بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب، قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے حلف لے لیا؛ وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد
مظفرآباد — پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی تمام تر داخلی سیاسی مخالفتوں، دھڑے بندیوں اور سخت جوڑ توڑ کے بعد بالآخر آزاد جموں و کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں، جس کے بعد انہوں نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اہم ترین اجلاس اسپیکر چوہدری طارق فاروق کی صدارت میں ہوا، جس میں قائدِ ایوان کے انتخاب کا عمل مکمل کیا گیا۔
انتخابی مقابلہ اور ایوان کا عددی تناسب

آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مجموعی نشستوں کی کل تعداد 53 ہے، تاہم پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کی سات نشستوں پر تاحال انتخابات نہ ہونے کے باعث اس وقت ایوان میں فعال ارکان کی کل تعداد 46 ہے۔ اس سیاسی سیٹ اپ میں مسلم لیگ (ن) کو اپنے اتحادیوں سمیت اسمبلی میں مجموعی طور پر 32 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے ارکان کی تعداد 14 ہے۔
قائدِ ایوان کے انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کسی بھی امیدوار کو کم از کم 27 ووٹ درکار تھے۔ پولنگ کے مجموعی عمل میں 46 کے ایوان میں سے کل 44 ارکان نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس میں مسلم لیگ (ن) کے نامزد کردہ امیدوار بیرسٹر افتخار گیلانی نے مطلوبہ تعداد سے 3 ووٹ زیادہ، یعنی کل 30 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مدمقابل پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے امیدوار سردار مختار عباسی تھے، جو اپنے تمام 14 ارکان کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
حلف برداری کی تقریب
کامیابی کے فوراً بعد، مظفرآباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریبِ حلف برداری کے دوران آزاد کشمیر کے قائم مقام صدر چوہدری طارق فاروق نے نو منتخب وزیراعظم سے ان کے منصب کا حلف لیا، جس میں اعلیٰ سیاسی و سرکاری شخصیات نے شرکت کی۔
پارلیمانی غیر حاضریاں اور پارٹی اختلافات
انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے اندر پیدا ہونے والے شدید اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب نامزدگی پر تحفظات کا اظہار کرنے والے ن لیگ آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے ایوان ہی نہیں پہنچے۔ دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی نامزدگی پر سخت تحفظات رکھنے کے باوجود سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ایوان میں آ کر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ اپوزیشن کے کیمپ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی بازل علی نقوی نے بھی ووٹنگ کے اس اہم ترین عمل میں حصہ نہیں لیا اور وہ بھی ایوان سے غیر حاضر رہے۔
یاد رہے کہ افتخار گیلانی کی نامزدگی کا حتمی فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں کیا تھا، جس کی توثیق بعد میں قائدِ ن لیگ میاں محمد نواز شریف نے بھی کی تھی، تاہم مقامی قیادت کی جانب سے شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ایل اے 29 کی شکست سے وزارتِ عظمیٰ تک کا سفر
بیرسٹر افتخار گیلانی رواں عام انتخابات میں مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 29 سے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر میدان میں اترے تھے، جہاں انہیں اسی پیپلز پارٹی کے سردار مختار عباسی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس الیکشن میں مختار عباسی نے 20 ہزار 45 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ بیرسٹر افتخار گیلانی 16 ہزار 507 ووٹ حاصل کر سکے تھے۔ تاہم، بعد میں مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنایا، جہاں سے وہ اب براہِ راست وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
فعال سیاسی پس منظر اور سابقہ ریکارڈ
بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کی سیاست میں طویل عرصے سے ایک انتہائی فعال اور کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل 2011 اور 2016 میں بھی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی سابقہ صوبائی کابینہ اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے دورِ حکومت میں وہ خطے کے وزیرِ تعلیم کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔
قائدین کے بیانات اور مستقبل کا عزم
وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو آزاد جموں و کشمیر کا وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جمہوری عمل کا تسلسل انتہائی خوش آئند ہے اور اس سے خطے میں استحکام آئے گا۔
حلف اٹھانے کے بعد ایوان سے اپنے پہلے خطاب میں نو منتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی نے مرکزی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، “میں مجھ پر اعتماد کرنے پر قیادت کا شکر گزار ہوں۔ ہماری اولین ترجیح نوجوان نسل کو روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، اور آزاد کشمیر کو ایک مثالی اور ترقی یافتہ خطہ بنانے کے لیے ہم تمام سیاسی دھڑوں اور اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔”




