بے شمار چیلنجز میں آرمی چیف جنرل عاصم منیرکی تعیناتی مثبت قرار …….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)بے شمار چیلنجز میں آرمی چیف جنرل عاصم منیرکی تعیناتی مثبت قراردیا جا رہا ہے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے گزستہ روز ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پاکستانی حکومت کے ساتھ جون کی جنگ بندی ختم کرتے ہوئے اپنے دہشت گردوں کو ملک بھر میں حملے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ جس کے بعد بڑے فوجی آپریشن کا امکان ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کی وزارت دفاع نے تحریک کے تمام گروپ رہنماؤں، تحصیل عہدیداروں اور گورنرز کو حکم دیا ہے۔ کہ ملک بھر میں جہاں بھی آپ پہنچ سکتے ہیں حملہ کریں ، یہ بیان ایک کھلی دھمکی ہے۔
نئے آرمی چیف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی عزت اور فوج کی عزت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا عزم رکھتے ہیں، وہ جدید اور قدیم، دائیں اور بائیں بازو کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سیاسی اور جنرل افسر، جنرل اور خاص۔ بند لوگ جانتے ہیں کہ ان کے معاشی معاملات شک و شبہ سے بالاتر ہیں اور وہ سرکاری وسائل کو ذات کی سطح پر خرچ نہیں ہونے دیتے۔
انہوں نے ملک کے ایک مخصوص علاقے کے لوگوں کو اپنے تعصبات کے باوجود اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کرنے کی اجازت دی اور اس کے لیے ان کے علاقے کو سہولیات بھی فراہم کی اور ان کی بات سنی اور انہیں اپنے روایتی طریقوں پر چلنے کی اجازت دی۔
ان کی پہلی ترجیح گھر کے حالات کو ٹھیک کرنا ہو گی۔ پھر خارجہ امور پر بات ہو گی لیکن پہلی ترجیح مفاد، عزت، خود انحصاری، امن، قانون کی حکمرانی اور پاکستان اور پاکستانیوں کی رائےکو احترام دینا ہے
چونکہ ان کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے اور پاکستان ہی واحد ایجنڈا ہے اس لیے کسی کی شخصیت سے مقابلہ کرنا مناسب نہیں۔ آرمی چیف اپنی مثال آپ ہیں ،
انکی موجودگی میں ملک سے غداری یا محبت نہ رکھنے والوں کے لیے زمین تنگ ہو جائے گی اور معاملات روایت پسندی سے نہیں جدت سے طے ہوں گے۔ماضی میں بہت برداشت ہو چکا ، اب برداشت کی بھی کوئی حد ہو گی اینٹ کا جواب پتھر سےضرور دیا جائے گا۔
نئے سربراہ کے پاس بہت سے حل طلب مسائل ہوں گے لیکن ان کی کمان میں فوج کے غیرسیاسی اور غیر جانبدار رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں جو بہت ضروری بھی ہیں کیونکہ ماضی میں فوج نے سیاست میں مداخلت کی جس سے سیاستدانوں کو فوج پر انگلی اٹھانے کا موقع ملا۔ .نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی پروموشن ملک اور قوم کی ترقی کا باعث بنے گی پاک فوج میں کمان کی تبدیلی کی تقریب سے خطاب میں سبکدوش ہونے والے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی ملک اور فوج کے لیے مثبت ثابت ہوگی جنرل عاصم منیر اس وقت سب سے سینئر ترین جنرل ہیں، انہیں ستمبر 2018 میں 3 اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن انہوں نے 2 ماہ بعد چارج سنبھالا تھا۔ مزید برآں وزیراعظم شہبازشریف نے جنرل سید عاصم منیر کو آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے پرٹیلی فون پر مبارک پیش کی ہے ،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بہادر پاکستان آرمی کے سپہ سالار کا منصب سنبھالنا بڑا اعزاز ہے، پاک آرمی کو آپ جیسا پیشہ وارانہ قابلیت کا حامل سربراہ ملنا اللہ تعالی کا خاص فضل ہے” پورا یقین ہے کہ آپ کی قیادت میں آرمی کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور دفاع وطن کی قوت میں مزید اضافہ ہوگا” : وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مادر وطن کے تحفظ و سلامتی، دہشت گردی کے خاتمے سمیت سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں اللہ تعالی آپ کی مدد و راہنمائی فراہم فرمائے ،وطن عزیز کے دفاع، سلامتی اور تحفظ کے لئے ہمارا بھرپور تعاون آپ کومیسر رہے گا: وزیراعظم کی آرمی چیف سے گفتگومیں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نیک تمناﺅں کے اظہار اور مبارک پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا.پاک فوج میں کمان کی تبدیلی کی تقریب سے خطاب میں سبکدوش ہونے والے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی ملک اور فوج کے لیے مثبت ثابت ہوگی,جنرل عاصم منیر اس وقت سب سے سینئر ترین جنرل ہیں، انہیں ستمبر 2018 میں 3 اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی لیکن انہوں نے 2 ماہ بعد چارج سنبھالا تھا۔









جنرل سید عاصم منیر ایک بہترین آرمی افسر ہیں، وہ منگلا میں آفیسرز ٹریننگ اسکول پروگرام کے ذریعے سروس میں شامل ہوئے اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، وہ اس وقت سے چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجودہ کے قریبی ساتھی رہے ہیں جب سے انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوجیوں کی کمان سنبھالی تھی جہاں اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کمانڈر 10 کور تھے۔بعد ازاں، انہیں 2017 کے اوائل میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اگلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا، تاہم اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کے طور پر ان کا اس عہدے پر قیام مختصر مدت کے لیے رہا کیونکہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے اصرار پر 8 ماہ کے اندر ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تقرر کردیا گیا تھا۔
جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے طور پر منتقلی سے قبل انہیں گوجرانوالہ کور کمانڈر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا جہاں اس عہدے پر وہ 2 سال تک فائز رہے تھے۔ پاکستان کی عسکری تاریخ میں جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں جو دو انٹیلی جنس ایجنسیوں (آئی ایس آئی اور ایم آئی) کی قیادت کر چکے ، اس کے علاوہ وہ پہلے کوارٹر ماسٹر جنرل ہیں جنہیں آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے۔جنرل عاصم منیر نے پاک فوج کے 17 ویں سپہ سالار کی حیثیت سے کمان سنبھال لی ہے ، سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان پر وقار تقریب میں جنرل عاصم منیر کے سپرد کی۔قبل ازیں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقدہ تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل سید عاصم منیر نے یادگار شہدا پر حاضری دی۔یاد رہے کہ پاک فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی پر جاری قیاس آرائیوں کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے 24 نومبر کو جنرل عاصم منیر کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد صدرمملکت عارف علوی نے سمری پر دستخط کرکے فیصلے کی توثیق کردی تھی۔پاک فوج کی کمان بدلنے کی تقریب کے آغاز میں یاد گار شہدا پر حاضری کے بعد پاک فوج کی مختلف رجمنٹس سے تعلق رکھنے والے دستوں نے پریڈ میں شرکت کی اور اس دوران قومی نغموں نے شرکا کے جوش و ولولے میں اضافہ کردیا۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، پاک فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر، مسلح افواج کے سابق و حاضر سربراہان ،اعلیٰ سول، فوجی حخام کے ساتھ ساتھ وفاقی وزرا، سفارت کاروں اور صحافیوں نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب میں سبکدوش ہونے والے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی ملک اور فوج کے لیے مثبت ثابت ہوگی۔الوداعی خطاب میں جنرل باجوہ نے کہا کہ سبکدوش ہونے کے بعد بھی پاکستان فوج کی ہر کامیابی پر خوشی محسوس کروں گا۔ فخر ہے کہ فوج کی قیادت قابل افسر کے سپرد کی، یقین ہے فوج جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں کامیابی کی منزلیں طے کرے گی۔ اس موقع پر انہوں نے ایک جملہ دہراتے ہوئے کہا کہ جنرل ڈگلس نے کہا ہے” پُرانے فوجی کبھی مرتے نہیں، بس وہ منظرسے ہٹ جاتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ریٹائر ہونے کے بعد بھی فوج سے میرا روحانی رشتہ قائم و دائم رہے گا”۔
قمر جاوید باجوہ کے مطابق 6 سالہ دور میں دہشت گردی سے لے کر ہر مشکل میں فوج نے میری آواز پر لبیک کہا۔ میں اللہ کا شکر گزار ہوں جس نے اس عظیم فوج میں خدمات کا موقع دیا۔ اپنی فوج پر فخر ہے جو کم وسائل کے باوجود سیاچن سے لے کر صحرا تک سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے، یہ لسانیت، رنگ نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہوکر ملک کے چپے چپے کا دفاع کرتی ہے۔
سبکدوش ہونے والے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ جنرل عاصم سے میری رفاقت 24 سالہ پرانی ہے، وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ پیشہ ور، باصلاحیت اور اعلیٰ اصولوں کے قابل افسر ہیں، یقین ہے فوج ان کی قیادت میں نئی منازل عبور کرے گی، ان کی تعیناتی مثبت ثابت ہوگی، خوشی ہے کہ فوج ایک مایہ ناز اور قابل افسر کے حوالے کر کے جا رہا ہوں، یقین ہے آنے والے وقت میں فوج جنرل عاصم کی قیادت میں اس سے بڑھ کر ملک کی خدمت کرے گی۔آرمی چیف نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں فوج ایک مایہ ناز اور قابل سپوت کے حوالے کر کے ریٹائر ہو رہا ہوں، آج سے 44سال قبل میرا فوجی سفر شروع ہوا تھا جو آج اختتام پذیر ہو رہا ہے، میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے ناصرف اس بہادر اور عظیم فوج میں کام کرنے کا موقع دیا بلکہ اس مایہ ناز فوج کی کمان کا شرف بھی بخشا جو میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ اس چھ سالہ دور میں لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی ہو یا ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی، امن و امان کے چیلنجز ہوں یا قدرتی آفات کا مقابلہ، اس فوج نے ہمیشہ میری آواز پر لبیک کہا اور جہاں میں نے ان سے پسینہ مانگا، انہوں نے مجھے خون دیا۔
