25وا ں یوم تکبیر پاکستان اورعالم اسلام کے لئے باعث فخر…………. کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک…….. …… پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے۔ اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا ۔ 28مئی یوم تکبیرکے طور پر پاکستان میں منایا جاتا ہے اور 14اگست 1947ء کے بعد یہ دوسرا قومی دن ہے کیونکہ 14اگست کو پاکستان بنا تھا اور 28مئی کوپاکستان نے اپنی بقا کی جنگ جیتی تھی۔یہ دونوں دن پاکستان کے سب سے تاریخی اور اہمیت کے حامل ہیں۔ ایاّم منانے میں بہت ساری حکمتیں پوشیدہ ہیں، جب کسی دن کو منایا جاتا ہے تو نئی نسل کو اس دن کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف ملک وقوم کے محسن ہیں، جنہوں نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سات ایٹمی دھماکے کرکے نہ صرف پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا، بلکہ اس سے پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا۔ .یوم تکبیر پاکستان اورعالم اسلام کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے، جب پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک کی صف میں شامل ہوگیا تھا۔ قومی یکجہتی ایٹمی سائنسدانوں اور پاک افواج کی قابل ستائش خدمات کی بدولت پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت اور اس کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ پوری قوم کو ایٹمی طاقت ہونے پر فخر ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے باعث مسلم امہ میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے،مجھے فخر ہےکہ ہوم تکبیرکا نام منتخب کرنے پر آس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے تہنیتی خط سے نوازا تھا جو آج بھی میرے لیے سب سےبڑا اعزاز ہے یوم تکبیر ہر سال 28 مئی کو پورے ملک میں منایا جاتا ہے۔ یوم تکبیر پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن ہے، جب پاکستان نے 28 مئی 1998 کو اس وقت کے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے تھے اور مسلم دنیا کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔یاد رھےکہ28 مئی 1998 کا دن میری زندگی کا بھی بہت یاد گار دن ھے جس وقت پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا اعلان کیا گیا عین اس وقت روزنامہ جنگ راولپنڈی کے میگزین سیکشن میں میری سالگرہ کی تقریب منعقد ہورہی تھی مرحومہ باجی نزہت انجم. محترمہ خدیجہ بہاول. محترمہ شازین مرزا.محترمہ ثمینہ عامر. محترمہ مونیکا جیمز. محترم شکیل احمد اعوان. محترم سجادانور.محترم نیئر رضوی. محترم بشیر شاد.محترم ندیم خان اور دیگر موجود تھےاکثر جب پی ٹی وی پر نیلام گھر پروگرام میں مرحوم طارق عزیز مہمانوں میں انعامات تقیسم کرنے کے لئے کسی ایسے شخص کو منتخب کرتے جنکی تاریخ پیدائش 14اگست.23 مارچ.6 ستمبر. 25دسمبر ہوتی ٹو میں دل میں کہتا کہ کاش 28 مئی کا دن بھی یادگار ہوتا اور جب وزیراعظم محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت سے پاکستان نے 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کر کے عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت کا اعزاز حاصل کیا ٹو میں خود کو سب زیادہ خوش قسمت تصور کرنے لگا اور میری زندگی میں پہلی مرتبہ مرحومہ والدہ محترمہ نے مجھے پیار کرتےہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا اعلان سن کر مجھے تمھاری سالگرہ مزید اچھی لگ رہی ہے اور انہوں نے مجھے پہلی مرتبہ پھول دینے جو آخری پھول ثابت ہوئے کیونکہ اسی سال 15نومبر 1998 کو ان کا اچانک انتقال ہو گیا ایٹمی پروگرام کی بنیاد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی،جس کی بدولت پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بناسابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کر کے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ، یوم تکبیر کا دن وطن عزیز کی آنے والی نسلوں کی آزادی ، خودمختاری اور مستقبل کو محفوظ بنانے کاایک بڑا اہم دن ہے،وطن عزیز کے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے تمام تر خدشات کے باوجود پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا یا۔ عالمی دباﺅ کے باوجود سابق و زیر اعظم محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرکے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا، اب کسی دشمن میں جرات نہیں کہ وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے، عالمی سطح پرمیاں محمد نوازشریف کو بہت کہا گیا حتی کہ اسے کئی قسم کی لالچ بھی دی گئی کہ وہ ایٹمی دھماکے نہ کریں، لیکن انہوں نے ملکی دفاع اورعوامی خواہشات کو مدنظررکھتے ہوئے ایٹمی دھماکے کرکے ملک کو امت مسلمہ کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے آج 25برس مکمل ہو گئے ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے پاکستان بھر میں”یوم تکبیر “ ملی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے ۔سیاسی پارٹیاں خا ص کر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیراہتمام ملک بھر میں خصوصی تقریبات ، سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے دورِ حکومت میں پاکستان نے 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے علاقے چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کئے تھے‘ جس کے بعد اس دن کو ”یوم تکبیر “کے نام سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے ، امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر ہماری پاک فوج ہمہ وقت چوکس و تیار ہے۔ پاکستان کو ایک جارح دشمن کا سامنا ہے جو اپنی روایتی جنگی استعداد میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ ” اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے” (سورۃ انفال )اللہ تعالی کے اس فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے ایٹمی ملک بننے کا فیصلہ کیا جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے اس وقت پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارت نے ہمیشہ کی طرح خود کو خطے کا ٹھیکدار سمجھتے ہوئے 11مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی سلامتی اور آزادی کے لئے خطرات پیدا کردیئے تھے ۔ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کر دی تھی۔ اس کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کا پاکستان کے بارے میں لہجہ ہی بدل گیا تھا۔ایسا کیوں نا ہوتا ؟ بھارت نے چند دن قبل ایک ساتھ 5 ایٹمی دھماکے کیے تھے ،اور پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بنا ۔اس وجہ سے اس نے ہر محاذ پر پاکستان کو دبانا شروع کر دیا ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو پاکستان پر امریکہ نے پابندی لگا دی ۔پاکستان کے دشمنوں کے ہاں اس دن صف ماتم بچھی ہوئی تھی، دوسری طرف مسلم ممالک خوشیوں سے نہال تھے ۔ سعودی عرب کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے کسی کی پروا کئے بغیر پاکستان کو فوری طور پر 50ہزار بیرل تیل مفت اور مسلسل دینے کا اعلان کر دیا۔ یہ ہی حال دیگر مسلم ممالک کا تھا ۔ایٹم بم بنانے میں بھی مسلم ممالک نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔’’اگر ہندوستان ایٹم بم بناتا ہے تو ہم گھاس کھائیں گے، بھوکے رہ لیں گے لیکن اپنا ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔‘‘یہ تاریخی الفاظ اس وقت کے وزیر خارجہ، جناب ذوالفقار علی بھٹو نے 1965ء میں مانچسٹر گارجیئن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہے۔بھارت 1954ء سے ہی ’’ہومی بھابھا‘‘ کی سربراہی میں اپنا نیوکلیائی تحقیقی پروگرام شروع کرچکا تھا۔ 1954ء میں اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم، مشہور زمانہ ایٹمی سائنسدان نیلز بوہر سے ملنے کوپن ہیگن بھی گئے۔ جناب ذولفقار علی بھٹو نے 1966ء میں تجدید اسلحہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت نے ایٹم بم بنا لیا تو چاہے ہمیں گھاس کھانا پڑے ، ہم بھی ایٹم بم بنائیں گے۔ایٹم بم بنانے کے لیے ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ کا چارج، انہوں نے 31 دسمبر 1971ء کو خود سنبھالا ۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 نومبر 1972ء کو کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کا افتتاح کیا۔ فرانس سے ری پراسیسنگ پلانٹ کی خرید کے معاہدے کی تمام شرائط کو تسلیم کرنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ 300 ملین ڈالر کے اس منصوبے کے لئے سرمائے کا حصول تھا۔پاکستان 1986ء تک ا یٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا،مگر جب 11 مئی8 199ء کو بھارت نے راجستھان کے صحرا پوکھران میں ایک بار پھر 5 ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں امن کے تواز ن کو بگاڑ دیا، اس کے کئی دن بعد تک جب پاکستان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو عالمی سطح پر یہ تاثر جنم لینے لگا کہ پاکستان کے پاس شائد ایٹم بم ہے ہی نہیں ،یہاں تک کے اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے پاکستان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی کھو کھلی دھمکیاں سب کے سامنے آچکی ہیں ،پاکستان کے پاس نہ کوئی ایٹم بم ہے اور نہ کوئی دھماکہ کرے گا ۔لیکن دوسری طرف حکومت میں موجود کچھ لوگوں کاخیال تھا کہ اگر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دئیے تو عالمی برادری پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتی ہے جس کے ملکی معیشت پر بہت برے اثرات پڑیں گے،اس کے علاوہ امریکا بھی پاکستان پر کافی دباؤ ڈالے ہوئے تھا اور پاکستان کی حکومت کو دھمکیوں کے ساتھ ساتھ لالچ بھی دے رہا تھا ۔ ایٹمی دھماکے کے فیصلے کے وقت دو راستوں پر غور و خوص تھا۔ پہلا راستہ دھماکہ نہ کرنے کا تھا جس کا ملک کو کافی بڑا معاشی فائدہ ہوسکتا تھا۔ صدر کلنٹن نے نواز شریف کو دھماکہ نہ کرنے کی صورت میں پانچ بلین ڈالرز کی اقتصادی امداد دینے کا وعدہ کیا۔ یہ بہت خطیر رقم تھی اور اس سے ملک کے کئی معاشی مسائل حل ہوسکتے تھے۔ دوسرا راستہ ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا تھا اور اس وقت کی سویلین قیادت نے یہ راستہ چنا۔پاکستان کے کامیاب جوہری تجربات کے بعد پاکستانی قوم اور فوج کا مورال بلندیوں کو چھونے لگا ،ان تجربات نے ارض وطن کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیااور بھارتی حکمرانوں کا اکھنڈ بھارت کا خواب ہمیشہ کیلئے چکنا چور کر دیا جو کشمیر پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا ، پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے نہ صرف بھارت کا غرور مٹی میں ملا دیا بلکہ بھارت کو یہ باور بھی کروا دیا کے ہم سو نہیں رہے ہم ارض وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں ۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیئے اس وقت بھارت میں بی جی پی کی حکومت تھی ۔۔ بی جی پی کا شکریہ کا اس نے پاکستان کی اس طرف توجہ دلائی کہ اب پاکستان کو ایٹمی پاور بن کر ابھرنا چاہیے ۔ اور پاکستان نے بھی اسلئیے ایٹم بم بنائے کہ ایٹم بم کسی بھی جنگ سے بچنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب ایک صحیح فیصلہ اس کی تقدیر بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایسا ہی وقت پاکستان کی تاریخ میں بھی 28 مئی 1998ء کو آیا جب ایک صحیح اور بروقت فیصلہ نے ایک ایسا معجزہ کردکھایا کہ دنیا حیران و ششدر رہ گئی ۔۔ ہر سال 28مئی کو چاغی میں کیے گئے ایٹمی دھماکوں کی یاد میں ملک بھر میں ’’یوم تکبیر‘‘ منایا جاتا ہے بفضلِ خدا پاکستان جو خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ وہ تھا‘ وہ ہے اور انشاء اﷲ قیامت تک رہے گا۔ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتی رہے گی‘ زندہ رکھے گی۔ غوری کے سامنے ہمیشہ پرتھوی شکست کھائے گا۔پاکستان کا دفاع یقیناًناقابلِ تسخیر ہے۔پوری قوم 28مئی کو یوم تکبیر پر مساجد میں خصوصی نوافل میں ملکی سلامتی کے لئے دعائیں اور اپنے عسکری اداروں سے والہانہ محبت ، شہدا کے مزاروں پر فاتحہ خوانی اور قومی پرچم سے لبریز ریلیوں کا انعقاد کرے ۔ آج کے دن ہمارے سیاستدانوں کوبھی یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر ملک کی ترقی کے لیے ہر اقدام اٹھائیں گے ۔ پاکستان پائندہ باد ، افواج پاکستان زندہ باد ………………

















