
آرمی چیف تعیناتی کو متنازعہ بنانے کی سازش ناکام…………کالم ”اندر کی بات”…:کالم نگار،اصغر علی مبارک. …………..ملک بھر میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو بچانے کیلئے پاک فوج کاریلیف اور ریسکیو آپریشن جنگی بنیاد پر جاری ہے موسم سرما بھی بہت جلد شروع ہونے کو ہے اس لیےپاک فوج کے ریلیف آپریشن میں تیزی آ گئی ہے۔ ایک طرف افواج پاکستان سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں میں دن رات مصروف پیں تو دوسری جانب عمران خان اپنے ہی اداروں کے خلاف تسلسل کے ساتھ غیر اخلاقی اور غیر پالیمانی زبان کا کھلے عام استعمال کرکے سیاسی مظلوم بننے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں عمران خان کے بیانیے انہی کے پیروں کی زنجیر بن گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے سنجیدہ سیاست کاجنازہ نکال کر رکھ دیا ہے پاک فوج کے ترجمان تواتر کے ساتھ کہہ چکے ہیں کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے مگر صد افسوس عمران خان نے فوج مخالف پالیسی کو اپنی جماعت کا بیانیہ بنا لیا ہے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کو متنازع نہ بنائیں،آرمی چیف کی تقرری ہمارا آئینی حق ہے وقت آنے پر ایکسرسائز کریں گے، آرمی چیف کی تعیناتی پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے،آرمی چیف کی تقرری میں ڈھائی مہینے باقی ہیں، اس ایشو کو اس وقت کھولنا پاکستان اور فوج دونوں کیلئے بہتر نہیں ہے، فوج اور آرمی چیف کی تقرری کو سیاست میں گھسیٹنا ادارے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، عمران خان کبھی نیوٹرل، کبھی اسٹیبلشمنٹ، کبھی میر جعفر میر صادق کا نام لے کر فوج کو متنازع بنارہے ہیں، عمران خان آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کو متنازع نہ بنائیں، پاک فوج کا ادارہ شکست و ریخت سے بچا ہوا ہے اسے متنازع نہ بنایا جائے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان یہ بات کر کے ہماری حکومت کے جائز ہونے کو چیلنج کررہے ہیں، عمران خان آئینی طریقے سے قائم حکومت کو آرمی چیف کی تعیناتی کا فرض اد ا کرنے سے روک رہے ہیں، عمران خان اپنی حسرت پوری کرنا چاہتے ہیں جو اب تک پوری نہ ہوسکی، عمران خان کا انٹرویو نورا کشتی اور فکسڈ میچ تھا، اس انٹرویو میں پہلے ہی سوالات اور جوابات طے کرلیے گئے تھے، میڈیا سے درخواست ہے وہ ان معاملات میں نہ پڑے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ عمران آرمی چیف کی تعیناتی کو کبھی حکومت کبھی الیکشن سے نتھی کررہے ہیں، ہماری حکومت آئینی و قانونی طریقے سے آئی ہے، آرمی چیف کی تقرری ہمارا آئینی حق ہے وقت آنے پر ایکسرسائز کریں گے، آرمی چیف کی تعیناتی یا توسیع پر کسی قسم کی گفتگو شروع نہیں ہوئی،عمران خان ادارے کا وقار برقرار رہنے دیں ایسا نہ کریں، آرمی چیف کی کال پر تھری اسٹار جنر ل سے لے کر سپاہی تک اپنی جان قربان کرتے ہیں، اپیل کرتا ہوں آرمی چیف کے عہدے، تعیناتی کے طریقے اور ادارے کو متنازع نہ بنائیں، عمران سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس چیز کو متنازع بنارہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جس ادارے نے عمران خان کو عزت دی اسے ہی متنازع بنارہے ہیں، عمران خان جس ہاتھ سے کھاتا ہے اسی ہاتھ کو کاٹتا ہے، عمران خان نے جن لوگوں کو انٹرویو دیا وہ بھی اس کی واردات میں شامل ہوگئے ہیں، پی ٹی آئی والے ذہنی طور پر آج بھی امریکا کی سپورٹ چاہتے ہیں، عمران خان سمیت پی ٹی آئی لیڈرز امریکیوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں یہ کیسی بیرونی سازش اور کیسی حقیقی آزادی ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کا عمل نہ ابھی شروع ہوا نہ آپشنز پر کوئی غور کیا گیا ہے، ہم اس معاملہ کو شروع کر کے عمران خان کی بچھائی ہوئی بساط کا حصہ نہیں بنیں گے، وزیراعظم شہباز شریف آئین و قانون میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کریں گے، آرمی چیف کے معاملہ پر نواز شریف اور شہباز شریف میں کوئی اختلاف نہیں ہے، عمران خان سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ادارے کی ساکھ اور غیرمتنازع تشخص کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عمران خان اپنی پارٹی کو اکٹھا رکھنے میں ناکام ہوگئے ہیں، عمران خان جو بیانیہ بنارہے ہیں ان کی پارٹی اس کے پیچھے نہیں کھڑی ہے،پی ٹی آئی کے بڑے رہنما عمران خان کی تقاریر پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں، عمران خان انٹرویو میں کہہ رہے ہیں کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار انہیں دیا جائے، عمران خان کی تمام باتیں غیرسنجیدہ اور بدنیتی پر مبنی ہیں، عمران خان اب مذہبی ریڈ لائنز بھی عبور کررہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کو قومی اسمبلی میں اعتماد حاصل ہے، کوئی وجہ نہیں کہ کسی شخص کے دباؤ میں قبل از وقت انتخابات کروائے جائیں، پارلیمنٹ کے معاملات اتفاق رائے سے چل رہے ہیں، ملک میں معاشی بحران ضرور ہے مگر سیاسی بحران نہیں ہے، آئی ایم ایف پروگرام کیخلاف سازش کر کے عمران خان نے ملک سے بڑی دشمنی کی۔ پاکستان میں آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ گذشتہ سال سے ہی موضوع بحث بنا رہا لیکن چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے عام انتخابات کے بعد نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی تجویز نے نئے سوالات کو جنم دیا ۔عمران خان نےانٹرویو میں کہا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی عام انتخابات کے بعد نئی منتخب حکومت کو کرنی چاہیے اور تب تک کے لیے قانون میں کوئی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس انٹرویو کے ردعمل میں کہا کہ ’موجودہ حکومت اس ذمہ داری کو مقررہ وقت پر آئین اور ادارے کی بہترین روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی، اہم قومی فیصلے سیاسی مفادات سے مشروط نہیں ہوتے۔‘تحریک انصاف کے چیئرمین بلاواسطہ اسٹیبلشمنٹ پر اپنی حکومت گرائے جانے کے بعد سے تنقید کرتے رہے ہیں۔نجی ٹی وی چینل کو دیے جانے والے انٹرویو میں جب اینکر نے سوال کیا کہ ’آپ نے پہلے کہا کہ موجودہ حکومت ہی آرمی چیف کی تعیناتی کرے گی لیکن اس کے بعد آپ نے ایک متنازع بیان دیا، لیکن اب تو معاملہ سیٹل ہے کہ حکومت ہی تعیناتی کرے گی۔‘اس سوال پر عمران خان نے کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ آرمی چیف کی پوزیشن بہت اہم ہے، میرٹ پر ہونی چاہیے۔ لیکن میں نے ساتھ کہا کہ آصف زرداری میرٹ کے لیے کوالیفائیڈ نہیں، اور نہ نواز شریف کوالیفائیڈ ہے۔ اگر یہ صاف اور شفاف الیکشن جیت کر حکومت میں آتے ہیں تو پھر اپنا چیف اپوائنٹ کر لیں۔‘اس جواب پر اینکر کامران خان نے سوال کیا کہ الیکشن تو 90 دن بعد ہوں گے؟ پھر ایسے میں کیا کیا جائے؟ جس دن جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ ہو تو اس دن کیا ہو؟عمران خان نے جواب دیا کہ ’اس کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ملک کی بہتری کے لیے اگر اس کی پرووژن نکل سکتی ہے، وکیلوں نے مجھے بتایا ہے کہ اس کی پرووژن نکل سکتی ہے کہ جب الیکٹڈ حکومت آئے وہ فیصلہ کرے۔‘اینکر نے پھر سوال کیا کہ اس وقت تک کے لیے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دے دی جائے جب تک الیکشن نہیں ہوتے؟عمران خان نے جواب دیا کہ ’میں نے اس پر کوئی تفصیل میں نہیں سوچا۔ وکیل کیا کہتے ہیں، آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں، میں نہیں جانتا لیکن میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ملک غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔‘عمران خان کی جانب سے یہ بیان ان کے اس حالیہ بیان سے جڑا ہے جب فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نومبر میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’آصف زرادری اور نواز شریف نومبر میں اپنا فیورٹ آرمی چیف لے کر آنا چاہتے ہیں۔‘’یہ ڈرتے ہیں کہ یہاں کوئی تگڑا آرمی چیف آ گیا، ایک محب وطن آرمی چیف آ گیا تو پوچھے گا ان سے تو اس ڈر سے یہ دونوں مل کر اپنا آرمی چیف مقرر کریں گے۔‘اگلے روز اس بیان کے ردِ عمل میں آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان آرمی میں فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ‘پاک فوج کی سینیئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور غیر ضروری بیان پر شدید غم و غصہ ہے۔’واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے 14 اپریل 2022 کو ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں یہ بیان دیا تھا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف نہ تو توسیع کے خواہش مند ہیں اور نہ ہی وہ اس کو قبول کریں گے، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ وہ 29 نومبر 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔‘ وزیر دفاع خواجہ آصف نےنجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے بیان اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر مزید کہا کہ ’یہ قبل از وقت ہے۔ ابھی ڈھائی ماہ باقی ہیں۔ اس وقت اس ایشو کو کھولنا نہ پاکستان کے لیے بہتر ہے اور نہ ہمارے ادارے کے لیے بہتر ہے۔‘ ’میری اپیل ہو گی تمام سیاسی عناصر سے، بشمول عمران خان، کہ اس معاملے کو متنازع نہ بنائیں۔‘ ’عمران خان دراصل ہماری حکومت کی لیجیٹمیسی کو چیلنج کر رہے ہیں۔‘ خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ ’اس انٹرویو میں سوال اور جواب پہلے طے ہو چکے تھے۔‘ ’یہ ہماری حکومت کا حق ہے اور ہم وقت آنے پر اس حق کو استعمال کریں گے۔‘واضح رہے کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے رواں سال 11 مئی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر عمران خان اپنی ذاتی مرضی کرنا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ایسا ہو کہ ان کے سیاسی مفادات اور حکمرانی کے تسلسل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔’ خیال رہے کہ پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کوئی نئی بات نہیں۔ پہلے کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان سے لے کر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک ایکسٹینشن کی کئی مثالیں موجود ہیں تاہم موجودہ چیف کی ایکسٹینشن سب سے متنازع رہی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ آرمی چیف کو آئینی اور قانونی طور پر ایک اور ایکسٹینشن یا مدت ملازمت میں توسیع مل سکتی ہے؟ آئینی اور قانونی طور پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا راستہ تو موجود ہے تاہم ان کے مطابق یہ حکومت کا فیصلہ ہو گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جب پہلی بار ایکسٹینشن ملی اور معاملہ عدالت میں گیا تو سپریم کورٹ کے حکم پر تحریک انصاف کی حکومت نے ایک قانون بنایا تھا جس کے تحت صدر پاکستان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ وزیر اعظم کے مشورے پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کر سکتے ہیں۔ اس قانون سازی میں ایک اہم نکتہ آرمی چیف کی عمر کے حوالے سے بھی تھا۔ ’اگر وہ نہ ہوتا تو نئی توسیع ممکن نہ ہوتی۔‘ جنرل قمر جاوید باجوہ، جن کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تعینات کیا تھا، نے 29 نومبر 2019 کو ریٹائر ہو جانا تھا تاہم اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا۔ عدالت نے نشان دہی کی کہ آئین کے آرٹیکل 243، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی ریگولیشنز رولز 1998 میں کہیں بھی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں۔ 28 نومبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع کی منظوری دیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ آرمی چیف کی توسیع یا دوبارہ تقرری کے حوالے سے پارلیمان کے ذریعے باقاعدہ قانون سازی کرے۔ تحریک انصاف نے حیران کن طور پر اپوزیشن جماعتوں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حمایت سے، آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی جس میں آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا مدت ملازمت میں توسیع کی شق شامل کی گئی جس کے تحت صدر پاکستان وزیر اعظم کی تجویز پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کے لیے توسیع کر سکتے ہیں یا دوبارہ تعیناتی کر سکتے ہیں۔ قانون کے تحت مدت ملازمت مکمل ہونے پر توسیع یا دوبارہ تقرر وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ قانون کے مطابق 64 برس کی عمر تک پہنچنے پر مذکورہ جنرل ریٹائرڈ تصور ہو گا۔موجود چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو 2016 میں تعینات کیا گیا تھا جو کہ نومبر کے آخری ہفتے میں ریٹائر ہونے والے ہیں، آرمی چیف کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوتی ہے لیکن جنرل قمر باجوہ کو 2019 میں تین سال کے لیے توسیع دے دی گئی تھی۔واضح رہے کہ 4 ستمبر کو عمران خان نے فیصل آباد جلسے میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نئے انتخابات کی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ وہ کرپشن کے مقدمات میں اپنے آپ کو بچانے کے لیے نومبر میں ‘اپنی مرضی کا آرمی چیف مقرر’ کرنا چاہتے ہیں، جس کے بعد آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوئی تھیہ جو تاحال جاری ہے۔عمران خان نے اس کے بعد نجی ٹی وی کے پروگرام ‘دنیا کامران خان کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صاف اور شفاف انتخابات کروائیں، اگر جیت جائیں تو پھر اپنی مرضی سے نئے آرمی چیف کا تقرر کریں، جس کی گنجائش بن سکتی ہے۔13 ستمبر کو بنی گالا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع سے متعلق بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی کوئی بات نہیں کی تھی، توسیع کی بات فوری انتخابات کے ساتھ مشروط ہے۔خیال رہے کہ آرمی چیف کے تقرر کو ‘متنازع’ بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ یہ (عمران خان) جتنی مرضی ملاقاتیں کر لیں، آخری فیصلہ وزیراعظم کو کرنا ہے۔ وزیراعظم اپنے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے اور پھر نواز شریف سے مشاورت کے بعد آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کیا جائے گا۔