آرمی چیف نے کہا کہ انہی قربانیوں کی وجہ سے پاکستان آج امن کا گہوارہ ہے، ہماری سپہ کی قربانیوں کا اعتراف ہمارے دوست اور دشمن دونوں کرتے ہیں، مجھے اپنی فوج پر فخر ہے جو اتنے کم وسائل سیاچن کے برف پوش پہاڑوں سے لے کر تھر کے صحراؤں تک ملک کی جغرافیائی سرھدوں کی حفاظت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فوج لسانیت، رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر ہو کر ملک کے چپے چپے کا دفاع کرتی ہے، مجھے وقت ہے کہ آنے والے وقت میں بھی یہ فوج جنرل عاصم منیر کی زیر قیادت اس سے بڑھ کر ملک کی خدمت اور دفاع کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر میں اپنی 16بلوچ رجمنٹ کا بھی نہایت مشکور ہوں کیونکہ مجھے اس مقام تک پہنچانے میں میرے یونٹ کا بھی کلیدی کردار رہا ہے ، میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں بھی عنقریب گم نامی میں چلا جاؤں گا لیکن میرا روحانی رابطہ ہمیشہ فوج سے قائم رہے گا، جب فوج کو کامیابی حاصل ہو گی تو مجھے خوشی ہو گی لیکن جب فوج پر مشکل وقت آئے گا تو یہ یقین رکھیے گا کہ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہوں گی۔
قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ کم وسائل کے باوجود پاک فوج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے، پاک فوج جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ملک کی مزید خدمت کرے گی، پاک فوج ملک کے چپے چپے کی حفاظت کی ضامن ہے، جب فوج پر مشکل وقت آئے گا میری دعائیں پاک فوج کے ساتھ رہیں گی، نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لئے دعا گو ہوں۔خطاب کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان کی چھڑی نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے سپرد کی۔
واضح رہے کہ کمان کی چھڑی کو کمانڈ اسٹک بھی کہا جاتا ہے، آرمی کمان کی یہ چھڑی انگریزوں کے دور سے فوجی روایت کا حصہ چلی آ رہی ہے۔
کمانڈ اسٹک ون اسٹار یعنی بریگیڈیئر کے عہدے کے افسران کو سونپی جاتی ہے، یہ اسٹک افسران کو پرانے افسران کی جانب سے دی جاتی ہے، پرانے افسران آنے والے نئے افسر کو یہ چھڑی سونپ کر خود نئی چھڑی تھامے نئے عہدے پر ترقی کر جاتے ہیں اور یہ سلسلہ آرمی چیف پر جا کر ختم ہوتا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ 6 سال آرمی چیف رہنے کے بعد آج اس عہدے سے سبکدوش ہو گئےلیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف بننے سے قبل جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن تعینات تھے، یہ وہی عہدہ ہے جو آرمی چیف بننے سے قبل جنرل راحیل شریف کے بھی پاس تھا۔
قمر جاوید باجوہ آرمی کی سب سے بڑی 10 ویں کور کی کمان کرنے کا بھی اعزاز رکھتے ہیں جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (ٹورنٹو)، نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی مونٹیری (کیلیفورنیا)، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ ہیں۔
پاک فوج کے سربراہ کو کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں جبکہ بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی بھی کی۔
انہوں نے 10ویں کور میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر بھی بطور جی ایس او خدمات انجام دیں اور وہ دہشت گردی کو پاکستان کے لیے بھارت سے بھی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
قمر جاوید باجوہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں انڈین آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ کے ساتھ بطور بریگیڈ کمانڈر کام کرچکے ہیں جو وہاں ڈویژن کمانڈر تھے، وہ ماضی میں انفنٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈنٹ بھی رہ چکے ہیں۔
انہوں نے 16 بلوچ رجمنٹ میں 24 اکتوبر 1980 کو کمیشن حاصل کیا تھا، یہ وہی رجمنٹ ہے جہاں سے ماضی میں تین آرمی چیف آئے ہیں اور ان میں جنرل یحییٰ خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل کیانی شامل ہیں۔




