ایف اے ٹی ایف کی کامیابی کا سہرا جنرل باجوہ کے سر…………………(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)……….ایف اے ٹی ایف کی کامیابی کا سہرا جنرل قمر جاوید باجوہ کے سرہے۔اس حوالے سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے احکامات پرجی ایچ کیومیں پاکستان آرمی میں ایک میجر جنرل کی سربراہی میں اسپیشل سیل قائم کیا گیا۔اس سیل نے مختلف محکموں، وزارتوں اور ایجنسیز کے درمیان کوارڈینیشن میکنزم بنایا اور پھر ہر پوائنٹ پر ایک مکمل ایکشن پلان بنایا اور اس پر ان تمام محکموں، وزارتوں اور ایجنسیز سے عمل درآمد بھی کروایا۔اس سیل نے دن رات کام کرکے منی لانڈرنگ، ٹیرر فائننسنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ پر ایک مؤثر لائحہ عمل سے قابو پایا گیا۔جس کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف میں کامیابی حاصل ہوئی اس ضمن میں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان میں پیش رفت ہوئی اور تمام نکات پر عمل درآمد کیا گیا۔دہشتگردوں کی مالی معاونت کے ضمن میں تمام پوائنٹس پر عمل درآمد مکمل ہو چکا ہے۔پاکستان کو 2018 میں 27 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنا تھا۔ جون 2022میں پاکستان کے 27ایکشن آئٹمز میں سے 27 نکات مکمل کر لیے تھے۔ آخری ایکشن پلان بھی جون 2022 میں مکمل کرلیاپاکستان کو جون 2021ٖمیں ایف اے ٹی ایف کی طرف سے ایک اور ایکشن پلان دیا گیا۔جس کابنیادی مقصد منی لانڈرنگ روکنا تھا۔اس ایکشن پلان کے 7 نکات تھے اور 7کے 7مکمل ہوئے۔دونوں ایکشن پلانز 34 نکات پر مشتمل تھے۔ اینٹی منی لانڈرنگ اورکاونٹر ٹریرسٹ فائناسنگ پر مبنی اس ایکشن پلان کو4 سال کی مسلسل کوششوں کے بعدمکمل کرلیا گیا ہے۔ پاکستان نے اپنا 2021 کا ایکشن پلان کی طرف سے مقرر کردہ ٹائم لائنز یعنی جنوری 2023 سے پہلے مکمل کر لیا۔پاکستان نےایف اے ٹی ایف کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اور ایک تفصیلی روڈ میپ تیار کیا۔ پاکستان نے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اینٹی منی لانڈرنگ اورکاونٹر ٹریرسٹ فائناسنگ کے نظام کو مضبوط کیا جیسا کہ قومی رسک اسسمنٹ کے دوران تصور کیا گیا تھا۔پاکستان میں منی لانڈرنگ کے 800 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جنکی گزشتہ 13 مہینوں کے دوران تحقیقات مکمل کی گئیں۔پاکستان نے اس رپورٹنگ سائیکل میں ضبط کیے گئے اثاثوں کی تعداد اور مالیت میں خاطر خواہ اضافہ ظاہر کیا جس میں 58 ارب کے اثاثے ضبط کیے گئے 85فیصد اثاثوں کی مالیت میں اضافہ ہوا۔ایف اے ٹی ایف نے نامزد افراد کی فہرست میں پاکستان کی پیشرفت کو سراہا جبکہ یو این ایس سی نے ان افراد سے متعلق فہرست سازی کی تجویز کو قبول کیا۔*متفرق پوائنٹس (گزشتہ 2 سالوں میں پاکستان کی مجموعی پیشرفت ہوئی,پاکستان نے غیر رسمی /باضابطہ قانونی معاونت کرتے ہوئے اسٹینڈ ایلون کونافذ کیا اور 26,630 بین الاقوامی درخواستوں پر کارروائی کی ۔ایف بی آر نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور جیولرز کی طرف سے اے ایم ایل,سی ایف ٹی کی تعمیل کی نگرانی سے غیر مالیاتی کاروبار کے لیےڈی این ایف بی ڈائریکٹوریٹ قائم کیا۔ایف بی آر نے بڑے پیمانے پر22000 سے زائد غیر تعمیل شدہر 351 ملین کی تصدیق کرتے ہوئے روپے کے مالی جرمانے عائد کیے۔ایف بی آر نے 1,700 سے زائدڈی این ایف بی پی کی آف سائٹ نگرانی مکمل کر لی ہے، اورساتھ ہی سات سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے اپنا نفاذ مکمل کرلیا ہے جس کے تحت 146,697 لیگل پرسن/ لیگل انتظامات کئے ہیں اور2,388 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو تعمیل کے دائرے میں شامل کیا۔منی لانڈرنگ کی تحقیقا ت میں گزشتہ سال کے دوران 123فیصداضافہ ہوا ۔ وفاقی اور صوبائی حکام کی جانب سے دہشت گردی کی مالی معاونت اور ٹارگٹڈ فنانشل سینکشنز کے لئے جامع لائحہ عمل دیا۔پاکستان بین الاقوامی خطرے پر مبنی حکمت عملی
کی پاسداری کی روایت برقرار رکھی۔ایف اے ٹی ایف میں دیئے گئے تمام اہداف وقت سے پہلے مکمل,پاکستان فوج کے سربراہ نے اس میں بھی کلیدی کردار ادا کیا اور قومی اداروں کے ساتھ مل کر تمام نکات پر عملدرآمد یقینی بنایا ہندوستان کی کوشش تھی کہ پاکستان کو ہر حال میں بلیک لسٹ کر دیا جائے لیکن پاک فوج نے اس سازش کو بھی ناکام بنایا.تمام پوائنٹ پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ کی طرف گامزن کیا