پاک فوج اوروزیراعظم شہباز کا اعلیٰ افسر کےخلاف عمران خان کےالزامات ناقابل قبول قرار ……. کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک……………………….پاک فوج نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بغیر کسی ثبوت کے ایک حاضر سروس سینئر فوجی افسر پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں جو من گھڑت، بدنیتی پر مبنی، افسوسناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ ایک سال سے یہ ایک مستقل طرز عمل بن گیا ہے جس میں فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اشتعال انگیز اور سنسنی خیز پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ عمران خان نے بغیر کسی ثبوت کے ایک حاضر سروس سینئر فوجی افسر پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ہم متعلقہ سیاسی رہنما سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قانونی راستہ اختیار کریں اور جھوٹے الزامات لگانا بند کریں۔ یہ من گھڑت، بدنیتی پر مبنی الزام انتہائی افسوسناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ادارہ واضح طور پر جھوٹے، غلط بیانات اور پروپیگنڈے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال وزیر آباد میں پی ٹی آئی سربراہ پر قاتلانہ حملے کے بعد عمران خان نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ اور ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کو ان کے قتل کی کوشش کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا اور ان سے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے چیئرمین پی ٹی آئی سمیت کئی پارٹی رہنماؤں نے اس بات کو دہرایا ہے کہ وزیر آباد قاتلانہ حملہ عمران خان کو ختم کرنے کے لیے تین شوٹرز کے ذریعے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مبینہ طور پر عمران خان کے ان دعوؤں سے اتفاق کیا تھا کہ حملہ تین مختلف مقامات سے کیا گیا، دو بار تشکیل پانے والی اس جے آئی ٹی کی سربراہی سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کر رہے تھے۔ تاہم جنوری کے شروع میں حکومت نے حملے کی تحقیقات کے لیے ایک نئی ٹیم تشکیل دی جس کو پی ٹی آئی نے مسترد کر دیا تھا۔ گزشتہ ہفتے کے روز اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشیدگی کے درمیان چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سے اظہار یکجہتی کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے مختلف شہروں میں نکالی گئی احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر پر سخت تنقید کی تھی۔ عمران خان نے ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر کا نام لے کر الزام لگایا تھا کہ مجھے کچھ ہوا تو اس شخص کا نام یاد رکھنا جس نے مجھے پہلے بھی دو بار مارنے کی کوشش کی۔ عمران خان کے اس بیان پر گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ عمران نیازی کا معمولی سیاسی فائدے کی خاطر پاک فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی کو بدنام کرنا اور دھمکیاں دینا انتہائی قابل مذمت ہے، جنرل فیصل نصیر اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسی کے افسران کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگانے کی اجازت دی جاسکتی ہے نہ اسے برداشت کیا جائے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئےکہنا ہے کہ عمران خان سر سے پاؤں تک جھوٹا، مکار آدمی ہے، چیئرمین پی ٹی آٗئی کا جھوٹ قوم کے سامنے آرہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے فوجی افسران پر بے بنیاد الزامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حمزہ یوسف سے ملاقات بہت اچھی رہی، وہ نوجوان ہیں، ان میں بہت جذبہ ہے، اسکاٹ لینڈ برطانیہ کا اہم حصہ ہے، پاکستان کے برطانیہ کے اور اسکاٹ لینڈ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، یہاں 70 سے 80 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
بہت جلد انویسٹمنٹ کانفرنس بلا رہے ہیں، جس میں ٹریڈ، ایجوکیشنل اور خاص طور پر ٹیکنیکل ایجوکیشن کے حوالے سے تعاون پر غور کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس انویسٹمنٹ کانفرنس میں پانی، سولر اور ونڈ انرجی کے شعبوں میں اسکاٹ لینڈ کی بہت مہارت ہے، ان فیلڈز میں تعاون حاصل کریں گے۔ خود پر عمران خان کی حکومت کے دور میں برطانیہ میں بنائے گئے کیس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نہیں بلکہ اس کیس میں پاکستان کے عوام کو سروخرو کیا، مجھ پر جھوٹے، بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر کیس بنایا گیا، این سی اے نے 2 سال تک تحقیقات کیں، اس کے بعد مجھے کلین چٹ ملی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی نے پاکستان کی بدنامی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، اللہ تعالیٰ نے ملک کو سروخرو کیا جس بدنامی کے لیے اس نے بے شمار پیسہ او ر وقت ضائع کیا، تمام حربے استعمال کیے، ملک کی عزت نہ صرف محفوظ رہی بلکہ اس میں اضافہ ہوا۔ عمران نیازی کا جھوٹ پوری قوم کے سامنے آرہا ہے، سر سے پاؤں تک جھوٹا، مکار اور محسن کش آدمی ہے، ضرور اللہ کی پکڑ ہوگی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کا معمولی سیاسی فائدے کی خاطر پاک فوج اور انٹیلی جنس ایجنسی کو بدنام کرنا اور دھمکیاں دینا انتہائی قابل مذمت ہے۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ جنرل فیصل نصیر اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسی کے افسران کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگانے کی اجازت دی جا سکتی ہے نہ اسے برداشت کیا جائے گا۔وزیراعظم کے علاوہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی چیئرمین پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش نے ایک شخص کا حقیقی چہرہ بے نقاب کردیا ہے، بس بہت ہوگیا، غیرملکی ایجنٹ کی گزشتہ روز کی تقریر سننے کے بعد کوئی محب وطن اس کی پیروی کرنے کا اب سوچ بھی نہیں سکتا، ایک شخص میرے آباؤ اجداد، میرے بچوں اور میرے ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہے جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔پیپلزپارٹی کے آفیشنل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری اپنے بیان میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش نے ایک شخص کا حقیقی چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ بس بہت ہوگیا، غیرملکی ایجنٹ کی گزشتہ روز کی تقریر سننے کے بعد کوئی محب وطن اس کی پیروی کرنے کا اب سوچ بھی نہیں سکتا، ایک شخص میرے آباؤاجداد، میرے بچوں اور میرے ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہے جس کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ ملک ہے جہاں ہم سب نے دفن ہونا ہے، ہم ایک شخص کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری اقدار اور ہمارے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرے، پاک آرمی کے بہادر اور مایہ ناز افسران پر الزامات دراصل اس ادارے پر حملہ ہے کہ جس کے ساتھ پورا پاکستان کھڑا ہے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ایک شخص جھوٹ اور دھوکے سے اپنے معصوم کارکنان کو بے وقوف بنارہا ہے، میں اس شخص کا زوال دیکھ رہا ہوں، یہ شخص اداروں کو بدنام کرنے کی ہر حد کو عبور کرچکا ہے جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔دھر نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا کہ ہم پنجاب میں کسی کو اپنے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تذلیل یا دھمکی دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محسن نقوی کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کی حیثیت سے ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم ان عناصر کی مذمت کریں جو پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ یقین دلاتا ہوں کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور مجرموں کا قانون کے مطابق احتساب کیا جائے گا۔واضح رہے کہ وزیراعظم، سابق صدر مملکت اور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کہ گزشتہ روز اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشیدگی کے درمیان سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے اظہار یکجہتی کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے مختلف شہروں میں نکالی گئی احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجودہ سمیت ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر پر سخت تنقید کی تھی۔

سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ جب جنرل باوجوہ نے سازش کے تحت ہماری حکومت گرائی، اس کے مقابلے میں آج ملک میں تین گنا زیادہ مہنگائی ہے، جنرل باجوہ کی سازش کے تحت آنے والے چور اس ملک پر مسلط ہو گئے ہیں، جنرل باوجوہ نے اس ملک کو ان چوروں کا تحفہ دیا ہے ،کوئی دشمن بھی اس ملک کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا جتنا جنرل باجوہ نے پہنچایا ہے۔

عمران خان نے ایک حاصر سروس اعلیٰ فوجی افسر کا نام لے کر الزام لگایا تھا کہ مجھے کچھ ہوا تو اس شخص کا نام یاد رکھنا جس نے مجھے پہلے بھی دو بار مارنے کی کوشش کی۔آصف زرداری نے کہا کہ پاک آرمی کے بہادر اور مایہ ناز افسران پر الزامات دراصل اس ادارے پر حملہ ہے کہ جس کے ساتھ پورا پاکستان کھڑا ہے، ایک شخص جھوٹ اور دھوکے سے اپنے معصوم کارکنان کو بے وقوف بنارہا ہے، میں اس شخص کا زوال دیکھ رہا ہوں، یہ شخص اداروں کو بدنام کرنے کی ہر حد کو عبور کرچکا ہے جسے اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا تھا کہ ہم پنجاب میں کسی کو اپنے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تذلیل یا دھمکی دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے آج سوال اٹھایا تھا کہ کیا فوجی افسران قانون سے بالاتر ہیں؟

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں سابق وزیراعظم کہا کہ کیا ایک ایسے شخص جو گزشتہ چند ماہ کے دوران 2 قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنا، کے طور پر میں شہباز شریف سے درج ذیل سوالات پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ کیا بطور پاکستانی شہری مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں ان لوگوں کو نامزد کروں جو میرے خیال کے مطابق مجھ پر قاتلانہ حملے کے ذمہ دار تھے؟

پی ٹی آئی چیئرمین نے 18 مارچ کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے تصادم کا بھی ذکر کیا جہاں وہ توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے، دن بھر کشیدگی کے دوران پولیس اور پی ٹی آئی کے حامی آمنے سامنے ہونے سے وفاقی دارالحکومت میدان جنگ بن گیا تھا۔

اس کے بعد عمران خان نے الزام لگایا تھا کہ ان کو مارنے کے لیے قاتل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر تعینات تھے اور انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

اپنے ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ آئی ایس آئی کے لوگوں کی وہاں موجودگی کا مقصد کیا تھا اور ان کا جوڈیشل کمپلیکس میں کام ہی کیا تھا؟ اگر شہباز شریف ان سوالات کے سچ پر مبنی جوابات دے سکیں تو ان سب سے ایک ہی طاقتور شخص اور اس کے ساتھیوں کا سراغ ملے گا جو سب قانون سے بالاتر ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ چنانچہ وقت آگیا ہے کہ ہم باضابطہ اعلان کریں کہ پاکستان میں محض جنگل ہی کا قانون رائج ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرما ہے۔خیال رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے بیان پر انہیں جواب دیتے ہوئے کہنا ہے کہ آئینی حق ٹوئٹر، ریلی اور جلسوں میں نہیں ملتا، ثبوت لے کر تھانے اور عدالت جائیں، جھوٹے الزامات لگانا، بہتان بازی کرنا کسی کا قانونی حق ہے نہ آئینی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہباز شریف سے سوال پوچھنے سے پہلے عمران خان عوام کو اپنی سازشوں کا جواب دیں۔
ٹوئٹ میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بہروپیے حق صرف آئین اور قانون کے تحت ہیں، ہر شہری اپنے حقوق کے تحفظ کا پورا قانونی حق رکھتا ہے جس کا تقاضا ہے کہ تھانے اور عدالت جائے اور ثبوت فراہم کرے، آئینی حق ٹوئٹر، ریلی اور جلسوں میں نہیں ملتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے 35 پنکچر، 10 ارب روپے، سائفر، امریکی سازش جیسے الزامات لگائے اور ثبوت فراہم نہیں کیے، اگر ثبوت ہیں تو عدالت کیوں نہیں جاتے؟ جھوٹے الزامات لگانا، بہتان بازی کرنا کسی کا قانونی حق ہے نہ آئینی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا اس وقت خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ان کی اپنی حکومت اور وزیر اعلیٰ تھا، کیا وہ سازش میں شامل تھے؟ عمران خان کے جھوٹوں پر انہوں نے ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مجرموں کو کیوں نہیں پکڑا؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا، جج، سیاسی مخالفین کے قتل کی تمہاری سازش بے نقاب ہونے پر دوسروں پر اپنے قتل کا الزام لگایا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جو الزام دوسروں پر لگایا، مجرم خود نکلے، دوسروں کو چور ڈاکو کہا اور خود ڈاکو ثابت ہوئے۔ مخالفین، صحافیوں، جج، وکلا کے قتل کی تمہاری سازش پکڑی گئی تو اب دوسروں پر اپنے قتل کا الزام لگا رہے ہو۔ پاناما میں جھوٹ بولنے پر شہباز شریف کے مقدمے میں 6 سال سے تم عدالت سے فرار ہو۔ شہباز شریف سے سوال پوچھنے سے پہلے عوام کو اپنی سازشوں کا جواب دو۔ انہوں نے کہا کہ عدت میں شادی، بچی کے والد ہونے کا الزام لگنے کا انتظار باقی ہے۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ 05 نومبر 2022 کوبھی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ حکومت عمران کے جھوٹے الزامات پر قانونی کارروائی کرے ، ادارے اور افسران کے خلاف لگائے گئے الزامات افسوسناک اور قابل مذمت ہیں، فوج کا اپنا اندرونی احتسابی نظام موجود ہے. ادار ے کو بدنام کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی ، غیر ذمہ دارانہ الزامات ناقابل قبول ، حکومت سے درخواست ہے وہ بغیر کسی ثبوت افسران پر الزامات لگانے اور بدنامی کا باعث بننے والوں کے خلاف تحقیقات کرے ، مذموم مقاصد کیلئے فضول الزامات لگاکر افسران و سپاہیوں کی عزت اور وقار داغدار کیا جارہا ہو تو کچھ بھی ہوجائے ادارہ اپنے افسران اور سپاہیوں کی حفاظت کرےگا۔ آئی ایس پی آر ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج انتہائی پیشہ ور اور نظم و ضبط کی حامل ہونے پر فخر کرتی ہے، جس کا مضبوط اور انتہائی مؤثر اندرونی احتسابی نظام موجود ہے، جو ہر وردی پہننے والے پر لاگو ہوتا ہے، اگر کوئی غیر قانونی کام کرتا ہے ۔
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ تاہم اگر مذموم مقاصد حاصل کرنے کے لیے فضول الزمات لگا کر افسران اور سپاہیوں کی عزت، حفاظت اور وقار کو داغدار کیا جارہا ہو تو کچھ بھی ہوجائے، ادارہ اپنے افسران اور سپاہیوں کی حفاظت کرے گا۔بلا تفریق کسی کو ادارے اور سپاہیوں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

مزید کہا گیا تھا کہ ادارے اور افسران کے خلاف بے بنیاد الزامات انتہائی افسوسناک اور شدید قابل مذمت ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے پر تحقیقات کرے، اور جو لوگ ادارے اور اس کے افسران کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں اور بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے۔