
جادوگرباؤلریاسر شاہ سپین بولنگ کے جال میں دس کیویز پھنس گے ،شاہینوں کو سیریز میں واپس آنے کیلئے آٹھ کیویز کو جلد از جلد شکار کرنا ہوگا ،
خصوصی تحریر :اصغر علی مبارک کے قلم سے
دبئی ٹیسٹ میں جادوگرباؤلریاسر شاہ سپین بولنگ کے جال میں دس کیویز پھنس گے ،شاہینوں کو سیریز میں واپس آنے کیلئے آٹھ کیویز کو جلد از جلد شکار کرنا ہوگا ، یاسر شاہ کی شاندار باؤلنگ کی بدولت امید پیدا ھوچکی ھے کہ پاکستان دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز میں واپس آجاۓ گا دبئی ٹیسٹ میں جادوگرباؤلر ہ کی ایک دن میں دس وکٹیں، نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں 90 رنز پر ڈھیر ھو کر فالوآن کا شکار ہوگئی یاسر شاہ متحدہ عرب امارات میں سو وکٹیں حاصل کرنے والے باؤلر بن گے ھیں پاکستانی لیگ اسپنر یاسر شاہ نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ریکارڈز اپنے نام کر لیے۔نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن کی تباہی کے ذمے دار پاکستانی اسپنر یاسر شاہ تھے جنہوں نے 41رنز کے عوض 8وکٹیں لے کر کیریئر کی بہترین باؤلنگ کی جو دبئی میں کسی بھی باؤلر کی بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ ہے۔اس سے قبل یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے دویندرا بشو کے پاس تھا جنہوں نے دو سال قبل پاکستان کے خلاف 49رنز کے عوض 8وکٹیں لی تھیں۔یاسر شاہ کی پہلی اننگز میں شاندار باؤلنگ کسی بھی پاکستانی باؤلر کی ٹیسٹ اننگز میں تیسری بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ ہے جہاں ان سے قبل عبدالقادر اور سرفراز نواز 9، 9 وکٹیں لینے کا اعزاز رکھتے ہیں۔تاہم یاسر شاہ نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کسی بھی باؤلر کی بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ قائم کردیا، ان سے قبل یہ ریکارڈ جنوبی افریقہ کے گوفی لارنس کے پاس تھا جنہوں نے 62-1961 میں 53رنز کے عوض 8وکٹیں حاصل کی تھیں۔ دوسرے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کے 6 کھلاڑی صفر پر آؤٹ ہوئے اور ایک اننگز میں سب سے زیادہ کھلاڑیوں کے صفر پر آؤٹ ہونے کے عالمی ریکارڈ کو برابر کردیا۔اس سے قبل پاکستان، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور بھارت کی ٹیموں کے بھی 6 کھلاڑی ایک اننگز کے دوران صفر پر آؤٹ ہو چکے ہیں جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔تاہم اس سب سے قطع نظر یاسر شاہ نے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن ایک ایسا منفرد ریکارڈ قائم کردیا جو پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کوئی بھی باؤلر نہ کر سکا۔یاسر شاہ نے میچ کے تیسرے دن پہلی اننگز میں 8 وکٹیں لینے کے بعد دوسری اننگز میں بھی نیوزی لینڈ کے دو بلے بازوں کو چلتا کردیا اور اس طرح پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں ایک دن میں 10وکٹیں لینے والے پہلے باؤلر بن گئے۔دبئی ٹیسٹ میں جادوگرباؤلر یاسر شاہ کی شاندار باؤلنگ کی بدولت امید پیدا ھوچکی ھے کہ پاکستان دوسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز میں واپس آجاۓ گا مایہ ناز لیگ اسپینر یاسر شاہ نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو 90 رنز پر آل آؤٹ کرکے فالو آن کا شکار کردیا۔دبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے روز نیوزی لینڈ نے 24 رنز بغیر کسی نقصان کے شروع کی۔بارش کے باعث میچ کا آغاز تاخیر سے ہوا تاہم نیوزی لینڈ کی جانب سے پاکستان کی طرح ہی سست بیٹنگ کا مظاہرہ کیا جارہا تھا۔تاہم یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے جیت راول کو 50 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ کرکے پاکستان کو پہلی کامیابی دلوائی۔تو دبئی میں بارش کے بعد وکٹوں کی جھڑی لگ گئی لیگ اسپینر کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے 61 کے مجموعی اسکور پرایک ہی اوور میں ٹام لیتھم، روس ٹیلر اور ہینری نکولس کی اننگز کا خاتمہ ہوگیا جس سے میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔یاسر شاہ کی گھومتی ہوئی گیندوں کے جال میں کیویز ٹیم کے کھلاڑی پھنس کر رہ گے اور کیویز ٹیم 90 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی ۔کیویز ٹیم فالو آن کا شکار ہوئی تو پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے اس بار غلطی نہ کی خود بیٹنگ کے بجاۓ مہمان ٹیم کو دوبارہ بیٹنگ کرنے کوکہا، جس کے بعد دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ نے محتاط انداز بیٹنگ شروع کی ،واضح رہے اس سے قبل جب میچ کے پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 207رنز بنائے تھے، حارث سہیل 240 گیندوں پر 81 رنز بنا کر ناقابل شکست ہیں جبکہ بابر اعظم 14رنز کے ساتھ ان کا ساتھ نبھا رہے ہیں۔ میچ کے دوسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی اننگز حارث سہیل اور بابراعظم کی شاندار سنچریوں کی مدد سے 5 وکٹوں پر 418 رنز بنا کر ڈیکلیئر کردی تھی۔دوسرے روز جب کھیل کا اختتام ہوا تو نیوزی لینڈ نے بغیر کسی نقصان کے 24 رنز بنائے تھے۔تاھم دوسرے ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان نے جب کھیل کا آغاز کیا تو اسکور 4 وکٹوں 207 رنز تھا۔حارث سہیل اور بابراعظم نے ذمہ دارانہ مگر سست بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کے مجموعے کو اطمینان سے آگے بڑھایا۔پاکستان نے دوسرے روز کھانے کے وقفے تک 274 رنز بنائے تھے اور کوئی وکٹ نہیں گری تھی تاہم اس سے قبل بابراعظم نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔پہلی اننگز میں پاکستان کی پانچویں وکٹ چائے کے وقفے سے پہلے اس وقت گری جب مجموعی اسکور 360 رنز تھا۔حارث سہیل نے 421 گیندوں کا سامنا کیا اور 13 چوکوں کی مدد سے 147 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹرینٹ بولٹ کی گیند پر آوٹ ہوئے جو دوسرے روز گرنے والی پاکستانی کی واحد وکٹ تھی۔بابراعظم کا ساتھ دینے کے لیے کپتان سرفراز احمد میدان میں اترے اور قدرے جارحانہ انداز اپنایا اور دونوں بلے بازوں نے مجموعی اسکور کو 5 وکٹوں پر 418 رنز تک پہنچایا اور اننگز ڈیکلیئر کرنے کا اعلان کیا۔پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں اپنی پہلی اننگز حارث سہیل اور بابراعظم کی سنچریوں کی مدد سے 5 وکٹوں پر 418 رنز بنا کر ڈیکلیئر کردی۔بابراعظم نے آوٹ ہوئے بغیر 127 رنز بنائے جس کے لیے انہوں نے 263 گیندوں کا سامنا کیا اور ان کی اننگز میں 12 چوکوں کے علاوہ 2 چھکے بھی شامل تھےکپتان سرفراز احمد نے 30 رنز بنائے۔نیوزی لینڈ کی جانب سے پہلی اننگز میں گرینڈ ہوم نے 2، ٹرینٹ بولٹ اور اعجاز پٹیل نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔دوسرے روز جب کھیل کا اختتام ہوا تو نیوزی لینڈ نے بغیر کسی نقصان کے 24 رنز بنائے تھے۔ٹام لیتھام 5 اور جیت راول 17 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔ ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کی پہلی اننگز کے اسکور 418 رنز کے جواب میں صرف 90رنز پر ڈھیر ہو گئی۔نیوزی لینڈ کے اوپنرز نے اپنی ٹیم کو 50رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا جس کے بعد پوری ٹیم محض 40رنز کے اضافے سے پویلین لوٹ گئی۔یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں محض دوسرا موقع ہے کہ کسی ٹیم کے اوپنرز نے اسے کم از کم 50رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اس کے باوجود بقیہ 10وکٹیں 40رنز کے اضافے گر گئی ہوں۔اس سے قبل 2001 میں بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو اوپنرز نے 91رنز کا آغاز فراہم کیا تھا لیکن پھر بقیہ ٹینم 131رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ میچ میں ایک ایسا عالمی ریکارڈ بھی بنا جو آج تک نہیں دیکھا گیا تھا اور نیوزی لینڈ کے 4 سے 11 نمبر کے بلے بازوں نے اپنی ٹیم کے رنز میں سب سے کم رنز کا اضافہ کیا۔نیوزی لینڈ کے 4 سے 11 نمبر کے بلے بازوں نے اپنی ٹیم کے مجموعے میں محض 5 رنز جوڑے جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں عالمی ریکارڈ ہے جو اس سے قبل سری لنکا کے پاس تھا جس کے بلے بازوں نے کُل 8رنز جوڑے تھے۔یاد رہے کہ نیوزی لینڈ نے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4 رنز سے شکست دی تھی۔دوسرے ٹیسٹ ،نیوزی لینڈ نے 2وکٹوں پر131رنز بنا لیے اور پاکستان سے اننگز کی شکست سے بچنے کیلئے ایک سو ستا انوے رنز کی ضرورت ھے ،جبکہ شاہینوں کو سیریز میں واپس آنے کیلئے آٹھ کیویز کو جلد از جلد شکار کرنا ہوگا





