.آرمی چیف جنرل باجوہ پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کیلئے پرعزم۔۔……….کالم نگار۔۔۔اصغرعلی مبارک۔۔۔۔۔کالم۔۔اندر کی بات۔۔……………پُرعزم پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور وسیع تر سیاسی تعاون پولیو کے موذی وائرس کو ایک مرتبہ تو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں اپنی اپنی سطح پر کلیدی کردار کی ادائیگی جاری رکھے ہوئے ہیں. اگلے دن ماضی میں 4 فروری 2020 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی انسداد پولیو تنظیم کے وفد کی ملاقات میں تھاکہ پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان میں پولیو پر جلد مکمل طور قابو پالیا جائے گا، اداروں کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان میں پولیو کا خاتمہ ہوجائے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی انسداد پولیو تنظیم کے وفد نے جی ایچ کیو کا دورہ کیاتھا ۔اس طرح10 جون 2021 کو آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی انسداد پولیو نگرانی بورڈ کے سربراہ کرسٹوفرایلیس سےملاقات میں پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمہ کے عزم سے متعلق امور پرتبادلہ خیال کیاتھا آرمی چیف نے پاکستان میں پولیو کے خاتمہ کیلئے ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہا،انہوں نے کہا تھاکہ یہ قومی کاز اور قومی کوشش ہے۔اس موقع پرکرسٹوفر ایلیس نےانسداد پولیومہم میں پاک آرمی کےکردارکوسراہتے ہوئے تھاکہ پاک فوج نے قومی انسداد پولیو مہم میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، پاک فوج نے رواں سال ملک بھر میں پولیو مہم کو یقینی بنایا،اس کے علاوہ پاک فوج نے بذریعہ کمیونٹی، بااثر افراد آگہی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا،اسی دوران 30 اپریل 2022کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فائونڈیشن کے شریک چیئرمین مسٹر بل گیٹس نے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف اور بل گیٹس کے مابین صحت کی دیکھ بھال سے متعلق معاملات بالخصوص پولیو کے مکمل خاتمے لئے پاکستان کے عزم، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بل گیٹس نے قومی پولیو مہم کی حمایت، مناسب رسائی اور کوریج کو یقینی بنانے پر پاک فوج کی تعریف کی۔ آرمی چیف نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان کے لیے یہ ایک قومی مقصد اور قومی کوشش ہے اور اس کا سہرا نچلی سطح کے کارکنوں کو جاتا ہے جن میں موبائل ٹیمیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صحت کی دیکھ بھال کے نمائندے شامل ہیں.اگلے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نےنیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا دورہ کیاآرمی چیف کو ملک میں پولیو مہم اور درپیش چیلنجوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے حساس مقامات پر اضافی افرادی قوت اوروسائل فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ٹیموں کو اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے۔ پولیو ٹیموں کو اضافی افرادی قوت اور وسائل فراہم کئے جائیں۔ پولیو سے پاک پاکستان کے لئے موثر کوششیں کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف نے پولیو مہم کے انعقاد اور دیگر اقدامات کو سراہا۔پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے حکومتی سطح پر کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور دعوئ کیا جاتارہاھے کہ پاکستان کو پولیو سے پاک کر دیا گیا ھے اس وقت صرف دنیا کے تین ممالک ایسے ہیں جہاں پولیو وائرس کی منتقلی کے عمل پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ یہ ممالک پاکستان، افغانستان اور نائجیریا ہیںسابق دور حکومت میں فیک نیوزسٹوری سے دعوئے کیے جاتے رہے کہ پاکستان میں پولیو کا کو کیس نہیں لیکن پھر اچانک تواتر کے ساتھ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سابق حکومت کو ماننا پڑا کہ پولیو کے خاتمہ کے سلسلے میں جاری کردہ اعداد وشمار درست نہ تھےپاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام گذشتہ 25 سالوں سے بچوں کو معذوری کا شکار کرنے والے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے سرگرمِ عمل ہے۔ اس پروگرام کا ہراول دستہ 339,521 پولیو ورکرز ہیں ۔ مثالی افرادی قوت کے علاوہ اس پروگرام کو دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظام کی خدمات حاصل ہیں اور معلومات کے حصول اور تجزیے کا اعلیٰ معیار کا نیٹ ورک، جدید ترین لیبارٹریز، وبائی امراض کے بہترین ماہرین اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پبلک ہیلتھ کے نمایاں ماہرین بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔اس وقت دنیا میں پاکستان ، نائجیریا اور افغانستان چند ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس آج بھی موجود ہے اور اس نے بچوں کی صحت اور تندرستی کو مسلسل خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 2020ء کے اختتام تک 38 اضلاع سے84 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کورونا وبا کے باوجود 2019 میں 147 کیسز کے مقابلے میں سال 2020 میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان سے سال 2019 میں 29 کیسز کے مقابلے میں 2020 میں 56 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں-2019ء میں پولیو کے خاتمے کی کوششیں بری طرح متاثر ہوئیں جس کے بعد وائرس کو قابو کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع کی گئیں۔ ان گنت چیلنجز کی وجہ سے پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا تھا اس دوران سوشل میڈیا پر پولیو ویکسین کے خلاف منفی پروپیگنڈہ جاری رہا۔ اس کے علاوہ بچوں میں قوت مدافعت کی کمی، بنیادی صحت وسائل کی عدم دستیابی بھی پولیو وائرس کی بڑی وجہ رہی۔2020ء میں موثر طور پر درپیش چیلنجوں کا جائزہ لیا گیا۔ انتظامی آپریشن نظام کو بہتر بنایا گیا تاکہ تیزی سے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ ان انتظامی تبدیلیوں کور ائج کیا گیا اور ملک بھر سے اعداد و شمار اور معلومات کے نظام کو بہتر بنایا گیا تاکہ بہتر طور پر منصوبہ بندی کی جاسکے۔ مارچ 2020ء میں کورونا وبا کے باعث ملک بھر میں مہمات منسوخ کردی گئی تھیں۔ چار مہینے کے وقفے کے بعد جولائی 2020ء میں کورونا وبا کی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرتے ہوئے دوبارہ مہم کا آغاز کیا گیا اور کامیابی سے چھ مہمات کا انعقاد کیا گیاہے۔ ان ساری مہمات میں تمام لیڈر شپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پولیو ورکرز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے پاک فوج کی کوششیں قابل تحسین رہیں 1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام ملک میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سرگرمِ عمل ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہونے والی کوششوں کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوا ہے کہ آج پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد میں 99 فی صد تک کمی واقع ہوچکی ہے جبکہ پاکستان میں 1990 کی دہائی کے اوائل میں پولیو کیسز کی تعداد 339,521 تھی۔سال بھر کے دوران ، پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام پولیو کے خاتمے کی اعلیٰ معیار کی مہمات کا انعقاد کرتا ہے جن کا مقصد قومی سطح پر پانچ سے کم عمر کے ہر بچے تک رسائی ممکن بنانا ہوتا ہے۔ ان مہمات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ملک بھر میں 339,521 پولیو ورکرز کام کرتے ہیں ۔ یہ ورکرز ہر گھر تک پہنچ کر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ پاکستان کے ہر بچے کو اس پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جاچکے ہیں جو انہیں پولیو کا شکار ہوکر معذوری سے بچا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ، پولیو کے خاتمے کا پروگرام حساس ترین نگرانی ، پولیو وائرس کی سراغ رسانی اور جوابی عمل جیسی سرگرمیوں کی مدد سے پولیو وائرس کے انتقال اور پھیلاؤ کے عمل پر کڑی نظر رکھتا ہے اور ملک بھر میں اس کے پھیلنے کے عمل کو روکتا ہے۔

1994 سے پاکستان میں پولیو کے خاتمے کا پروگرام ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لئے مصروفِ عمل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 339,521 پولیو ورکرز پولیو کے خاتمے کے ان اقدامات میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کو دنیا کے سب سے بڑے نگرانی کے نظام کی خدمات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ اس پروگرام کو معلومات کے حصول اور تجزیے کا معیاری نیٹ ورک، جدید ترین لیبارٹریز، وبائی امراض کے بہترین ماہرین اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پبلک ہیلتھ کے نمایاں ماہرین کی خدمات بھی حاصل ہیں زیادہ خطرے والے اضلاعکو وائرس کے لحاظ سے چار مختلف درجات میں تقسیم کیا ہے اور ان درجات کے مطابق ان علاقوں میں وائرس کے خاتمے کی حکمت عملی اور ترجیحات ترتیب دی ہیں۔ان میں اول درجہ میں وہ اضلاع ہیں جہاں پر وائرس کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ دوسرے درجہ میں وہ اضلاع ہیں جو وائرس کے لحاظ سے خطرہ میں ہیں جبکہ تیسرے درجہ میں وہ اضلاع ہیں جہاں پر وائرس کا خدشہ ہے اور چوتھے درجہ میں وہ اضلاع ہیں جہاں پر وائرس کا زیادہ خطرہ نہیں ہے۔اول درجہ میں وہ اضلاع شامل ہیں جہاں پر ڈبلیو پی وی ون وائرس کی سرکولیشن کم از کم 18 مہینے سے ہو اور وہاں سے وائرس دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے کی تاریخ ہو۔دوسرے درجہ کے اضلاع میں وہ علاقے شامل ہیں جہاں قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے خطرہ زیادہ ہے۔جبکہ تیسرے اور چوتھے درجہ میں وہ اضلاع شامل ہیں جہاں پر کسی نہ کسی حیثیت میں رسک پایا جاتا ہے۔پروگرام نے ایسے یونین کونسلز میں وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے خصوصی حکمت عملی بنائی ہے کیونکہ وہ زیادہ خطرے میں ہیں ان علاقوں میں آبادی میں پولیو وائرس سے مقابلے کیلئے قوت مدافعت کی کمی ہے۔ ان یونین کونسلز کو سپر ہائی رسک یونین کونسلزکا نام دیا گیا ہے اور وائرس کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔قومی اور صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سنٹرز اول درجہ کے اضلاع میں 40 ہائی رسک یونین کونسلز کی نشاندھی کی گئی ہےبیسویں صدی کے اوائل میں پولیو صنعتی ممالک میں ایک ایسی بیماری کا نام تھا جس سے لوگ سب سے زیادہ خوف زدہ تھے۔ پولیو ہر سال لاکھوں بچوں کو معذور اور اپاہج بنارہا تھا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں پولیو کی موثر ویکسین کے متعارف ہونے کے بعد پولیو پر قابو پانا ممکن ہوا اور اس کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے سے صنعتی ممالک میں اس بیماری کا مکمل خاتمہ کردیا گیا۔

ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ترقی پذیر ممالک میں پولیو کو ایک اہم مسئلہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ 1970 کی دہائی میں لیمنس سروے سے معلوم ہوا کہ پولیو کی بیماری ترقی پذیر ممالک میں بھی موجود ہے۔ نتیجتاً، 1970 کی دہائی میں ہی بیماریوں کے خلاف مدافعت پیدا کرنے کے لئے قومی ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ معمول کی ویکسینیشن کا آغاز کیا گیا تاکہ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں بھی اس بیماری پر قابو پایا جاسکے۔1988 میں جب پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدام کا آغاز ہوا تو اس وقت پولیو ہر روز 1,000 بچوں کو مفلوج کررہا تھا۔ اس وقت سے آج تک، پولیو کے کیسز میں 99 فی صد تک کمی لائی جاچکی ہے اور 2.5 بچوں میں ویکسین کے ذریعے پولیو کے خلاف کامیاب مدافعت پیدا History of Polio Disease & Polio Vaccineکی گئی ہے۔ یہ سب 200 ممالک اور 20 ملین رضا کاروں کے تعاون اور 11 بلین امریکی ڈالرز کا کثیر سرمایہ خرچ کرنے سے ممکن ہوا ہے۔

۔

پولیو وائرس کے خلاف جدوجہد کے دوران وائلڈ پولیو وائرس 1 کی بعض صورتوں کے خاتمے میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر پولیو کا آخری ٹائپ ٹو کیس 1999 میں سامنے آیا تھا اور اس کے خاتمے کا اعلان 2015 میں کیا گیا تھا۔ اسی دوران نومبر 2012 میں ٹائپ تھری کیس منظرِ عام پر آیا۔

ان تمام کامیابیوں کے باوجود، پولیو کے آخری ایک فی صد کیسز سے نمٹنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اس سلسلے میں موجود مشکلات میں مختلف ممالک میں تنازعات، سیاسی عدم استحکام، دسترس سے دور آبادی اور ناکافی انفراسٹرکچر شامل ہیں۔ ہر ملک میں ایک الگ قسم کا مسئلہ ہے جس کے لئے مقامی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

2013 میں پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدام (جی پی ای آئی) نے دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کے ایک جامع اور محنت طلب منصوبے کا آغاز کیا۔ یہ دنیا کو پولیو سے پاک کرنے کے لئے ایک منظم منصوبہ ہے جو اس کے ہر پہلو کا احاطہ کرتے ہوئے ان ناگزیر اقدامات کی نشان دہی کرتا ہے جو ان ممالک میں اٹھانا ضروری ہیں جو پولیو وائرس کی آخری پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں تاکہ دنیا کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کیا جاسکے۔بین الاقوامی سطح پر توجہ طلب صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتِ حال کی تعریف انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشن (2005) نے کچھ یوں کی ہے: ’’غیر معمولی صورتِ حال کا تعین، جو اس ریگولیشن میں موجود ہو اور، جس میں بیماری کا پھیلاؤ ایک ریاست سے دیگر ریاستوں میں بھی ممکن ہو اور جس کے حل کے لئے بین الاقوامی سطح پر تعاون درکار ہو۔‘‘ سال 2014 میں پولیو وائرس کے عالمی سطح پر پھیلاؤ کے نتیجے میں، انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز (آئی ایچ آر 2005) نے پولیو وائرس کو بین الاقوامی سطح پر توجہ طلب صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتِ حال (پی ایچ ای آئی سی) قرار دیا۔

انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز 2005 یا آئی ایچ آر 2005 اس بین الاقوامی قانونی معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے جس کا دنیا بھر کے 196 ممالک حصہ ہیں اور اس میں عالمی ادارہ صحت کی تمام رکن ریاستیں شامل ہیں۔ ان ریگولیشنز کا بنیادی مقصد بین الاقوامی کمیونٹی کو صحت کے ان انتہائی خطرات سے بچانا اور ان خطرات کے سامنے آنے کی صورت میں ان کا تدارک کرنا ہے جو ایک ملک سے دُوسرے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں اور عالمی سطح پر نسلِ انسانی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ آئی ایچ آر 2005 کا مقصد اور دائرہ عمل بچاؤ، تحفظ، قابو پانا اور بین الاقوامی سطح پر بیماریاں پھیل جانے کی صورت میں صحتِ عامہ کو لاحق خطرات سے بچنے کے لئے جوابی اقدامات اٹھانے ہیں تاکہ بین الاقوامی آمد و رفت اور تجارتی میل جول کی وجہ سے بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

