے ٹیک آف کر سکتی ہے اور پیراشوٹ کی مدد سے لینڈ کی جا سکتی ہے۔ جمہوری نظام میں فوج ان چار اداروں میں شامل ہے جس پر ریاست یا ملک کی بنیاد ہوتی ہے پاکستان بھی ایک جدید جمہوری ریاست ہے جہاں ریاست پاکستان کی بنیاد میں شامل پاک فوج بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔جبکہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے پھر بھی سیاسدان اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے پاک فوج کو بدنام کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے پاک فوج کی سربراہی کرنا اور پھر اس سربراہی میں پوشیدہ امتحانات کو جھیلنا کسی دل گردے والے انسان کی بات ہے۔ یہ کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے کہ مشکل فرض سے نمٹ سکے۔ گزشتہ چھ سال سے ریاست پاکستان کی بنیادی اکائی یعنی فوج کی سربراہی جنرل قمر جاوید باجوہ کرتے رہے ہیں۔ یوں تو پاک فوج کے تینوں شعبے بری، بحری اور فضائی اپنی اپنی جگہ بہترین ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں لیکن بری فوج کے سربراہ کے پاس چونکہ تمام مسلح ونگز کی سربراہی ہوتی ہے اس لئے ان کی ذمہ داریاں بھی باقیوں کی نسبت بڑھ کر ہوتی ہیں۔لیکن ہمارے ہاں ایک فیشن بن چکا ہے کہ خصوصا کچھ عرصہ سے دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ نا م نہاد صحافی نما حضرات جنرل قمر جاوید باجوہ کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور جانے انجانے میں دشمن کے مذموم پروپیگنڈے کوآگے بڑھانے میں معاون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔لیکن صد آفریں پاک فوج نے صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جبکہ پاک فوج کو دفاعی اعتبارسے دنیا کی بہترین فوج بنادیا بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ نے 1978میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 29نومبر 2016کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان آرمی کی سربراہی سنبھالی اور وہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سپاہ کے دسویں سربراہ ہیں جو ایک مقدس مشن کی آبیاری کر رہے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب فوج کی کمان سنبھالی تو دہشت گرد وں کے خلاف ان کی سربراہی میں آپریشن رد الفساد شروع کیا گیا۔ملک کے طول و عرض میں دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کے خلاف کامیاب آپریشنزکئے گئے۔اسی آپریشن رد الفساد کی برکتوں سے ملک میں سی پیک جاری ہوا اور گوادر سے لے کر کراچی تک دہشت گردوں کا پیچھا کیا گیا اور انہیں نشان عبرت بنا کر پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا گیا۔ تقریبا چھ سال سے یہ آپریشن جاری ہے جس میں دہشت گردوں کے خلاف لا تعدا د آپریشن کئے گئے ہیں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔آج امن و امان کی بحالی کے لیے پاک فوج کی جانب سے شروع کیا گیا آپریشن ردالفساد جب اپنی کامیابیوں کی منازل طے کر رہاہے توپوری قوم نے اس پر سکھ کا سانس لیا ہے۔یہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا وژن ہی ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے بے نیل و مرام ہو کر واپس لوٹنا پڑا اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں پاکستان کے پتے اس خوبصورتی سے کھیلے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان سے انخلا کیلئے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد مانگنا پڑی اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے سپر پاور امریکہ کو پاکستان کی اہمیت کا احساس دلایا۔کشمیر کا مسئلہ جس طرح جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں اجاگر ہوا اور جس طرح جنرل باجوہ نے مسلح افواج اور پاکستانی قوم کو کشمیر کے مسئلہ پر یکجا کیا ہے اور پاکستان کا بچہ بچہ اب کشمیر کے مسئلہ سے آگاہ ہو چکا ہے اور جس طرح ایک کشمیری یکجہتی کی لہر جنرل قمر جاوید باجوہ نے قوم میں پیدا کی ہے ان کا یہ احسان نہ بھولنے والا ہے۔عام انتخابات کا انعقاد، کشمیر کا مسئلہ، افغانستان سے امریکہ کو رخصت کرانا، آپریشن رد الفساد کی کامیابی، عالمی کرکٹ کو واپس پاکستان میں لانا، شہیدوں کے گھروں پر حاضری، تہواروں کے موقع پر اپنے سپاہیوں کے ساتھ دن گزارنا یہ سب جنرل قمر جاوید باجوہ ہی کر سکتے ہیں ان کی کامیابی اور شخصیت کا یہ انوکھا پن دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا جس کی وجہ سے ان کیخلاف ایک مذموم مہم شروع کی گئی ہے تا کہ پاک فوج کو متنازعہ بنایا جا ئے۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اسکے پیچھے بھی پاک فوج کی ٹیم تھی جنرل باجوہ نے ایک ٹیم بنائی اور پھر سیاسی رہنماؤں کو قائل کیا اور ایف اے ٹی ایف کے نکات پر عمل در آمد کرایا اور جس طرح پاکستان کو عالمی سفارتی تنہائی سے نکال کر دنیا میں اپنا آپ منوایا یہ صرف اور صرف جنرل باجوہ کا ہی اعجاز ہے کہ آج دنیا پاکستان کی معترف ہے اور پورا پاکستان جنرل باجوہ اور پاک فوج کا شکر گزار ہے جو کارنامے انہوں نے سر انجام دیئے ہیں وہ مشعل راہ بن چکے ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا 6 سالہ دور انتہائی اہم رہا، اس دور کی اگر چیدہ چیدہ بات کریں تو قمر جاوید باجوہ کی کمان میں پاکستان سے 95 فیصد دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ آج کل باجوہ صاحب الوداعی دورے کر رہے ہیں، جس سے لگ یہی رہا ہے کہ وہ اپنے اس عہدے کی مزید توسیع نہیں چاہتے۔ انہیں سابق وزیر اعظم عمران خان نے 2019 میں تین سال کی توسیع دی تھی جس کے لئے آئین میں ترمیم بھی کی گئی تھی بعد ازاں اسے مزید جاری رکھنے کی افواہیں گردش رہیں جنہیں جنرل باجوہ نے ہر بار مسترد کیا۔ پاک فوج میں یہ روایت ہے کہ سبکدوشی کے وقت افسران اپنے زیر کمان اداروں اور اہم مقامات کے الوداعی دورے کرتے ہیں۔
جنرل باجوہ کو 2016 میں جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت پوری ہونے پر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے پاک فوج کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔ آپریشن ضرب عضب کی کامیاب تکمیل کے بعد 2017 میں ملک کے اندر شدت پسند تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کی سرکوبی کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں آپریشن ردالفساد عمل میں لایا گیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ جنرل باجوہ نے پاک فوج کے سپہ سالار کی
حیثیت سے ملکی سرحدوں ، لائن آف کنٹرول، فوجی مشقوں کی انسپکشن، قدرتی آفات میں متاثرین کی عملی امداد اور ان کے ریسکیو کیلئے خود کو ہر موقع پر موجود پایا۔ اگست 2022 میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے تناظر میں انہیں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعاون کی جڑیں مضبوط بنانے میں موثر کردار ادا کرنے اور منفرد کوششوں کے اعتراف میں ”و سام الاتحاد“ اعزاز عطا کیا جو کہ برادر اور دوست ملکوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو دیا جانے والا ملک کا دوسرا بڑا اعزاز ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے کیرئیر کا آغاز 16بلوچ رجمنٹ سے اکتوبر 1980ءمیں کیا تھا۔ وہ کینیڈا اور امریکہ کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اور انفینٹری کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں انسٹرکٹر، فوج میں نہایت اہم سمجھی جانے والی راولپنڈی 10کور کمانڈر، جنرل ٹریننگ اور ایویلیوایشن کے انسپکٹر جنرل،انفینٹری بریگیڈ میں بطور بریگیڈ میجر اور ناردرن ایریاز میں انفینٹری ڈویژن کے کمانڈر بھی رہے۔
اس کے علاوہ تعریف وہ جو دوسرے بھی کریں، اور اعزاز وہ جو آپ کا وقار بھی بلند کرے، جنرل باجوہ کے دور میں انہیں دنیا بھر کے ممالک سے اعزازات بھی ملے۔یعنی انہیں چھ مختلف دوست ممالک کی جانب سے بہترین خدمات پر اعلیٰ اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دورے کے دوران آرمی چیف کو متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ”آرڈر آف یونین“ میڈل سے نوازا۔ یہ اعزاز دو طرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے جنرل قمر جاوید باجوہ کے نمایاں کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔ اس سے قبل 26 جون 2022 کو سعودی ولی عہد اور نائب وزیر اعظم محمد بن سلمان نے انہیں ”کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس“ سے نوازا تھاجبکہ 9 جنوری 2021 کو بحرین کے ولی عہد کی جانب سے ”بحرین آرڈر (فرسٹ کلاس) ایوارڈ“ دیا گیا اور 5 اکتوبر 2019 کو اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے بھی ”آرڈر آف ملٹری میرٹ“ کے ایوارڈ سے نوازا تھا۔ اسی طرح روسی سفیر نے آرمی چیف کو 27 دسمبر 2018 کو ”کامن ویلتھ ان ریسکیو اینڈ لیٹر آف کمنڈیشن آف رشین مانیٹرنگ فیڈریشن“ کا اعزاز دیا۔ قبل ازیں 20 جون 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ترکی کے ”لیجن آف میرٹ ایوارڈ“ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
بہرحال اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت حربی تاریخ میں اپنا ایک الگ مقام حاصل کیا ہے۔ محدود وسائل کے ساتھ بڑے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے پاک فوج کی خدمات قابل فخر ہیں۔ سیاچن کا محاذ ہو یا پھر بھارت اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحدی پٹی۔ بھارت کے جارحانہ عزائم اور اسکے خفیہ منصوبوں کی ناکامی، بیرونی مداخلت سے ہونیوالی دہشت گردی سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اندرون اور بیرون ملک دشمن عناصر کی سرکوبی، ہر میدان میں پاکستانی افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوایا ہے جبکہ پاک فوج اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ بھی بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے، اس تناظر میں دنیا نے پاکستانی افواج کی خدمات کا ہر مقام پر اعتراف کیا ہے۔ آرمی چیف کو ملنے والے اعزازات بلاشبہ پاکستان کیلئے اعزاز ہیں جوعالمی سطح پر عساکر پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا برملا اعتراف ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے چھ سالہ دور میں پاکستان کو دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا دلانے کے علاوہ ملکی معیشت کے استحکام کیلئے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر برق رفتاری سے کام مکمل کرایا۔ گوادر بندرگاہ کو آپریشنل کرنے اورملکی تاریخ کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل میں بھی پاک فوج اور جنرل قمر جاوید باجوہ کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔ جنرل باجوہ نے پاک فوج کے سربراہ کے طور پر قوم اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کےلئے جو شاندار خدمات انجام دیں انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔




