اتحادی حکومت کا آئی ایم ایف شرائط پوری کرنےکاعزم …..اصغر علی مبارک .. موجودہ اتحادی حکومت سابق دور حکومت کی پیدا کردہ مسائل کو ختم کرنے کیلئے نو ماہ سے کوشاں ہے جس میں ایک اھم مسئلہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی بھی تھا تاکہ مہنگائی کا طوفان روکا جا سکے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ مسائل سابق دور حکومت کے پیدا کردہ مسائل ہی ہیں جنکو حل کیا جانا جوۓ شیر لانے کے مترادف ہے اگلے روزوزیراعظم آئی ایم ایف کی سربراہ سے فون پر بات کی جس میں اس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ آئی ایم ایف کی قرض سے متعلق شرائط مکمل کی جائیں گی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو گزشتہ روز فون میں آئی ایم ایف کی شرائط مکمل کرنے سے متعلق حکومت کے عزم سے آگاہ کیا‘۔وزیراعظم نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کا وفد بہت جلد پاکستان آئے گا‘۔ ’میں نے پاکستان کی معاشی مشکلات سے بھی آگاہ کیا خاص کر سیلاب کے بعد درپیش مشکلات بتائیں‘۔آئی ایم ایف کی سربراہ سے وزیراعظم کی بات ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب ملک کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے اور خدشات بڑھتے جارہے ہیں جہاں قومی ذخائر تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے ہی کافی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز بھی ہزارہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر قرض توسیعی سہولت کا نواں جائزہ لینے کے لیے دو سے تین دن میں پاکستان آئے گا۔یاد رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 میں 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ برس اس میں مزید ایک ارب کا اضافہ کردیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے بعد پاکستان کو 1.18 ارب ڈالر جاری ہوں گے جو التوا کا شکار ہیں، ابتدائی طور پر دو ماہ تک مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے عالمی ادارے کی مخصوص شرائط ماننے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور اختلاف تاحال ختم نہیں ہوسکا ہے۔ملک کو اس وقت غیرملکی زرمبادلہ کی کمی کا مسئلہ درپیش جہاں اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 8 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں اور 30 دسمبر 2022 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 5.576 ارب ڈالر رہ گئے تھے۔

حکومت کے پاس بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے دوست ممالک سے مزید ادھار لینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں تیزی سے کمی کے سلسلے کے باوجود وفاقی وزیرخزانہ اسحٰق ڈار پرامید ہے کہ دوست ممالک کے وعدوں کے تحت مالی مدد مل جائے گی اور صورت حال تبدیل ہوگی لیکن دوست ممالک کی جانب سے تاحال کوئی رقم نہیں دی گئی۔

دوسری جانب ہفتے کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باعث اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مزید 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔وفاقی حکومت کے لیے سود کی ادائیگی کا مسئلہ بدترین مسائل کا باعث بن رہا ہے اور اسی لیے ڈیفالٹ کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ آئی ایم ایف سے نئی قسط کے اجرا کے لیے مذاکرات کی کوششیں تاحال سود مند ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔

قومی ذخائر میں کمی کے باعث ملک کی کرنسی کی قدر بھی ڈالر اور دیگر غیرملکی کرنسیوں کے مقابلے میں انتہائی گر چکی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے پاس جنوری 2022 میں 16.6 ارب ڈالر کے ذخائر تھے جو 11 ارب ڈالر کم ہو کر 5.6 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کی غرض سے عالمی سیاسی رابطوں کے لیے وزارت خارجہ سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔پاکستان کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف سیلاب اور دیگر وجوہات پر معاہدے کی شرائط پر نظرثانی کرے، عالمی سطح پر مہنگائی اور معاشی بحران کے باعث مزید سخت فیصلے نہیں کرسکتے۔

پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہےکہ پاکستان نئے ٹیکس لگائے بغیرآمدن بڑھاسکتا ہے اور سال کے آخرتک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرلےگا۔

ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بھی ٹیکس چوروں سے ریکوریز بہتر بنانے کا پلان پیش کیا ہے جس کے تحت پاکستان ٹیکس وصولی بہتر کرکے مقررکردہ 7100 ارب روپے کا ہدف پورا کرے گا۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ موجودہ پروگرام پورا کرے گی اور برآمدات میں اضافے کے لیے ایکسپورٹرز کی بھرپور مدد کی جائے گی وزیراعظم شہبازشریف کی زیرِصدارت معاشی صورت حال کے بارے میں ہونے والے اجلاس میں آئی ایم ایف کے نویں جائزے سے متعلق غور کیا گیا اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات زیربحث آئے۔اجلاس میں خزانہ، اقتصادی امور ڈویژن، منصوبہ بندی اور دفاع کے وفاقی وزرا کے علاوہ گورنر سٹیٹ بینک، حبیب بینک، الفلاح بینک کے صدور اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔قبل ازیں آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ ایسٹر پیریز روئیز نے کہا تھا کہ نویں جائزے کے تناظر میں آج تک ہونے والی بات چیت مثبت رہی ہے، اور اس نے سیلاب کے بعد پاکستان کے بڑے معاشی منظرنامے پر نظرثانی کا موقع فراہم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی نویں جائزے پر بات چیت نے فریقین کو مالیاتی، زری، (ڈالر سمیت) کرنسی کی قیمت، اور توانائی کی پالیسیوں کا گہرائی سے جائزہ لینے کے قابل بنایا ہے۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق ’اجلاس میں وزیراعظم نے آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو مالیاتی اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔‘
’وزیراعظم نے ہدایت کی کہ برآمد کنندگان کو ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ بندرگاہوں پر ضروری سہولیات، نئی مارکیٹس کی نشاندہی کے علاوہ خام مال اور مشینری کی درآمد میں مدد فراہم کی جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سہولیات کی فراہمی سے بیرون ملک پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ بینکنگ چینلز سے اپنی رقوم وطن عزیز کو ارسال کریں۔‘
’وزیراعظم نے وفاق کے زیرانتظام تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ توانائی کی بچت کی جائے اور کفایت شعاری اختیار کرتے ہوئے اخراجات پر قابو پایاجائے۔‘
بدھ کو اسلام آباد میں اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے آئی ایم ایف کی نمائندہ کے بیان کو مثبت پیش رفت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان کا نواں جائزہ امریکہ میں چھٹیوں سے قبل مکمل ہو جائے گا۔یاد رہے کہ گزشتہ سال پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بین الاقوامی قرض دہندگان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اگرچہ ملک کو سیلاب سے بحالی کے لیے فوری طور پر 16 ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن پاکستان آئی ایم ایف کی اقتصادی اصلاحات پر قائم رہے گا۔
اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’ہماری کوشش ہوگی کہ ہم پروگرام کو کامیابی سے مکمل کریں۔ ایسا کرنے سے بین الاقوامی برادری اور مارکیٹوں کو ایک مثبت اشارہ ملتا ہے۔‘اکستان میں گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری سیاسی عدم استحکام اور رواں برس آنے والے سیلاب نے ملک کو معاشی طور پر بہت نقصان پہنچایا ہے۔

ملک میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہونے سے نہ صرف سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے بلکہ بلکہ مالی خسارہ بڑھنے سے ساتھ ساتھ روپے کی قدر کے مقابلے میں ڈالر بھی آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔

ملکی کرنسی اس وقت ڈالر کے مقابلے میں بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہے، جس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک سب سے بنیادی وجہ درآمدی بل میں اضافہ ہے جس سے ڈالر کی طلب میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ جبکہ دوسری جانب ملکی برآمدات میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث جہاں تجارتی و مالی خسارہ بڑھا ہے وہیں ملک کے زر مبادلہ کے زخائر میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔پاکستان کو اس وقت کہیں سے قابل ذکر مالی امداد یا قرض نہیں مل پا رہا جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے ہیں۔

پاکستان کو آئندہ چند ماہ کے دوران بیرونی قرض کی مد میں 30 ارب ڈالرز کی ادائیگی کرنی ہے تاہم اس قرض کی ادائیگی کے قریب آتے ہی پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات اور قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرے کو مسترد کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’معاشی اعتبار سے مشکل صورتحال ضرور ہے مگر پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔‘وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ’ہم روز سنتے ہیں پاکستان ڈیفالٹ ہو جائے گا؟ کیسے ہو جائے گا؟ آپ لوگ سرمایہ کاری کریں، نام نہاد مفکروں کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’کچھ لوگ اپنی سیاست کے لیے ملک کا نقصان کر رہے ہیں تاہم سیاسی مقاصد کے لیے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی باتیں نہ پھیلائی جائیں۔‘

مگر جب اگلے کچھ عرصے میں پاکستان کو 30 سے 32 ارب روپے کی ضرورت ہو اور اس کے مرکزی بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر صرف چھ ارب ڈالر کے قریب ہوں اور ان میں سے بھی زیادہ تر چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک سے اس شرط پر لے رکھے ہوں کہ یہ قابل خرچ نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ ان دوست ممالک نے یہ پیسے اس شرط پر پاکستان کے پاس رکھوائے ہیں کہ وہ ان کو خرچ نہیں کر سکتا۔ تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ قابلِ خرچ ڈالرز کے کم ہونے کی وجہ سے پاکستان بیرونی قرضہ جات پر ڈیفالٹ کر سکتا ہے؟’ایک تو یہ کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں یہ کبھی ڈیفالٹ نہیں کیا۔ تاریخ میں کئی مقامات پر ہمارے ذرمبادلہ کے ذخائر اس سے بھی کم رہے ہیں۔‘ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ذمے جو واجب الادا قرض ہیں ’جو قرض اس نے آئندہ چند ماہ میں ادا کرنے ہیں وہ رول اوور ہو جائیں گے۔‘ یعنی ان کے ادا کرنے کی مدت میں اضافہ ہو جائے گا۔اگرچہ پاکستان اس وقت دباؤ اور مشکل میں ہے لیکن اس کے دیوالیہ ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔ پاکستان کو اس وقت مالی خسارے کا سامنا ہے کیونکہ بیرونی ادائیگیوں کی وجہ سے جاری کھاتے بہت بڑھے ہوئے تھے لیکن اب اسے درآمدات کے حجم کو محدود کر کے ترسیلات اور برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کے ذخائر کے برابر لایا جا رہا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار جس اعتماد کے ساتھ یہ دعوٰی کر رہے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کی جانب نہیں جا رہا ہے اس کے پیچھے ان دو عوامل کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کا اگلا پروگرام مل جائے گا۔
’آئی ایم ایف کا پروگرام میچیور ہونے سے بھی ہمیں ڈالرز مل جائیں گے اور اس کے بعد کچھ دوست ممالک سے ہمیں مزید پیسے بھی مل جائیں گے۔ میرا اپنا بھی خیال ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔‘
پاکستان میں حکومت کو آئی ایم ایف کے پروگرام کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بھی حکومت آئی ایم ایف پر سیاست کرتی رہی
’ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ اس وقت پاکستان اور ڈیفالٹ کے درمیان آئی ایم ایف ہے۔ جب آپ نے آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی ہے اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے تو آئی ایم ایف کے پروگرام کے حوالے سے افراتفری پھیلانے کی ضرورت نہیں ۔