
پی ٹی آئی طرزِحکومت سے معیشت کوخطرات تھے,وزیر اعظم پاکستان
(اصغر علی مبارک)
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے طرزِ عمل سے پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کو خطرات لاحق تھے۔ وزیراعظم سے مسلم لیگ (ق)، بی اے پی، آئی پی پی اور مسلم لیگ ضیاء کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے پارلیمانی وفد کو خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اعتماد میں لیا۔ اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کی معاونت کے لیے ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے، یہ کمیٹی خیبر پختونخوا میں معیشت کی بہتری اور دہشت گردی کے خاتمے کےلیے قائم کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے طرزِ عمل سے پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کو خطرات لاحق تھے، دہشت گردی کے خلاف دو ٹوک مؤقف کے اجتناب سے پاکستان کی معیشت کو خطرات تھے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت نہیں کی اور نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی کی۔ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے کئی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا، 13 سال میں پی ٹی آئی حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کام نہیں کیا، صوبائی حکومت نے عوام کی جان و مال کی حفاظت کی بجائے صرف انتشار کا راستہ اپنایا۔ شہباز شریف نے وفد کو بتایا کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خاتمے کےلیے 800 ارب روپے دیے، خیبر پختونخوا حکومت کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار بڑھانے میں ناکام رہی۔ اعلامیے کے مطابق پارلیمانی وفد نے وزیر اعظم کو یقین دہانی کروائی کہ اتحادی جماعتیں وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں، وفد نے مشکل حالات میں ملک کی قیادت کرنے پر وزیراعظم کی قیادت کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔
وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ, عطا اللہ تارڑ ,محسن نقوی کا کہنا ہےکہ کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ایمرجنسی کا نفاذ آئین کے تحت کیا گیا ہے، جبکہ ایک ہی ملک میں دہشتگردی کے خلاف دو پالیسیاں نہیں چل سکتیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہےکہ اس دن معاہدہ ہو جاتا تو آج ایمرجنسی نہ لگتی، ہم میں سے کوئی نہیں چاہتا تھا ایمرجنسی لگے۔ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ انسداد دہشتگردی کی مشترکہ پالیسی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم یہ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔بریفنگ دیتے ہوئے وزرا نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشتگردی جیسے قومی مسئلے سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے اور ملک میں اس معاملے پر دو مختلف پالیسیاں نہیں چل سکتیں۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے آئین پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی۔ان کے مطابق آئین میں غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے مخصوص طریقۂ کار موجود ہے اور وزیراعظم کے مشورے پر صدر ہنگامی اقدامات کر سکتے ہیں۔ یہ دفعات کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ ریاست کو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے قانونی راستہ فراہم کرنے کی غرض سے شامل کی گئی تھیں۔ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے اور اس جنگ میں شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین نے بھاری قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور مختلف سرکاری اداروں کی رپورٹس ایمرجنسی کے فیصلے میں اہم عوامل تھے۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے، جس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون ناگزیر ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے دہشتگردی کے واقعات کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشتگردی کے 2911 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ بعد کے عرصے میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8600 ہوگئی۔ ان کے مطابق یہ اضافہ قریباً 200 فیصد بنتا ہے۔ بریفنگ میں اس تقابل کے لیے استعمال کیے گئے دونوں ادوار کی مکمل مدت اور اعداد و شمار کی تفصیلی درجہ بندی واضح نہیں کی گئی۔ وزیر قانون نے کہا کہ یہ معلومات مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے وفاقی حکومت اور وزیراعظم آفس کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔ خیبر پختونخوا پولیس، صوبے میں تعینات مسلح افواج، وفاقی اداروں اور کسٹمز حکام کو دہشتگرد حملوں کا سامنا رہا ہے، جبکہ علما اور عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔ ان کے بقول، دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے محض کارروائیاں کافی نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی اور معلومات کے تبادلے کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئین کے تحت اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں کام کرتی ہیں، تاہم داخلی بدامنی اور دہشتگردی جیسے مسائل پر مشترکہ کوششیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے امریکا سمیت دیگر وفاقی نظاموں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی داخلی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور ریاستی حکومتیں تعاون کرتی ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ اختلافات دور کرنے کے لیے سیاسی سطح پر بھی کوششیں کیں۔ اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں پی ٹی آئی، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے شرکت کی، جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے مذاکرات میں سہولت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے دوران متعدد امور پر پیش رفت ہوئی اور بعض معاملات حل بھی ہوئے، تاہم اختلافات اور دیگر وجوہات کے باعث مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ ایمرجنسی جیسے اقدامات حکومت کی پہلی ترجیح نہیں ہوتے اور وفاقی حکومت نے پہلے بھی سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اگر مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہوتا تو ماضی میں بھی ایسے اقدامات کیے جا سکتے تھے، لیکن موجودہ فیصلے کی بنیادی وجہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہے۔ وزیر قانون نے زور دیا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں سیاسی ترجیحات کے بجائے عوام کے تحفظ کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا مقصد پی ٹی آئی یا خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف سیاسی کارروائی کرنا نہیں تھا، بلکہ دہشتگردی کے خلاف ایک متفقہ قومی حکمت عملی تشکیل دینا تھا۔ ان کے مطابق وفاق نے پی ٹی آئی کے سیاسی مارچ یا دیگر سیاسی مطالبات پر پابندی لگانے کی کوشش نہیں کی، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر اختلافی پالیسی اختیار کرنا قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت سفارتی سطح پر افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے اور دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کا افغانستان سے متعلق مؤقف وفاقی حکومت سے مختلف رہا، جس کے باعث دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بعد میں اسے مسترد کر دیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں قومی ایکشن پلان موجود ہے اور دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی اپیکس کمیٹیاں بھی قائم ہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ان اجلاسوں کے انعقاد اور مربوط حکمت عملی پر عمل درآمد میں عدم تعاون نے وفاق اور صوبے کے درمیان خلیج پیدا کی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ایوان میں مذاکرات ہوئے، ہماری بات چیت شروع ہی دہشتگردی پر ہوئی تھی، دہشتگردی کے 7 سے 8 نکات پر بات ہوئی، اسد قیصر نے کہا ہم ان سب نکات پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اسد قیصر سے کہا آپ کا اور کے پی حکومت کا نقطہ نظر الگ ہے، پہلے کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی تھی۔ مذاکرات کے دوران چوتھی دفعہ 6 تبدیلیاں تجویز کی گئیں ہم نے ان سب کو مانا، جب سب طے ہوا تو تحریر وزیراعلیٰ کو دی گئی ، وزیراعلیٰ نے وہ ٹیکسٹ مراد سعید کو بھیجا، اس کے بعد دو دن کی محنت ضائع ہو گئی۔ ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا: محسن نقوی
محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنرراج کا آپشن 26 نومبر کو بھی تھا، 25 نومبر کو جب دھاوا بولا جا رہا تھا تو پی ٹی آئی کو کہا کہ ہم آپ کو جگہ دیتے ہیں، انہوں نے کہا نہیں ہماری بانی سے فون پر بات کرائی جائے پھردھرنے کو مؤخر کریں گے، جب فون پر بات ہوئی تو آدھی پارٹی نے کہا ہم مانتے ہی نہیں، کہا گیا کہ ہم مانیں گے جب ویڈیو میسج ریکارڈ کروائیں گے۔محسن نقوی بولے بیرسٹر گوہر سے کہا کہ آپ جاکر ان کا ویڈیو میسج ریکارڈ کر لیں، ہم نے دو گھنٹے انتظار کیا انہوں نے کہا سلاخوں کے پیچھے سے بیان ریکارڈ کراؤں گا، ہم نے وزیراعظم اور صدر کو بتایا، ہم سلاخوں کے پیچھے لےکرگئے انہوں نے کہا میں نے آج ریکارڈ نہیں کرنا کل کروں گا، ہم نے کہا دھرنا ہے وہ آپ کی ریکارڈ نگ کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد انہوں نے کہا میرے وکیلوں کو بلائیں پھر کروں گا۔ محسن نقوی بولے کہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ آئین کی خلاف ورزی ہوئی، سوال کیا کہ آپ بتا دیں آئین کی کونسی شق کی خلاف ورزی ہوئی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک ایک شق کو بیٹھ کر دیکھا، آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اس ایکٹ کو غلط صحیح کہہ سکتے ہیں، ہمارے خیال میں یہ اقدام درست ہے۔وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا ملک میں ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو دہشتگردوں سے ہمدردی کرے، ملک میں ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو ایسی پالیسی اپنائے جو دہشتگردوں کو اپنی کارروائیاں اور سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع فراہم کرے، ہم پی ٹی آئی کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور مشترکہ پالیسی کے بارے میں مذاکرات کر رہے تھے، دہشتگردی کےخلاف ایک ہی ملک میں دو مختلف پالیسیاں کیسے ہوسکتی ہیں؟ان کا کہنا تھا آئین سازوں نے ان دفعات کو آئین میں ایسے ہی حالات سے نمٹنے کے لیے شامل کیا تھا، 1973ء کے آئین کے تحت قانونی طور پر درست اقدامات کیے گئے، صوبے میں حکمرانی کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا، صوبے میں امن و امان کی صورتحال بھی مکمل طور پر خراب ہو گئی تھی، اطلاعات ہیں کہ جن علاقوں میں دہشتگرد سرگرم ہیں، وہاں دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بحفاطت گزرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ پی ٹی آئی کا مارچ ان اضلاع سے ان دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ کاری کے بعد گزرا، مارچ کو ان علاقوں سے بحفاظت گزرنے کی اجازت ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟ این ایف سی کے ذریعے اب تک خیبر پختونخوا حکومت کو تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جاچکے، سوال یہ ہےکہ یہ بہت بڑی رقم ہے، اسے دہشتگردی کے خلاف کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ قائم کرنے پر کیوں خرچ نہیں کیا گیا؟ یہ رقم خیبر پختونخوا میں سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کے لیے کیوں استعمال نہیں ہوئی؟ فارنزک لیبارٹری قائم کرنے یا پولیس کے لیے جدید آلات خریدنے کی غرض سے یہ وسائل کیوں استعمال نہیں کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا خیبر پختونخوا میں لوگ ہر ممکن طریقے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس دہشت گردی سے ان کی زندگی اور روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، طالبان کے پیش کردہ اسلام کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا اگر کے پی کے عوام پی ٹی آئی حکومت کے دہشت گردی کے حامی مؤقف کی حمایت کرتے تو لاکھوں افراد سڑکوں پر ہوتے، ہم نے اس حوالے سے بڑھکیں بھی سنیں، کے پی ترجمانوں نے کہا تھا کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ ہوئی تو لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئیں گے، گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے، لیکن یہ ایک درجن افراد کو بھی باہر نہیں لاسکے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے وفاق کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے، عوام کو امید پیدا ہوئی ہے کہ اب ان کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں، انہیں یقین ہے کہ اب انہیں تحفظ اور سلامتی فراہم کی جائے گی، ان کے جان و مال اور روزگار محفوظ ہوں گے، عوام کو یقین ہے کہ اب سیاست، دہشت گردی اور جرائم کے اس گٹھ جوڑ کا خاتمہ کیا جائے گا۔ سابقہ صوبائی کابینہ اور تشکیل دی گئی کابینہ کے ارکان کی قابلیت اور تجربے کا تقابل کریں تو واضح فرق نظر آئے گا، نئی ٹیم کا ہر فرد اپنے اپنے شعبے میں نمایاں صلاحیتوں کا حامل ہے، ہر فرد وسیع تجربہ رکھتا ہے، اور عوامی خدمت کے میدان میں کام کر چکا ہے، یہ ایک مشاورتی کونسل ہے جس میں قبائلی توازن برقرار رکھا گیا ہے، اس مشاورتی کونسل میں صنفی نمائندگی کا خیال رکھا گیا ہے۔ نئی کابینہ میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر بیانیہ تشکیل دینے کا عزم اور حوصلہ موجود ہے، اس کابینہ میں دہشت گردی کا کوئی ہمدرد نہیں ملے گا، پی ٹی آئی حکومت کی کابینہ اور اس کابینہ کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے، پی ٹی آئی کی کےپی حکومت سیاست، دہشتگردی، جرائم کے اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ 6 برسوں میں دہشتگردی کے واقعات میں تقریباً 11 گنا اضافہ ہوا، 2025 میں دہشتگردی کے 3774 واقعات پیش آئے، ستمبر 2026 تک رواں سال میں 2857 واقعات پیش آچکے ہیں، گزشتہ 5 برسوں کے دوران دہشتگردی کے 6924 مقدمات درج کیے گئے، گزشتہ 6 برسوں میں جانی نقصانات میں بھی تقریباً 10 گنا اضافہ ہوا، 2021 میں دہشت گردی کے نتیجے میں 267 افراد جاں بحق ہوئے تھے، 2026 میں یہ تعداد 2775 ہوگئی، 2025 میں 3512 افراد کی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔عطا تارڑ نے بتایا کہ صف اول میں لڑنے والی خیبر پختونخوا پولیس کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، پولیس کو نشانہ بنانے کے واقعات میں 168 فیصد اضافہ ہوا، دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں، پی ٹی آئی نے پولیس کو ضروری وسائل فراہم نہیں کیے، اسے بااختیار نہیں بنایا، بڑے دہشتگرد حملوں کی تعداد 1364 رہی، پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد 1532 رہی، گزشتہ دو برسوں میں پولیس کی 18 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اگر ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی مقاصد کے لیے ہوتا تو یہ اقدام پہلے بھی کیا جاسکتا تھا، خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کا دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون اور کردار ریکارڈ پر ہے۔ اگر ترجیح دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے سیاسی مفادات کے لیے لوگوں کو متحرک کرنا ہو اور وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف مربوط کوششیں نہ کی جائیں تو یہ افسوسناک ہے۔ وزیراعظم نے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا، جہاں تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ اور وفاق کو مضبوط بنانے کے لیے آئینی راستے اختیار کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔عطا تارڑ نے بتایا کہ صف اول میں لڑنے والی خیبر پختونخوا پولیس کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، پولیس کو نشانہ بنانے کے واقعات میں 168 فیصد اضافہ ہوا، دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں، پی ٹی آئی نے پولیس کو ضروری وسائل فراہم نہیں کیے، اسے بااختیار نہیں بنایا، بڑے دہشتگرد حملوں کی تعداد 1364 رہی، پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد 1532 رہی، گزشتہ دو برسوں میں پولیس کی 18 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا اگر ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی مقاصد کے لیے ہوتا تو یہ اقدام پہلے بھی کیا جاسکتا تھا، خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کا دہشت گردی کے خلاف عدم تعاون اور کردار ریکارڈ پر ہے۔ اگر ترجیح دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے سیاسی مفادات کے لیے لوگوں کو متحرک کرنا ہو اور وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف مربوط کوششیں نہ کی جائیں تو یہ افسوسناک ہے۔ وزیراعظم نے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا، جہاں تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد خیبرپختونخوا کے عوام کے تحفظ اور وفاق کو مضبوط بنانے کے لیے آئینی راستے اختیار کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔




