October 8, 2005 18 years since the devastating earthquake in Pakistan
…..Asghar Ali Mubarak
An earthquake of 7.6 magnitude occurred in the areas, the nation of Pakistan is celebrating the 18th anniversary of their loved ones in this regard today. The epicenter of the earthquake was between Attock and Hazara divisions, 95 km from the federal capital Islamabad. As a result of the earthquake, millions of houses were destroyed, thousands of people were killed and injured and many areas were wiped out. A single part of it was destroyed. Today is not only a day to remember those who lost their lives, but it also brings to our attention how prepared we are to deal with such a disaster. On October 8, 2005, an earthquake of magnitude 7.6 occurred in different areas of Azad Kashmir and Pakistan, and I had the honor of participating in relief operations in remote areas as a chief volunteer with the first rescue team. On that day, I lost my life. For the first time I saw the entire nation in shock. What followed was a tremendous display of determination and solidarity. About 85,000 people were killed and 16,000 were injured in this earthquake. People on social media are commenting about this sad day. Some people are narrating their personal experiences while others are mentioning the impact on the whole country. It is also being recalled how people across the country contributed to the relief of the affected families. Photos of the disaster are circulating on social media. The intensity of the earthquake was so high that it felt as if one end of the earth touches the sky and comes back to the earth and then the other end rises to the sky. There was an opportunity, collapsed buildings, broken bridges, landslide scenes were all telling the story of disaster. The intensity of the earthquake was so high that it was felt as if one end of the earth touches the sky from one side and comes back to the earth and then the other end rises to the sky. was This continued for a while.
Even after the tremors of the earthquake subsided, the heart beat was fast and an unknown fear was rising. It was the worst earthquake in the history of Kashmir and Pakistan, which completely destroyed three districts of Kashmir. Aftershocks continued for several days and a total of 978 aftershocks were recorded. About 70,000 people died in this earthquake while 130,000 were injured. An estimated 3.5 million people were displaced by the earthquake. 19,000 children died in the earthquake, most of them died due to the collapse of school buildings. Around two and a half lakh cattle were also killed. In fact, the infrastructure of the earthquake areas was completely destroyed. Due to severe cold in these areas, the survival of the survivors became even more difficult. Other areas of Kashmir, Pakistan, expatriate Pakistanis and Kashmiris and the international community responded immediately to the earthquake and started relief operations and provided tents, food, warm clothes, clean drinking water and other supplies to the people in the earthquake affected areas. Steps were taken to deliver the necessities of life immediately. The most important part of these operations was the brave forces of Pakistan who worked 24 hours a day to help their affected brothers. It has been 18 years since the terrible earthquake of October 8. Jawan Hamat earthquake victims have set a great example of getting back on their feet with your help. Despite spending time in shelters, their courage and spirit are still alive. The effects of the October 8 earthquake are still felt on the affected people and on our hearts. Before that day, I had no idea of the impact of the devastating earthquakes. According to the report, this earthquake occurred at a depth of 15 km underground on the Richter scale, with a magnitude of 7.6. The devastating earthquake destroyed 95% of the infrastructure of Balakot. Thousands of people were affected in Muzaffarabad, Bagh, Hazara and Rawalkot. In the earthquake of October 8, 2005, 554 schools in Khyber Pakhtunkhwa were destroyed, 161 schools in Mansehra were also affected.
Sources say that the reconstruction of 354 schools in Khyber Pakhtunkhwa could not be completed till now, due to lack of funds, IRA had left the work incomplete, the provincial government has reconstructed 200 schools so far, the construction work is going on in the rest of the schools. .
5 lakh people were also displaced by the earthquake of October 8, Muzaffarabad area was the most affected in this earthquake, while houses, schools, colleges, offices, hotels, hospitals, markets, plazas became piles of debris in Muzaffarabad. Speaker National Assembly Former Prime Minister Raja Pervaiz Ashraf has said that the earthquake of October 8, 2005 was a test for the Pakistani nation and the unity and solidarity shown by the nation at the time of this test was exemplary. He said that we have not forgotten the devastation of this earthquake and those who were martyred as a result of it, and we share the grief of the families whose loved ones were lost during this natural calamity. He expressed these thoughts in his special message on the occasion of the 18th anniversary of the earthquake of October 8, 2005. The speaker said that during the earthquake of October 8, the entire nation stood like a leaden wall with its afflicted brothers.

8 اکتوبر 2005 پاکستان میں تباہ کن زلزلے کے 18 برس مکمل
…..اصغر علی مبارک,,,,,,,..8 اکتوبر 2005کے قیامت خیز زلزلے کو 18برس بیت گئے، صبح 8 بج کر 52 منٹ پر رمضان المبارک کے مہینے میں مظفرآباد، باغ، وادی نیلم، چکوٹھی اور دیگر علاقوں میں 7.6 شدت کا زلزلہ آیا , پاکستانی قوم اس سلسلے میں آج اپنے پیاروں کی 18ویں برسی آج منارہی ہے۔ زلزلے کا مرکز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 95 کلومیٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان تھا، زلزلے کے نتیجے میں لاکھوں مکانات زمین بوس ہوگئے ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے کئی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ گئے، زلزلے سے اسلام آباد کے مارگلہ ٹاورز کا ایک بھی حصہ زمین بوس ہو گیا تھا۔ آج کے دن نہ صرف ہلاک ہونے والوں کو یاد کرنا چاہیے بلکہ یہ دن ہماری توجہ اِس جانب بھی دلاتا ہے کہ ہم ایسی کسی آفت سے نمٹنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔ آٹھ اکتوبر 2005 کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں سات عشاریہ چھ کی شدت کا زلزلہ آیا جس کی اولین ریسکیو ٹیم کے ساتھ بطور چیف والنٹیر دورافتادہ علاقوں کی امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کا بھی اعزاز حاصل رہا ۔اُس روز میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ پوری قوم کو صدمے میں دیکھا۔ اُس کے بعد عزم اور یکجہتی کا زبردست مظاہرہ دیکھا۔ اس زلزلے میں تقریباً 85 ہزار ہلاک اور ایک لاکھ 6 ہزار زخمی ہو ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اس افسوسناک دن کے بارے میں تبصرے کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے ذاتی تجربات کو بیان کر رہے ہیں تو کچھ پورے ملک پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ بھی یاد کیا جا رہا ہے کہ کس طرح پورے ملک میں لوگوں نے متاثرہ خاندانوں کی امداد میں حصہ لیا۔ تباہی کی تصاویر سوشل میڈیا پر جابجا موجود ہیں۔ زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے زمین کا ایک سرا ایک طرف سے آسمان کو چھو کر واپس زمین کی طرف آتا ہے اور پھر دوسرا سرا آسمان کی طرف اٹھ جاتا ہے مجھے زلزلے کی تباہ کاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملا، گری پڑی عمارتیں، ٹوٹے ہوئے پل، لینڈ سلائیڈنگ کے مناظر تباہی کی تمام داستان سنا رہے تھے۔ زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے زمین کا ایک سرا ایک طرف سے آسمان کو چھو کر واپس زمین کی طرف آتا ہے اور پھر دوسرا سرا آسمان کی طرف اٹھ جاتا ہے۔کلمہ طیبہ کا ورد سب کی زبانوں پر جاری تھا۔ تھوڑی دیر تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
زلزلے کے جھٹکے تھم جانے کے بعد بھی دل کے ڈھڑکنیں تیز تھیں اور ایک انجانا سا خوف اٹھ رہا تھا۔یہ کشمیر اور پاکستان کی تاریخ کا بدترین زلزلہ تھا جس نے کشمیر کے تین اضلاع کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ کئی روز تک آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا اور مجموعی طور پر 978 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے گئے۔ اس زلزلے میں تقریباً 70 ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک لاکھ 30 ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق زلزلے سے بےگھر ہونے والے افراد کی تعداد 3.5 ملین تھی۔ زلزلے میں 19 ہزار بچے فوت ہوئے جن کی اموات زیادہ تر سکولوں کی عمارتیں گرنے سے ہوئیں۔ تقریباً اڑھائی لاکھ کے قریب مویشی بھی ہلاک ہوئے۔ غرض یہ کہ زلزلہ دہ علاقوں کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ان علاقوں میں شدید سردی کی وجہ سے زندہ بچ جانے والوں کا جینا اور بھی مشکل ہوگیا۔ کشمیر کے دیگر علاقوں، پاکستان، تارکینِ وطن پاکستانی و کشمیریوں اور عالمی برادری نے اس زلزلے پر فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کو ٹینٹ، خوراک، گرم کپڑے، پینے کا صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کو فی الفور پہنچانے کے لیے اقدام اٹھائے گئے۔ ان کارروائیوں میں سب سے زیادہ حصہ پاکستان کی بہادر افواج کا تھا جنہوں نے 24 گھنٹے کام کرکے اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کی۔آٹھ اکتوبر کے ہولناک زلزلے کو 18 سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔ جواں ہمت متاثرین زلزلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑنے ہونے کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔ مسلسل شیلٹروں میں گزارنے کے باوجود ان کی ہمت اور حوصلے جواں ہیں۔آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے اثرات متاثرہ لوگوں اور ہمارے دلوں پر آج بھی ہیں۔ اُس دن سے پہلے مجھے تباہ کن زلزلوں کے اثر کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔رپورٹ کے مطابق ریکٹر اسکیل پر یہ زلزلہ زیر زمین 15 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا جس کی شدت7 اعشاریہ6 ریکارڈ کی گئی تھی، تباہ کن زلزلے سے بالاکوٹ کا95 فیصد انفراسٹرکچر تباہ ہوا جبکہ مظفرآباد ، باغ، ہزارہ اور راولاکوٹ میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ 8اکتوبر2005 کےزلزلے میں خیبرپختونخوا کے 554 اسکولز تباہ ہوئے تھے،مانسہرہ کے 161 اسکولز بھی متاثر ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں 354 اسکولوں کی تعمیر نو تاحال نہ ہوسکی،فنڈز کی کمی کی وجہ سے ایرا نے کام ادھورا چھوڑ دیا تھا، صوبائی حکومت اب تک 200 اسکولوں کی تعمیر نو کرچکی ہے،باقی اسکولوں میں بھی تعمیراتی کام جاری ہے۔
8اکتوبرکے زلزلے سے 5لاکھ افراد بے گھر بھی ہوئے تھے، اس زلزلے میں مظفرآباد کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا جبکہ مظفر آباد میں مکانات، اسکولز، کالجز، دفاتر، ہوٹلز، اسپتال، مارکیٹیں، پلازےملبے کا ڈھیر بن گئے تھے۔اسپیکر قومی اسمبلی و سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ پاکستانی قوم کے لیے ایک آزمائش تھی اور قوم نے اس آزمائش کے وقت میں جس اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ مثالی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس زلزلے کی تباہ کاریوں اور اس کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کو ہم آج تک نہیں بھولے اور ان خاندانوں جن کے پیارے اس قدرتی آفت کے دوران ان سے بچھڑ گئے ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے 8 اکتوبر 2005کے زلزلے کی 18ویں برسی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔اسپیکر نے کہا کہ 8 اکتوبر کے زلزلے کے دوران پوری قوم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہو گئی تھی۔ متاثرین کی بحالی ایک مشکل مرحلہ تھا تاہم قومی اتحاد اور یکجہتی اور دوست ممالک کے تعاون سے بحالی کا یہ مشکل کام ممکن ہوا۔
اسپیکر نے مزید کہا کہ آج بھی قوم کو 8 اکتوبر کے زلزلے کے بعد والے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے جس طرح زلزلے جیسی بڑی آفت کا جانفشانی سے مقابلہ کیا، اسی طرح آپس کے اختلافات کو بھلا کر ملک کو درپیش چیلنجز سے بھی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے ۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اللّه تعالی سے 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی اور وطن عزیز کو ایسی آفات سے محفوظ رکھنے کی دعا کی۔





