ماہِ رمضان برکتوں، رحمتوں اوربخشیشوں کامہینہ ”اللہ کا مہینہ“
تحریر وترتیب؛اصغر علی مبارک;کوروناوائرس کی تباہ کاریوں سےموجودہ حالات میں جب دنیا بھرمیں نسل انسانی کو معاشی، اقتصادی ، سماجی، معاشرتی، سیاسی ,اور اخلاقی مسائل بقا انسانیت کا سامنا ہے مسلمانوں کے لیے ماہ رمضان برکتوں، رحمتوں ،بخشش اور دنیاوی عذاب سے نجات حاصل کرنے کا ایک اہم موقع ھےماہ رمضان المبارک کے دوران ھم انفرادی اور اجتماعی طور پر ایک دوسرے کی مدد ،توبہ استغفار کرکے روحانی وقلبی سکون کے ساتھ آخرت کو سنوار سکتے ہیں ماہِ رمضان ”شہراللہ“ یعنی اللہ کا مہینہ ہے، اس مہینے میں خدا کی طرف سے برکتوں، رحمتوں اوربخششوں کا نزول ہوتا ہےیہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے بندوں کومعنوی نعمات سے فیضیاب ہونے اوران سے استفادہِ کی دعوت دی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد خدا وندی ھے , شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِج فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُط وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا ﷲ عَلٰی مَا هَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo
(البقرة، 2: 185)
’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لیے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘
خدا کی جانب توجہ، اعمالِ صالحہ کی جانب رجحان اور روزے کی فرضیت کی بنا پر یہ مہینہ تزکیہ و تہذیب ِ نفس اور گناہوں سے چھٹکارے اور نجات کا مہینہ ہے۔
احادیث و روایات میں اس مہینے کو قرآن کی بہار قرار دیا گیا ہےلوگ اس مہینے میں قرآن کی جانب متوجہ ہوتے ہیںسال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں ماہِ رمضان کے ایام میں قرائت ِ قرآن کا زیادہ اہتمام ہوتا ہے۔
پھر اس مہینے میںروزے فرض کر کے، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو مزید امتیاز دیا ہے اوردوسرے اسباب کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس، روحانی بالیدگی اورمعنوی پاکیزگی کیلئے روزے کی صورت میں ایک اور جامع دستور ِعمل فراہم کیا ہے۔ماہ رمضان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب افطار کرتے تو فرماتے۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا۔امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنی ایک دعا میں اللہ رب العزت سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیںماہِ رمضان کی فضیلتوں سے آگاہ فرمائےآپ ؑ فرماتے ہیں :
اَللّٰهُمَّ صَلِّی عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَلْهِمْنٰا مَعْرِفَةَ فَضْلِهِ وَاِجْلاٰلَ حُرْمَتِهِ وَ التَّحَفُّظَ مِمّٰا حَظَرْتَ فیهِ
بارِ الٰہا! محمد اور آلِ محمدپر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس مہینے کی فضیلت و برتری جاننے، اس کی عزت و حرمت کو ملحوظ رکھنے اور جن چیزوں سے اس مہینے میں تو نے منع کیا ہے، ان سے اجتناب کی ہدایت فرما(صحیفہ سجادیہ۔ دعا نمبر۴۴)
۱:لفظ رمضان کے معنی
۲:اسلام سے پہلے ماہِ رمضان کا مقام
۳:رمضان، ماہِ نزولِ قرآن
۴:ماہِ رمضان میں شب ِ قدر کا وجود
۵:خدا کا مہینہ اور شفاعت کرنے والا مہینہ
۶:ماہِ رمضان کا مخصوص تقدس
۷:احادیث کی رو سے ماہِ رمضان کی فضیلت
لفظ رمضان کے معنی
عربی لغت کے ماہرین کی تشریحات کے مطابق ”رمضان“ لفظ ”رمض“ سے لیا گیا ہے اور انہوں نے ”رمض“ کے معنی بیان کرتے ہوئے دو مفاہیم کا تذکرہ کیا ہے۔
۱:-”العین“ نامی عربی لغت کے مئولف خلیل بن احمد کے بقول: ”رمض“ کے معنی موسمِ خزاں میں ہونے والی بارش ہے، جو سطح زمین سے گردوغبار اور گندگی کو دھو ڈالتی ہے۔
اس بنیاد پر، اس مہینے کو رمضان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی روح کو اور اس کے نفس کو آلودگیوں اور نجاستوں سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔
۲:-طریحی نے ”مجمع البحرین“ میں اور احمد بن محمد نے ”مصباح المنیر“ میں لفظ رمضان کو ”رمض“ اور ”رمضا“ سے ماخوذ قرار دیا ہےجس کے معنی وہ گرم اور سلگتی ہوئی ریت اور پتھر ہیں جو سورج کی براہِ راست تپش سے جھلسنے لگتے ہیں۔
طریحی نے ”مجمع البحرین“ میں کہا ہے کہ: رَمَضَتْ قَدَمُهُ بِالْحرّ، اُحْتِرُقَتْ (رَمَضَتْ قَدَمُهُ یعنی اس کے پائوں جل گئے)
لہٰذا اس ماہِ مبارک کو رمضان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے گناہ اور گمراہیوں کے اسباب ختم کرکے، انسان کے راستے سے کمال کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتا ہے، اور اس کے اخلاق کی اصلاح اور پاکیزگی کیلئے مواقع فراہم کرتا ہے۔
