مکہ معاہدہ مسلم امہ کے نئے دفاعی بلاک کا تاریخی سنگِ میل
( اصغر علی مبارک)
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی جانب سے “مکہ معاہدے” اور سعودی عرب کے ساتھ “مشترکہ اسٹریٹجک باہمی دفاعی اتحاد” کو برادرانہ تعلقات کا تاریخی سنگِ میل قرار دیا جانا محض ایک روایتی سفارتی بیان نہیں ہے، بلکہ یہ بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹکس اور مشرقِ وسطیٰ سمیت جنوبی ایشیا کے دفاعی منظر نامے میں ایک بہت بڑی اور دور رس تبدیلی کا واضح اعلان ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین قائم ہونے والا یہ نیا ادارہ جاتی دفاعی مکینزم نہ صرف دونوں ممالک کے صدیوں پر محیط برادرانہ، مذہبی اور تزویراتی تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے گیا ہے، بلکہ اس نے علاقائی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے یکساں سوچ رکھنے والی مسلم طاقتوں کے اتحاد کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مکہ معاہدے کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیاہے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد، دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ شہباز شریف سے سعودی عرب کے نو تعینات سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر ڈاکٹر راجح تامی البقمی کو مبارکباد دی اور سعودی سفیر کی سفارتی ذمہ داریوں میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا حالیہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا، وسیع کرنے کے لیے موجودہ ادارہ جاتی مکینزم کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کےعزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ اور ’مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد‘ دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، یہ دونوں معاہدے علاقائی امن و سلامتی کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس اہم ترین پیش رفت کا پس منظر اس وقت مزید نمایاں ہوا جب وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے نو تعینات کردہ سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ وزیراعظم نے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر معزز سعودی سفیر کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ سفارتی محاذ پر دونوں ممالک کے باہمی عزم کا اعادہ کیا۔سعودی عرب کی سیکیورٹی، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا ایک غیر متبدل اور بنیادی ستون ہے دونوں ممالک کے مابین کئی دہائیوں پر محیط گہرے اسٹریٹجک اور سیکیورٹی تعلقات قائم ہیں، جس کے تحت پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانے میں صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ تناظر میں سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے پاکستان کا کردار درج ذیل اہم پہلوؤں پر مشتمل ہے: حالیہ سفارتی اور تزویراتی پیش رفت کے تحت، پاکستان اور سعودی عرب نے اپنے سیکیورٹی روابط کو باقاعدہ ایک وسیع البنیاد “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” اور “مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد” کی شکل دی ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کو مشترکہ خطرات (جیسے دہشت گردی، غیر ریاستی عناصر، اور سائبر حملے) کے خلاف انٹیلی جنس شیئرنگ اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے اشتراک کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ دہائیوں پرانے پاک سعودی دفاعی پروٹوکول کے تحت، پاکستان کی مسلح افواج کے دستے سعودی عرب میں مستقل طور پر تعینات رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور داخلی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
پاکستان آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے اعلیٰ افسران اور انسٹرکٹرز سعودی مسلح افواج کو جدید جنگی خطوط پر تربیت اور مشاورتی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والے اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیررازم کوالیشن کا ایک اہم ترین رکن ہے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف اس اتحاد کے پہلے کمانڈر ان چیف مقرر ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاعی اتحاد کی تنظیم نو کے لیے پاکستان کی عسکری قیادت اور مہارت پر بھرپور اعتماد کرتا ہے دونوں ممالک کی افواج باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقوں (جیسے “الصمصام” اور “الشہاب”) کا انعقاد کرتی ہیں تاکہ روایتی اور غیر روایتی جنگی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو نکھارا جا سکے۔
