آئین کی گولڈن جوبلی پر ججزکی تقسیم کا خاتمہ؟ اختلافا ت والے ججزچیف جسٹس کے بینچ میں شامل….
کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک..)…آئین پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور شہریوں کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لیے 1973 کے آئین کی گولڈن جوبلی منانے کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج 10 اپریل کو منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس تاریخی دن آئین کی گولڈن جوبلی پرججز تقسیم خاتمےکے لیے اختلافی نوٹ دینے والے ججزکوچیف جسٹس نے آج سے شروع ہفتے میں اپنے بینچ میں شامل کر لیا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رکھ لینی چاہیے کہ حال ہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس عمر عطا بندیال، کے لیے ’ون مین شو‘ جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔ یہ الفاظ پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر کسی سیاسی پارٹی کے رہنما یا کارکن نے استعمال نہیں کیے بلکہ سپریم کورٹ کے ہی دو سینیئر ججوں کی جانب سے ایک فیصلے میں لکھے گئے اختلافی نوٹ میں تحریر کیے گئے۔ججوں کی جانب سے ان الفاظ کے استعمال کے بعد سپریم کورٹ میں تقسیم کا تاثر گہرا ہوا اور بعدازاں سیاسی پارٹیوں سمیت بار کونسلز کے رہنماؤں نے بھی اس حوالے سے بات کی۔ از خود نوٹس اور بینچوں کی تشکیل کے اختیارات کے ’غیر منصفانہ‘ استعمال پر چیف جسٹس اپنے ہی ساتھی ججز کی تنقید کی زد میں آئے اور پھر پارلیمان نے ان کے فیصلوں کے خلاف دو قراردادیں منظور کیں۔سپریم کورٹ میں ججوں کی مجموعی تعداد 17 ہے جبکہ وفاقی شریعت کورٹ کے دو ایڈہاک ججز بھی سپریم کورٹ کا حصہ ہوتے ہیں تاہم فی الحال چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ میں موجودہ ججوں کی تعداد 15 ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان کے بعد اس وقت سپریم کورٹ میں دوسرے سینیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں۔
سپریم کورٹ کے انتظام کو چلانے کے لیے چیف جسٹس کے پاس غیر معمولی اختیارات ہیں۔ وہ پاکستان کی حدود میں کسی بھی معاملے کا نوٹس لے کر کیس شروع کر سکتے ہیں جسے از خود یا سوموٹو اختیار بھی کہا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ کون سا جج کس کا کیس سنے گا اور کن ججز پر مشتمل بینچ کب تشکیل دینا ہے، ان جیسے کئی انتظامی نوعیت کے فیصلے بھی چیف جسٹس ہی کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ از خود نوٹس کا اختیار آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت ہے۔ اس شق کے مطابق سپریم کورٹ کو کسی بھی ایسے واقعے سے متعلق از خود نوٹس لینے کا اختیار حاصل ہے جو مفاد عامہ کا معاملہ ہو یا پھر کہیں بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہوں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے فروری میں پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کے معاملے پر اس وقت ازخود نوٹس لیا جب ایک اور مقدمے میں دو ججوں نے رائے دی کہ الیکشن کے معاملے پر بات ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے نوٹس لیا، نو ججز پر مشتمل ایک بڑا بینچ تشکیل دیا گیا اور یوں کیس کی سماعت کا آغاز ہوا۔
تاہم وفاق میں حکمراں اتحاد کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے اس بینچ میں شامل دو ججوں پر اظہار عدم اعتماد کیا جس کے بعد ان دونوں ججوں یعنی جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو بینچ سے علیحدہ ہونا پڑا۔جس کے بعد یہ نو رکنی بینچ سات رکنی بینچ ہو گیا۔ مگر اس کے بعد ہونے والی سماعت میں سات میں سے مزید دو ججوں، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے یہ کہہ کر خود کو بینچ سے علیحدہ کر دیا کہ چیف جسٹس اس معاملے پر سوموٹو نہیں لے سکتے۔ اور یہ کہ چیف جسٹس کے سوموٹو نوٹس لینے کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
مگر چیف جسٹس نے سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور یوں ابتدا میں نو ججز کا بینچ اب پانچ ممبرز کے ساتھ سماعت کر رہا تھا۔
اس بینچ نے یکم مارچ کو اکثریتی فیصلے (تین، دو) کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ انتخابات کا شیڈول جاری کرے۔ اس فیصلے کے بعد پنجاب میں انتخابات 30 اپریل کو ہونا قرار پائے۔
مگر اس پانچ رکنی بینچ کے بھی دو ججز جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس منصور علی شاہ نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ ان ججز نے چیف جسٹس کے لیے ’ون مین شو‘ جیسے سخت الفاظ استعمال کیے، ان کے سوموٹو اختیارات پر تنقید کی اور حالیہ مقدمات کے لیے اس حق کے استعمال کو سیاسی نظام میں مداخلت سے تشبیہہ دی۔
اعلیٰ عدلیہ میں موجود تقسیم اب کُھل کر سامنے آ چکی تھی۔ چیف جسٹس نے تو اس فیصلے کو تین، دو کا اکثریتی فیصلہ کہا مگر چند سینیئر ججز نے کہا کہ نہیں، اس نو رکنی بینچ سے پیچھے ہٹنے والے دو ججز یعنی جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے اختلافی نوٹ بھی کیس کے حکمنامے کا حصہ بنائے جائیں۔ اس طرح یہ چار، تین کا فیصلہ بنے گا اور نتیجہ مختلف ہو گا۔
بہرحال چیف جسٹس نے اپنے فیصلے پر ہی عمل کیا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے پنجاب میں الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے ججز اس وقت دو گروپس میں منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ مگر ایسا کیا ہوا کہ معاملات اس نہج تک پہنچ گئے کہ ججز نے ایک دوسرے کے خلاف اپنے تاثرات کے اظہار کو فیصلوں کا حصہ بنانا شروع کر دیا؟
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ میں ججز کی تقسیم کے خاتمےکے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔ چیف جسٹس نے انتخابات کیس میں اختلافی نوٹ دینے والے ججز کو اپنے بینچ میں شامل کر لیا ہے، آج سے شروع ہفتے میں جسٹس یحیٰ آفریدی، جسٹس اطہرمن اللہ چیف جسٹس کے بینچ کا حصہ ہوں گے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ جسٹس محمد علی مظہر کا بینچ بنا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز میں تقسیم کے خاتمے کے لیے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ساتھی ججز سے الگ الگ ملاقاتیں کر رہے ہیں ,چیف جسٹس پاکستان نے آئندہ ہفتے کے بینچز اختلافات کا تاثر ختم کرنے اور ججز میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے بنائے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک بھی ایک ہی بینچ میں شامل ہیں، جسٹس اطہرمن اللہ آئندہ ہفتے جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر نقوی کے ساتھ بینچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل بینچ بھی تشکیل دیا گیا ہے,جسٹس اطہرمن اللہ آئندہ ہفتے جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر نقوی کے ساتھ بینچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل بینچ بھی تشکیل دیا گیا ہے,دوسری طرف.پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہےکہ پیپلز پارٹی چیف جسٹس سے محاذ آرائی میں انتہائی اقدام نہیں چاہتی۔ قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بس اتنا چاہتی ہےکہ چیف جسٹس فل کورٹ بنائیں۔ ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرنےکے لیے حکومت نے پیپلز پارٹی سے سرکاری سطح پر کوئی بات نہیں کی۔ دوسری جانب آج قوم 1973 کے آئین کی گولڈن جوبلی منارہی ہے۔اس تاریخی دن ججزکی تقسیم خاتمےکی خبر پوری قوم کے لیے اچھی خبر ہے,آئین پاکستان کی تیاری اور نفاذ ذوالفقار علی بھٹو کا عظیم کارنامہ ہے، جنہوں نے اس اہم ترین قومی مسئلے پر جراتمندانہ اقدام اٹھایا۔ اس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین 10 اپریل1973 ء کو پارلیمنٹ کی جانب سے پاس کیا گیا، جبکہ 12 اپریل 1973 ء کو صدر پاکستان نے آئین پاکستان کی باضابطہ منظوری دی ,ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم تھے۔
اس سے قبل وہ صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جبکہ وہ ملک کے وزیر خارجہ بھی رہے تاہم تاشقند معاہدے کے بعد ایوب خان سے اختلافات کے باعث ذوالفقار علی بھٹو کابینہ سے مستعفی ہو گئے اور انہوں نے دسمبر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔
1970 میں ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں کامیابی حاصل کی اور دسمبر 1971 میں جنرل یحیٰی خان نے مستعفی ہوکر پاکستان کی صدارت ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کی، انہوں نے دسمبر 1971 تا 13 اگست 1973 تک صدر مملکت کا عہدہ سنبھالا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور حکومت میں ریاست کو تیسرا آئین دیا جسے 1973 کا آئین کہا جاتا ہے ملک کے تیسرے آئین کا مسودہ 1970 میں ہونے والے انتخابات کے نتائج پر 1972 میں قائم کی جانے والی کابینہ نے ڈرافٹ اور بعد ازاں 10 اپریل 1973 میں پارلیمنٹ سے منظور کرایا گیا جبکہ اس کو 14 اگست 1973 کو ملک میں نافذ کیا گیا اور اسی روز ذوالفقار علی بھٹو نے نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔
1973 کے آئین میں پہلی مرتبہ ملک میں پارلیمنٹ کو ایوان بالا یعنی سینیٹ اور ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں تقسیم کیا گیا، ملک کے تیسرے آئین میں پارلیمنٹ کو اختیار دیا گیا کہ وہ حکومت کا سربراہ، وزیراعظم کو مقرر کرے جبکہ اس عہدے کو ملک کے ایگزیکٹیو کے اختیارات بھی تفویض کیے گئے، نئے آئین میں بھی گزشتہ برسوں میں پیش کیے گئے 2 آئینی مسودوں کی طرح بنیادی حقوق، آزادی اظہار رائے جبکہ اضافی طور پر مذہب، پریس، تحریکوں، ایسوسی ایشن کی آزادی، زندہ رہنے اور اسلحہ رکھنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ دیگر آزادیاں دی گئیں، آئین میں اسلام کو ریاست کا مذہب اور ریاست کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا گیا، جسے انتظامی حوالے سے 4 صوبوں میں تقسیم کیا گیا۔اس کے علاوہ مذکورہ آئین کی نمایاں خصوصیات میں پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت اور وزیراعظم کو ملک کا سربراہ قرار دیا جانا، اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیا جانا، صدر اور وزیراعظم کا لازمی طور پر مسلمان ہونا، آئین میں ترمیم کے لیے ایوان زیریں میں دو تھائی اور ایوان بالا میں بھاری اکثریت ہونا لازمی قرار دینا، اردو کو پاکستان کی قومی زبان، عدلیہ کی آزادی کی ضمانت، عصمت فروشی سمیت دیگر غیر اخلاقی معاملات پر پابندی اور عربی زبان کو فروغ دینا وغیرہ شامل ہیں۔
ملک کو 1973 کا آئین دینے کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے متعدد ایسی پالیسیز اور اصلاحات کی گئیں جس سے نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا میں بھی پاکستان کا کردار نمایاں طور پر سامنے آنے لگا، جس میں صنعتی شعبے میں اصلاحات، زمین اور زرعی اصلاحات، معاشی پالیسی، بینکنگ اور برآمدات میں توسیع، پاسپورٹ کے حوالے سے اصلاحات، لیبر پالیسی اور سوشل سیکیورٹی کے حوالے سے اقدامات وغیرہ شامل ہیں۔۔
انہوں نے بھارت کا دورہ کیا اور اندرا گاندھی سے ملاقات کرکے 1971 کی پاک بھارت جنگ میں گرفتار ہونے والے 93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے شملہ معاہدہ کیا جبکہ کشمیر میں عارضی طور پر ایک لائن آف کنٹرول قائم کردی گئی۔
ذوالفقار علی بھٹو کو خارجہ امور پر کافی مہارت حاصل تھی اور اس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا، خارجہ امور کے حوالے سے ان کی پالیسیز کے باعث جہاں پاکستان ایک جانب عرب ممالک میں نمایاں مقام اختیار کرتا گیا، وہیں انہیں مغربی ممالک کی بھرپور تنقید اور مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، اس کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کا جھکاؤ امریکا کی بجائے سوویت یونین کی جانب بھی بڑھنے لگا جس کی ایک مثال کراچی کی اسٹیل ملز کے قیام میں سوویت یونین کا بھرپور کردار ہے جبکہ انہوں نے سوویت یونین کے علاوہ جرمنی اور جرمنی سے بھی معاہدے کیے۔
1974 میں بھارت نے پاکستان کی مشرقی سرحد کے قریب پہلا جوہری ٹیسٹ کیا، جس پر پاکستان نے امریکا سے بات چیت کی اور بھارت پر معاشی پابندیاں لگانے کے لیے لابنگ کی کوشش کی گئی، تاہم امریکا نے اس کا مثبت جواب نہ دیا، جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے اور کامیابی حاصل کی،پاکستان جوہری صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا8 جنوری 1977 کو ملک کی 9 اپوزیشن جماعتوں نے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی اتحادی جماعتوں کے خلاف ایک اتحاد، پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کے نام سے قائم کیا اور بھرپور طریقے سے ان کی مخالفت شروع کی، جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں نئے الیکشن کرائے تاہم ان انتخابات میں پی این اے کو واضح شکست ہوئی لیکن انہوں نے الیکشن کے مذکورہ نتائج کو ماننے سے انکار کیا اور انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا، جب یہ معاملہ مزید شدت اختیار کرنے لگا اور ملک میں امن و امان کی صورت حال دن بہ دن خراب ہونے لگی تو 5 جولائی 1977 کو جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں تیسرا مارشل لاء نافذ کردیا اور ستمبر 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انہیں سزائے موت کا حکم سنایا جبکہ 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کردی، 4 اپریل 1979 کو انہیں راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔واضح رہے کہ آج 44 سال بعد بھی پاکستان پیپلز پارٹی اپنے قائد اور چیئرمین کو پھانسی دیے جانے کو ’’عدالتی قتل‘‘ قرار دیتی ہے۔4 اپریل کووزیر اعظم شہباز شریف نےقومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کی تحقیقات کے حوالے ریفرنس کی فوری سماعت ہونی چاہیے۔ ذوالفقار بھٹو کے عدالتی قتل کا ریفرنس 12 سال سے عدالت میں زیر التوا ہے، اس پر عمل ہونا چاہیے، فیصلہ دینے والے ججز میں سے ایک جج نے بعد میں تسلیم بھی کیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو 1973 کے آئین کے بانی ہیں، یہ پاکستان کی تاریخی خدمت تھی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا تھا کہ 4 اپریل ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا 4 اپریل کو پھر آئین کا قتل ہوا، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھٹو شہید کا عدالتی قتل ہوا، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو پوری دنیا نے “عدالتی قتل” قرار دیا۔














