Prime Minister of Pakistan expresses regret over the martyrdom of the Iranian Supreme Leader, (Asghar Ali Mubarak)… ….وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پراظہار افسوس کا کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر انتہائی افسوس ہے پاکستان کی عوام اور حکومت ایرانی عوام کے دکھ میں برابرکے شریک ہیں,ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہوئےہیں، ان کی شہادت پر ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔آیت اللہ خامنہ ای 1939 میں ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی مذہبی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی عالم بن گئے۔بعدازاں وہ شاہ ایران کے خلاف جدوجہد میں ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی کی جدجہد میں شامل ہوگئے اور ان کا شمار امام خمینی کے قریبی رفقا میں ہونے لگا۔ اس دوران وہ کئی برسوں تک روپوش رہے اور انہیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ شاہِ ایران کی خفیہ پولیس نے انہیں 6 مرتبہ گرفتار کیا اور انہیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی نے انہیں تہران میں جمعے کی نماز کا امام مقرر کیا۔ 1980 سے 1981 کے دوران وہ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔اس دوران ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا دیاں ہاتھ بےکار ہوگیا۔1981 میں انہیں ایران کا صدر منتخب کیا گیا، وہ اس عہدے پر 1989 تک رہے اور انہیں امام خمینی کی وفات پر اسلامی جمہوریہ ایران کا رہبر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ وہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ بننے والے دوسرے شخص تھے اور اپنی شہادت تک 37 سال تک اس عہدے پر رہےشہادت کے وقت ان کی عمر 86 سال تھی۔ وہ عالم اسلام کی طاقت ور مذہبی اور سیاسی شخصیت تھے۔ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ، ولی فقیہ اوردنیا بھر میں کروڑوں اہل تشیع مسلمانوں کے مرجع تقلید تھے۔آیت اللہ خامنہ ای کا دنیا کی اہم مزاحمتی تنظیموں پر گہرا اثرورسوخ تھا۔ انہوں نے اپنے پیش رو کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے قبلہ اول کی آزادی کی تحریک کی سرپرستی کی اور فلسطین اور کشمیر سمیت دنیا کے مظلوم اقوام اور امریکا اور اسرائیل کے خلاف سرگرم مزاحمتی تنظیموں کی بھرپور مدد و حمایت کو مزید آگے بڑھایا۔ آیت اللہ خامنہ ای کی اپنی اہلیہ منصورہ خجستہ باقر زاده سے 6 بچے ہیں جن میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ امریکی حملے میں ان کی ایک بیٹی،داماد، نواسا اور بہو بھی شہید ہوئیں۔

وزیراعظم نے پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی پر اظہار تشویش کرتے ہوئےکہا ہےکہ یہ مسلمہ اصول ہےکہ سربراہان مملکت اور حکومت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے, کہا کہ اللہ تعالیٰ ایرانی عوام کو یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل اور حوصلہ عطا فرمائے۔ دوسری جانب امریکی و اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے باعث وزیراعظم شہباز شریف نے روس کا دورہ ملتوی کردیا ہے اس دورے پر وزیراعظم کے ہمرہ اعلیٰ سطح کے وفد نے بھی ماسکو جانا تھا۔ پاکستان نے ماسکو کو بتا دیا ہے کہ ایران پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں دورہ ممکن نہیں دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نےخطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر اجلاس طلب کی اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شریک ہو ئے، جس میں افغانستان اور ایران سمیت خطےکے دیگر ممالک کی سکیورٹی صورتحال پرغور کیا گیااور موجودہ صورتحال میں پاکستان کی پالیسی سے متعلق اہم مشاورت کی گئی , واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی بیٹی، داماد، بہو اور نواسی بھی جاں بحق ہو ہے ہیں۔ 1939ء میں مشہد میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے 86 برس کی عمر پائی اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ دینی تعلیم، انقلابی جدوجہد اور ریاستی قیادت کے لئے وقف کئے رکھا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای محض ایک سیاسی قائد نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور روحانی عہد کی علامت بھی تھے۔ وہ انقلابِ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور شاہی آمریت کے خلاف جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ 1989ء میں روح اللہ خمینی کے وصال کے بعد جب انقلاب کی امامت کی امانت ان کے سپرد ہوئی تو انہوں نے خود کو اس امانت کا امین اور دیانت دار نگہبان ثابت کرنے کی کوشش کی اور اپنی شہادت تک ایران کے سپریم لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ ایرانی جنرل اسٹاف نے کہاہے کہ امریکا اور اسرائیل کو پچھتانے پر مجبور کر دیں گے دشمنوں کے ہتھیار ڈالنے تک خامنہ ای کی راہ پر گامزن رہیں گے۔سپریم لیڈر کی شہادت پر ملک بھر میں سات روزہ تعطیل اور 40 دن کے سوگ کا اعلان کیا ہےمشرق وسطیٰ کی صورت حال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہےپاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تشویش ہے، عالمی قوانین کی ہر صورت پاسداری کرنی چاہیے، ایران پر حملہ اس وقت کیا گیا جب سفارتی کوششیں جاری تھیں، فریقین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہیں, مزید کہا کہ اس عمل سے پورے خطے میں امن و سلامتی متاثر ہوتی ہے، ایران میں طلبہ سمیت شہریوں کی اموات پر افسوس ہے، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، قطر پر حملے بھی قابلِ مذمت ہیں۔سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں ایرانی مندوب سعید ایروانی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل زبردستی ایرانی حکومت بدلنا چاہتے ہیں،ایران کی سلامتی اور خود مختاری پر حملہ کیا گیا ایران نے جو کچھ بھی کیا اپنے دفاع میں کیا، امریکا اور اسرائیل کے حملے میں عام شہری مارے گئے، بے گناہ افراد کے قتل کے ذمے دار امریکا اور اسرائیل ہیں ہ ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کا راستہ اپنایا، کسی کے دباؤ میں مذاکرات نہیں کریں گے، ایران پڑوسی ممالک کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے، پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، سعودی عرب، پاکستان، روس اور چین کی مذمت کو سراہتے ہیں۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے کہا کہ عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی سکیورٹی کی ضمانت دیتا ہے عالمی قانون کی ہمیشہ پاسداری کی جانی چاہیے ایران کے 20 شہروں پر حملہ ہوا ہے، ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت قابل مذمت ہے، روسی مندوب نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے افسوسناک ہیں، ایران کیخلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا اور اسرائیل نے ایران کی سول نیو کلیئر تنصیبات کو نشانہ بنایا، ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوشش کی گئی امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ایران میں 200 سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ فرانسیسی مندوب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کرے، ایران بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات کرے، اور اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے، ایران خطے میں عدم استحکام کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی مندوب نے کہا کہ مذاکرات کے باوجود ایران نے یورینیم کی افزودگی نہیں روکی، ایران نے اپنے جوہری عزائم ترک نہیں کیے، ایران نے اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف کیا، ایران کے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کیلئے خطرہ تھے, ایران کیخلاف آپریشن کا مقصد جوہری پروگرام کو ختم کرنا ہے، کوشش ہے ایرانی حکومت دنیا کیلئے خطرہ نہ بنے۔ ایرانی صدرنے بھی خامنہ ای کے قتل کا جواب دینے کا عہد کیاہے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خامنہ ای کے قتل کو “ایک عظیم جرم” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ان کا کہنا تھا کہ “یہ عظیم جرم کبھی لا جواب نہیں رہے گا اور عالم اسلام اور شیعیت کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ پلٹ دے گا اور امریکی صیہونی ظلم و جبر اور جرائم کو مٹا دے گا” ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایرانی عوام کے دل جلائے، ہم بھی ان کے دل جلائیں گے علی لاریجانی نے انٹرویو میں امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں ممالک نے ایرانی عوام کے دل جلائے ہیں، جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ہم بھی ان کے دل جلائیں گے۔ایرانی سپریم لیڈر پر ہونے والے حملے کو علی لاریجانی نے انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک عظیم شخصیت کی شہادت نے پوری ایرانی قوم کے دل زخمی کر دیئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل دراصل ایران کو تقسیم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں تاکہ ملک کو کمزور کیا جا سکے مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم ایک باشعور قوم ہے اور وہ اس مشکل وقت سے نکلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ دشمن اپنی سازشوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک خصوصی پیغام جاری کر دیا گیا ہے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک یادگار تصویر شیئر کی گئی ہے، جس کے کیپشن میں “بسم اللہ الرحمن الرحیم” تحریر کیا گیا ہےاس پوسٹ میں سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 23 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کا ترجمہ ہے، مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا اپنا عہد سچ کر دکھایا، پھر ان میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اپنی نذر پوری کر لی اور کچھ وہ ہیں جو انتظار کر رہے ہیں، اور انہوں نے (اپنے عزم میں) ذرہ برابر تبدیلی نہیں کی۔واضح رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے جس کے بعد ملک بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اس حملے میں ان کی صاحبزادی، داماد اور نواسہ بھی شہید ہوئے ہیں۔گزشتہ روز ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملے کے خلاف کراچی میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس دوران جھڑپوں میں 9افراد جاں بحق ہوگئے۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سی آئی اے نے ایرانی قیادت کے اجتماع کا سراغ لگایا، پھر اسرائیل نے اس پر حملہ کیا۔ ایران پر حملے سے کچھ دیر قبل امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ممکنہ طور پر سب سے اہم ہدف آیت اللہ علی خامنہ ای کی درست نشاندہی کر لی تھی۔آپریشن سے واقف ذرائع کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے خامنہ ای کی نقل و حرکت اور قیام گاہوں پر نظر رکھے ہوئے تھی اور وقت کے ساتھ اس کی معلومات زیادہ مستند ہوتی گئیں پھر امریکی ایجنسی کو اطلاع ملی کہ ہفتہ کی صبح تہران کے وسط میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں اعلیٰ ایرانی حکام کا اہم اجلاس ہونے والا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ سپریم لیڈر بھی اس میں شریک ہوں گے۔ نئی خفیہ اطلاع کے بعد امریکا اور اسرائیل نے اپنے مجوزہ حملے کے وقت میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس اطلاع نے دونوں ممالک کو ایک اہم اور ابتدائی کامیابی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا اور یہ انٹیلی جنس اطلاع اعلیٰ ایرانی حکام اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی وجہ بنی۔ایران کی قیادت ممکنہ جنگ کے واضح اشاروں کے باوجود مناسب حفاظتی اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی کہا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای اب مزید نہیں رہے شہادت نے کئی سوالات کو جنم دیا اور مبصرین نے اس امر پر بحث شروع کی کہ آیا ایران کی اندرونی صفوں سے معلومات کے اخراج کا کوئی سلسلہ موجود تھا تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اور حتمی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی۔ان کی شہادت کے بعد قیادت کے سوال نے بھی شدت اختیار کی۔برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک انتہائی اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ برطانیہ اب باقاعدہ طور پر ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں شریک ہو گیا ہے۔برطانوی جنگی طیارے اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی فضائوں میں موجود ہیں اور ایک مربوط علاقائی دفاعی آپریشن کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ کشیدگی کو کم کر کے مذاکرات کی طرف لوٹنا وقت کی ضرورت ہے۔برطانوی وزیراعظم نے مزید بتایا کہ وہ اس صورتحال پر جرمنی، فرانس اور خطے کے دیگر اہم رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔دوسری جانب، برطانیہ اور کینیڈا نے ایران میں موجودہ نظام (رجیم) کی تبدیلی کی بھی کھل کر حمایت کر دی ہے، جس سے خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ 24 صوبوں میں ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں میں کم از کم 201 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی کو فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہیں علم ہے خامنہ ای کے بعد ایران میں کون احکامات جاری کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے نئے ایرانی رہنما کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔۔مزید کہنا تھا کہ ایران کیخلاف جنگ طویل یا چند دنوں میں ختم ہوسکتی ہے۔ حملوں کے بعد ایران کو سنبھلنے میں کئی سال لگیں گے۔ ایران نے اپنے جوہری عزائم ترک نہیں کیے اور مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر کارروائی کی گئی۔اس سے پہلےامریکی صدر نے سوشل ٹروتھ پر پوسٹ میں لکھا تھا کہ خامنہ ای ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز اور انتہائی جدید ترین ٹریکنگ سسٹم سے بچ نہیں سکے۔ اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کی۔ خامنہ ای اور ان کے ساتھ مارے جانے والے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئےگزشتہ روز ایران پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملے کے خلاف کراچی میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس دوران جھڑپوں میں 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔.دریں اثنا خامنہ ای کی شہادت کے بعد عراق کے دارالحکومت بغداد میں احتجاج ہوا ہے۔ مظاہرین نے گرین زون کی جانب مارچ کیا اور امریکی سفارتخانے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر مظاہرین کی سیکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ کراچی میں مظاہرین نے امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس دوران جھڑپوں میں 9افراد جاں بحق ہوگئے ایران کا سیاسی نظام شخصیات کے بجائے ادارہ جاتی ڈھانچے پر قائم ہے اور آئینی طور پر مجلس خبرگان رہبری نئے رہبر کے انتخاب کی مجاز ہے, ایران میں سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر ملک کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے عبوری لیڈرشپ کونسل تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں آیت اللہ علی رضا عارفی کو رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔آیت اللہ علی رضا عارفی اس اعلیٰ سطح کی عبوری کونسل میں ایرانی صدر اور عدلیہ کے سربراہ کے ہمراہ فرائض انجام دیں گے۔ یہ کونسل عارضی طور پر ایران کے تمام ریاستی و انتظامی معاملات کی نگرانی کرے گی تاکہ ملک میں قیادت کے خلا کو پُر کیا جا سکے۔لیڈرشپ کونسل نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ملک کی پالیسیوں اور دفاعی امور کی ذمہ دار ہوگی۔خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران نے نئے سپریم کمانڈر کے انتخاب کیلئے عبوری کونسل تشکیل دے دی ہے، عبوری کونسل نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک قیادت کی ذمےداری سنبھالے گی عبوری کونسل میں ترقی پسند صدر مسعود پزشکیان اور عدلیہ کے قدامت پرست سربراہ غلام حسین محسنی کو شامل کیا گیا ہے، ایرانی صدر، عدلیہ کے سربراہ کے ساتھ علی رضا عارفی بطور فقیہ اقتدار منتقلی کی نگرانی کریں گے۔ایرانی آئین کے آرٹیکل ایک سو گیارہ کے مطابق عبوری کونسل اس وقت تک کام کرتی ہے جب تک اٹھاسی رکنی مجلس خبردگان نئے سپریم لیڈر کا انتخاب نہیں کرلیتی۔ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، علی لاریجانی اور آیت اللہ غلام حسین محسنی سپریم کمانڈر کے عہدے کے مضبوط امیدوار ہیں۔ یہ بات عیاں ہے کہ ایران ایک منظم اور تاریخی قوم ہے ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے خطےکے ممالک کے لیے عربی زبان میں پیغام جاری کیا ہے۔ پیغام میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک سے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارا آپ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے ملک میں قائم فوجی اڈوں کو ہمارے خلاف استعمال کیا جائےگا اور امریکا ان اڈوں سے خطے میں کارروائیاں کرے گا تو ہم ان اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ وہ اڈے آپ کی سرزمین نہیں بلکہ عملاً امریکی سرزمین شمار ہوں گے۔ان سے قبل متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک پر حملے مس کیلکولیشن ہیں، ایران کو تنہا کر دیں گے۔مشیر اماراتی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اپنے حواسوں میں واپس آجائے، آپ کی جنگ آپ کے پڑوسیوں سے نہیں ہے۔Prime Minister Shahbaz Sharif, while expressing regret over the martyrdom of Iranian Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei, has expressed serious concern over the violation of international laws and principles. He said in the statement that he is deeply saddened by the martyrdom of Ayatollah Ali Khamenei. Iranian Supreme Leader Ayatollah Khamenei was martyred in an American and Israeli attack. A 7-day holiday and 40-day mourning period have been declared in Iran following his death. Ayatollah Khamenei was born in Mashhad, Iran in 1939. He received religious education from childhood and became a scholar at a young age. Later, he joined the struggle of Imam Khomeini, the founder of the Iranian Revolution, in the struggle against the Shah of Iran and became one of Imam Khomeini’s close associates. During this time, he remained in hiding for many years and even had to spend time in prison. The Shah of Iran’s secret police arrested him 6 times and he was also tortured. After the revolution, Ayatollah Khomeini appointed him the imam of Friday prayers in Tehran. He was also a member of the Iranian parliament from 1980 to 1981. During this time, he was assassinated in which he was seriously injured and his right hand was paralyzed. In 1981, he was elected President of Iran, a position he held until 1989, and upon the death of Imam Khomeini, he was appointed Supreme Leader of the Islamic Republic of Iran. He was the second person to become Supreme Leader of Iran after the Islamic Revolution and remained in this position for 37 years until his martyrdom. He was 86 years old at the time of his martyrdom. He was a powerful religious and political figure