
( کالم: اندر کی بات ;اصغر علی مبارک)
معاشی خودمختاری کا سنگِ میل عبور کرنےکے لیے ملک عزیز اس وقت تاریخ کے انتہائی اہم موڑ سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف اندرونی و بیرونی چیلنجز معیشت کا کڑا امتحان لے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانی ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے دن رات خون پسینہ بہا رہے ہیں۔
جولائی کے صرف ایک مہینے میں 3.63 ارب امریکی ڈالر کی خطیر رقم کا وطن واپس آنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ تارکینِ وطن کا ملکی نظام اور معاشی پالیسیوں پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
جولائی 2026 کے حالیہ معاشی اعداد و شمار اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا، ان مخلص پاکستانیوں نے کبھی مایوس نہیں کیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، جولائی 2026 میں سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے سال بہ سال کی بنیاد پر 13 فیصد اضافی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی ہیں، جو کہ ملکی معیشت کے لیے ایک نہایت خوش آئند اور تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان اعداد و شمار پر گہرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سمندر پار پاکستانیوں کو درست طور پر ملکی معیشت کا سب سے مضبوط ستون قرار دیا ہے۔
اگر ہم ماہانہ بنیادوں پر دیکھیں تو جون 2026 کے مقابلے میں بھی ترسیلاتِ زر میں 4.5 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ غیر معمولی نمو ظاہر کرتی ہے کہ قانونی ذرائع سے رقم بھیجنے کی حکومتی ترغیبات اور بینکنگ چینلز کی مانیٹرنگ رنگ لا رہی ہے۔
اسی معاشی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے حالیہ بیان میں واضح طور پر کہا ہے:
“سمندر پار پاکستانی ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ اور ملک کے حقیقی سفیر ہیں۔ ان کا بھیجا ہوا ایک ایک ڈالر پاکستان کو معاشی خودمختاری کی طرف لے جا رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کشکول توڑ کر اپنے پیروں پر کھڑے ہوں۔”
“اندر کی بات” یہ ہے کہ یہ کامیابی کسی وقتی اچھال کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ اس تسلسل کا حصہ ہے جس کے تحت حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کو ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ 41.6 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر موصول ہوئی ہیں۔
یہ حجم پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 8.6 فیصد زیادہ ہے، جو واضح کرتا ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملکی ترقی میں کس قدر مخلص ہیں۔ مئی کے مہینے میں تو 4.25 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمد نے معاشی ماہرین کو بھی حیران کر دیا تھا۔
اب اسٹیٹ بینک نے موجودہ مالی سال کے لیے 44 ارب ڈالر کا جو تاریخی ہدف مقرر کیا ہے، جولائی کے یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ ہدف انشاء اللہ حاصل کر لیا جائے گا۔
اس معاشی کامیابی کے پیچھے جہاں ہمارے تارکینِ وطن کی محنت شامل ہے، وہاں خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کردار ہمیشہ کی طرح کلیدی رہا ہے۔
جولائی کے دوران سعودی عرب سے سب سے زیادہ یعنی 91 کروڑ 40 لاکھ ڈالر بھیجے گئے، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 73 کروڑ 70 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔
مغربی محاذ پر بھی برطانیہ سے 55 کروڑ 50 لاکھ ڈالر، یورپی یونین سے 46 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور امریکہ سے 31 کروڑ 70 لاکھ ڈالر پاکستان روانہ کیے گئے۔
یہ ڈالرز صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ ایندھن ہیں جو ہمارے تجارتی خسارے کو پورا کرتے ہیں اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر کو سہارا دیتے ہیں۔
مگر اب کہانی بدلنے والی ہے، اور یہی اصل “اندر کی بات” ہے۔ حال ہی میں 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا تاریخی میثاقِ مکہ “معاہدہ مکہ” (Makkah Agreement) نہ صرف دفاعی لحاظ سے گیم چینجر ہے بلکہ یہ ترسیلاتِ زر کے مستقبل کا نقشہ بھی بدل دے گا۔
پاکستان بزنس فورم کے مطابق اس تزویراتی تثلیث (Strategic Triangle) کے بعد خلیج میں مقیم پاکستانی افرادی قوت کا مستقبل قانونی طور پر محفوظ ہو گیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب پاکستان روایتی لیبر کے بجائے دفاعی، صنعتی اور تکنیکی شعبوں کے لیے اعلیٰ ہنرمند (Skilled Labor) برآمد کرے گا، جس سے فی کس ریمٹنسز کے حجم میں تاریخی اضافہ ہوگا۔
اس تزویراتی اور معاشی گٹھ جوڑ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تاریخی الفاظ کہے:”معاہدہ مکہ صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ معاشی ترقی کا ایک نیا باب ہے۔ یہ تزویراتی شراکت داری ہماری ہنرمند افرادی قوت کو خلیج میں نیا تحفظ فراہم کرے گی اور سمندر پار پاکستانیوں کے سرمائے کو محض گھریلو اخراجات کے بجائے براہِ راست صنعتی سرمایہ کاری (FDI) میں تبدیل کرنے کا ایک سنہری موقع دے گی۔ ہم معاشی محاذ پر ایک ایسی خودمختاری کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں ہمیں کسی عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اوورسیز پاکستانیوں کے سرمائے کو صرف گھر چلانے کے بجائے براہِ راست صنعتی اور تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرناہے روایتی مزدوروں کے بجائے اب پاکستان سے آئی ٹی، دفاعی پیداوار اور انجینئرنگ کے ماہرین خلیجی ممالک بھیجے جا رہے ہیں، جس سے فی کس آمدنی اور ریمٹنسز میں تاریخی اضافہ متوقع ہے۔خام مال کی برآمد کے بجائے پاکستان میں تیار شدہ مصنوعات کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانا تاکہ تجارتی خسارہ مستقل طور پر ختم ہو سکے۔
“وزیراعظم کا یہ مؤقف ملکی معیشت کے نئے رخ کا تعین کرتا ہے۔
یہ ڈالرز کی مسلسل آمد ہی ہے جس کی بدولت آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے باوجود مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کو 11.50 فیصد کی مستحکم سطح پر برقرار رکھنے میں مدد مل رہی ہے۔




