مہنگائی سے پریشان عوام کیلئے عید پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ……………….
کالم..اندر کی بات…کالم نگار
….اصغر علی مبارک..). ………………………………………ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ہر چیز مہنگی سے مہنگی ترین ہوتی جا رہی ہے۔مہنگائی کے طوفان سے عوام بے حد پریشان تھے اتحادی حکومت کے وزیراعظم محمد شہباز شریف تو عوام کو عید پر ریلیف کی نوید سنا رہے تھےایسے میں عید الفطر کے موقع پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نے عید کی خوشیاں پھیکی کردیں ہیں اپنے پیاروں کیلئے عید پر جانے والے ہوش ربا قیمتوں سے پریشان ہیں میرا عوام سے مشورہ ہےکہ اپنی فیملی کے ساتھ بازاروں میں نہ جائیں وگرنہ سال بھر گھر سے طعنے مل سکتے ہیں
افراط زر (Inflation) زری معاشیات کی اہم اصطلاح ہے۔ تعریف کے مطابق کسی معیشت میں موجود اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی شرح کو افراط زر کہتے ہیں۔ افراط زر میں مسلسل اضافہ کا رجحان مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ افراط زر کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے سامان اور خدمات کی قیمتوں میں طویل مدتی اضافہ ہے۔ افراط زر کے مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب ہم غیر متوقع افراط زر کا تجربہ کرتے ہیں جو لوگوں کی آمدنی میں اضافے سے مناسب طور پر مطابقت نہیں رکھتی ہے۔ مہنگائی کے پیچھے خیال اچھے کے لیے ایک قوت ہے۔معیشت یہ ہے کہ ایک قابل انتظام کافی شرح حوصلہ افزائی کر سکتی ہےاقتصادی ترقی کرنسی کی قدر میں اتنی کمی کیے بغیر کہ یہ تقریباً بیکار ہو جاتی ہے۔ مرکزی بینک مہنگائی کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں – اور افراط زر سے بچتے ہیں – تاکہ معیشت کو آسانی سے چلایا جا سکے۔ افراط زر وہ شرح ہے جس پر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں کی عمومی سطح بڑھ رہی ہے اور اس کے نتیجے میں کرنسی کی قوت خرید گر رہی ہے۔ اگر اشیاء کی قیمتوں کے ساتھ آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو، ہر ایک کی قوت خرید کو مؤثر طریقے سے کم کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت سست یا جمود کا شکار ہو سکتی ہے. ڈیمانڈ پل انفلیشن ڈیمانڈ پل انفلیشن اس وقت ہوتی ہے جب مجموعی طلب غیر پائیدار شرح سے بڑھ رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے قلیل وسائل پر دباؤ بڑھتا ہے اور پیداوار میں مثبت فرق ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ پل انفلیشن ایک خطرہ بن جاتا ہے جب ایک معیشت نے عروج کا تجربہ کیا ہو۔مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) ممکنہ جی ڈی پی کے طویل مدتی رجحان کی نمو سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ لاگت کو بڑھانے والی افراط زر لاگت کو بڑھانے والی افراط زر اس وقت ہوتی ہے جب فرمیں اپنے منافع کے مارجن کو بچانے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کرکے بڑھتی ہوئی لاگت کا جواب دیتی ہیں. پچھلے سال کی قیمتوں میں ایک سو فیصد نہیں بلکہ دوسو فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اے سی دفاتر میں بیٹھ حکام بالا کوسب اچھے کی رپورٹ دے کر بری الذمہ ہورہے ہیں حکومت کی رٹ ختم ہو گئی ہے جس کو جہاں آ رہا ہے وہ وہاں پر عوام کا خون چوس رہا ہے، نا تو ضلعی حکومتیں عوام کے لئے سوچ رہی ہی اور نا ہی صوبائی حکومتیں عوام کے دکھوں کا درمان بن رہی ہیں جس کی وجہ سے عوام بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئے ہیں۔قیمتوں کاسن کرعوام اپنا سا منہ لے کر رہ جاتےہیں, وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے فی لیٹر کے اضافے کا اعلان کرکے مہنگائی کے مارے عوام پر ایک اور بم گرادیا ہے آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 10 روپے اضافہ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نےپیٹرول کی قیمت میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 10 روپے اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد نئی قیمت 272 سے بڑھ کر 282 روپے فی لیٹر ہوگی۔آئندہ پندہ روز کے لیے پیٹرول اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑھائی گئی ہے، حکومت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے کا اضافہ کررہی ہے جس کا اطلاق رات بارہ بجے سے ہوا۔ حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 282 روپے تک پہنچ گئی۔ مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 5 روپے 78 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد قیمت 186 روپے 7 پیسے پر پہنچ جائے گی۔ ڈیزل کی قیمت آئندہ 15 روز کیلیے 293 روپے پر برقرار رہے گی جبکہ لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 274 روپے پر برقرار رہے گی سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک میں روزانہ کی بنیادوں پر تقریباً ایک ارب روپے کے پٹرولیم مصنوعات کی کھپت ہوتی ہے۔ جس کا مظلب یہ ہے کہ ایک ہی ہفتے میں عوام پر روزانہ کے حساب سے تقریباً ساٹھ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔ گھی,چینی اور آٹے کی قیمتیں تو ایک جگہ ٹکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ عوام کی قوت برداشت جواب دے رہی ہے۔ ایک طرف عوام کو سادگی اور کفایت شعاری کا بھاشن پڑھایا جارہا ہے لیکن خود حکمران طبقہ شاہانہ طرز زندگی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔شاہانہ طرز زندگی کا یہ عالم ہے کہ عوامی نمائندوں کی اندرون شہر ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرنے پر لاکھوں روپے اڑائے جارہے ہیں,افسو س کی بات ہے کہ مملکت خداداد میں ایک طرف غریب لوگ غربت کے مارے مررہے ہیں تو دوسری طرف اسی ملک کے عوامی نمائندے اربوں روپے کے گھروں میں اس ملک کے غریب عوام کے مرنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ,

مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا حکمران عوام کو لالی پاپ دے رہے ہیں, پہلی حکومت چور تھی، اس سے پہلی حکومت بہت اچھی تھی وہ ہوتی تو یہ ہوتا یہ ہوتی تو وہ ہوتا مطلب کہ جتنے منہ اتنی باتیں اور جس کو جتنا پوائنٹ اسکورنگ کرنا آ رہا ہے وہ اتنی ہی پوائنٹ اسکورنگ کر رہا ہے مگر عوام کے لئے نہ تو کوئی سوچ رہا ہے اور نہ ہی حکمران عوام کے لئے کچھ کرنے کے موڈ میں ہیں کیونکہ ان کے ذہنوں میں صرف اور صرف اپنا پیٹ پالنا اور اور اپنی تمام تر عیاشیاں کرنی ہیں پھر چاہے ملک کا دیوالیہ ہی کیوں نا نکلے جائے پر ان کے شاہی اخراجات ختم نہیں ہونے ہیں اور نہ ہی ان کے پروٹوکول میں کوئی کمی آنی ہے۔ آئی ایم ایف سے موجودہ ڈیل کو سماجی اور سیاسی حلقوں کے علاوہ مذہبی حلقوں میں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ سال چھبیس رمضان کو وفاقی شرعی عدالت کی طرف سے واضح الفاط میں کہا گیا کہ سودی معیشت آئین پاکستان سے انحراف ہے۔ لہٰذا آئندہ پانچ سال تک ملک سے سودی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے لیکن آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان سود کی بنیاد پر موجودہ ڈیل ایک طرف آئین پاکستان سے انحراف ہے یہ کہ سودی نظام کا تسلسل اللہ اور اس کے رسولۖ کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ ہمارے ہاں ایک روشن فکر طبقے کی طرف سے دلیل دی جارہی ہے کہ سود کے بغیر نظام چل ہی نہیں سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اسی نظام میں ہمارے لئے کوئی خیر ہے تو ہمارا معاشی نظام مستحکم کیوں نہیں ہورہا سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بہت سارے مشکل فیصلے کیے تاکہ ڈالر کی اڑان اور ملک میں معیشت کو بہتر ڈگر پر لایا جا سکے مگر اس کے لئے اس سے پہلی والی حکومت نے جس طرح سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے جس طرح کے معاہدے کیے ہوئے تھے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کے پاس کچھ خاص کرنے کو نہیں تھا کیونکہ جس طرح سے پچھلی حکومت نے معاہدے کیے تھے ان سے کسی بھی صورت میں مفتاح اسماعیل منہ نہیں موڑ سکتے تھے کیونکہ پاکستان کی کریڈیبلٹی کا سوال تھا۔
سابق وزیر خزانہ اپنی وزارت کے دوران مشکل فیصلے تو کیے مگر وہ آئندہ آنے والے وقت میں پاکستان کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوتے مگر مسلم لیگ کی قیادت مفتاح اسماعیل کے مشکل فیصلوں سے نالاں دکھائی دی جس کے بعد وزیر خزانہ کو وزارت سے مستعفی ہونا پڑا۔جس کے بعد ٹھیک 6 ماہ کے بعد اسحاق ڈار نے 28 ستمبر 2022 ع کو وزیر خزانہ کا حلف لیا اور اس کے بعد مسلسل یہ کہا جا رہا تھا کہ ملک کو ڈالر کی اڑان کو قابو میں لانا ہے اور ملک کو مہنگائی کے طوفان سے نجات دلائیں گے۔ مگر ملک میں مہنگائی کا طوفان تھم تو نا سکا پر مزید بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ڈالر کی اڑان نے پاکستانی روپے کی قدر میں اس قدر کمی کردی ہے کہ پاکستانی روپے کی کوئی اوقات نہیں رہی ہے۔ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے کہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ہر چیز مہنگی سے مہنگی ترین ہوتی جا رہی ہے۔غریب طبقہ ایک وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہے اور حکمران ہیں کہ ان کے اخراجات پر کوئی بھی کمپرومائیز کرنے کے لئے تیار نہیں ہے باقی غریب عوام کا خون چوسنا ہے اس کے لئے ہر حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے آٹومیٹک ہر چیز مہنگی ہو جائے گی پہلے ہی اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں کو پر لگے ہوئے ہیں اور مزید پر لگ جائیں گے، آٹا تو پہلے ہی نایاب ہو چکا ہے لوگ لائنوں میں کھڑے ہو کر آٹا لے رہے ہیں,عوام اس مہنگائی سے اتنے تنگ آ چکے ہیں کہ اب تو مختلف شہروں سے بھوک اور افلاس کی وجہ سے خودکشیاں کرنے کی خبریں بھی مل رہی ہیں مگر ہمارے حکمرانوں کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ حکمران ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے میں پورے ہیں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی نہیں سوچتا ہم نے 1984 سے اب تک مختلف بین الاقوامی اداروں سے مختلف پروگرامز لئے ہیں لیکن ہماری معیشت روز بروز بد حالی کی طرف گامزن ہے۔ ہمارے بجٹ کا ایک ضحیم حصہ ہر سال سودی قرضوں کے سود کی مد میں چلا جاتا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی چنگل میں یوں پھنسے ہوئے ہیں کہ اب یہی مالیاتی ادارے ہمارے سیاہ و سفید کے مالک بن کر ہماری پالیسیاں ترتیب دے رہے ہیں۔ ہماری اصل آزادی سلب ہوئی ہے۔ اس وقت ملک کا بچہ بچہ تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار روپے کا مقروض ہے۔ اگر سود درسود کا یہی نظام کئی سال مزید جاری رہا تو ہماری حیثیت امریکہ اور مغربی اقوام کے زرخریدہ غلاموں کے سوا کچھ نہ ہوگی۔ادھر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پر پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہی کاکہناھےکہ عوام کے لیے 2 وقت کی روٹی کاحصول مشکل بنا دیا ہے۔موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل سستا لیکن پاکستان میں منہگا ہے، پیٹرول کی قیمت میں 10روپے فی لیٹر کا اضافہ ظلم ہے،چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی آشیواد حاصل کرنے کے لیےنااہل حکمران عوام کاخون چوس رہے ہیں