On May 9, the honor and dignity of the Pakistan Army was attacked under a heinous plan, DG ISPR Major General Ahmed Sharif.
…….9 مئی افواجِ پاکستان کی عزت اور وقار پر گھناؤنے منصوبے کے تحت حملہ کیا گیا,ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل احمد شریف
…….رپورٹ؛ اصغر علی مبارک.. پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل احمد شریف کا کہنا ہے کہ 9 مئی کو افواجِ پاکستان کی عزت اور وقار پر ایک گھناؤنے منصوبے کے تحت حملہ کیا گیا, جی ایچ کیو، جناح ہاؤس کی سیکیورٹی اور تقدس برقرار رکھنے میں ناکامی پر 3 افسران بشمول ایک لیفٹیننٹ جنرل کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے اور دیگر کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے۔ 9 مئی کا واقعہ انتہائی قابل مذمت اور پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے، 9 مئی کے واقعات نے ثابت کردیا کہ جو کام دشمن 76 برس میں نہ کر سکا وہ مٹھی بھر شرپسندوں اور ان کے سہولت کاروں نے کر دکھایا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
جی ایچ کیو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ فوج نے اپنی روایات کے مطابق خود احتسابی عمل کا مرحلہ مکمل کرلیا ہے، 9 مئی کو متعدد گیریژن میں جو پرتشدد واقعات ہوئے اس پر دو ادارہ جاتی جامع انکوائریز کی گئیں جس کی صدارت میجر جنرل رینکس کے عہدیداروں نے کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ایک مفصل احتسابی عمل کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو متعلقہ ذمہ داران گیریژن، فوجی تنصیبات، جی ایچ کیو اور جناح ہاؤس کی سیکیورٹی اور تقدس برقرار رکھنے میں ناکام ہوئے ان ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 3 افسران بشمول ایک لیفٹیننٹ جنرل کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ 15 افسران بشمول 3 میجر جنرلز اور 7 بریگیڈیئرز کے عہدے کے افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ آپ کو اس سے اندازہ ہوگا کہ فوج میں خود احتسابی کا عمل بغیر کسی تفریق کے مکمل کیا جاتا ہے اور جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اتنی ہی بڑی ذمہ داری نبھانی پڑتی ہے۔
میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ فوج کے خود احتسابی عمل میں کسی عہدے یا معاشرتی حیثیت میں کوئی تفریق نہیں رکھی جاتی، اس وقت ایک ریٹائرڈ فوراسٹار افسر کی نواسی، ایک ریٹائرڈ فور اسٹار افسر کا داماد، ریٹائرڈ تھری اسٹار جنرل کی بیگم اور ریٹائر فور اسٹار جنرل کی بیگم اور داماد ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر اس احتسابی عمل سے گزر رہے ہیں۔ اب تک آرمی ایکٹ کے تحت چلائے جانے والے مقدمات کے سلسلے میں پہلے سے قائم شدہ فوجی عدالتیں کام کر رہی ہیں جس میں اب تک 102 شرپسندوں کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان کی عزت اور وقار پر ایک گھناؤنے منصوبے کے تحت حملہ کیا گیا، اس کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف رواں سال کے دوران 13 ہزار 619 چھوٹے بڑے انٹیلی جنس آپریشنز کیے اور اس دوران ایک ہزار 172 دہشت گردوں کو واصل جہنم یا گرفتار کیا گیا، دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 77 سے زائد آپریشنز افواج پاکستان، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انجام دے رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 مئی کا سانحہ بلاشبہ پاکستان کے خلاف بہت بڑی سازش تھی، اب تک کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سانحہ 9 مئی کی منصوبہ بندی گزشتہ کئی ماہ سے چل رہی تھی، اس منصوبہ بندی کے تحت پہلے اضطرابی ماحول بنایا گیا، پھر لوگوں کے جذبات کو اشتعال دلایا گیا اور فوج کے خلاف اکسایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی پر مبنی بیانیہ ملک کے اندر اور باہر بیٹھ کر سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا اور شرانگیز بیانیے سے پاکستان کے لوگوں کی ذہن سازی کی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات میں بہت سے شواہد مل چکے ہیں اور مسلسل مل رہے ہیں، افواج پاکستان، شہدا کے ورثا میں 9 مئی کے افسوس ناک سانحے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ افواج پاکستان آئے روز اپنے عظیم شہدا کے جنازوں کو کندھا دے رہی ہے، آپ کو علم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز پوری یکسوئی اور قوت کے ساتھ جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کی سرکوبی کی جارہی ہے لیکن جہاں ایک طرف پاک فوج یہ قربانیاں دے رہی ہے تو دوسری طرف بدقسمتی سے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایک جھوٹے بیانیے پر افواجِ پاکستان کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، یہاں تک شہدا کے اہل خانہ کی بھی دل آزاری کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ شہدا کے خاندان آج پوری قوم اور ہم سب سے کڑے سوال کر رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کیا ان کے پیاروں نے اس قوم کے لیے اس لیے قربانیاں دی تھیں کہ ان کی نشانیوں کو اس طرح بے حرمت کیا جائے، کیا اپنے مذموم سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کچھ شرپسند عناصر شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو سیاسی ایجنڈے کی بھینٹ چڑھا دیں گے اور وہ لوگ جنہوں نے اس گھناؤنے عمل کی منصوبہ بندی کی وہ لوگ قانون کے کٹہرے میں کب لائے جائیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہدا کے یہ ورثا ہم سب بالخصوص آرمی چیف سے بار بار یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا وہ روزانہ شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کی حرمت کا ان شرپسندوں سے مستقبل میں تحفظ کر سکیں گے، شہدا کے ورثا اور آرمی کے تمام رینکس ہم سب سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ہماری قربانیوں اور ہمارے شہدا کے تقدس کی اسی طرح بے حرمتی ہونی ہے تو ہمیں اس ملک کی خاطر جان قربان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ یہاں یہ بات کرنا انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کسی بھی ملک و قوم کے لیے اس کے استحکام کی بنیاد عوام، حکومت اور فوج کے درمیان اعتماد، احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک دشمن قوتوں نے مختلف طریقوں سے کئی دہائیوں سے یہ کوشش کی کہ عوام اور فوج کے درمیان خلیج ڈال کر اس رشتے میں دراڑ ڈالی جائے لیکن دشمن کو ہمیشہ ناکامی ہوئی۔