تحریک لبیک کے راہنماؤں پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات کے مستقبل کی پیش بندی …






تحریر و تحقیق :اصغر علی مبارک (کالم ؛اندر کی بات )
حکومت پاکستان نے تحریک لبیک کے راہنماؤں خادم حسین رضوی ،افضل قادری وغیرہ کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج کر دینے ہیں۔ کے خلاف پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج کر دئیےہیں۔ ’تحریک لبیک نےاحتجاج کے دوران سرکاری اور غیرسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کیلئے جس طرز کی سیاست کا آغاز کیا وہ نہ صرف پاکستانی قانون کے خلاف تھی بلکہ آئین پاکستان کو بھی للکارا گیا۔املاک کو نقصان پہنچانے، خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پولیس نےکارروائی سے قبل حزب اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔گذشتہ ماہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام سے بری کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک لبیک نے ملک بھر میں تین روز تک احتجاجی دھرنا دیا تھا۔ کارروائی کے دوران 2899 افراد کو پنجاب سے، 139 افراد کو سندھ اور 126 افراد کو اسلام آباد سے حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ تحریک لبیک کی قیادت پر الزام ھے کہ لوگوں کو اشتعال دلایا،گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور خواتین و بچوںکو ہراساں کرنے والے تحریک لبیک کے کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔اس میں کوئی شک نہیں ھے کہ احتجاج تمام شہریوں کا قانونی اور آئینی حق ہے لیکن ریاست اپنی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دےسکتی۔ ’آئین اور قانون کے اندر احتجاج کی آڑ میں کچھ شرپسند عناصر نے فساد پھیلایا ، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ ریاست کسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عوام کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے کے تیار ہونی چاہئیے مگر بدقسمتی سےتحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں نے کسی کو خاطر میں نہ لایا جس پر‘گذشتہ ماہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت درجنوں افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے انھیں 30 دن تک نظر بند کر دیا گیا ،خیر دیر آید درست آید کے مصداق حکومت کی رٹ بلاخر قائم فو ہی گئی ۔حکومت کا الزام ھے کہ تحریک لبیک کی قیادت نے لوگوں کو اشتعال دلایا،’تحریک لبیک مسلسل عوام کی جان و مال کے لیے خطرہ بن گئی ہے اور مذہب کی آڑ لے کر سیاست کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے گذشتہ ماہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے الزام سے بری کرنے کے فیصلے کے خلاف تحریک لبیک نے ملک بھر میں تین روز تک احتجاجی دھرنا دیا تھا۔اس دھرنے کا اختتام، تحریک لبیک اور وفاقی و پنجاب حکومت کے درمیان ایک معاہدے کے بعد ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تحت حکومت نے آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی کی حامی بھری تھی۔تحریک لبیک کے رہنمائوں کی گرفتاریوں کے بعد راولپنڈی میں فنڈ ریزینگ مہم زوروں پر شروع ہو چکی ھے ،راولپنڈی کے علاقہ ریلویز کیرج فیکٹری روڈ تھانہ رتہ امرال کی ناک تلے فنڈ ریزینگ اتوار کے روز بھی فنڈ ریزینگ جاری رھی ھے جبکہ کلعدم تنظیموں کی طرف سے کسی قسم کی غیر قانونی فنڈز ریزینگ پاکستانی قوانین اور نیکٹا کے احکامات دھشت گردی ایکٹ کی روشنی میں سنگین جرم ھے پاکستان میں وفاقی کابینہ کی طرف سے قومی انسدا دہشت گردی اتھارٹی(نیکٹا) کے لیےمسودہ قانون کی منظوری سے تین سال قبل قائم کیے گئے اس ادارے کو قانونی تحفظ ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہےپاکستان میں دہشت گردی سے مراد پورے ملک میں مجموعی دہشت گردانہ کاروائیاں خیال کی جاتی ہیں۔ دہشت گردی سے ملک کا ہر صوبہ متاثر ہوا ہے2003ء تک پاکستان میں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر تھی۔ مجموعی طور پر سال بھر میں اموات 164 تھی جو 2009ء میں 3318 تک جا پہنچی۔ پاکستان کے علاقے جہاں دہشت گردی کے زیادہ واقعات ہوئے ہیں ان میں کراچی شہر،بلوچستان اور ملک کا شمال مغربی حصہ شامل ہے۔۔2001ء سے 2011ء کے درمیان کل 35,000 ہزار شہری مارے گئے۔ حکومت پاکستان کے مطابق دہشت گردی کیخلاف ملکی اقتصاد کو لگ بگ 68 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے اہم وجوہات میں مختلف حکومتی اقدامات اور پڑوسی ملک افغانستان پر چلنی والی جنگ شامل ہے۔نیکٹا کا قیام سال دوہزار نو میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا لیکن قانونی تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ادارہ مؤثر کردار ادا نہ کر سکا۔حکومت کا دعویٰ ہےکہ نیکٹا کو قانونی تحفظ دیے جانے کے بعد دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے میں مدد ملے گی۔ نیکٹا بل کی منظوری کو ہر سطح پر سرا ھا گیا اور اسے دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیاگیا یہ اتھارٹی دہشت گردی کے خلاف پالیسی سازی کے لئے ایک تھنک ٹینک کے طور پر کام کرےرہی ھے ۔ تاہم ضرورت اس امر کی ھے کہ دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے پہلے سے موجود اداروں اور ان کے اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے پر توجہ دی جاتی تو زیا دہ بہتر ہوتا۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے قیام کے بل میں بہتری لائی گئی ۔اور دنیا بھر کے تجربات کو دیکھا گیا۔ ویسے تو پاکستان بھی فورمز موجود ہیں ، ہماری خفیہ ایجنسیاں ہیں، وزارت داخلہ میں اس حوالے سے رابطہ کاری کے لیے ایک سیل بھی موجود ہے لیکن اس رابطے کے عمل میں مزید تحقیقات کے عنصر کو شامل کرنے کے علاوہ صوبائی حکومتوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہےنیکٹا بورڈ کی سربراہی وزیراعظم پاکستان خود کرتے جبکہ اس ادارےکے اختیارات اور طاقت کو بڑھایا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ دس سالوں کے دوران ملک میں 35 ہزار سے زائد سویلین اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم دوسری جانب دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر مؤثر پالیسی، قانون سازی کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی کارکردگی بھی ایک بڑا سوالیہ نشان رہی ہے۔ حکومتی اداروں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نئے اداروں کے قیام سے نہیں بلکہ عوامی سوچ میں تبدیلی لا کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ھے ۔ عالمی ادارے اور امریکا بہادر کا پاکستان میں ڈو مور کی گردان دہرائی جاتی رھی جب تک ھم بطور پاکستانی قوم کی سوچ کو ایک دھارے میں نہیں لائیں گے، یہ ادارے متحرک و فعال کردار ادا کرنے سے قاصر رہیں گے نیکٹا فوج ، پولیس اور رینجرز کے تعاون سے عملی اقدامات پر چیک اینڈ بیلنس کی بڑی اتھارٹی ہے؟ ابھی تک ملکی سطح پر دہشت گردی کی تعریف بھی نہیں کی گئی۔ ایک الجھاؤ کی سی کیفیت ہے، پارلیمان کو چاہیے کہ وہ عوامی نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوئے سب سے پہلے دہشت گردی کی ایک متفقہ تعریف سامنے لائے اور پھر انسداد دہشت گردی کے قوانین بنائے جو مؤثر ثابت ہوں گے۔ ’’انسداد دہشت گردی کے قوانین میں وقت کے ساتھ تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، ابھی تک دہشت گردی کی تعریف نہیں کی گئی، اگر پارلیمنٹ دہشت گردی کی تعریف کر لے تو یہ ڈر بھی ختم ہو جائے گا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔‘‘انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997میں ترمیم کے لیے مسودہ قانون پر گزشتہ تین سال سے اتفاق نہیں ہوسکا۔دہشت گردی کیا ہے؟تحریک لبیک کے رہنماؤں پر غداری اور دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمات درج ہوچکے ھیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ایسی قانون کاروائیاں کررہی ہے تا کہ رٹ آف دی گورنمنٹ برقرار رھے جس سے بلاشبہ ریاست کو دہشت گردوں کے تشدد سے نمٹنے میں فیصلہ کن اختیار حاصل ہوگا – اور باتوں کے علاوہ، اس کے نتیجے میں ریاست کے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو دہشت گردوں کی تشدد کی دھمکیوں کے خلاف فیصلہ کن اختیارات کے ساتھ کاروائی کرنے کا موقعہ میسر ہوگا .. قارئین محترم :دہشت گردی ایک اختلافی نظریہ ہے جس کی بہترین وضاحت اس قدیم کہاوت سے کی جاسکتی ہے؛“ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہے”-دہشت گردی کی کوئی ایسی تعریف موجود نہیں جس سے سب اتفاق کریں، اور اکثر یہ مسئلہ کہ دہشت گرد کون ہے بعض گروہوں کی غیر قانونی حیثیت اور ان کی سیاست سے جڑجاتا ہے- اسی لیے، دہشت گردی کی ایک فعال تعریف کے بغیر، اگر سیکیورٹی اداروں کو مزید اختیارات دے دیئے جائیں تو ان کا غلط استعمال ہوسکتا ہے-‘دہشت گرد’ کی اصطلاح کو بہت احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے ورنہ خدشہ اس بات کا ہے کہ اس کی اہمیت گھٹ جائیگی اور بالاخر یہ اپنا مفہوم کھو بیٹھے گا-دہشت گردی کے ساتھ ساتھ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینا، عسکریت پسندی، فرقہ وارانہ تشدد اور اقلیتوں کے خلاف تشدد ایک ہی نظریاتی فکر کے مختلف پہلو ہیں- دہشت گردی کی جڑ میں بنیادی مسائل چھپے ہیں جو اپنا جواب مانگتے ہیں-تین بنیادی نظریوں کی مدد سے ہم اس کی زیادہ بامعنی تعریف کرسکتے ہیں-دہشت پسند ‘پاگل’ نہیں ہیں اور نہ ہی صرف وہی مجبور اور مظلوم ہیں-عموماً جنھیں نشانہ بنایا جاتا ہے وہ اصلی ہدف نہیں ہوتے، بلکہ اصلی ہدف تو بچے رہتے ہیں-دہشت پسند چاہتے ہیں کہ انھیں بہت سے لوگ دیکھیں گے بہت سے لوگ مر جائیںگے یہ لوگ قابل نفرت ہیں- بھتہ خوری، اغوا اور قتل مجرمانہ جیسے افعال بھی دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں،بہتر آگہی اور وضاحت کے لئے ضروری ھے کہ ہم پاکستان میں ہونے والے جرائم کا تجزیہ کریں،اسلام کے مطابق ‘مرتد’ کون ہے؟کیا ریاست کسی شہری یا گروہ کو کافر قرار دے سکتی ہے؟کیا واقعی کوئی شہری یا گروہ کسی شہری یا گروہ کو کافر قرار دے سکتا ہے؟اگر ایسا ہوتا ہے تو ریاست کا رد عمل کیا ہونا چاہئیے؟تکفیری تحریک کیا ہے اور پاکستان جیسی جدید ریاست اس کے تشدد کے عنصر کو کس طرح روک سکتی ہے؟کیا موجودہ قوانین اور عمل درآمد کا نظام اس کی روک تھام کرنے کے لیئے کافی ہے؟القاعدہ کی نظریاتی شکائتیں کیا ہیں اوریہ تنظیم انہیں تشدد کے ذریعہ دور کرنے کا کیا جواز پیش کرتی ہے؟ ان کے اس طرز فکر نے ان عام پاکستانیوں کو جو ابھی تک انتہا پسند نہیں ہوئے ہیں لیکن جو ذرا سی کوشش سے ان کا آلہ کاربن سکتے ہیں، کیوں متاثرکیا ہے؟پاکستان کی ریاست کو چاہیئے کہ اس بم کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے- ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ میں قدرتی طور پر ایک نظام موجود ہوتا ہے جو اپنی انا کا دفاع کرتا ہے اور تمام حقائق کی نفی کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں دماغ پر اتنا دباؤ پڑتا ہے کہ وہ اسے برداشت نہیں کرسکتا- اس کیفیت کو ‘انکاری’ (Denial) کیفیت کہتے ہیں-جب ھم اپنے اردگرد جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان مسائل پر عوامی اور سیاسی سطح پر جو بحث ہو رہی ہے اس کا معیار بہت پست ہے۔ علمی سطح پر تو ایسی کوئی کوشش نظر ہی نہیں آتی- پارلیمنٹ میں بھی شاذ و نادر ہی انھیں موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ مثلا ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں عسکریت پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا نتیجہ ہیں۔ کوئی فاترالعقل شخص ہی ایسی بات کہہ سکتا ہے- ان دونوں کے درمیان کسی تعلق کا کوئی صاف ثبوت موجود نہیں11/ 9 کے بعد دہشت گردی کے اسباب، میکانزم اور اس کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیئے جو کام ہوا ہے اس کی معلومات حاصل کرنے کے لئے میں نے گوگل اسکالر پر”دہشت گردی کے اسباب” ٹائپ کیا- اس کے دماغ کو جھنجھوڑ دینے والے پہلے آٹھ صفحات کا جائزہ لیں تو آپ کو بہت کچھ مل جائے گا-جیسیکا اسٹرن کی کتاب، خدا کے نام پر دہشت: مذہبی عسکریت پسند کیوں قتل کرتے ہیں (Terror in the Name of God: Why Religious Militants Kill) ایک قابل ذکر کتاب ہے- ڈاکٹر اسٹرن ہارورڈ کے کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ میں پڑھاتی ہیں اور دہشت گردی کے موضوع کی ممتاز ماہر سمجھی جاتی ہیں- ایک نقاد نے ان کی کتاب کو غیر معمولی قرار دیا ہے کیونکہ وہ ایک تربیت یافتہ عالمی سماجیات ہیں جنھوں نے چار سال تک بنیادی اعداد و شمار اکٹھا کئے، جس کے دوران مشتبہ دہشت پسندوں سے بھی ان کے رابطے ہوئے اگرچہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھاعموما اس قسم کا کام انٹیلیجنس کے اہلکار یا صحافی کرتے ہیں نہ کہ ان کے پایہ کے لوگ- ان کے خیال میں مذہبی دہشت گرد آج کی دنیا میں خطرناک ترین لوگ ہیں- ان کی تصنیف ایک ایسا آئینہ ہے جو ہمیں بہت ہی کم وقت میں معاملہ کی تہہ تک پہنچا دیتا ہے- ہمارے پالیسی سازوں اور سیکیورٹی کے اداروں کو چاہئے کہ اس کا مطالعہ کریں-دہشت گردی اور اس کا مقابلہ کرنا ” اس کا مطالعہ بہت سے علوم کا موضوع ہے۔ اس کا بڑا حصہ تو علم سیاست سے متعلق ہے لیکن اس کو سمجھنے کے لئے جنگی علم، مواصلات، سماجی نفسیات، جرائم اور قانون کےعلوم سے واقفیت ضروری ہے-ہزار میل کے اس لمبے سفر کے لئے اس سے کہیں زیادہ سوچ بچار کی ضرورت ہے جو اب تک ہو چکی ہے- لیکن فی الحال دہشت گردی کی صحیح تعریف بیان کرنا اگلا اہم قدم ہے۔پاکستان کے بڑے شہروں میں مظاہرے اس سال 31 اکتوبر سے شروع ہوئے تھے جب سپریم کورٹ نے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے مقدمے میں دی جانے والی سزائے موت کا فیصلہ تبدیل کر کے انھیں بری کر دیا تھا جس کے بعد سے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں جمع ہو گئے۔یہ مظاہرے تقریباً ایک سال قبل ہونے والے اسلام آباد دھرنے کی یاد دلاتے ہیں جس میں مظاہرے کرنے والی یہی تحریک لبیک پاکستان تھی لیکن حکومت پاکستان مسلم لیگ نواز کی تھی اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی تھے۔سنہ 2017 کے مظاہروں کے دوران اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاتا رہاگذشتہ سال اکتوبر کے اوائل میں پاس ہونے والے الیکشن ایکٹ 2017 میں شامل چند ترامیم پر تنازع کھڑا ہوا جسے حکومت نے محض ‘غلطی’ قرار دیا لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف جوڈیشل انکوائری کی جائے۔یہ ترامیم احمدیہ جماعت سے متعلق تھیں جنھیں حکومت پاکستان نے 1974 میں ایک آئینی ترمیم کے تحت غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ حزب اختلاف کی جانب سے نشاندہی کے بعد حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ان شقوں کو ان کی پرانی شکل میں بحال کر دیا تھا۔لیکن اس کے باوجود دو سیاسی جماعتوں، تحریک لبیک یا رسول اور سنی تحریک نے حکومت پر الزام لگایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں ختم نبوت اور جماعت احمدیہ سے متعلق شق کو جان بوجھ کر بدلا اور اسے ایک بڑی سازش کا حصہ قرار دیا۔اپنے احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے ان دونوں جماعتوں نے الزام لگایا کہ وزیر قانون زاہد حامد ان ترامیم کے ذمہ دار ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کی دھمکی دی۔پانچ اکتوبر کو دھرنے کے آغاز پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے مظاہرین کو تنبیہ کی کہ شہر میں عوامی مظاہرہ کرنے پر پابندی ہے۔ اسلام آباد پولیس نے تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مرکزی رہنما خادم حسین رضوی کی خلاف ایف آئی آر درج کی لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت ہر ممکن اقدامات اور کوشش کر رہی ہے تاکہ مظاہرین کو قائل کیا جائے کہ فیض آباد انٹرچینج سے اپنا دھرنا منتقل کر کے پریڈ گراؤنڈ یا کسی اور مقام پر لے جائیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے میں موجود مظاہرین اور ان جماعتوں کے رہنماؤں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم دیا لیکن اس کی تعمیل نہیں ہوئی۔ایک بار پھر اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس امید کا اظہار کیا کہ 24 گھنٹوں میں وہ مظاہرین کو منتشر کر کے دھرنا ختم کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔آخر کار 24 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو دھرنا ختم کرانے کے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جس کے بعد اسلام آباد کی انتظامیہ نے دھرنے کے مظاہرین کو 25 نومبر کی صبح سات بجے تک دھرنا ختم کرنے کی ایک بار پھر ‘آخری تنبیہ’ جاری کی اور آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔اس دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ‘بہتر ہوگا کہ اس معاملے کا پرامن طریقے سے حل نکل آئے، تاہم حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی فوج اس پر عمل درآمد کرانے کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سلامتی کے معاملے پر سول اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہیں’۔ سال 2017 کے معاہدے تحت مطالبہ کیا گیا تھا کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد جن کی وزارت کے ذریعے اس قانون کی ترمیم پیش کی گئی ہے ان کو فوری اپنے عہدے سے برطرف (استعفیٰ) کیا جائے۔ تحریک لبیک ان کے خلاف کسی قسم کا فتوی جاری نہیں کرے گی۔
تحریک لبیک یا رسول اللہ کے مطالبے کے مطابق حکومت پاکستان الیکشن ایکٹ 2017 میں 7B اور 7C کو مکمل متن مع اردو حلف نامہ شامل کر لیا ہے جن اقدام کی تحریک لبیک یا رسول اللہ ستائش کرتی ہے تاہم راجہ ظفر الحق صاحب کی انکوائری رپورٹ تیس دن میں منظر عام پر لائی جائے اور جو اشخاص بھی ذمہ دار قرار پائے گئے ہیں ان پر ملکی قانون کے مطابق کاروائی کی جائی گی۔دھرنے کے شروع ہونے سے اس کے اختتام پزیر ہونے تک ہمارے جتنے بھی افراد ملک بھر میں گرفتار کیے گئے ہیں، ایک سے تین دن تک ضابطے کی کاروائی کے مطابق رہا کر دیے جائیں گے اور ان پر درج مقدمات اور نظر بندیاں ختم کر دی جائیں گی۔25 نومبر کو ہونے والی حکومت ایکشن کے خلاف تحریک لبیک یا رسول اللہ کو اعتماد میں لے کر ایک انکوائری بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو تمام معاملات کی چھان بین کر کے حکومت اور انتظامیہ کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا تعین کرے اور 30 روز کے اندر انکوائری مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا جائے۔چھ نومبر سے دھرنے کے اختتام تک جو سرکاری و غیر سرکاری املاک کا نقصان ہوا، اس کا تعین کر کے ازالہ وفاقی و صوبائی حکومت کرے گی۔حکومت پنجاب سے متعلقہ جن نکات پر اتفاق ہو چکا ہے ان پر من و عن عمل کیا جائے گا۔ اس سال2018میں بھی تحریک لبیک نے ماضی کی طرح فیض آباد میں ڈیرہ ڈالا ملک بھر میں مظاہروں اور تحریک لبیک کے رہنماؤں کی جانب سے بیانات پر وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا ’سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک چھوٹے سے طبقے نے جس قسم کی زبان استعمال کی ہے اس پر میں آپ سے بات چیت کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہنا کہ ججز واجب القتل ہیں اور آرمی چیف غیر مسلم ہیں، اور جنرلز کو کہا جا رہا ہے کہ آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرو۔’آپ اپنی سیاست چمکانے کے لیے اس ملک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی، کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے، ریاست کو وہاں نہ لے کر جائیں جہاں وہ کوئی ایکشن لے۔‘حکومت نے اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے اس صورتحال کے حوالے سے مشورے کیے۔ دونوں رہنماؤں نے قوت استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا۔حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے قائدین سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی اور مذاکرات کا آغاز کیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔اس دوران فوج کے معتبر ادارے کے سربراہ ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ’فوج جس کام میں مصروف ہے اس کام سے اس کی توجہ دائیں بائیں نہ لے جائیں اور اس سطح پر نہ جائیں جہاں ہمیں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جو کام کرنے چاہیے وہ کیے جائیں۔ آخری بات یہ ہے کہ مذاکرات میں بات اوپر نیچے ہو جاتی ہے دونوں جانب سے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ مذاکرات کا مقصد ہے کہ بہترصورتحال ہر بات جائے۔ وہ مرحلہ نہیں آنا چاہیے کہ بات افواج پاکستان کی ذمہ داری پر آجائے۔ جب یہ کیس فوج کے پاس آئے گا تو وہ اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔‘اس دوران حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے قائدین کے مابین ایک اور معاہدہ 2018ھوا معاہدے کے تحت آسیہ مسیح کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جائے گاآسیہ مسیح کے مقدمے میں نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی گئی ہے جو کہ مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے۔ جس پر حکومت معترض نہ ہو گی۔آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے،آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں ان کے بارے میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی،آسیہ مسیح کے بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ان افراد کو فوری رہا کیا جائے گااور اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلا جواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے تاہم بعد اذاں آسیہ مسیح کی بیرون ملک روانگی کی افوؤں پر تحریک لبیک پاکستان کے راہنماؤں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ھوے ایک اور دھرنے اور راولپنڈی میں بڑا احتجاجی جلسہ لیاقت باغ راولپنڈی کے مقام پر کرنے کی کال دے ڈالی ،تحریک لبیک کے راہنماؤں خادم حسین رضوی ،افضل قادری وغیرہ نے جب بات نہ مانی تو حکومت کی رٹ قائم کرنے کیلئے حفاظتی تحویل میں لیکر نظر بند کیا گیا جب معمالات طے ناپاۓ تو تحریک لبیک کے راہنماؤں کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج کر دینےگئے تاھم اس کے بعد تحریک لبیک کے راہنماؤں کے نام پر انکی رہے کے اخراجات کے نام پر راولپنڈی میں فنڈ ریزینگ مہم زوروں پر شروع ہو چکی ھے ،پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی فنڈ ریزینگ اور تحریک لبیک کے راہنماؤں کے دوسرے درجے کی قیادت مقامی سطح پر منظم کی جاری رھی ھے جبکہ کلعدم تنظیموں کی طرف سے کسی قسم کی غیر قانونی فنڈز ریزینگ پاکستانی قوانین اور نیکٹا کے احکامات دھشت گردی ایکٹ کی روشنی میں سنگین جرم ھےجبکہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادروں کو ہوش کے ناخن لینا ہونگے تاکہ مزید کوئی سانحہ رونما نہ ہوسکے …



