اسلام آباد ہائی کورٹ کا شیریں مزاری کی رہائی کا حکم…………… (رپورٹ: اصغر علی مبارک)………اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سابق وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری کو رہا کرنے اور حکومت کو ان کی گرفتاری کے حوالے سے عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا۔اسلام آباد آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری کی درخواست پر انہیں رات ساڑھے 11 بجے پیش کرنے کا حکم دیا اور وقت پر سماعت کی۔شیریں مزاری نے عدالت کو بتایا کہ ‘مجھے موٹر وے پر ایک گھنٹے تک روکے رکھا گیا، ایک مرد ڈاکٹر نے میرے طبی معائنے کی کوشش کی، ان کے ساتھ کوئی خاتون ڈاکٹر نہیں تھی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اینٹی کرپشن پنجاب کے افسران فون پر ہدایات لے رہے تھے، میرا بیگ کی وارنٹ کے بغیر تلاشی لی گئی اور تاحال میرا فون واپس نہیں کیا گیا’۔انہوں نے کہا کہ ‘اینٹی کرپشن عہدیداروں کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا اور ممکنہ طور پر آئی ایس آئی کے ساتھ تھا’۔سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکم دیا کہ حکومت نے جبری گمشدیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ واقعات اس وقت پیش آتے ہیں جب آئین کا احترام نہیں ہوتا، ہر حکومت نے آئین کی خلاف ورزی کے لیے افسوس ناک رویہ اپنایا’۔ شیریں مزاری نے چیف جسٹ اطہر من اللہ کو بتایا کہ وہ 70 سال کی ہیں اور بیمار ہیں لیکن اس کے باوجود تشدد کیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ‘یہ عدالت انصاف کی فراہمی میں سمجھوتہ نہیں کرے گی، مطیع اللہ جان کے اغوا کی تاحال تفتیش نہیں کی گئی’۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‘ہم 24 گھنٹے کام نہیں کرسکتے، مطیع اللہ جان کا کیس جاری ہے اور جلد ہی اس کی تفتیش مکمل کریں گے’۔چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔انہوں نے اسلام آباد پولیس کے نئے انسپکٹرجنرل (آئی جی) ڈاکٹر اکبر ناصر خان کو یاد دہانی کروائی کہ ادارے کا سربراہ ذمہ دار ہوتا ہے، ‘ہمیں بتائیں کہ شیریں مزاری کیس کی تفتیش کب تک مکمل کریں گے’۔اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے جواب دیا کہ ‘میں ذمہ داری ابھی سنبھالی ہے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میں چارج لے رہا تھا’۔ایڈووکیٹ جنرل نے رات گئے عدالت کے دروازے کھولنے پر عدالت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ‘سیاسی جماعتیں اب تسلیم کریں گی کہ عدالت آئین کی حفاظت کے لیے رات کو بھی موجود ہے’۔شیریں مزاری کی بیٹی نے عدالت سے استدعا کی کہ واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیں اور چیف جسٹس نے حکم دیا کہ شیریں مزاری کو رہا کردیا جائے اور اس کی تحقیقات کی جائیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران عدالت میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو احاطہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف، آئی جی اسلام آباد، ایڈووکیٹ جنرل سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اور ڈی سی اسلام آباد بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری، فیصل چوہدری، اور فرخ حبیب سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔اس سے قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف ان کی بیٹی ایمان زینب مزاری کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی تھی۔عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل اشتر اوصاف، آئی جی اسلام آباد، ایڈووکیٹ جنرل سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اور ڈی سی اسلام آباد بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری، فیصل چوہدری، اور فرخ حبیب سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔اس سے قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے خلاف ان کی بیٹی ایمان زینب مزاری کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی تھی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں شیریں مزاری کو آج رات ساڑھے گیارہ بجے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ یہ احکامات پہلے سے موجود ہیں کہ کسی بھی رکن قومی اسمبلی کو اسپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکتا اور شیریں مزاری اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں اور انہیں نشست سے ڈی نوٹیفائی نہیں کیا گیا تو پھر کس اختیار کے تحت شیریں مزاری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔عدالت نے سیکریٹری داخلہ، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا جبکہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو بھی نوٹسز جاری کر دیے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ پیش ہو کر بتائیں کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کیوں کی گئی۔شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ کو گھر پر فوری نوعیت کی درخواست سے آگاہ کیا گیا تھا۔ایمان زینب مزاری نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ میری والدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ناقد ہیں۔انہوں نے کہا کہ دن کے اجالے میں والدہ کو اٹھایا گیا اور اہل خانہ کو اس متعلق کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں، والدہ کو وفاقی دارالحکومت سے اٹھایا گیا اور قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔ایمان زینب مزاری نے شیریں مزاری کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کی اور درخواست میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو فریق بنایا۔درخواست میں مؤقف اپنایا کہ والدہ کو زبردستی اٹھائے جانے کی اطلاع پر قریبی پولیس اسٹیشن کوہسار پہنچے تو کسی ایف آئی آر کی معلومات نہیں دی گئیں۔پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے 11 اپریل کو شیریں مزری کے خلاف درج کی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں کہا گیا ہے کہ شیریں مزاری نے اپنے والد عاشق محمد خان سے وراثت میں زمین ملی۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ شیریں مزاری نے روجھان میں مذکورہ زمین سے پروگریسو فارم لمیٹڈ کو ‘جعل سازی’ کرتے ہوئے 800 کنال منتقل کیا۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر روجھان کے مطابق محکمہ ریونیو کے ریکارڈ میں ان کمپنیوں کا سراغ نہیں ملا اور لہٰذا ‘یہ کمپنیاں بوگس تھیں’۔ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ شیریں مزاری پر الزام ہے کہ انہوں نے زمین کی ‘جعلی’ منتقلی کے لیے مقامی لینڈ اتھارٹیز سے مل کر سازش کی۔خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے شیریں مزاری کی گرفتاری پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سمیت دیگر سیاست دانوں اور صحافیوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی تھی اور گرفتاری کو سیاسی انتقام قرار دیا گیا تھا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں بیان میں شیریں مزاری کی بیٹی اور معروف وکیل ایمان زینب مزاری نے کہا تھا کہ ‘مرد پولیس اہلکاروں نے میری والدہ کو مارا اور اپنے ساتھ لے گئے، شیریں مزاری کی گرفتاری کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خواتین پولیس اہلکار انہیں کار سے باہر نکال رہی ہیں جبکہ انہیں احتجاج اور یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ‘‘مجھے مت چھوئیں‘۔