اب تک کی تحقیقات میں بہت سے شواہد مل چکے ہیں اور مسلسل مل رہے ہیں، افواج پاکستان، شہدا کے ورثا میں 9 مئی کے افسوس ناک سانحے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اب تک کی تحقیقات میں بہت سے شواہد مل چکے ہیں اور مسلسل مل رہے ہیں، افواج پاکستان، شہدا کے ورثا میں 9 مئی کے افسوس ناک سانحے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ افواج پاکستان آئے روز اپنے عظیم شہدا کے جنازوں کو کندھا دے رہی ہے، آپ کو علم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز پوری یکسوئی اور قوت کے ساتھ جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کی سرکوبی کی جارہی ہے لیکن جہاں ایک طرف پاک فوج یہ قربانیاں دے رہی ہے تو دوسری طرف بدقسمتی سے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایک جھوٹے بیانیے پر افواجِ پاکستان کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، یہاں تک شہدا کے اہل خانہ کی بھی دل آزاری کی گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہدا کے خاندان آج پوری قوم اور ہم سب سے کڑے سوال کر رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کیا ان کے پیاروں نے اس قوم کے لیے اس لیے قربانیاں دی تھیں کہ ان کی نشانیوں کو اس طرح بے حرمت کیا جائے، کیا اپنے مذموم سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کچھ شرپسند عناصر شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو سیاسی ایجنڈے کی بھینٹ چڑھا دیں گے اور وہ لوگ جنہوں نے اس گھناؤنے عمل کی منصوبہ بندی کی وہ لوگ قانون کے کٹہرے میں کب لائے جائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہدا کے یہ ورثا ہم سب بالخصوص آرمی چیف سے بار بار یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا وہ روزانہ شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کی حرمت کا ان شرپسندوں سے مستقبل میں تحفظ کر سکیں گے، شہدا کے ورثا اور آرمی کے تمام رینکس ہم سب سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ہماری قربانیوں اور ہمارے شہدا کے تقدس کی اسی طرح بے حرمتی ہونی ہے تو ہمیں اس ملک کی خاطر جان قربان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ یہاں یہ بات کرنا انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کسی بھی ملک و قوم کے لیے اس کے استحکام کی بنیاد عوام، حکومت اور فوج کے درمیان اعتماد، احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک دشمن قوتوں نے مختلف طریقوں سے کئی دہائیوں سے یہ کوشش کی کہ عوام اور فوج کے درمیان خلیج ڈال کر اس رشتے میں دراڑ ڈالی جائے لیکن دشمن کو ہمیشہ ناکامی ہوئی۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ ان بیانیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بیرونی ایجنڈے سے تشکیل دینا، ڈی ایچ اے، فوجی فاؤنڈیشن، دفاعی بجٹ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے جھوٹے بیانیے شامل ہیں لیکن ان گھناؤنے بیانیوں کے باوجود عوام اور فوج کے درمیان جو اعتماد اور احترام کا رشتہ ہے دشمن اس میں دراڑ نہ ڈال سکا جس کی وجوہات ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان میں پہلی وجہ یہ ہے کہ افواجِ پاکستان نے ملک کے دفاع، عوام کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے ان گنت قربانیاں دیں اور دے رہی ہیں اور عوام کایہ اعتماد ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں افواجِ پاکستان اپنی مکمل پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواجِ پاکستان تمام اکائیوں، مکاتب فکر اور طبقات کی نمائندگی کرتی ہے، نہ کہ کسی مخصوص اشرافیہ کی عکاسی کرتی ہے، ان عوامل کی وجہ سے عوام کو کسی صورت بھی افواج سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور اس کی گواہی شہدا افواجِ پاکستان کی قبریں بھی دیتی ہیں جو ملک بھر بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ناقابل تردید زمینی حقائق کے باوجود گزشتہ ایک سال میں مذموم سیاسی مقاصد کے حصول اور اقتدار کی ہوس نے ایک جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا چلایا گیا اور چلایا جا رہا ہے جس کا نکتہ عروج بدقسمتی سے 9 مئی کو دیکھا گیا جب پاکستان کے معصوم عوام بالخصوص نوجوانوں سے انقلاب کا جھوٹا نعرہ لگوا کر بغاوت پر اکسایا گیا۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان آرمی کی فیصلہ سازی میں مکمل ہم آہنگی اور وضاحت ہے، اس ضمن میں 9 مئی کے واقعات کے بعد 15 مئی کو جاری کی گئی اسپیشل کور کمانڈرز کانفرنس کی پریس ریلیز، 25 مئی کو یومِ تکریم شہدائے پاکستان کا پیغام اور 7 جون کو فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کی پریس ریلیز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملٹری قیادت اور افواجِ پاکستان 9 مئی کے واقعات سے جڑے ہوئے پسِ پردہ عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ایجنڈے سے بخوبی آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آرمی جن امور پر بالکل متفق اور واضح ہے وہ یہ ہیں کہ سانحہ 9 مئی کو پاکستان کی تاریخ میں نہ بھلایا جائے گا اور نہ ہی ملوث شرپسند عناصر، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو معاف کیا جا سکتا ہے، اس سانحے سے جڑے تمام منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کے خلاف آئینِ پاکستان اور قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں گی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ادارے، سیاسی جماعت یا معاشرتی حیثیت سے کیوں نہ ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کے ساتھ پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، جس عوامی حمایت کا عکس آپ نے 9 مئی کے بعد عوامی ردِعمل میں دیکھا۔سوالات کے جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں 17 اسٹینڈنگ کورٹس کام کر رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام اور ملوث افراد کے ٹرائل اور سزاؤں کے حوالے سے ابہام ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ کیس فوجی عدالت اور سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے لیکن حقائق کا سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں 17 اسٹینڈنگ کورٹس کام کر رہی ہیں، یہ فوجی عدالتیں 9 مئی کے بعد معرض وجود میں نہیں آئیں بلکہ ایکٹ کے تحت پہلے سے فعال اور موجود تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان عدالتوں میں 102 شرپسندوں کے مقدمات سول عدالتوں سے ثبوت دیکھنے کے بعد قانون کے مطابق فوجی عدالتوں میں منتقل کیے گئے ہیں، ان تمام ملزمان کو مکمل قانونی حقوق حاصل ہیں، جس میں سول وکیلوں تک رسائی کا حق بھی شامل ہے، اس کے علاوہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق انہیں حاصل ہے۔اب تک کی تحقیقات میں بہت سے شواہد مل چکے ہیں اور مسلسل مل رہے ہیں، افواج پاکستان، شہدا کے ورثا میں 9 مئی کے افسوس ناک سانحے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ افواج پاکستان آئے روز اپنے عظیم شہدا کے جنازوں کو کندھا دے رہی ہے، آپ کو علم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز پوری یکسوئی اور قوت کے ساتھ جاری ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کی سرکوبی کی جارہی ہے لیکن جہاں ایک طرف پاک فوج یہ قربانیاں دے رہی ہے تو دوسری طرف بدقسمتی سے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایک جھوٹے بیانیے پر افواجِ پاکستان کے خلاف گھناؤنا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، یہاں تک شہدا کے اہل خانہ کی بھی دل آزاری کی گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہدا کے خاندان آج پوری قوم اور ہم سب سے کڑے سوال کر رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ کیا ان کے پیاروں نے اس قوم کے لیے اس لیے قربانیاں دی تھیں کہ ان کی نشانیوں کو اس طرح بے حرمت کیا جائے، کیا اپنے مذموم سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کچھ شرپسند عناصر شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کو سیاسی ایجنڈے کی بھینٹ چڑھا دیں گے اور وہ لوگ جنہوں نے اس گھناؤنے عمل کی منصوبہ بندی کی وہ لوگ قانون کے کٹہرے میں کب لائے جائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ شہدا کے یہ ورثا ہم سب بالخصوص آرمی چیف سے بار بار یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا وہ روزانہ شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کی حرمت کا ان شرپسندوں سے مستقبل میں تحفظ کر سکیں گے، شہدا کے ورثا اور آرمی کے تمام رینکس ہم سب سے یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ہماری قربانیوں اور ہمارے شہدا کے تقدس کی اسی طرح بے حرمتی ہونی ہے تو ہمیں اس ملک کی خاطر جان قربان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ یہاں یہ بات کرنا انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کسی بھی ملک و قوم کے لیے اس کے استحکام کی بنیاد عوام، حکومت اور فوج کے درمیان اعتماد، احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک دشمن قوتوں نے مختلف طریقوں سے کئی دہائیوں سے یہ کوشش کی کہ عوام اور فوج کے درمیان خلیج ڈال کر اس رشتے میں دراڑ ڈالی جائے لیکن دشمن کو ہمیشہ ناکامی ہوئی۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ ان بیانیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بیرونی ایجنڈے سے تشکیل دینا، ڈی ایچ اے، فوجی فاؤنڈیشن، دفاعی بجٹ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے جھوٹے بیانیے شامل ہیں لیکن ان گھناؤنے بیانیوں کے باوجود عوام اور فوج کے درمیان جو اعتماد اور احترام کا رشتہ ہے دشمن اس میں دراڑ نہ ڈال سکا جس کی وجوہات ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ان میں پہلی وجہ یہ ہے کہ افواجِ پاکستان نے ملک کے دفاع، عوام کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے ان گنت قربانیاں دیں اور دے رہی ہیں اور عوام کایہ اعتماد ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں افواجِ پاکستان اپنی مکمل پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افواجِ پاکستان تمام اکائیوں، مکاتب فکر اور طبقات کی نمائندگی کرتی ہے، نہ کہ کسی مخصوص اشرافیہ کی عکاسی کرتی ہے، ان عوامل کی وجہ سے عوام کو کسی صورت بھی افواج سے جدا نہیں کیا جا سکتا اور اس کی گواہی شہدا افواجِ پاکستان کی قبریں بھی دیتی ہیں جو ملک بھر بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان ناقابل تردید زمینی حقائق کے باوجود گزشتہ ایک سال میں مذموم سیاسی مقاصد کے حصول اور اقتدار کی ہوس نے ایک جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈا چلایا گیا اور چلایا جا رہا ہے جس کا نکتہ عروج بدقسمتی سے 9 مئی کو دیکھا گیا جب پاکستان کے معصوم عوام بالخصوص نوجوانوں سے انقلاب کا جھوٹا نعرہ لگوا کر بغاوت پر اکسایا گیا۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان آرمی کی فیصلہ سازی میں مکمل ہم آہنگی اور وضاحت ہے، اس ضمن میں 9 مئی کے واقعات کے بعد 15 مئی کو جاری کی گئی اسپیشل کور کمانڈرز کانفرنس کی پریس ریلیز، 25 مئی کو یومِ تکریم شہدائے پاکستان کا پیغام اور 7 جون کو فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کی پریس ریلیز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملٹری قیادت اور افواجِ پاکستان 9 مئی کے واقعات سے جڑے ہوئے پسِ پردہ عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ایجنڈے سے بخوبی آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آرمی جن امور پر بالکل متفق اور واضح ہے وہ یہ ہیں کہ سانحہ 9 مئی کو پاکستان کی تاریخ میں نہ بھلایا جائے گا اور نہ ہی ملوث شرپسند عناصر، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو معاف کیا جا سکتا ہے، اس سانحے سے جڑے تمام منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کے خلاف آئینِ پاکستان اور قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں گی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ادارے، سیاسی جماعت یا معاشرتی حیثیت سے کیوں نہ ہو۔

ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کے ساتھ پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، جس عوامی حمایت کا عکس آپ نے 9 مئی کے بعد عوامی ردِعمل میں دیکھا۔سوالات کے جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں 17 اسٹینڈنگ کورٹس کام کر رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا گیا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد فوجی عدالتوں کے قیام اور ملوث افراد کے ٹرائل اور سزاؤں کے حوالے سے ابہام ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ کیس فوجی عدالت اور سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے لیکن حقائق کا سمجھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں 17 اسٹینڈنگ کورٹس کام کر رہی ہیں، یہ فوجی عدالتیں 9 مئی کے بعد معرض وجود میں نہیں آئیں بلکہ ایکٹ کے تحت پہلے سے فعال اور موجود تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان عدالتوں میں 102 شرپسندوں کے مقدمات سول عدالتوں سے ثبوت دیکھنے کے بعد قانون کے مطابق فوجی عدالتوں میں منتقل کیے گئے ہیں، ان تمام ملزمان کو مکمل قانونی حقوق حاصل ہیں، جس میں سول وکیلوں تک رسائی کا حق بھی شامل ہے، اس کے علاوہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق انہیں حاصل ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی ایکٹ آئین پاکستان اور قانون کا کئی دہائیوں سے حصہ ہے اور اس کے تحت سیکڑوں مقدمات نمٹائے جاچکے ہیں، بین الاقوامی عدالت انصاف نے اس کے عمل کی پوری طرح جانچنے کے بعد توثیق کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام حقائق کی موجودگی میں کوئی بھی جھوٹا بیانیہ بنائے تو وہ بناسکتا ہے لیکن حقائق جھٹلائے نہیں جاسکتے۔