in the Islamic world. He was the Supreme Leader of Iran, the Supreme Leader of the Islamic Revolution, and the role model for millions of Shiite Muslims around the world. Ayatollah Khamenei had a profound influence on the world’s major resistance organizations. Following the policies of his predecessor, he sponsored the movement for the freedom of the first Qibla and further advanced the full support and assistance of the oppressed nations of the world, including Palestine and Kashmir, and resistance organizations active against the United States and Israel. Ayatollah Khamenei has six children with his wife, Mansoura Khojasta Baqirzadeh, including four sons and two daughters. One of his daughters, a son-in-law, a grandson, and a daughter-in-law were also martyred in the US attack.The people and government of Pakistan equally share the grief of the Iranian people. The Prime Minister, while expressing concern over the violation of international laws and principles by Pakistan, said that it is an established principle that heads of state and government should not be targeted, and said that may Allah Almighty grant the Iranian people patience and courage to bear this irreparable loss. On the other hand, due to the martyrdom of Iran’s Supreme Leader Ayatollah Khamenei in the American and Israeli attack, Prime Minister Shahbaz Sharif has postponed his visit to Russia. The high-level delegation accompanying the Prime Minister was also supposed to go to Moscow on this visit. Pakistan has told Moscow that the visit is not possible in the situation that has arisen after the attack on Iran. On the other hand, Prime Minister Shehbaz Sharif has called a meeting on the current security situation in the region. The meeting was attended by the top military leadership and heads of intelligence agencies, in which the security situation of other countries in the region, including Afghanistan and Iran, was discussed, and important consultations were held regarding Pakistan’s policy in the current situation. It should be noted that the daughter, son-in-law, daughter-in-law, and granddaughter of Supreme Leader Ayatollah Khamenei have also been killed in the American and Israeli attacks. Born in Mashhad in 1939, Khamenei lived to be 86 years old and dedicated a large part of his life to religious education, revolutionary struggle, and state leadership. Ayatollah Ali Khamenei was not just a political leader but also a symbol of an ideological and spiritual era. He was considered a close associate of Ruhollah Khomeini, the founder of the Iranian Revolution, and endured the hardships of imprisonment and imprisonment in the struggle against the royal dictatorship. After the death of Ruhollah Khomeini in 1989, when the trust of the Imamate of the Revolution was entrusted to him, he tried to prove himself a faithful and honest guardian of this trust and continued to serve as the Supreme Leader of Iran until his martyrdom. The Iranian General Staff has said that they will force the US and Israel to repent and will continue to follow the path of Khamenei until the enemies surrender. A seven-day holiday and 40 days of mourning have been announced across the country on the martyrdom of the Supreme Leader. Pakistan strongly condemned the US and Israeli attacks on Iran in an emergency meeting of the UN Security Council on the situation in the Middle East. Pakistani delegate Asim Iftikhar said that there is concern about the current situation in the Middle East, international laws should be respected at all costs, the attack on Iran was carried out when diplomatic efforts were underway, and we appeal to both sides to be patient and forbearing, adding that this act affects peace and security in the entire region. We regret the deaths of citizens, including students, in Iran. The attacks on Saudi Arabia, the UAE, Bahrain, and Qatar are also condemnable. Addressing the emergency meeting of the Security Council, Iranian delegate Saeed Iravani said that the US and Israel want to change the Iranian government by force, and Iran’s security and sovereignty were attacked. Whatever Iran did, it was in self-defense. The US and Civilians were killed in the Israeli attack; the US and Israel are responsible for the killing of innocent people. Iran has always followed the path of diplomacy, will not negotiate under pressure from anyone, respects the sovereignty of neighboring countries, and appreciates the condemnation of Saudi Arabia, Pakistan, Russia, and China. UN Secretary-General Antonio Guterres said that there are serious threats to world peace, the UN Charter guarantees the security of all member states, and international law should always be respected. 20 cities in Iran have been attacked. The US and Israeli aggression on Iran is condemnable. The Russian delegate said that the US and Israeli attacks on Iran are regrettable. The US allegations against Iran are baseless. The US and Israel targeted Iran’s civilian nuclear facilities and attempted to interfere in Iran’s internal affairs. Calling the US and Israeli attacks on Iran aggression, he said that more than 200 people have been killed in Iran. The French delegate said that the UN Security Council should demand an end to tensions, that Iran hold talks on its ballistic missile program, and fulfill its international obligations. Iran continues its policy of destabilizing the region. The American delegate said that despite the talks, Iran has not stopped enriching uranium, that Iran has not abandoned its nuclear ambitions, that Iran has deviated from UN resolutions, and that Iran’s actions were a threat to the security and stability of the region. The aim of the operation against Iran is to eliminate its nuclear program and to prevent the Iranian regime from becoming a threat to the world. The Iranian president has also vowed to respond to Khamenei’s assassination. Iranian President Masoud Pezishkian has condemned Khamenei’s assassination, calling it a “great crime.” He said that “this great crime will never go unanswered and will turn a new page in the history of the Islamic world and Shiism and erase American Zionist oppression and crimes.”Ali Larijani, Secretary of Iran’s National Security Council, has said that America and Israel have burned the hearts of the Iranian people, and we will burn their hearts too. Ali Larijani, in an interview, gave a stern warning to America and Israel, saying that these two countries have burned the hearts of the Iranian people, which will be responded to in a strong manner, and we will also burn their hearts. Ali Larijani described the attack on the Iranian Supreme Leader as extremely painful and said that the martyrdom of a great figure has wounded the hearts of the entire Iranian nation. He clarified that America and Israel are actually conspiring to divide Iran in order to weaken the country. He further said that the Iranian nation is a conscious nation and it has the full capacity to get out of this difficult time. The enemy will never succeed in his plots. After the martyrdom of Iran’s Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei, a special message has been released from his official social media account. A memorable photo has been shared on the social media platform X (formerly Twitter) from the official account of Iran’s Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei, with the caption “Bismillah, Ar-Rahman, Ar-Rahim.” The post also refers to verse 23 of Surah Al-Ahzab, which translates to, “Among the believers are men who have fulfilled their covenant with Allah, then some of them are those who have fulfilled their vows, and some are those who are waiting, and they have not changed (in their determination) in the slightest.” It should be noted that Iranian state media has confirmed the martyrdom of Ayatollah Ali Khamenei, after which a 7-day holiday and 40-day mourning have been announced across the country. His daughter, son-in-law, and grandson were also martyred in this attack. Yesterday, Iran Protesters in Karachi tried to enter the US consulate against the US and Israeli attack on, during which 9 people were killed in clashes. The American newspaper The New York Times has reported that the CIA tracked the gathering of the Iranian leadership, then Israel attacked it. Shortly before the attack on Iran, the US intelligence agency CIA had correctly identified the most important target, Ayatollah Ali Khamenei. According to sources familiar with the operation, the CIA had been monitoring Khamenei’s movements and residences for several months, and over time, its information became more reliable. Then the US agency received information that an important meeting of top Iranian officials was going to be held on Saturday morning in a compound located in the center of Tehran and, most importantly, that the Supreme Leader would also attend it. After the new intelligence, the US and Israel decided to change the time of their proposed attack in order to take advantage of this opportunity. This information provided an important and early success for both countries, and this intelligence information led to the assassination of top Iranian officials and Ayatollah Khamenei. Iran’s leadership failed to take appropriate security measures despite clear indications of a possible war. Earlier, US President Donald Trump had claimed that Iranian Supreme Leader Ayatollah Khamenei had been killed, while Israeli Prime Minister Netanyahu had also said that there were reports that Ayatollah Khamenei was no longer alive. The assassination raised many questions, and observers began to debate whether there was a leak of information from the inner ranks of Iran, but no formal and final investigation report in this regard has been released. After his assassination, the question of leadership also intensified. British Prime Minister Keir Starmer has confirmed in a very important statement that the UK is now formally participating in military operations against Iran. British warplanes are currently in the skies over the Middle East and have become part of a coordinated regional defense operation. However, he also emphasized that it is time to alleviate the current tension and resume negotiations. The British Prime Minister added that he is in constant contact with Germany, France, and other important leaders in the region on this situation. On the other hand, Britain and Canada have also openly supported the change of the current system (regime) in Iran, which has raised the possibility of further complicating the political and military situation in the region. Iranian state media say that at least 201 people have been killed in the US-Israeli attacks in 24 provinces. According to foreign media, President Donald Trump said in a phone interview with American TV that he knows who is issuing orders in Iran after Khamenei. However, he avoided revealing the name of the new Iranian leader. He further said that the war against Iran could be long or end in a few days. It will take many years for Iran to recover after the attacks. Iran did not give up its nuclear ambitions, and action was taken when there was no progress in the negotiations. Earlier, the US