5 مئی 2014 کو عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز (آئی ایچ آر 2005) کے تحت پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر توجہ طلب صحتِ عامہ کی ہنگامی حالت (پی ایچ ای آئی سی) قرار دیا اور اس کے بین الاقوامی سطح پر پھیلاؤ سے بچنے کے لئے عبوری سفارشات پیش کیں اور ایمرجنسی کمیٹی سے کہا کہ وہ ہر 3 ماہ بعد ہنگامی صورتِ حال کا جائزہ لے۔

پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے موضوع پر انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز (آئی ایچ آر 2005) کے تحت ڈائریکٹر جنرل نے ایمرجنسی کمیٹی کا ساتواں اجلاس30 اپریل 2018 کو عالمی ادارہ صحت کے ہیڈ کوارٹرز میں طلب کیا۔ اس اجلاس میں اراکین اور مشاورت کاروں کے علاوہ ٹیلی کانفرنس کے ذریعے رکن ریاستوں نے بھی شرکت کی۔کمیٹی کی پیش کردہ تجاویز اور متاثرہ ریاستوں کی جاری کردہ رپورٹس کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل نے آئی ایچ آر (2005) کے تحت یہ عبوری سفارشات پیش کیں جن کا اطلاق مئی 2019 میں ہوا۔پولیو کی بنیادی وجہ انسانی خوراک کی نالی کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والا وائرس ہے جیسے عام طور پر پولیو وائرس کہتے ہیں۔ یہ وائرس انسانی فضلے اور منہ کے راستے سے پھیلتا ہے۔ پولیو وائرس منہ کے راستے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور انتڑیوں میں پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے۔ اس وائرس سے متاثر لوگ اس وائرس کو ماحول میں خارج کردیتے ہیں جہاں یہ کئی ہفتوں تک رہ سکتا ہے اور خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں صفائی کا خاص انتظام نہ ہو وہاں گلی محلے اور علاقے میں بھی پھیل سکتا ہے۔ پولیو کا یہ وائرس (Poliomyelitis) کسی بھی عمر کے انسان کو متاثر کرسکتا ہے لیکن یہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو نہ صرف مفلوج کرسکتا ہے بلکہ ان کی موت کا بھی باعث بن سکتا ہے۔انسانی جسم میں وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرنا ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے۔ ہم سب انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور اسی طرح ہر نامیاتی جسم کا دوائی یا ویکسین پر مختلف ردِ عمل ہوتا ہے۔
کچھ بچے پانچ یا چھ بار پولیو ویکسین استعمال کرنے کے بعد اس کے خلاف مضبوط مدافعت پیدا کرلیتے ہیں جبکہ زیادہ کمزور بچے یہ مدافعت دس سے زیادہ بار ویکسین استعمال کرنے کے بعد پیدا کرپاتے ہیں۔ ایک کم وزن، ناقص خوراک پر پلنے والے بچے کا جسم جو کہ اسہال کا بھی شکار ہو، ایک صحت مند بچے کے جسم کی نسبت پولیو ویکسین پر مختلف ردِ عمل ظاہر کرسکتا ہے۔
اس لئے پولیو سے بچے رہنے کے لئے لازم ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو ویکسینیشن کی مہم کے دوران ہر بار پولیو ویکسین کے قطرے پلوائے جائیں۔پولیو کے منتقل ہونے اور پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لازم ہے پولیو کی ہر مہم کے دوران ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے 95 فی صد بچوں میں پولیو کے خلاف معدافعت پیدا کی جائے۔ ہر مہم کے دوران ان نتائج کا حصول انتظامی لحاظ سے بہت مشکل ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہر مہم کے دوران باقی ماندہ 5 فی صد بچوں کی تعداد 2 ملین بنتی ہے جن تک رسائی حاصل کرنے کے لئے مختصر مدت کے اندر دوسری مہم کا انعقاد کرنا پڑتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہر بچے کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جاچکے ہیں۔
اس کے علاوہ، ایک بار ایک علاقے میں پولیو وائرس کی موجودگی کا سراغ مل جائے تو اس ضلع میں ایک اور پولیو ویکسین پلانے کی مہم کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ پولیو وبائی صورت اختیار نہ کرپائے اور زیادہ سے زیادہ بچے اس سے متاثر نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سال میں پولیو کی ایک سے زیادہ مہمات منعقد کی جاتی ہیں۔
کوئی بھی بچہ پولیو ویکسین کی ایک خوراک سے بھی محروم نہ رہے! ہر اضافی خوراک بچوں میں پولیو کے خلاف اضافی مدافعت پیدا کرتی ہے۔پاکستان بھر میں کئی ایسی آبادیاں ہیں جو مسلسل سفر میں رہتی ہیں۔ ان لوگوں یا گروپس میں لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہوتے رہتے ہیں کیونکہ ان میں دیگر گروپس کے علاوہ خانہ بدوش، مہاجرین، اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے (آئی ڈی پیز)، موسم اور زراعت کے لئے ہجرت کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ چونکہ یہ گروپس مسلسل نقل مکانی کرتے رہتے ہیں اس لئے ان کے ساتھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں یا جو تسلی بخش حد تک ویکسین استعمال نہیں کرپائے۔ یوں اس بات کا خطرہ موجود رہتا ہے کہ ایسے بچے مختلف علاقوں میں پولیو کا وائرس پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اگرچہ آپ سفر کررہے ہوں، آپ کے بچے کا پولیو ویکسین کے قطرے پینا لازم ہے۔ دورانِ سفر پولیو ویکسین پلانے کی سہولت فراہم کرنے کے لئے، اس پروگرام نے 500 مستقل ٹرانزٹ پوائنٹس (پی ٹی پیز) عام گذرگاہوں جیسا کہ بس سٹیشن، شاہراہوں، ائیرپورٹس اور دیگر اہم مقامات پر قائم کئے ہیں۔ اس کے علاوہ نقل مکانی اور سفر کرنے والی آبادیوں کے لئے عارضی ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کئے گئے ہیں تاکہ چھٹی کے دنوں، مذہبی تہواروں کے دوران اور موسمیاتی نقل مکانی کی صورت میں ہر جگہ بچوں کو پولیو ویکسین پلائی جاسکے۔پولیو ایک انتہائی متعدی اور وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو عام طور پر پانچ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ پولیو کا وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہےپولیو کی ابتدائی طور پر ظاہر ہونے والی علامات میں بخار، شدید تھکاوٹ ، سر درد، متلی یا قے ، گردن کا اکڑ جانا اور اعصابی درد شامل ہیں۔ چند کیسز میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیو وائرس اعصابی نظام پر حملہ ہوکر فالج کی وجہ بنتا ہے اور پولیو وائرس کے حملے سے ہونے والا فالج مستقل ہوتا ہے۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں۔ اس سے بچاؤ کا واحد راستہ پولیو ویکسین یعنی پولیو سے بچاؤ کے قطروں کا استعمال ہے۔1988 میں جب سے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے اس بیماری کا مکمل خاتمہ کرنے کا عزم کیا ہے پولیو کے خلاف عالمگیر جدوجہد کے آغاز کے بعد بہت مثالی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ جب 1988 میں پولیو کے خاتمے کے اقدام کا آغاز ہوا، پولیو دنیا بھر میں 350,000 بچوں کو ہر سال اپاہج بنا رہا تھا۔ اس وقت دنیا میں پولیو کا 99 فی صد تک خاتمہ کیا جاچکا ہے۔

یہ کامیابی 200 ممالک میں 2.5 بلین بچوں کو پولیو ویکسین پلانے کے لئے 11 بلین امریکی ڈالرز خرچ کرکے حاصل ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیو کے خاتمے کے عالمی اقدام کی وجہ سے آج ایک کروڑ کے قریب ایسے بچے اپنے پاؤں پر چل رہے ہیں جو اقدام کی عدم موجودگی کی صورت میں آج پولیو کا شکار ہوکر معذوری کی زندگی گذار رہے ہوتے۔سال کی دوسری ذیلی انسداد پولیو مہم میں 12.6 ملین بچوں کو حفاظتی قطرے پلوانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ مہم 27 جون سے شروع ہو رہی ہے جس میں پولیو کے لئے حساس قرار دیئے جانے والے 25 اضلاع میں مکمل طور پر جبکہ باقی اضلاع میں مخصوص یونین کونسلز میں مہم ہوگی۔ مہم میں ایک لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جاکر پیدائش سے پانچ سال تک کے بچوں کو حفاظتی قطرے پلوائیں گے۔