سزاؤں سے متعلق انہوں نے کہا کہ سزا اور جزا آئین پاکستان کا حصہ ہے، سزا جرم کے مطابق ہے، فوج بارہا اعادہ کرچکی ہے کہ ہمارے لیے آئین پاکستان سب سے مقدم ہے اور عوام کی خواہشات کا مظہر ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 9مئی کا سانحہ فوج یا ایجنسیوں نے کرانے کی بات کرنا افسوس ناک اور شرم ناک ہے، یہ بات کہنے والے کی زہریلی اور سازشی ذہن کی عکاسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز، آڈیو ریکارڈنگز، تصاویر اور ملوث افراد کے اپنے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہےکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت 9 مئی کو چن چن کر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، 9 مئی سے بہت پہلے ہی لوگوں کی فوج کے خلاف ذہن سازی کی گئی ہے، فوجی قیادت کے خلاف ذہن سازی کی گئی، کیا یہ ذہن سازی فوجی قیادت نے اپنے خلاف خود کروائی۔
صحافیوں سے سوال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے چند گھنٹوں میں ملک بھر میں 200 سے زائد مقامات پر صرف فوجی تنصیبات پر حملہ کروایا گیا، کیا راولپنڈی، لاہور، کراچی، چکدرہ، تیمرگرہ، ملتان، لاہور، فیصل آباد، پشاور، مردان، کوئٹہ، سرگودھا، میانوالی اور بہت سے مقامات پر فوج نے اپنے ایجنٹس پہلے سے پھیلائے تھے، کیا فوجیوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے شہدا کی قربانیوں کو جلایا، کیا ہم نے اپنے فوجیوں کے ہاتھوں سے اپنے دفاع پاکستان کی علامات گروائیں اور جلایا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب جلاؤ گھیراؤ ہو رہا تھا تو ملک میں اور ملک سے باہر بیٹھ کر نامی اور بے نامی اکاؤنٹس سے کون پرچار کر رہا تھا کہ مزید جلاؤ گھیراؤ اور قبضہ کرو ،کیا یہ فوج کروا رہی تھی، بے شمار ثبوت ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کے علاوہ ایک خاص سیاسی گروہ اور اس کی قیادت کے پاس کوئی اور ہتھیار نہیں ہے، یہ بدقسمتی ہے۔پی ڈی ایم کی حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے امریکی سینیٹرز اور دیگر کے الزامات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ بیانیہ ریاست پاکستان کے خلاف پہلے بھی بنایا جاتا رہا ہے اور اس کی کلیدی آواز باہر سے ہوتی ہے لیکن اس میں بدقستمی سے ملک میں بیٹھے عناصر اس کو تقویت دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج تک دیکھا گیا ہے کہ یہ عناصر وہ دہشت گرد تنظیمیں ہوتی ہیں جب ان کے خلاف دہشت گردی کے دوران کارروائی کی جاتی ہے تو انسانی حقوق، جبر اور اقدار کے پیچھے چھپ جاتے ہیں، اس وقت مختلف طریقوں سے چلایا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر فیک ویڈیوز چلائی جاتی ہیں، پرانی تصاویر اور ویڈیو ڈالی جاتی ہیں، چیزوں کو جوڑا جاتا ہے اور غلط بیانات بنائے جاتے ہیں تاکہ تاثر پھیلا جا ئے کہ ریاست پاکستان جبر کر رہی ہے جبکہ کچھ دنوں میں فیک آڈیوز واضح بھی ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پوشیدہ روابط کی بنیاد پر یا پیسے کا استعمال کرتے ہوئے مخصوص لوگوں کو باہر جو بیٹھے ہیں، ایجنسیز یا این جی اوز کے ذریعے بیانات دلائے جاتے ہیں اور ایک ماحول بنایا جاتا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی بہت زیادہ خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ تیسرا چہرہ اس سے بھی مکروہ اور زیادہ خطرناک ہے، وہ یہ ہے کہ دونوں چیزوں کو اکٹھا کرکے بیرون ملک دارالحکومتوں میں اداروں کے پاس جا کر ایک کیس بنایا جاتا ہے کہ پاکستان کی معاشی اور تجارتی معاونت بند کردیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ پاکستان میں افراتفری پھیلے، معاشی حالات خراب ہوں اور بے چینی پھیلے اور اس کے اندر سے ان کی سیاست کے لیے راستہ نکلے اور مذموم سیاسی مقاصد اور اقتدار کی ہوس کے لیے کوئی راستہ ملے لیکن حکومت پاکستان اس سے بخوبی آگاہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں مقدمہ لڑنے کے بجائے جو باہر جا کر احتجاج کر رہے ہیں ان ممالک کے ماضی قریب کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں کہ ان جیسے بلوائیوں اور شرپسندوں سے وہ کس طرح آہنی ہاتھوں سے نمٹے ہیں یہاں تو شہدا کے تقدس کو پامال کیا گیا، فوجی تنصیبات پر منصوبہ بندی کے تحت حملہ کروایا گیا، یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا واویلا مچا کر 9 مئی کے سہولت کار چھپ نہیں سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں پاکستان میں وقت آگیا ہے کہ جھوٹ کی کرنسی ختم کردی جائے اور سچ چاہے کتنا بھی کڑوا ہو اس کو ہضم کرنے کی اپنے اندر صلاحیت ہو۔مرکزی ملزم کی شناخت اور مخصوص جماعت کے لوگوں کو چھڑوائے جانے کے تاثر پر کیے گئے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ اچانک نہیں ہوا، اس کا مقصد یہ تھا کہ فوجی تنصیبات پر لوگوں کو بھیج کر حملہ کیا جائے اور فوج کو اشتعال دلا کر فوری ردعمل دلایا جائے کیونکہ اس سے پہلے کئی مہینوں سے فوج اور فوجی قیادت کے خلاف لوگوں کی ذہن سازی کی جا رہی تھی اور بھڑکایا جا رہا تھا اور نفرت ڈالی جا رہی تھی، اس سے جو ردعمل آنا تھا، اس سے اپنے مذموم سیاسی مقاصد مزید آگے لے کر جانا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ کرنے کے لیے انہوں نے متعدد جگہوں پر خواتین کو بھی منصوبہ بندی کے تحت ڈھال کے طور پر آگے رکھا اور یہ کوئی بھی توقع نہیں کرسکتا تھا کہ ایک سیاسی پارٹی اپنے ہی ملک میں اپنی ہی فوج پر حملہ آور ہوجائے لیکن جب یہ واقعہ ہوا تو فوج نے اس گھناؤنی سازش کو ناکام بنایا کیونکہ جس طرح کا رد عمل وہ چاہتے تھے وہ دیا جاتا تو پھر ان کی سازش کامیاب ہوجاتی لیکن اس کو ناکام بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ضروری تھا کہ جو گریژنز، فوجی تنصیبات، جناح ہاؤس اور جی ایچ کیو وغیرہ کا تقدس اور سیکیورٹی میں جہاں کمی ہوئی یا برقرار نہیں رکھ سکے تو اس پر کہیں غیرارادی کوتاہی یا غفلت ہوئی ہے تو اس کا تعین کیا جائے، غفلت اور نقصانات جانچنے کے لیے فوج کے اندر خود احتسابی کا عمل نافذ ہے، جس کے لیے فوری طور پر دو ادارہ جاتی انکوائریز میجر جنرل عہدے کے افسران کی سربراہی میں ہوئی، جنہوں نے تفصیل سے دیکھا اور شفافیت سے مسئلے کو مکمل کیا اور اپنی سفارشات دیں۔

سزاؤں سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جتنا بڑا عہدہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے اور کسی سیاسی جماعت کی طرف جھکاؤ محض پروپیگنڈا ہے کیونکہ فوج کے ہر جوان کی اولین اور آخری ترجیح ریاست پاکستان اور افواج پاکستان ہیں، اس میں کسی کو کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 مئی کے واقعے کے بعد یہ دیکھ کر ہمیں اطمینان ہونا چاہیے کہ لوگ اس جھوٹے بیانیے کو پہچان گئے اور جانچ رہے ہیں کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے۔

ملزمان کے نام سے متعلق ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر عہدے اور ذمہ داریوں اور نام بتانے ہوتے تو پہلے ہی بتادیتا۔

’منصوبہ ساز او سہولت کاروں کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے‘
میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ ان واقعات کے ماسٹر مائنڈز روز روشن کی طرح سب کے سامنے عیاں ہیں، جن لوگوں نے یہ واقعات کیے ہیں ان کو سزا ملنی چاہیے اور سزا ملے گی لیکن اس سے زیادہ اہم ہے کہ قوم کو 9 مئی کے واقعے سے آگے بڑھنا ہے تو یہ جو منصوبہ ساز اور سہولت کار ہیں ان کو بے نقاب اور کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سانحہ 9 مئی اس وقت تک انصاف کا منتظر رہے گا جب تک اس کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، اگر ایسا نہیں ہوتا تو کل کوئی اور سیاسی گروہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس واقعے کو دہرائے گا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو ہر فرد کی جان مال اور آبرو کے تحفظ پر ایک سوالیہ نشان رہے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے علاوہ کوئی اور حل نہیں کہ ہم ان منصوبہ سازوں کو پہچانیں اور ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔
سوشل میڈیا میں پروپیگنڈے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل ضروری ہے، حکومت پاکستان سنجیدگی سے اس پر غور کر رہی ہے، اخلاقیات، سزا و جزا کی بھی ضرورت ہے اور اس میں صحافیوں کا اہم کردار ہے اور ان کو چاہیے کہ وہ ذمہ دارانہ صحافت کریں بجائے اس کے سنسنی خیز صحافت کی جائے، معاشرے میں نفرت اور ہیجان انگیزی کم کی جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ اندرونی انتشار سے ہے، اگر ہم نے اس انتشار کا راستہ نہ روکا تو یہ بیرونی یلغار کا راستہ ہموار کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج چاہتی ہے کہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز آپس میں بیٹھ کر قومی اتفاق رائے پیدا کریں تاکہ عوام میں اعتماد پیدا ہو، ملک میں معاشی استحکام ہو اور جمہوری اقدار مزید مضبوط ہوں، ہمارے لیے تمام حقیقی سیاسی جماعتیں بلاتفریق قابل احترام اور مقدم ہیں۔

On May 9, the honor and dignity of the Pakistan Army was attacked under a heinous plan, DG ISPR Major General Ahmed Sharif.
…….Report ; Asghar Ali Mubarak………………RAWALPINDI –The Director General of Inter-Services Public Relations Major General Ahmed Sharif Says that on May 9, the honor and dignity of the Pakistan Army was attacked under a heinous plan, 3 officers including a Lt. General were dismissed for failing to maintain the security and sanctity of GHQ, Jinnah House. and action has been taken against others. The incident of May 9 is highly condemnable and a dark chapter in the history of Pakistan. The events of May 9 proved that what the enemy could not do in 76 years was done by a handful of miscreants and their facilitators, no matter how much they did. There is less to be condemned.

While giving a press conference at GHQ, DG ISPR Major General Ahmed Sharif said that the army has completed the process of self-accountability according to its traditions. Institutional comprehensive inquiries were conducted, presided over by officials of the rank of Major General.

DG ISPR said that after a detailed accountability process, it was decided to take action against the concerned officials who failed to maintain the security and sanctity of the garrison, military installations, GHQ and Jinnah House. Disciplinary action will be taken.
DG ISPR said that 3 officers including a Lt General have been dismissed while strict disciplinary action has been taken against 15 officers including 3 Major Generals and 7 Brigadiers.
DG ISPR Major General Ahmad Sharif said that you can understand that the process of self-accountability in the army is done without any discrimination and the higher the position, the greater the responsibility.

Major General Ahmed Sharif said that in the self-accountability process of the army, there is no distinction in any position or social status, at that time the granddaughter of a retired four-star officer, the son-in-law of a retired four-star officer, the wife of a retired three-star general and Begum and son-in-law of retired four-star general are going through this accountability process based on irrefutable evidence. So far, already established military courts are functioning in connection with cases under the Army Act, in which 102 miscreants are being tried. DG ISPR said that the honor of the Pakistan Army. And Waqar was attacked under a dastardly plan, yet security forces conducted 13,619 small-scale intelligence operations against terrorists and their facilitators during the current year and arrested 1,172 terrorists. Hell or bust, more than 77 operations are being conducted on a daily basis by the Pakistan Army, Police, Intelligence Agencies and other law enforcement agencies to combat the menace of terrorism.
DG ISPR said that the May 9 tragedy was undoubtedly a huge conspiracy against Pakistan, investigations so far have proved that the planning of the May 9 tragedy had been going on for the past several months, under this plan. First, an atmosphere of anxiety was created, then the sentiments of the people were provoked and incited against the army. He said that false and exaggerated narratives in this regard were spread on the social media inside and outside the country and were scandalous. The people of Pakistan were made aware of the narrative.
He said that many evidences have been found in the investigation so far and are being found continuously, Pakistan forces, the martyrs’ heirs are deeply saddened by the tragic tragedy of May 9.
Major General Ahmed Sharif said that the Pakistan Army is shouldering the funerals of its great martyrs day by day, you know that the operations against terrorism are going on with full force and intensity and suppressing the terrorists on a daily basis. But while on the one hand the Pakistan Army is giving these sacrifices, on the other hand, unfortunately, for their own political purposes, a hideous propaganda is being made against the Pakistan Army on a false narrative, even the families of the martyrs were hurt.
He said that today the families of the martyrs are asking the whole nation and all of us, and they are whether their loved ones sacrificed for this nation so that their symbols are desecrated in this way. Will some miscreants use the sacrifices of martyrs and ghazis as a political agenda to achieve their nefarious political goals and when will those who planned this heinous act be brought to justice?
DG ISPR said that all of us, the heirs of the martyrs, especially the Army Chief, are repeatedly asking whether they will be able to protect the sanctity of the officers and soldiers who were martyred daily from these miscreants in the future. The heirs and all the ranks of the Army are raising the question from all of us that if our sacrifices and the sanctity of our martyrs are to be desecrated in this way, then why do we need to sacrifice our lives for the sake of this country.
Major General Ahmad Sharif said that it is very important to mention here that the foundation of stability for any country and nation is the relationship of trust and respect between the people, the government and the army.
He said that the anti-national forces tried for many decades in different ways to create a gap between the people and the army, but the enemy always failed. The investigation so far has yielded and continues to yield a lot of evidence, the Pakistan Army, the martyrs’ heirs are deeply outraged by the tragic tragedy of May 9.