President had written in a post on Social Truth that Khamenei could not escape our intelligence agencies and the most sophisticated tracking system. He took action together with Israel. Khamenei and those killed with him could not do anything. Protests were held in various cities of the country over the assassination of Iran’s Supreme Leader Ayatollah Khamenei. Protesters in Karachi tried to enter the US consulate against the US and Israeli attack on Iran the previous day, during which 9 people were killed in clashes.Meanwhile, protests have erupted in the Iraqi capital, Baghdad, after Khamenei’s assassination. Protesters marched towards the Green Zone and tried to move towards the US embassy. There are also reports of clashes between protesters and security forces on this occasion. Protesters in Karachi tried to enter the US consulate, during which 9 people were killed in clashes. Iran’s political system is based on institutional structures rather than personalities, and the Assembly of Experts is constitutionally authorized to elect a new leader. In view of the situation that arose after the assassination of the Supreme Leader in Iran, an interim leadership council has been formed to take over the administration of the country, in which Ayatollah Ali Reza Arefi has been elected as a member. Ayatollah Ali Reza Arefi will serve in this high-level interim council along with the Iranian president and the head of the judiciary. This council will temporarily oversee all state and administrative affairs in Iran in order to fill the leadership vacuum in the country. The Leadership Council will be responsible for the country’s policies and defense affairs until the election of a new Supreme Leader. After Khamenei’s assassination, Iran has formed a transitional council to elect a new supreme commander. The transitional council will assume leadership responsibility until the election of a new supreme leader. The transitional council includes the progressive President Masoud Pezzekian and the conservative head of the judiciary, Gholamhossein Mohseni. Along with the Iranian president, the head of the judiciary, Ali Reza Arefi, as a jurist, will oversee the transfer of power. According to Article 111 of the Iranian constitution, the transitional council works until the 88-member Assembly of Experts elects a new supreme leader. Khamenei’s sons, Mojtaba Khamenei, Ali Larijani, and Ayatollah Gholamhossein Mohseni, are strong candidates for the position of supreme commander. It is clear that Iran is an organized and historical nation. The head of the Iranian National Security Council, Ali Larijani, has issued a message in Arabic to the countries of the region. In the message, Ali Larijani said that we want to tell the countries of the region that we have no intention of attacking you. Ali Larijani said that if the military bases established in your country are used against us and the United States carries out operations in the region from these bases, we will target these bases. Ali Larijani said that those bases are not your territory but are actually considered American territory. Earlier, Anwar Gargash, an advisor to the President of the United Arab Emirates, said that attacks on the Gulf countries are a miscalculation and will isolate Iran. The advisor to the Emirati President said that Iran should come to its senses, your war is not with your neighbors.نخست وزیر پاکستان از شهادت رهبر ایران (اصغر علی مبارک) ابراز تاسف کرد……. نخست وزیر شهباز شریف ضمن ابراز تاسف از شهادت رهبر ایران آیت الله علی خامنه ای، نگرانی جدی خود را در مورد نقض قوانین و اصول بین المللی ابراز کرده است. وی در این بیانیه گفت که از شهادت آیت الله علی خامنه ای عمیقاً متاثر است.آیت‌الله خامنه‌ای، رهبر ایران، در حمله آمریکا و اسرائیل به شهادت رسید. پس از مرگ او، در ایران ۷ روز تعطیل و ۴۰ روز عزای عمومی اعلام شده است. آیت‌الله خامنه‌ای در سال ۱۹۳۹ در مشهد، ایران، متولد شد. او از کودکی آموزش‌های دینی دید و در جوانی به تحصیل پرداخت. بعدها، به مبارزات امام خمینی، بنیانگذار انقلاب ایران، در مبارزه علیه شاه ایران پیوست و به یکی از نزدیکان امام خمینی تبدیل شد. در این مدت، او سال‌ها در خفا زندگی کرد و حتی مجبور شد مدتی را در زندان بگذراند. پلیس مخفی شاه ایران ۶ بار او را دستگیر کرد و او نیز شکنجه شد. پس از انقلاب، آیت‌الله خمینی او را به عنوان امام جمعه تهران منصوب کرد. او همچنین از سال ۱۹۸۰ تا ۱۹۸۱ عضو مجلس ایران بود. در این مدت، او ترور شد که در آن به شدت مجروح و دست راستش فلج شد. در سال ۱۹۸۱، او به عنوان رئیس جمهور ایران انتخاب شد، سمتی که تا سال ۱۹۸۹ در اختیار داشت و پس از درگذشت امام خمینی، به عنوان رهبر جمهوری اسلامی ایران منصوب شد. او دومین فردی بود که پس از انقلاب اسلامی رهبر ایران شد و تا زمان شهادتش به مدت ۳۷ سال در این سمت باقی ماند. او در زمان شهادت ۸۶ سال داشت. او یک شخصیت مذهبی و سیاسی قدرتمند در جهان اسلام بود. او رهبر ایران، رهبر انقلاب اسلامی و الگوی میلیون‌ها مسلمان شیعه در سراسر جهان بود. آیت‌الله خامنه‌ای تأثیر عمیقی بر سازمان‌های مقاومت بزرگ جهان داشت. او با پیروی از سیاست‌های سلف خود، از جنبش آزادی قبله اول حمایت کرد و حمایت و کمک کامل از ملت‌های مظلوم جهان، از جمله فلسطین و کشمیر، و سازمان‌های مقاومت فعال علیه ایالات متحده و اسرائیل را بیش از پیش پیش برد. آیت‌الله خامنه‌ای از همسرش، منصوره خجسته باقرزاده، شش فرزند دارد، از جمله چهار پسر و دو دختر. یکی از دختران، داماد، نوه و عروس او نیز در حمله آمریکا شهید شدند. مردم و دولت پاکستان به طور یکسان در غم مردم ایران شریک هستند. نخست وزیر ضمن ابراز نگرانی از نقض قوانین و اصول بین المللی توسط پاکستان، گفت که این یک اصل مسلم است که سران کشورها و دولت ها نباید هدف قرار گیرند و گفت که خداوند متعال به مردم ایران صبر و شجاعت برای تحمل این ضایعه جبران ناپذیر عطا کند. از سوی دیگر، به دلیل شهادت رهبر