پنڈی ٹیسٹ میں نسیم شاہ کی ہیٹ ٹرک سے پاکستان کی فتح یقینی ۔
رپورٹ ۔اصغر علی مبارک سے
پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ کی بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں ہیٹ ٹرک سے پاکستان کی جیت یقینی بن گئی۔بنگلہ دیش کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 86 رنز بنا نا ہو گے۔فاسٹ بولر نسیم شاہ ہیٹ ٹرک کے بعد انجری کا شکار ہو گئے اور انہیں میدان سے باہر جانا پڑا نسیم شاہ نے ہیٹ ٹرک کرنے کا
کارنامہ پنڈی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے میچ میں انجام دیا۔نوجوان فاسٹ بولر نے بنگلہ دیش کے نجم الحسن شنٹو، تجیح الحسن اور محمود اللّٰہ کو آؤٹ کرکے ہیٹ ٹرک مکمل کی۔نسیم شاہ ٹیسٹ کرکٹ میں یہ کارنامہ انجام دینے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں ۔ان سے قبل ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے کم عمر ہیٹ ٹرک کرنے کا اعزاز بنگلہ دیش کے الوک کپالی کے پاس تھا۔الوک کپالی نے 2003 میں پاکستان کے خلاف پشاور کے مقام پر یہ کارنامہ دنیش کنیریا، شبیر احمد اور عمر گل کو آؤٹ کرکے انجام دیا۔واضح رہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں 17 سال بعد پاکستان کی جانب سے ہیٹ ٹرک بنائی گئی ہے۔نسیم شاہ سے قبل محمد سمیع نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں سری لنکا کے خلاف مارچ 2002 میں اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی قبل ازیں راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کے 445 رنز کے جواب میں بنگلا دیش نے اپنی دوسری اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 126 رنز بنائے ہیں اور مہمان ٹیم کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 86 رنز درکار ہیں۔کھیل کے تیسرے روز پاکستان کے 445 رنز کے جواب میں بنگلا دیش نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا۔39 کے مجموعی اسکور پر سیف حسن 16 رنز بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے، مہمان ٹیم کے دوسرے اوپنر تمیم اقبال بھی 53 کے مجموعی اسکور پر 34 رنز بنا کریاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔اس کے بعد 124 کے اسکور پر نسیم شاہ نے نجم الحسن شنٹو ،تیج الاسلام اور محمود اللہ کو یکے بعد دیگرے آؤٹ کرکے اپنی پہلی ٹیسٹ ہیٹ ٹرک کی۔نسیم شاہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ہیٹ کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین بولر بن گئے ہیں، ہیٹ ٹرک کے وقت ان کی عمر 16 برس 359 دن ہے۔تیسرے روز کھیل کے اختتام پر بنگلا دیش کے آخری آؤٹ ہونے والے کھلاڑی محمد مھتون تھے جو کہ بغیر کوئی رنز بنائے یاسر شاہ کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
بنگلادیش کو پاکستان کی برتری ختم کرنے کے لیے مزید 86 رنز درکار ہیں اور اس کی 4 وکٹیں باقی ہیں۔اس سے قبل تیسرے روز پاکستان نے اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 342 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ پر کیا تو بابراعظم 143 اور اسد شفیق 60 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔گزشتہ روز سنچری اسکور کرنے والے بابراعظم میچ کی پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ بابراعظم اپنے گزشتہ روز کے اسکور میں بغیر کسی اضافے کے 142 رنز پر آؤٹ ہوئے۔اسد شفیق بھی اپنے گزشتہ روز کے اسکور میں صرف 5 رنز کا اضافہ کرنے کے بعد 65 پر آؤٹ ہو گئے۔حارث سہیل نے 75 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ دیگر کوئی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا اور پوری ٹیم 445 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور یوں پاکستان کو بنگلا دیش کی پہلی اننگز کے اسکور 233 رنز پر 212 رنز کی سبقت حاصل ہو گئی۔پاکستان کی جانب سے بابراعظم 143 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے جب کہ بنگلا دیش کی جانب سے ابو جاوید اور روبیل حسین نے تین ،تین جب کہ تیج الاسلام نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔بنگلا دیش نے اپنی پہلی اننگز میں 233 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان نے کھیل کے دوسرے روز شان مسعود اور بابراعظم کی سنچریوں کی بدولت 342 رنز اسکور کیے تھے۔ پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم جنھوں نے بنگلہ دیش کے خلاف پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کیرئیر بیسٹ 143رنز بنائے ہیں ، انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں وہ قومی ٹیم کے سابق کپتان اور دس ہزار رنز بنانے والے واحد بیٹس مین یونس خان جیسی پرفارمنس دینے کے خواہش مند ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ یونس خان کی پرفارمنس ٹیم پاکستان کی جیت کی ضمانت تھی، کوشش ہے کہ میں بھی ایسا ہی پرفارم کروں۔راولپنڈی ٹیسٹ میں ڈبل سنچری نہ بنانے کے سوال پر دائیں ہاتھ کے بیٹس مین کا کہنا تھا کہ یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا، کہ میں ڈبل مائنڈ تھا، 25سال کے بابر اعظم بولے ایسا شارٹ کھیلتے ہوئے ،میں نے بڑے رنز کئے، اس بار آوٹ ہوگیا۔بابر اعظم نے کہاکہ ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی 20میچز میں جب بیٹنگ کرنے جاتا ہوں، تو یہی خواہش ہوتی ہے کہ ٹیم کے لئے اچھا کھیل پیش کروں ،انھوں نے کہا کہ دس سال بعد ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کا کوئی دباو نہیں ، یہی تو ایک بات ہے ، جس کے لئے ہم ترس رہے تھے۔
اب انجوائے کر رہے ہیں ،بابر اعظم نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے بولرز جب وہ بیٹنگ کرنے آئے تو بڑی عمدہ لائن پر گیند ڈال رہے تھے، جس کی وجہ سے انھیں پہلا رن لینے کے لئے پندرہ گیندوں کا انتظار کرنا پڑا۔