Major General Ahmed Sharif said that the Pakistan Army is shouldering the funerals of its great martyrs day by day, you know that the operations against terrorism are going on with full force and intensity and suppressing the terrorists on a daily basis. But while on the one hand the Pakistan Army is giving these sacrifices, on the other hand, unfortunately, for their own political purposes, a hideous propaganda is being made against the Pakistan Army on a false narrative, even the families of the martyrs were hurt. DG ISPR said that today the families of the martyrs are asking the whole nation and all of us the most serious questions and they are whether their loved ones sacrificed for this nation so that their signs were marked in this way. To be desecrated, will some miscreants use the sacrifices of martyrs and ghazis as a political agenda to achieve their nefarious political goals and when will those who planned this heinous act be brought to justice? will go.

DG ISPR said that all of us, the heirs of the martyrs, especially the Army Chief, are repeatedly asking whether they will be able to protect the sanctity of the officers and soldiers who were martyred daily from these miscreants in the future. The heirs and all the ranks of the Army are raising the question from all of us that if our sacrifices and the sanctity of our martyrs are to be desecrated in this way, then why do we need to sacrifice our lives for the sake of this country.

Major General Ahmad Sharif said that it is very important to mention here that the foundation of stability for any country and nation is the relationship of trust and respect between the people, the government and the army.

He said that the anti-national forces tried for many decades in different ways to create a gap between the people and the army, but the enemy always failed.

Major General Ahmed Sharif said that these narratives include false narratives such as framing the war against terrorism with an external agenda, DHA, military foundation, defense budget, human rights violations, but despite these heinous narratives, the people and The enemy could not break the relationship of trust and respect between the army, for which reasons. DG ISPR said that the first reason among them is that the Pakistan Army has made and continues to make countless sacrifices for the defense of the country, the safety and welfare of the people, and the people have the confidence that whatever the situation may be. Pakistan Army will not spare any sacrifice with its full professionalism.
DG ISPR said that the Pakistan Army represents all units, schools of thought and classes, and does not reflect any particular elite, due to these factors, the people cannot be separated from the forces in any way. And the testimony of this is given by the graves of martyrs of Pakistan Army which are present all over the country including Gilgit-Baltistan and Azad Kashmir.

He said that despite these indisputable facts on the ground, a false and misleading propaganda has been and is being run in the last one year for the pursuit of nefarious political objectives and lust for power, which unfortunately culminated on May 9. The innocent people of Pakistan, especially the youth, were incited to revolt by raising false slogans of revolution.

Major General Ahmad Sharif said that there is complete coordination and clarity in the decision-making of the Pakistan Army, in this regard, the press release of the Special Corps Commanders’ Conference issued on May 15 after the events of May 9, Pakistan Martyrs Day on May 25. , and the press release of the Formation Commanders’ Conference on 7 June is a clear proof that the military leadership and the Pakistan Army are well aware of the behind-the-scenes elements, facilitators and agendas associated with the May 9 events.

He said that the issues on which the Army is completely agreed and clear in this regard are that the tragedy on May 9 will not be forgotten in the history of Pakistan and neither the involved evil elements, planners and facilitators can be forgiven. All the planners and facilitators involved in this tragedy will be punished according to the Constitution of Pakistan and the law, irrespective of their affiliation to any organization, political party or social status.

The DG ISPR said that those obstructing the process to its logical conclusion will be dealt with sternly with the full support of the people of Pakistan, which you saw reflected in the public reaction after May 9. Answering the questions, DG ISPR said that currently 17 standing courts are functioning across the country.

DG ISPR was asked that there is confusion regarding the establishment of military courts after the May 9 incidents and the trial and punishment of those involved, he said that the case is under hearing in the military court and the Supreme Court, but the facts It is important to understand.

He said that currently 17 standing courts are functioning across the country, these military courts did not come into existence after May 9 but were already active and existing under the Act.

He said that the cases of 102 miscreants in these courts have been transferred to the military courts according to the law after seeing the evidence from the civil courts. All these accused have full legal rights, including the right to access to civilian lawyers. Apart from this, they have the right of appeal in the High Courts and the Supreme Court. DG ISPR said that the Army Act has been a part of Pakistan’s constitution and law for decades and hundreds of cases have been decided under it, the International Court of Justice has upheld its practice after thorough examination.