ایران آیت الله خامنه ای در حمله آمریکا و اسرائیل، نخست وزیر شهباز شریف سفر خود به روسیه را به تعویق انداخته است. قرار بود هیئت عالی رتبه همراه نخست وزیر نیز در این سفر به مسکو بروند. پاکستان به مسکو اعلام کرده است که این سفر در شرایطی که پس از حمله به ایران پیش آمده است، امکان پذیر نیست. از سوی دیگر، نخست وزیر شهباز شریف جلسه‌ای را در مورد وضعیت امنیتی فعلی منطقه تشکیل داده است. در این جلسه، رهبری ارشد نظامی و روسای سازمان‌های اطلاعاتی حضور داشتند که در آن وضعیت امنیتی سایر کشورهای منطقه، از جمله افغانستان و ایران، مورد بحث قرار گرفت و مشورت‌های مهمی در مورد سیاست پاکستان در شرایط فعلی انجام شد. لازم به ذکر است که دختر، داماد، عروس و نوه رهبر معظم انقلاب آیت‌الله خامنه‌ای نیز در حملات آمریکا و اسرائیل کشته شده‌اند. خامنه‌ای که در سال ۱۹۳۹ در مشهد متولد شد، ۸۶ سال عمر کرد و بخش بزرگی از زندگی خود را به آموزش دینی، مبارزه انقلابی و رهبری دولت اختصاص داد. آیت‌الله علی خامنه‌ای نه تنها یک رهبر سیاسی، بلکه نمادی از یک دوران ایدئولوژیک و معنوی بود. او از نزدیکان روح‌الله خمینی، بنیانگذار انقلاب ایران، محسوب می‌شد و سختی‌های زندان و حبس را در مبارزه با دیکتاتوری سلطنتی تحمل کرد. پس از درگذشت روح‌الله خمینی در سال ۱۹۸۹، زمانی که امانت امامت انقلاب به او سپرده شد، او تلاش کرد تا خود را به عنوان نگهبانی وفادار و صادق از این امانت ثابت کند و تا زمان شهادتش به عنوان رهبر عالی ایران خدمت کرد. ستاد کل نیروهای مسلح ایران اعلام کرده است که آنها آمریکا و اسرائیل را مجبور به توبه خواهند کرد و تا زمانی که دشمنان تسلیم نشوند، به پیروی از راه خامنه‌ای ادامه خواهند داد. به مناسبت شهادت رهبر عالی، یک تعطیلی هفت روزه و ۴۰ روز عزای عمومی در سراسر کشور اعلام شده است. پاکستان در جلسه اضطراری شورای امنیت سازمان ملل متحد در مورد وضعیت خاورمیانه، حملات آمریکا و اسرائیل به ایران را به شدت محکوم کرد. عاصم افتخار، نماینده پاکستان، گفت که نگرانی‌هایی در مورد وضعیت فعلی خاورمیانه وجود دارد، قوانین بین‌المللی باید به هر قیمتی رعایت شوند، حمله به ایران زمانی انجام شد که تلاش‌های دیپلماتیک در جریان بود و ما از هر دو طرف می‌خواهیم که صبور و بردبار باشند و افزود که این اقدام بر صلح و امنیت در کل منطقه تأثیر می‌گذارد. ما از مرگ شهروندان، از جمله دانشجویان، در ایران متاسفیم. حملات به عربستان سعودی، امارات متحده عربی، بحرین و قطر نیز محکوم است. سعید ایروانی، نماینده ایران، در سخنرانی خود در جلسه اضطراری شورای امنیت گفت که آمریکا و اسرائیل می‌خواهند با زور حکومت ایران را تغییر دهند، امنیت و حاکمیت ایران مورد حمله قرار گرفته است. هر کاری که ایران انجام داد، در دفاع از خود بود، آمریکا و غیرنظامیان در حمله اسرائیل کشته شدند، آمریکا و اسرائیل مسئول کشته شدن مردم بی‌گناه هستند. ایران همیشه مسیر دیپلماسی را دنبال کرده است، تحت فشار هیچ کس مذاکره نخواهد کرد، ایران به حاکمیت کشورهای همسایه احترام می‌گذارد، پایگاه‌های آمریکا در کشورهای همسایه را هدف قرار داده است، از محکومیت عربستان سعودی، پاکستان، روسیه و چین قدردانی می‌کند. آنتونیو گوترش، دبیرکل سازمان ملل متحد، گفت که تهدیدات جدی برای صلح جهانی وجود دارد، منشور سازمان ملل متحد امنیت همه کشورهای عضو را تضمین می‌کند و قوانین بین‌المللی باید همیشه رعایت شود. 20 شهر در ایران مورد حمله قرار گرفته‌اند، تجاوز آمریکا و اسرائیل به ایران محکوم است، نماینده روسیه گفت که حملات آمریکا و اسرائیل به ایران تاسف‌بار است، اتهامات آمریکا علیه ایران بی‌اساس است، آمریکا و اسرائیل تأسیسات هسته‌ای غیرنظامی ایران را هدف قرار دادند و تلاش کردند در امور داخلی ایران دخالت کنند. او با تجاوز خواندن حملات آمریکا و اسرائیل به ایران، گفت که بیش از ۲۰۰ نفر در ایران کشته شده‌اند. نماینده فرانسه گفت که شورای امنیت سازمان ملل باید خواستار پایان تنش‌ها، مذاکره ایران در مورد برنامه موشک‌های بالستیک و عمل به تعهدات بین‌المللی خود شود. ایران به سیاست بی‌ثبات‌سازی منطقه ادامه می‌دهد. نماینده آمریکا گفت که با وجود مذاکرات، ایران غنی‌سازی اورانیوم را متوقف نکرده، جاه‌طلبی‌های هسته‌ای خود را رها نکرده، از قطعنامه‌های سازمان ملل منحرف شده و اقدامات ایران تهدیدی برای امنیت و ثبات منطقه است. هدف عملیات علیه ایران از بین بردن برنامه هسته‌ای آن است و رژیم ایران تلاش می‌کند تا به تهدیدی برای جهان تبدیل نشود. رئیس جمهور ایران همچنین قول داده است که به ترور خامنه‌ای پاسخ دهد. مسعود پزشکیان، رئیس جمهور ایران، ترور خامنه‌ای را محکوم کرده و آن را «جنایتی بزرگ» خوانده است. او گفت که «این جنایت بزرگ هرگز بی‌پاسخ نخواهد ماند و صفحه جدیدی را در تاریخ جهان اسلام و تشیع ورق خواهد زد و ظلم و جنایات صهیونیست‌های آمریکایی را پاک خواهد کرد.»علی لاریجانی، دبیر شورای امنیت ملی ایران، گفته است که آمریکا و اسرائیل قلب مردم ایران را سوزانده‌اند و ما نیز قلب آنها را خواهیم سوزاند. علی لاریجانی در مصاحبه‌ای هشدار جدی به آمریکا و اسرائیل داد و گفت که این دو کشور قلب مردم ایران را سوزانده‌اند که به شدت به آن پاسخ داده خواهد شد و ما نیز قلب آنها را خواهیم سوزاند. علی لاریجانی حمله به رهبر ایران را بسیار دردناک توصیف کرد و گفت که شهادت یک شخصیت بزرگ، قلب تمام ملت ایران را جریحه‌دار کرده است. وی تصریح کرد که آمریکا و اسرائیل در واقع برای تجزیه ایران توطئه می‌کنند تا کشور را تضعیف کنند. وی همچنین گفت که ملت ایران ملتی هوشیار است و ظرفیت کامل برای خروج از این دوران سخت را دارد. دشمن هرگز در توطئه‌های خود موفق نخواهد شد. پس از شهادت آیت‌الله علی خامنه‌ای، رهبر ایران، پیام ویژه‌ای از حساب رسمی او در شبکه‌های اجتماعی منتشر شده است. عکسی خاطره‌انگیز از حساب رسمی آیت‌الله علی خامنه‌ای، رهبر ایران، در پلتفرم رسانه اجتماعی X (که قبلاً توییتر بود) با عنوان «بسم‌الله، الرحمن، الرحیم» به اشتراک گذاشته شده است. این پست همچنین به آیه ۲۳ سوره احزاب اشاره دارد که ترجمه آن این است: «از میان مؤمنان مردانی هستند که به عهد خود با خدا وفا کردند، سپس برخی از آنها کسانی هستند که به نذرهای خود وفا کردند و برخی دیگر کسانی هستند که در انتظارند و ذره‌ای (در تصمیم خود) تغییر نداده‌اند.» لازم به ذکر است که رسانه‌های دولتی ایران شهادت آیت‌الله علی خامنه‌ای را تأیید کرده‌اند و پس از آن ۷ روز تعطیلی و ۴۰ روز عزای عمومی در سراسر کشور اعلام شده است. دختر، داماد و نوه ایشان نیز در این حمله شهید شدند. دیروز، معترضان ایرانی در کراچی تلاش کردند تا در اعتراض به حمله آمریکا و اسرائیل وارد کنسولگری آمریکا شوند که در جریان آن ۹ نفر در درگیری‌ها کشته شدند. روزنامه آمریکایی نیویورک تایمز گزارش داده است که سازمان سیا تجمع رهبری ایران را ردیابی می‌کرد، سپس اسرائیل به آن حمله کرد. کمی قبل از حمله به ایران، سازمان اطلاعات مرکزی آمریکا (سیا) به درستی مهمترین هدف، یعنی آیت الله علی خامنه‌ای، را شناسایی کرده بود. به گفته منابع آگاه از این عملیات، سازمان اطلاعات مرکزی آمریکا (سیا) چندین ماه حرکات و محل اقامت خامنه‌ای را زیر نظر داشت و با گذشت زمان اطلاعات آن قابل اعتمادتر شد. سپس این سازمان اطلاعاتی دریافت کرد که قرار است صبح شنبه جلسه مهمی با حضور مقامات ارشد ایرانی در مجتمعی در مرکز تهران برگزار شود و از همه مهمتر، رهبر معظم انقلاب نیز در آن شرکت خواهد کرد. پس از اطلاعات جدید، آمریکا و اسرائیل تصمیم گرفتند زمان حمله پیشنهادی خود را تغییر دهند تا از این فرصت استفاده کنند. این اطلاعات موفقیت مهم و زودهنگامی را برای هر دو کشور فراهم کرد و این اطلاعات منجر به ترور مقامات ارشد ایرانی و آیت الله خامنه‌ای شد. رهبری ایران با وجود نشانه‌های واضح از جنگ احتمالی، در انجام اقدامات امنیتی مناسب کوتاهی کرد. پیش از این، دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، ادعا کرده بود که آیت الله خامنه‌ای، رهبر معظم انقلاب ایران، کشته شده است، در حالی که نتانیاهو، نخست وزیر اسرائیل، نیز گفته بود که گزارش‌هایی مبنی بر مرگ آیت الله خامنه‌ای وجود دارد. این ترور سوالات زیادی را برانگیخت و ناظران شروع به بحث در مورد اینکه آیا اطلاعاتی از رده‌های داخلی ایران درز کرده است یا خیر، کردند، اما هیچ گزارش تحقیق رسمی و نهایی در این زمینه منتشر نشده است. پس از ترور او، سوال رهبری نیز تشدید شد. کی‌یر استارمر، نخست وزیر بریتانیا، در بیانیه‌ای بسیار مهم تایید کرد که بریتانیا اکنون رسماً در عملیات نظامی علیه ایران شرکت می‌کند. هواپیماهای جنگی بریتانیا در حال حاضر در آسمان خاورمیانه هستند و به بخشی از یک عملیات دفاعی هماهنگ منطقه‌ای تبدیل شده‌اند. با این حال، او همچنین تأکید کرد که زمان کاهش تنش فعلی و بازگشت به مذاکرات فرا رسیده است. نخست وزیر بریتانیا افزود که در مورد این وضعیت با آلمان، فرانسه و دیگر رهبران مهم منطقه در تماس مداوم است. از سوی دیگر، بریتانیا و کانادا نیز آشکارا از تغییر نظام فعلی (رژیم) در ایران حمایت کرده‌اند که این امر احتمال پیچیده‌تر شدن اوضاع سیاسی و نظامی در منطقه را افزایش داده است. رسانه‌های دولتی ایران می‌گویند که حداقل ۲۰۱ نفر در حملات ایالات متحده و اسرائیل در ۲۴ استان کشته شده‌اند. به گزارش رسانه‌های خارجی، دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، در مصاحبه تلفنی با تلویزیون آمریکا گفت که می‌داند پس از خامنه‌ای چه کسی در ایران دستور می‌دهد. با این حال، از افشای نام رهبر جدید ایران خودداری کرد. او همچنین گفت که جنگ علیه ایران می‌تواند طولانی باشد یا در عرض چند روز پایان یابد. سال‌ها طول خواهد کشید تا ایران پس از حملات بهبود یابد. ایران از جاه‌طلبی‌های هسته‌ای خود دست نکشید و زمانی که هیچ پیشرفتی در مذاکرات حاصل نشد، اقدام شد. پیش از این، رئیس جمهور آمریکا در پستی در سایت «حقیقت اجتماعی» نوشته بود که خامنه‌ای نمی‌تواند از دست سازمان‌های اطلاعاتی ما و پیچیده‌ترین سیستم ردیابی فرار کند. او به همراه اسرائیل وارد عمل شد. خامنه‌ای و کسانی که با او کشته شدند، نتوانستند کاری انجام دهند. اعتراضاتی در شهرهای مختلف کشور به دلیل ترور آیت‌الله خامنه‌ای، رهبر ایران، برگزار شد. معترضان در کراچی روز گذشته سعی کردند در اعتراض به حمله آمریکا و اسرائیل به ایران وارد کنسولگری آمریکا شوند که در جریان آن 9 نفر در درگیری‌ها کشته شدند.

در همین حال، پس از ترور خامنه‌ای، اعتراضاتی در بغداد، پایتخت عراق، آغاز شده است. معترضان به سمت منطقه سبز راهپیمایی کردند و سعی کردند به سمت سفارت آمریکا حرکت کنند. همچنین گزارش‌هایی از درگیری بین معترضان و نیروهای امنیتی در این مناسبت وجود دارد. معترضان در کراچی سعی کردند وارد کنسولگری آمریکا شوند که در جریان آن 9 نفر در درگیری‌ها کشته شدند. نظام سیاسی ایران مبتنی بر ساختارهای نهادی است نه شخصیت‌ها و مجلس خبرگان طبق قانون اساسی مجاز به انتخاب رهبر جدید است. با توجه به وضعیتی که پس از ترور رهبر عالی در ایران به وجود آمد، یک شورای موقت رهبری برای به دست گرفتن اداره کشور تشکیل شده است که آیت‌الله علیرضا عارفی به عنوان عضوی از آن انتخاب شده است. آیت‌الله علیرضا عارفی در این شورای موقت عالی رتبه به همراه رئیس جمهور ایران و رئیس قوه قضائیه خدمت خواهد کرد. این شورا به طور موقت بر تمام امور دولتی و اداری در ایران نظارت خواهد کرد تا خلاء رهبری در کشور را پر کند. شورای رهبری تا زمان انتخاب رهبر عالی جدید، مسئول سیاست‌ها و امور دفاعی کشور خواهد بود. پس از ترور خامنه‌ای، ایران یک شورای انتقالی برای انتخاب فرمانده کل جدید تشکیل داده است. شورای انتقالی مسئولیت رهبری را تا زمان انتخاب رهبر جدید بر عهده خواهد گرفت. شورای انتقالی شامل رئیس جمهور مترقی مسعود پزشکیان و رئیس محافظه کار قوه قضائیه، غلامحسین محسنی است. در کنار رئیس جمهور ایران، رئیس قوه قضائیه، علیرضا عارفی، به عنوان یک فقیه، بر انتقال قدرت نظارت خواهد کرد. طبق اصل ۱۱۱ قانون اساسی ایران، شورای انتقالی تا زمانی که مجلس خبرگان ۸۸ نفره، رهبر جدید را انتخاب کند، فعالیت می‌کند. پسران خامنه‌ای، مجتبی خامنه‌ای، علی لاریجانی و آیت الله غلامحسین محسنی، نامزدهای قوی برای مقام فرماندهی کل قوا هستند. واضح است که ایران یک ملت سازمان یافته و تاریخی است. علی لاریجانی، رئیس شورای امنیت ملی ایران، پیامی به زبان عربی خطاب به کشورهای منطقه صادر کرده است. در این پیام، علی لاریجانی گفته است که ما می‌خواهیم به کشورهای منطقه بگوییم که قصد حمله به شما را نداریم. علی لاریجانی گفته است که اگر پایگاه‌های نظامی ایجاد شده در کشور شما علیه ما استفاده شود و ایالات متحده از این پایگاه‌ها در منطقه عملیات انجام دهد، ما این پایگاه‌ها را هدف قرار خواهیم داد. علی لاریجانی گفت که آن پایگاه‌ها خاک شما نیستند بلکه در واقع خاک آمریکا محسوب می‌شوند. پیش از این، انور قرقاش، مشاور رئیس جمهور امارات متحده عربی، گفته بود که حملات به کشورهای خلیج فارس یک اشتباه محاسباتی است و ایران را منزوی خواهد کرد. مشاور رئیس جمهور امارات گفته بود که ایران باید سر عقل بیاید، جنگ شما با همسایگانتان نیست.