فوٹیج میں نامعلوم آواز بھی سنی جاسکتی ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ ‘کوئی مسئلہ نہیں ہے’ اور معاملے پر پرامن طریقے سے بات ہوسکتی ہے جبکہ شیریں مزاری کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ‘آپ وائیلنس کر رہے ہیں، آپ میرا فون نہیں لے سکتے ہیں’۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایمان زینب مزاری نے کہا کہ غنڈوں کی طرح ایک عورت کو آج اٹھایا گیا نہ اس کے خاندان کو کچھ بتایا گیا تو اگر اس قسم کی حرکتیں کرنی ہیں تو میں اس حکومت کو وارننگ دیتی ہوں کہ میں اس کے پیچھے آؤں گی۔جبراً لاپتا کیا گیا ہے مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں خواتین ایک سافٹ ٹارگٹ ہیں تو میں اس حکومت کو ایک واضح پیغام دینا چاہتی ہوں کہ اگر میری والدہ کو کچھ ہوا تو میں انہیں چھوڑوں گی نہیں۔ شیریں مزاری کی گرفتاری پرایمان نے فوج کوگالیاںدیںسوشل میڈیاپر ایمان مزاری نام لیکر آرمی چیف اور فوج کے ادارے کیخلاف بغیر تحقیق کے گندی اور غلیظ زبان استمعال کرتے ہوئے یہاں تک کہاکہ یہ کارروائی حکومت کی نہیں بلکہ فوجی ادارے کی ھے ….. ایمان مزاری نے رد عمل انکا کہنا تھا کہ.مرد پولیس اہلکار میری ماں کو مارتے ہوئے لے گئے: ایمان مزاری کا بیان تھاجبکہ ڈان ٹی وی کی رپورٹ اور فوٹیج میں سب الزاماٹ جھوٹ اور غلط ثابت ہوئے۔۔آخر اس الزام تراشی اور حساس ادارے کے سربراہ کوگالیاں دینےپر قانون حرکت میں آئے گا یا محض تماشائی بن کر اداروں کو بے توقیر کرنے پر بھی خاموشی رہےگی؟سوشل میڈیاپر ایمان مزاری نام لیکر آرمی چیف اور فوج کے ادارے کیخلاف بغیر تحقیق کے گندی اور غلیظ زبان استمعال کرتے ہوئے یہاں تک کہاکہ یہ کارروائی حکومت کی نہیں بلکہ فوجی ادارے کی ھے پی ٹی آئی کے سیاستدانوں اور ان کی یوتھ کا وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ آئے دن فوج کے خلاف غلیظ زبان استمعال کر کے مہذب ہونے کا ڈرامہ کرتےہیں اور انکے غیر زمہ درانہ الزامات پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی اس تازہ وردات گزشتہ روز دیکھنن کو ملی جس میں ایک مقدمے میں شیریں مزاری کی بیٹی نے نام لیکر آرمی چیف اور پوری فوج کو سرعام ننگی گالیاں دے کر واقعہ میں ملوث کرکے برابھلا کہاگیا جب ٹی فوٹیج کے بعد حقیقت واضع ہوگئی مگر افسوس اسلام آباد ھائیکورٹ کے چیف جسٹس مسٹر اطہرمن اللہ نے رات گئے عدالت لگاکر شیرین مزاری کو طلب توکروالیامگر فوج پر بے ہودہ الزامات عائد کرنے والی پیٹیشنر ایمان مزاری کی سرزنش تک نہ کی۔جس پر صرف اتنا ہی کہا جاسکتاہے قانون اندھا ہوتاہے۔۔شائد کبھی اپنا رستہ بھی بنا لےگا۔شیریں مہرالنسا مزاری نے سنہ 2013 میں پہلی بار قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشست حاصل کی۔ اس سے قبل وہ شعبہ تدریس اور صحافت سے منسلک تھیں۔انھوں نے سنہ 2008 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وہ انگریزی اخبار دی نیشن کی مدیر اعلیٰ بھی رہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ٹی وی پر 90 کی دہائی میں اور پھر سنہ 2008 کے بعد انھیں پروگرام اینکر کے طور پر کام کرنے کا موقع بھی ملا۔وہ ملک کے معروف تعلیمی ادارے قائد اعظم یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر کام کرتی رہیں اور بعد میں یونیورسٹی کے ڈیفینس اینڈ سٹریٹیجک ڈیپارٹمنٹ میں چیئرپرسن بھی رہیں۔وہ پی ٹی آئی کی انفارمیشن سیکریٹری اور ترجمان کی حیثیت سے کام کرتی رہی ہیں تاہم ایسا موقع بھی آیا جب ایک بار انھوں نے پارٹی سے استعفیٰ بھی دیا۔ لیکن بعد میں پھر پارٹی میں شامل ہو گئیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں انھیں وزیر برائے انسانی حقوق کا قلمدان سونپا گیا۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’مجھے شیریں مزاری کی گرفتاری پر خوشی نہیں ہوئی۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ان پر یہ مقدمہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومت میں قائم ہوا، 800 کنال کی اراضی جو حکومت کی ہے محکمہ مال کی ہے میں کرپشن کی گئی ہےوزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری پر ان کی فوری رہائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ’شیریں مزاری بطور خاتون قابل احترام ہیں، ان کی رہائی کا حکم دے دیا۔‘ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خاتون کی گرفتاری معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اُنھوں نے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتارکرنے والے اینٹی کرپشن عملے کے خلاف تحقیقات ہونی چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش اور تحقیقات میں گرفتاری ناگزیر ہے تو قانون اپنا راستہ خود بنا لے گا۔اُنھوں نے کہا کہ وہ شیریں مزاری کی گرفتاری کے عمل سے اتفاق نہیں کرتےگرفتاری کی دستیاب فوٹیج میں، جسے نشریاتی اداروں نے نشر کیا، مزاری کو خواتین پولیس اہلکاروں کے ذریعے گاڑی سے باہر گھسیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ انہیں احتجاج کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: “نہیں، مجھے ہاتھ مت لگاؤ۔” فوٹیج میں نامعلوم آوازوں کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ “کوئی مسئلہ نہیں ہے” اور اس معاملے پر “پرامن طریقے سے” بات کی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈاکٹر شیریں مزاری کو محکمہ اینٹی کرپشن کی درخواست پر خاتون پولیس اہلکاروں نے قانون کے مطابق گرفتار کیا۔ کسی قسم کی غلط فہمی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔مزاری کے خلاف 11 اپریل کو اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے ڈیرہ غازی خان میں درج مقدمے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہشیریں مزاری کو اپنے والد عاشق محمد خان سے وراثت میں زمین ملی تھی۔ روجھان میں اس زمین میں سےشیریں مزاری نے 800 کنال “جعلسازی” کے ذریعے پروگریسو فارم لمیٹڈ کو منتقل کی۔ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر روجھان کے مطابق محکمہ ریونیو کے ریکارڈ میں ان کمپنیوں کا کوئی سراغ نہیں تھا اور اس لیے یہ کمپنیاں بوگس ہیں۔ ایف آئی آر میں مزاری پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے مقامی اراضی حکام کے ساتھ مل کر ’جعلی‘ زمین کی منتقلی کی سازش کی۔ شیریں مزاری کی گرفتاری کے وقت کے مناظرمیں اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے سابق وفاقی وزیر کو کوہسار تھانے کی حدود سے گرفتار کیا اور اس حوالے سے شیریں مزاری کی بیٹی ایمان زینب مزاری نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی والدہ کو مرد اہلکاروں نے مارا پیٹا اور مارتے ہوئے ساتھ لے گئے۔ اسلام آباد میں پولیس مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق صبح نو بجے ڈیرہ غازی خان سے اینٹی کرپشن کی ٹیم شیریں مزاری کو گرفتار کرنے پہنچی تھی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اے ایس آئی فریال احمد نے اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں مقدمہ نمبر 5/22 کے تحت شیریں مزاری کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پولیس کی مدد طلب کی۔گرفتاری کے بعد یہ ٹیم مقامی عدالت سے راہداری ریمانڈ لے کر اُنھیں ڈی جی خان لے جانے لگی۔ ستاون سیکنڈز کی ایک ویڈیو جس میں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری اسلام آباد میں خواتین پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سوال کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ’تم کون ہو مجھے گرفتار کرنے والے۔۔۔۔ نہیں مجھے ہاتھ مت لگاؤ۔۔۔ میرا فون مت لو۔۔۔‘
جواب میں وہاں موجود خاتون پولیس اہلکار جو انھیں شاید گاڑی سے باہر لانا چاہتی ہیں انھیں کہتی ہیں ’ریلیکس‘ اور پھر ایک مرد پولیس اہلکار کہتا ہے ’میڈیم آپ باہر آ جائیں کوئی ایشو نہیں۔ ہم بات کر سکتے ہیں‘ جس پر شیریں مزاری کہتی ہیں کیوں؟۔ان کے خلاف تحقیقات اس وقت شروع کی گئیں جب عثمان حزدار وزیراعلیٰ تھے مقدمے کی بنیاد محکمہ اینٹی کرپشن کی ایک رپورٹ ہے جس میں شیریں مزاری کو 800 کنال اراضی غیر قانونی طریقے سے ایک ایسی کمپنی کو منتقل کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے جو مبینہ طور پر وجود نہیں رکھتی۔یہ مقدمہ جو 11 اپریل کو درج کیا گیا تھا، دراصل موضع کچہ میانوالی 2 روجھان کی جمع بندی برائے سال 1971-72 کے حوالے سے ہےدستاویز کے مطابق اس پر اسسٹنٹ کمشنر روجھان نے ایک تحقیقاتی رپورٹ جمع کروائی جس کی روشنی میں 11 اپریل کو دو پٹواریوں سمیت شیریں مزاری اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا
اسلام آباد ہائی کورٹ کا شیریں مزاری کی رہائی کا حکم…………… (رپورٹ: اصغر علی مبارک)…