پاکستان اپنے دفاعی پیداواری ڈھانچے (جیسے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا اور پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ) کے ذریعے سعودی عرب کو جدید ترین آلات اور ہتھیاروں کی فراہمی میں معاونت کر رہا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے دفاعی اہداف کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ پاکستان نے ہر بین الاقوامی اور علاقائی فورم پر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ حرمین شریفین اور سعودی عرب کے امن و استحکام کو لاحق کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان عملی طور پر سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مکہ معاہدے کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیاہے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد، دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ شہباز شریف سے سعودی عرب کے نو تعینات سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر ڈاکٹر راجح تامی البقمی کو مبارکباد دی اور سعودی سفیر کی سفارتی ذمہ داریوں میں کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا حالیہ برسوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے، مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا، وسیع کرنے کے لیے موجودہ ادارہ جاتی مکینزم کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کےعزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں، ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ اور ’مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد‘ دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، یہ دونوں معاہدے علاقائی امن و سلامتی کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس اہم ترین پیش رفت کا پس منظر اس وقت مزید نمایاں ہوا جب وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے نو تعینات کردہ سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی نے اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی۔ وزیراعظم نے نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر معزز سعودی سفیر کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ سفارتی محاذ پر دونوں ممالک کے باہمی عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے تعلقات کی بنیادیں محض سیاسی یا اقتصادی فوائد پر استوار نہیں ہیں، بلکہ یہ عقیدے، مشترکہ اقدار اور باہمی اعتماد کے اس لازوال رشتے پر قائم ہیں جو قیامِ پاکستان سے بھی پہلے کا ہے۔ 1940 میں جب تحریکِ پاکستان اپنے عروج پر تھی، تو سعودی ولی عہد (بعد میں شاہ) فیصل بن عبدالعزیز نے برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد کی کھل کر حمایت کی تھی۔ پاکستان کے قیام کے بعد 1951 میں دونوں ممالک کے مابین پہلا باہمی دوستی کا معاہدہ طے پایا جس نے مستقل تعاون کی راہ ہموار کی۔دفاعی میدان میں یہ تعاون ہمیشہ سے غیر متزلزل رہا ہے۔ 1960 اور 1970 کے عشروں میں جب پاکستان نے اپنی فضائیہ اور بری افواج کو جدید خطوط پر استوار کیا، تو سعودی عرب نے اس میں بھرپور تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کی۔ اسی طرح، پاکستان کی مسلح افواج نے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، سعودی فوجیوں کی تربیت اور مملکت کی سرحدوں کی حفاظت میں ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے۔ 1982 کا پاک سعودی دفاعی پروٹوکول اس سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس کے تحت پاکستانی افواج نے حرمین شریفین اور مملکت کے دفاع کے لیے ہمیشہ اپنی خدمات پیش کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی موجودہ سفارتی اور تزویراتی حکمتِ عملی کے تحت، پاکستان اور سعودی عرب اب اپنے روایتی سیکیورٹی روابط کو باقاعدہ ایک وسیع البنیاد “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” اور “مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد” کی شکل دے چکے ہیں۔ اس معاہدے کے بنیادی محرکات اور مقاصد درج ذیل پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں:حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا دونوں خطوں کو غیر ریاستی عناصر، دہشت گردی، سائبر حملوں اور غیر روایتی جنگی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ مکہ معاہدہ دونوں ممالک کو ان تمام خطرات کے خلاف یکجا ہو کر انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے اشتراک اور مشترکہ فوجی مشقوں کے لیے ایک فعال اور ادارہ جاتی پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کا یہ ایک غیر متبدل اور بنیادی ستون رہا ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کے تقدس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ “مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد” اس عزم کو مزید مستحکم کرتا ہے کہ کسی بھی قسم کی بیرونی جارحیت کی صورت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
یہ معاہدہ محض افواج کی نقل و حرکت یا تربیت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک اہم ترین پہلو مشترکہ دفاعی پیداوار (Joint Defence Production) ہے۔ پاکستان کا مینوفیکچرنگ انفراسٹرکچر، جیسے کہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (PAC) کامرہ اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT)، سعودی عرب کے وژن 2030 کے دفاعی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر دونوں ممالک کو جدید ہتھیاروں اور آلات کی تیاری میں خود کفیل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی کے مابین ہونے والی گفتگو اس بات کی غماز ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب صرف روایتی امداد یا افرادی قوت کی فراہمی تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ ایک پائیدار اقتصادی شراکت داری میں بدل چکے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے اسٹریٹجک وژن 2030 کا ایک اہم حصہ دار بننے کے لیے پرعزم ہے۔


- خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC): پاکستان نے ملک میں سعودی سرمایہ کاری کو آسان اور تیز تر بنانے کے لیے SIFC کا جو پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے، اسے سعودی حکومت نے بے حد سراہا ہے۔ • معدنیات، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کے سعودی منصوبے اس وقت پیش رفت کے مراحل میں ہیں۔ مکہ معاہدہ مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کا ایک شاندار ماڈل پیش کرتا ہے۔ یہ اتحاد کسی تیسرے ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، بلکہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا اور امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے، تاکہ دونوں اقوام معاشی ترقی پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔
مکہ معاہدے کا انعقاد اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا اتحاد وقت کے ہر امتحان پر پورا اترا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوا ہے۔ عالمی منظر نامے میں جہاں اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں، وہاں پاک سعودی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے استحکام کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بن کر ابھرا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ عزم کہ “پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور کھڑے رہیں گے”، دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ نو تعینات سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقمی کی سربراہی میں سفارتی مشن اس اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید عملی اور مستحکم جامہ پہنائے گا، جس کے اثرات آنے والے عشروں میں پورے خطے کے امن، خوشحالی اور دفاعی خودمختاری کی صورت میں نمایاں ہوں گے۔
پاکستان، سعودی عرب کے اسٹریٹجک وژن 2030 کا ایک اہم حصہ دار بن چکا ہے، جہاں دونوں ممالک اب روایتی اقتصادی تعاون سے آگے بڑھ کر ایک طویل المیعاد تزویراتی اور ترقیاتی شراکت داری میں داخل ہو چکے ہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن 2030، جس کا مقصد سعودی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنا اور اسے جدید، متنوع اور ہنرمند خطوط پر استوار کرنا ہے، پاکستان کے لیے بے پناہ مواقع لے کر آیا ہے۔
پاکستان اس تاریخی وژن میں درج ذیل کلیدی شعبوں کے ذریعے اپنا فعال اور اہم کردار ادا کر رہا ہے
سعودی عرب کے میگا پراجیکٹس، جیسے کہ مستقبل کا جدید ترین شہر نیوم (NEOM)، قدیہ، اور بحیرہ احمر کے سیاحتی منصوبے، بڑے پیمانے پر پیشہ ورانہ مہارت کے متقاضی ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ خزانہ کے مطابق، پاکستان کے پاس آئی ٹی، انجینئرنگ، صحت، اور جدید تعمیراتی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت موجود ہے جو وژن 2030 کے ان مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل اہداف کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
پاکستان نے سعودی کمپنیوں کی ملک میں آمد کو تیز کرنے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کا سنگل ونڈو پلیٹ فارم قائم کیا ہے۔ وژن 2030 کے تحت سعودی کاروباری گروپس (جیسے اسیاد گروپ اور وافی انرجی) پاکستان کے توانائی، کان کنی، زراعت، فوڈ سیکیورٹی، اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے کاروباری نظام کو آپس میں جوڑتا ہے۔ سعودی عرب کی نئی تجارتی پالیسیوں کے تحت، جو 100٪ غیر ملکی ملکیت اور آسان بینکنگ چینلز کی اجازت دیتی ہیں، پاکستانی کارپوریٹ کمپنیوں اور پرائیویٹ لمیٹڈ فرمز کو سعودی عرب کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت میں براہ راست سرمایہ کاری اور توسیع کے مواقع مل رہے ہیں۔ مزید برآں، وژن 2030 کا حصہ “مکہ روٹ انیشیٹو” پاکستانی حجاج اور عمرہ زائرین کے لیے امیگریشن کے عمل کو آسان بنا کر سفری و سیاحتی رابطوں کو مضبوط کر رہا ہے۔
یہ تزویراتی شراکت داری واضح کرتی ہے کہ پاکستان اب محض ایک روایتی برادر ملک نہیں، بلکہ سعودی عرب کے مستقبل کے معاشی اور ترقیاتی وژن کا ایک ناگزیر ستون ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری دونوں ممالک کے معاشی تعلقات میں ایک نئے اور تاریخی باب کا آغاز ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 اور پاکستان کے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے اشتراک سے یہ سرمایہ کاری روایتی مالی امداد کے بجائے اب طویل المیعاد اسٹریٹجک شراکت داری میں بدل چکی ہے۔
پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے کلیدی اور اہم ترین شعبے درج ذیل ہیں: سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو (Aramco) پاکستان میں ایک جدید اور بڑی آئل ریفائنری قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس پر اربوں ڈالر کی لاگت کا تخمینہ ہے۔ آرامکو نے پاکستان کے معروف فیول نیٹ ورک (جیسے گیس اینڈ آئل پاکستان لمیٹڈ – GO) کے حصص خرید کر پاکستان کے ریٹیل فیول مارکیٹ میں براہ راست قدم رکھ دیا ہے۔ اس کے علاوہ شمسی اور متبادل توانائی کے شعبوں میں بھی سعودی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ بلوچستان میں تانبے اور سونے کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر میں سے ایک، ریکوڈک منصوبے میں سعودی عرب کا “منارہ منرلز” گروپ بڑے پیمانے پر حصص خریدنے اور سرمایہ کاری کرنے کے لیے حتمی مذاکرات کے مراحل میں ہے۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کے مائننگ سیکٹر کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔ سعودی عرب اپنی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید بنانے کے لیے کارپوریٹ فارمنگ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے لائیو اسٹاک اور فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے کئی معاہدے طے پا چکے ہیں۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے تحت سعودی عرب کے نجی اور سرکاری شعبے کے مابین کئی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب کا “اسیاد گروپ” اور “وافی انرجی” جیسے ادارے پاکستان میں لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ، اور ہوا بازی کے شعبوں میں نیٹ ورک کو وسعت دے رہے ہیں۔
یہ سرمایہ کاری نہ صرف پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام دے رہی ہے بلکہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی لانے کا باعث بھی بن رہی ہے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری اور معاشی پیکجز کا حجم اب 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر رہا ہے، جو کہ دونوں ممالک کے مابین روایتی مالی امداد کے بجائے ایک مضبوط طویل المیعاد اسٹریٹجک معاشی شراکت داری کا عکاس ہے۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور سعودی عرب کے وژن 2030 کے مشترکہ فریم ورک کے تحت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو (Aramco) گوادر میں ایک جدید ترین آئل ریفائنری اور پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کے قیام کے لیے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر کام کر رہی ہے۔ پاکستان نے اس منصوبے کو راغب کرنے کے لیے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ کی منظوری دی پاکستان کو انرجی مارکیٹ میں ریلیف دینے کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جبکہ پاکستان نے اس انرجی سیکیورٹی کو طویل المیعاد بنانے کے لیے مزید 15 سالہ فریم ورک کی درخواست بھی پیش کی ہے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع دنیا کے اس سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے ذخائر کے منصوبے پر پیش رفت انتہائی مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے سعودی عرب کا مائننگ فنڈ منارہ منرلز حکومتِ پاکستان کے 25 فیصد حصص میں سے 15 فیصد سٹیک (Stیک/حصص) تقریباً 540 ملین ڈالر میں خریدنے کے لیے مذاکرات کے آخری مراحل میں ہے۔ اس معاہدے کو پاکستان کی اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل کی توثیق حاصل ہو چکی ہے۔ سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ نے بلوچستان میں مائننگ سیکٹر کے بنیادی ڈھانچے اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے مزید 150 ملین ڈالر دینے کی پیشکش کی ہے۔
کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ جو اس منصوبے کی 50 فیصد مالکن اور آپریٹر ہے، نے خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور فنانسنگ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ڈویلپمنٹ سرگرمیوں کی رفتار کو عارضی طور پر سست کیا ہے تاکہ مڈ 2027 تک جامع اسیسمنٹ مکمل کی جا سکے۔ تاہم، بیرک گولڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کی شمولیت کا بھرپور خیرمقدم کرتی ہے۔ گوادر میں لگائے جانے والے اس میگا پروجیکٹ پر بھی دونوں ممالک روڈ میپ کو حتمی شکل دے رہے ہیں: سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو اس جدید ترین گرین ریفائنری کے قیام کے لیے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سعودی عرب کے معروف بزنس گروپ “فالکن ویژن” نے پاکستان کے انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، کنسٹرکشن اور انڈسٹریل سیکٹرز میں 10 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت اس منصوبے کو راغب کرنے کے لیے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ اور خصوصی مراعات فراہم کی ہیں۔ سعودی حکام نے پاکستان سے اس حوالے سے تجاویز اور پالیسی اقدامات پر تفصیلی ڈیٹا طلب کیا ہے۔ ریفائنری کے متوازی، آرامکو نے پاکستان میں ریٹیل فیول مارکیٹ (گیس اینڈ آئل پاکستان – GO) کے شیئرز خرید کر اپنے کاروباری آپریشنز کو پہلے ہی بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ تازہ ترین سفارتی ملاقاتوں کے مطابق، پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی حکام مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر کے فوری سرمایہ کاری روڈ میپ کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جس میں ریکوڈک، گرین ریفائنری اور دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے شامل ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور IMF کے سالانہ اجلاسوں کے سائیڈ لائنز پر سعودی فنڈ کے سی ای او سے ملاقات کی ہے، جہاں پاکستان نے انرجی سیکیورٹی کے لیے سعودی عرب سے 15 سال کی طویل مدت کے لیے 6.7 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت مانگی ہے۔
یہ دونوں منصوبے پاکستان کی معاشی خودمختاری اور طویل المیعاد ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔



