ایوان میں”ڈیل” یا صرف “دباؤ” ؟ اپوزیشن پی پی کی قربتیں، .(اصغر علی مبارک)
اپوزیشن اور پی پی کی قربتیں ایوان میں”ڈیل” یا صرف “دباؤ” ہیں ؟ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ کسی کو کوئی سیاسی ریلیف نہیں دے رہی، بلکہ صرف عدالتی احکامات کی تعمیل کی جا رہی ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود، حالیہ دنوں میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اور دیگر سیاسی معاملات پر پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں。بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ دھاندلی کی پیداوار ہیں۔اندر کی بات یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سپریم کورٹ کے حکم سے ہسپتال منتقلی کے بعدچیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں محمود اچکزئی,علامہ ناصر عباس سے ملاقات سےقربتیں بڑھ رہی ہیں,چونکہ مسلم لیگ (ن) کے پاس ایوان میں واضح اکثریت نہیں ہے اور وہ روزمرہ کی قانون سازی کے لیے پیپلز پارٹی کے تعاون پر انحصار کرتی ہے، اس لیے پیپلز پارٹی کا اپوزیشن کے ساتھ یہ رابطہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک بڑی سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔کہا جا رہا ہےکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اپوزیشن چیمبر میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں سے ہونے والی حالیہ اہم ملاقات کا بنیادی مقصد کسی پوشیدہ ڈیل کے بجائے بنیادی طور پر پارلیمانی امور میں تعاون اور قانون سازی ہے بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی اور اپوزیشن کے ارکان پر زور دیا کہ وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں دوبارہ شامل ہوں اور قانون سازی کے عمل میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔
پی پی پی اور اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں قانون سازی اور آئندہ الیکشن کمیشن کے ارکان و چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سمیت انتخابی اصلاحات کے معاملے پر قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور علاج کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ایک اچھی “جمہوری روایت” قرار دیا۔
نئے صوبوں کی بحث پر بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی عوامی رائے کا احترام کرتی ہے، تاہم سندھ میں نئے صوبے بنانے کے خلاف پی پی پی کا مؤقف برقرار ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کے باوجود، حالیہ دنوں میں آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات اور دیگر سیاسی معاملات پر پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں,بلاول بھٹو نے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) دھاندلی کی پیداوار ہیں۔چونکہ مسلم لیگ (ن) کے پاس ایوان میں واضح اکثریت نہیں اور وہ روزمرہ کی قانون سازی کے لیے پیپلز پارٹی کے تعاون پر انحصار کرتی ہے، اس لیے پیپلز پارٹی کا اپوزیشن کے ساتھ یہ رابطہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک بڑی سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس اہم مشاورتی بیٹھک میں دونوں جانب سے سینیئر قیادت راجہ پرویز اشرف علامہ راجہ ناصر عباس (سینیٹ اپوزیشن لیڈر)شیری رحمان سلمان اکرم راجہ (سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی)نوید قمراسد قیصر (سابق اسپیکر قومی اسمبلی)ندیم افضل چن مصطفیٰ نواز کھوکھر، عامر ڈوگر اور عادل بازئی موجود تھے اپوزیشن رہنماؤں نے پارلیمانی کمیٹیوں میں واپسی اور دیگر اہم فیصلوں کے لیے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے حتمی مشاورت کرنے کا مؤقف اپنایا ہے۔ دارالحکومت کی حالیہ سیاسی لہر، “ڈیل یا تبدیلی” کی حقیقت اور ن لیگ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا تفصیلی اور جامع احوال درج ذیل ہے, تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق، وفاق میں حکمران اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کا اپوزیشن کی طرف جھکاؤ کسی اچانک صلح کا نتیجہ نہیں، بلکہ مسلم لیگ (ن) کو سیاسی اور پارلیمانی طور پر دیوار سے لگانے کی ایک گہری حکمتِ عملی ہے۔
پیپلز پارٹی اس وقت ن لیگ کی کمزور اکثریت کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے کیونکہ شہباز شریف حکومت کا ہر قدم بلاول بھٹو کی حمایت کا محتاج ہے۔
ایوان میں تبدیلی اور قربتوں کے پیچھے درج ذیل چار بڑے عوامل کام کر رہے ہیں:
کشمیر انتخابات اور “دھاندلی” کا بیانیہ: آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ سیاسی و انتخابی معرکوں نے دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے مابین خلیج کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا ن لیگ کی حکومت کو “دھاندلی کی پیداوار” قرار دینا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اتحاد اب صرف کاغذات تک محدود رہ گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی کو بلاول بھٹو کی جانب سے “بہترین جمہوری روایت” قرار دینا ن لیگ کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا ہے۔ یہ بیان پی ٹی آئی کے حامیوں اور اپوزیشن الائنس کے لیے ایک نرم پیغام (Soft Signal) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جہاں ملک بھر میں نئے صوبوں (بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا میں) کی بحث تیز ہے، وہاں بلاول بھٹو نے سیاسی پینترا بدلتے ہوئے عوامی رائے کا احترام تو کیا، مگر اپنے گڑھ سندھ کی تقسیم کے خلاف سخت ترین مؤقف برقرار رکھ کر اپنی صوبائی سیاست کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
پارلیمنٹ کے اندر ن لیگ کو مفلوج کرنے کے لیے بلاول بھٹو نے اپوزیشن چیمبر میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے سامنے ایک بڑا کارڈ کھیلا ہے
پی پی پی نے اپوزیشن کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں دوبارہ شامل ہونے پر زور دیا ہے۔ اگر اپوزیشن واپس آتی ہے، تو ن لیگ کے لیے اپنی مرضی کی یکطرفہ قانون سازی کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ دونوں دھڑوں نے آئندہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان کی اہم تقرریوں پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے اور انتخابی اصلاحات پر قریبی رابطہ رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ ن لیگ کے لیے براہِ راست خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس ملاقات کو فوری طور پر کسی بڑی “خفیہ ڈیل” کا نام دینا قبل از وقت ہوگا، بلکہ یہ سیاسی بلیک میلنگ اور دباؤ بڑھانے کا حربہ زیادہ نظر آتا ہے۔ پیپلز پارٹی ن لیگ کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے، تو وہ ایوان میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر اکثریتی نمبر گیم کو کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔اس بیٹھک میں جہاں پی پی پی کی طرف سے راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، اور نوید قمر جیسے منجھے ہوئے سیاستدان موجود تھے، وہیں اپوزیشن (بالخصوص پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سابق اسپیکر اسد قیصر نے نہایت محتاط راستہ چنا,اپوزیشن رہنماؤں نے بلاول کی پیشکش کا خیرمقدم تو کیا، مگر واضح کر دیا کہ قائمہ کمیٹیوں میں واپسی اور الیکشن کمیشن کے معاملات پر کوئی بھی حتمی فیصلہ جیل/ہسپتال میں موجود بانی پی ٹی آئی عمران خان سے حتمی مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا۔
ایوانِ بالا (سینیٹ) اور ایوانِ زیریں (قومی اسمبلی) میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور اپوزیشن جماعتوں کے مجموعی نمبرز (عددی قوت) کی تفصیلی صورتحال درج ذیل ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ اگر یہ دونوں دھڑے مل جائیں تو ن لیگ کی حکومت کے لیے کتنی بڑی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے:
1۔ قومی اسمبلی (ایوانِ زیریں) میں عددی صورتحال;
قومی اسمبلی کی کل فعال نشستیں 336 ہیں، جہاں سادہ اکثریت (حکومت بنانے یا برقرار رکھنے) کے لیے 169 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی): 74 نشستیں
کل اپوزیشن (سنی اتحاد کونسل/پی ٹی آئی، جے یو آئی-ایف، ایم ڈبلیو ایم و دیگر): تقریباً 101 سے 105 نشستیں ,
سنی اتحاد کونسل (پی ٹی آئی): 83 سے 85 نشستیں ,جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ایف): 11 نشستیں ,دیگر چھوٹی اپوزیشن جماعتیں اور آزاد ارکان: 7 سے 9 نشستیں
قومی اسمبلی کا مجموعی جوڑ:اگر پی پی پی (74) اور کل اپوزیشن (101+) پارلیمانی معاملات یا کسی تحریک پر یکجا ہو جائیں، تو ان کا مجموعہ 175 سے 179 نشستیں بنتا ہے۔ یہ تعداد حکومت گرانے یا کسی بھی قانون سازی کو روکنے کے لیے درکار سادہ اکثریت (169) سے واضح طور پر زیادہ ہے۔
2۔ سینیٹ (ایوانِ بالا) میں عددی صورتحال ;
فاٹا کے انضمام کے بعد سینیٹ کی کل نشستوں کی تعداد 96 ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی): 24 سے 26 نشستیں (سینیٹ میں اس وقت پی پی پی سب سے بڑی جماعت ہے)۔
کل اپوزیشن (پی ٹی آئی اور اتحادی): تقریباً 25 سے 27 نشستیں۔ سینیٹ کا مجموعی جوڑ:سینیٹ کے اندر پی پی پی اور اپوزیشن کی سیٹیں ملا کر 50 سے 53 کے درمیان بنتی ہیں، جو کہ 96 کے ایوان میں واضح اکثریت فراہم کرتی ہیں۔ یعنی یہ دونوں مل کر سینیٹ سے ن لیگ کا کوئی بھی بل مسترد کروانے کی کامل طاقت رکھتے ہیں۔ حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی;اگر اصغر علی مبارک کےسیاسی تجزیے کے مطابق بلاول بھٹو کی اپوزیشن سے یہ قربتیں کسی باقاعدہ اتحاد میں بدلتی ہیں تو مسلم لیگ (ن) اپنے اتحادیوں (ایم کیو ایم 22 سیٹیں، ق لیگ 4 سیٹیں) کے ساتھ مل کر محض 150 سے 155 نشستوں پر سمٹ جائے گی۔
قانون سازی کا خاتمہ: ن لیگ پیپلز پارٹی کی مرضی کے بغیر بجٹ یا کوئی بھی عام بل پاس کرانے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی۔
تبدیلی کی بازگشت: اگرچہ پیپلز پارٹی فوری طور پر حکومت گرانے کے حق میں نہیں ، لیکن یہ نمبر گیم ظاہر کرتا ہے کہ بلاول بھٹو جب چاہیں شہباز شریف حکومت کا مستقبل داؤ پر لگا سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن رہنماؤں کی اس اہم ملاقات پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت، وزراء اور حکومتی حلقوں کی جانب سے ملا جلا لیکن نپا تلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔
ن لیگ اس وقت ایک طرف حکومت کے استحکام کا تاثر دے رہی ہے، تو دوسری طرف پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے بیک چینل سفارت کاری بھی استعمال کر رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے وزراء اور قیادت کا جوابی ردِعمل درج ذیل اہم نکات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
وفاقی حکومت کے استحکام کا دعویٰ
(رانا ثناء اللہ اور طارق فضل چوہدری)حکومت گرنے کا کوئی خطرہ نہیں: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح الفاظ میں ان افواہوں کو مسترد کیا ہے کہ وفاقی حکومت خطرے میں ہے یا پیپلز پارٹی اتحاد سے نکل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “حکومت کی روانگی کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن یہ حقیقت نہیں ، وفاقی حکومت مستحکم ہے اور اپنی آئینی مدت پوری کرے گی” اس سے قبل ن لیگ کے سینیئر رہنما رانا ثناء اللہ نے پی پی پی کی تنقید پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “جن ووٹوں سے آصف علی زرداری صدر بنے وہ جائز ہیں، لیکن اسی پارلیمنٹ کے ووٹوں سے بننے والے وزیر اعظم (شہباز شریف) پر آپ کو اعتراض ہے”
مصلحت پسندی اور نواز شریف کا صلح جویانہ پیغام;
اختلافات کو دشمنی میں نہ بدلیں: مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے اس بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی پر سیاسی جماعتوں کو پیغام دیا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، اور ایسی انتہا پسندی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
بیک چینل رابطے : ذرائع کے مطابق، ن لیگ کی مرکزی قیادت نے پیپلز پارٹی کے ساتھ پیدا ہونے والی اس سرد جنگ اور آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد بڑھنے والی دوریوں کو کم کرنے کے لیے دوبارہ مفاہمت کا پیغام بھیجا ہے اور بیک ڈور رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ قانون سازی کے بحران سے بچا جا سکے۔
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کو “NRO” سے جوڑنے کی مخالفت : بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کی ہسپتال منتقلی کو سراہا، جس پر ن لیگ کے رہنما طلال چوہدری اور دیگر وزراء نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالتی یا طبی فیصلے کو کسی قسم کی سیاسی ڈیل یا “این آر او” سے نہیں جوڑنا چاہیے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ کسی کو کوئی سیاسی ریلیف نہیں دے رہی، بلکہ صرف عدالتی احکامات کی تعمیل کی جا رہی ہے۔ سیاسی گٹھ جوڑ اور “ڈیل یا تبدیلی” کی حقیقت سے متعلق پسِ منظر اور ٹائمنگ میں یہ ملاقات ایک ایسے نازک موڑ پر ہوئی ہے جب وفاق میں حکمران اتحاد (ن لیگ اور پی پی پی) کے درمیان دوریاں واضح ہو چکی ہیں , حال ہی میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی نے حکومت کو اپنی طاقت کا احساس دلایا، جس کے باعث حکومت کو اپنے ایجنڈے پر موجود 21 بھاری بھرکم بلز کی قانون سازی کو معطل کرنا پڑا, پی پی پی اور ن لیگ کے درمیان حالیہ اختلافات کی بڑی وجہ کشمیر کے انتخابات ہیں، جہاں بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) پر کھل کر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ سیاسی ہلچل ایک ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب ن لیگ اور پی پی پی دونوں ہی نئی آئینی ترامیم کے لیے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں سیاسی تجزیہ کار اس ملاقات کو کسی خفیہ ڈیل کے بجائے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بیک فٹ پر لانے کی حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں, ملاقات کے فوری بعد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ “وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت اب صرف چند دنوں کی مہمان ہے”۔ اپوزیشن الائنس نے پی پی پی کے سامنے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ملک میں کوئی بھی “مائنس عمران خان” فارمولا قبول نہیں کیا جائے گا ,پی پی پی نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کر کے پی ٹی آئی کے لیے نرم گوشہ دکھایا ہے، جسے مبصرین مستقبل کی نئی سیاسی صف بندی کا آغاز قرار دے رہے ہیں بلاول بھٹو نے ن لیگ کو بائی پاس کرتے ہوئے اہم قومی فیصلوں پر براہِ راست اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کی پیشکش کی ہے چیف الیکشن کمشنر (CEC) اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی آئندہ تقرریوں کے لیے بلاول نے ن لیگ کے بجائے اپوزیشن سے کوآرڈینیشن مانگی ہے۔ پی پی پی چاہتی ہے کہ اپوزیشن اسمبلی کمیٹیوں کا حصہ بنے تاکہ ن لیگ اکیلے کوئی بل پاس نہ کروا سکے۔ تاہم، سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر نے واضح کیا کہ کمیٹیوں میں واپسی کا حتمی فیصلہ عمران خان سے جیل میں مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے رہنماؤں نے اس ملاقات کو ایک مثبت “سخاوت اور خیر سگالی” کا دورہ قرار دیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن الائنس جمہوریت اور آئین کی اصل روح بحال کرنے کے لیے پی پی پی اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