He said that in the presence of all these facts, if anyone creates a false narrative, he can create it, but the facts cannot be denied.

Regarding the punishments, he said that punishment and reward are part of the constitution of Pakistan, the punishment is according to the crime, the army has repeatedly reiterated that for us the constitution of Pakistan is the first and the manifestation of the wishes of the people. To a question, he said That talking about the May 9 tragedy being done by the army or agencies is sad and shameful, it is a reflection of the poisonous and conspiratorial mind of the speaker.

He said that it is clear from the CCTV footages, audio recordings, photographs and the statements of the people involved that military installations were targeted on May 9 as part of a plan, long before May 9. There has been a mind-set against the army, a mind-set against the military leadership, was this mind-set done by the military leadership against itself.
While questioning the journalists, he said that within a few hours of the arrest, more than 200 locations across the country were attacked only on military installations, whether Rawalpindi, Lahore, Karachi, Chakdara, Tamergarh, Multan, Lahore, Faisalabad, Peshawar. , Mardan, Quetta, Sargodha, Mianwali and many other places, the army had already spread its agents.

He said that when the burning and encirclement was taking place, who was sitting in the country and outside the country and propagating through anonymous and anonymous accounts that more burning, encirclement and occupation was being done by the army, there are numerous proofs. , which proves that a certain political group and its leadership have no weapon other than lies and propaganda, which is unfortunate. Regarding human rights violations in collusion with the PDM government. When asked about the allegations of American senators and others, he said that this narrative has been created against the state of Pakistan before and its key voice is from outside but unfortunately elements sitting in the country reinforce it.

He said that till date it has been seen that these elements are the terrorist organizations, when action is taken against them during terrorism, they hide behind human rights, oppression and values, at that time they are run in different ways. Going forward, fake videos are played on social media, old photos and videos are uploaded, things are added and false statements are made to spread the impression that the state of Pakistan is oppressive, while in a few days, fake audios are released. It also becomes clear.

He said that the second way is to make statements through agencies or NGOs on the basis of hidden connections or using money to specific people who are sitting outside and create an environment that human rights in Pakistan. There is a lot of violation.

Major General Ahmad Sharif said that the third face is even more disgusting and dangerous, that is, by combining the two things, going to institutions in foreign capitals and making a case to stop economic and commercial support to Pakistan. .

He said that they are doing it so that chaos will spread in Pakistan, economic conditions will worsen and anxiety will spread and there will be an outlet for their politics and there will be an outlet for nefarious political purposes and lust for power, but the government Pakistan is well aware of this.

DG ISPR said that instead of fighting the case in Pakistan, those who are protesting outside should look at the recent history of these countries and how they have dealt with such rioters and miscreants with iron hands. The sanctity of the martyrs was violated, the military installations were attacked in a planned manner, the facilitators of May 9 cannot hide by raising the alarm of violation of human rights.

He said that I think the time has come in Pakistan to end the currency of lies and have the ability to digest the truth no matter how bitter it is.To a question about the identity of the main accused and the impression that people of a certain group were being rescued, the DG ISPR said that the incident of May 9 was not sudden, its purpose was to send people to attack military installations. should be done and immediate response by inciting the army because for many months before this people were being indoctrinated and incited and inciting hatred against the army and the military leadership. It was to further his nefarious political goals.

DG ISPR said that in order to do this, they have also put forward women as shields under the plan at several places and that no one could have expected that a political party in its own country would But when this incident happened, the army foiled this heinous plot because if the kind of reaction they wanted was given, then their plot would have been successful but it was foiled.

DG ISPR said that it was necessary that the sanctity and security of garrisons, military installations, Jinnah House and GHQ etc. were reduced or could not be maintained. There is a process of self-accountability within the Army to investigate negligence and harms, for which two institutional inquiries headed by major-general officers, who looked into the issue in detail and transparently, were in place. Completed and give your recommendations.

The DG ISPR on punishments said that the greater the position, the greater the responsibility and leaning towards a political party is just propaganda because the first and last priority of every soldier of the army is the state of Pakistan and the forces of Pakistan. There should be no ambiguity.

DG ISPR said that after the May 9 incident, we should be satisfied to see that people have recognized this false narrative and are checking what is true and what is false.

On a question regarding the names of the accused, DG ISPR said that if the positions and responsibilities and names were to be told, he would have told them earlier.

It is important to bring the planners and facilitators to the role of culprit.
Major General Ahmad Sharif said that the masterminds of these events are as clear as day in front of everyone, those who have committed these events should be punished and will be punished, but it is more important that the nation remembers May 9. In order to move on from the incident, it is important to expose and bring to justice those who are the planners and facilitators.

DG ISPR said that May 9 tragedy will await justice until its planners and facilitators are brought to justice, otherwise some other political group will follow their nefarious agenda tomorrow. will repeat this incident and if it does not happen, there will be a question mark on the protection of life and property of every individual.

DG ISPR said that we should also know that there is no other solution except to identify these planners and bring them to justice.
On the question regarding propaganda in social media, he said that the solution to this problem is necessary, the government of Pakistan is seriously considering it, ethics, punishment and punishment are also needed and journalists have an important role in this and they They should do responsible journalism instead of doing sensational journalism, hate and excitement should be reduced in the society.

DG ISPR said that the biggest threat to Pakistan is internal chaos, if we do not stop this chaos, it will pave the way for external invasion.

DG ISPR said that Pakistan Army wants all the political stakeholders to sit together and create a national consensus so that people have confidence, economic stability in the country and democratic values are strengthened. Genuine political parties are respectable and respected.