”زمخشری“ کہتے ہیں کہ: اس ماہ کو رمضان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس مہینے میں گناہ جل کرختم ہوجاتے ہیں(تفسیر کشاف سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۸ کی تفسیر میں)
جبکہ کچھ احادیث کے مطابق ”رمضان“ خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہےسعد بن طریف کہتے ہیں: ہم سترہ افراد، امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھےاس محفل میں رمضان کا ذکر چھڑ گیا، امام ؑنے فرمایا:
لاٰ تَقوُلوُ هذٰا رَمضٰانٌ، وَلاٰ ذَهَبَ رَمَضٰانٌ، وَلاٰ جٰاءَ رَمَضٰانُ، فَاِنَّ رَمَضٰانَ اِسْمٌ مِنْ أَسْمٰائِ اللّٰهِ عَزَّوَ جَلَّ لاٰ یَجِیی ءْوَلاٰ یَذْهَبُ
یہ نہ کہا کروکہ یہ رمضان ہے اور رمضان گیا، رمضان آیا، کیونکہ رمضان اللہ رب العزت کے ناموں میں سے ایک نام ہےجس کا آنے اور جانے (اور تغیر و تبدل) سے کوئی تعلق نہیں پھر فرمایاکہا کرو کہ: ماہ ِرمضان( فروع کافی ج ۴۔ ص ۶۹ اور۷۰)
دوسری متعدد احادیث میں بھی ماہ ِرمضان کو ”شہر اللّٰہ“ کہا گیا ہے۔
اس طرح یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ دوسرے مہینوں پراس مہینے کی خاص ظاہری اور باطنی فضیلت کی وجہ سے اسے ”رمضان“ کا نام دیا گیا ہےیہ مہینہ گناہ کے اسباب و عوامل کے خاتمے اور ان سے چھٹکارے کا مہینہ ہےاس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ ”شہر اللّٰہ“ (اللہ کا مہینہ) ہےوہ مہینہ جسے خدا وندِ عالم نے اپنے آپ سے نسبت دی ہے اور اسے اپنا نام دیا ہے۔
۲۔ اسلام سے پہلے ماہِ رمضان کا مقام
اس مہینے کو صر ف اسلام میں اور بعثت نبویؐ کے بعد ہی فضیلت و برتری حاصل نہیں ہوئیبلکہ اسلام سے پہلے بھی یہ اسی حیثیت کا حامل تھازمانی لحاظ سے اس مہینے کی ایک فضیلت یہ ہے کہ تمام آسمانی کتب اسی مہینے میں انبیا پر نازل ہوئیںاس بارے میں امام جعفرصادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:
نَزَلَتِ التَّوْراٰةُفی سِتِّ مَضَیْنَ مِنْ شَهرِ رَمَضٰانَ، وَ نَزَلَ الإنْجیلُ فی اِثْنَتیٰ عَشَرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهرِ رَمَضٰان، وَ نَزَلَ الزَّبُورُ فی ثَمٰانِیَ عَشَرَ مَضَتْ مِنْ شَهرِ رَمَضٰان، وَ نَزَلَ الْفُرقٰانُ فی لَیْلَةِ الْقَدْرِ
تورات ماہ ِرمضان کی چھے تاریخ کو نازل ہوئی، انجیل ماہ ِرمضان کی بارہ تاریخ کو نازل ہوئی، زبور ماہِ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو نازل ہوئی اور قرآن مجید شب ِ قدر میں نازل ہوا(بحار الانوار۔ ج۱۲۔ ص۷۵)
اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ارشاد ہے کہ:صحف ِابراہیم (علیہ السلام) ماہِ رمضان کی پہلی رات کو نازل ہوا تھا(وسائل الشیعہ ج۷۔ ص۲۲۵)
اسلام سے پیشتر بھی، ماہِ رمضان کی فضیلت و بزرگی کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ رسول کریمؐ اپنی بعثت سے قبل بھی ماہ ِرمضان کا خاص احترام کیا کرتے تھے، اس کے خاص تقدس کے قائل تھےآپؐ ہر سال ماہ ِمبارک رمضان میں کوہ ِحرا کی چوٹی پر تشریف لے جاتے، وہاں غارِ حرا میں معتکف ہو کر عبادتِ الٰہی انجام دیتے، اس مہینے کے اختتام پر کوہ ِحرا سے اتر کر سب سے پہلے ”بیت اللہ“ جاتے، سات مرتبہ اس کے گرد چکر لگاتے، اور اس کے بعد اپنے درِ دولت واپس تشریف لاتے(سیرۃ ابن ہشام۔ ج ۱۔ ص ۲۵۱، ۲۵۲)
رسولِ کریمؐ ماہ ِرمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں بھی عبادت کیلئے کوہِ حراپر تشریف لے جاسکتے تھےآخر کیا وجہ تھی کہ آپؐ نے اس مقصد کے لئے ماہ ِرمضان ہی کا انتخاب کیا؟ آنحضرت ؐ کا ماہ ِرمضان کو منتخب کرنا، یقیناً دوسرے مہینوں پر اس ماہ کے خصوصی امتیاز کا اظہار ہے۔
۳۔ رمضان، ماہِ نزولِ قرآن
ماہِ رمضان کے سوا سال کے کسی اور مہینے کا نام قرآنِ مجید میں نہیں آیا ہےقرآنِ کریم میں اس مہینے کا ”نزولِ قرآن“ کے مہینے کے طور پر ذکر کیا گیا ہےسورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۸۵میں ارشادِ الٰہی ہے کہ :
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ، فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ
ماہ ِرمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے، جو لوگوںکے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیںلہٰذا جوشخص اس مہینے کو پائے، اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے۔
مذکورہ بالا آیت کے علاوہ بھی قرآنِ مجید میں اور متعدد آیات موجود ہیں، جو ماہِ رمضان اور شب ِ قدر میں نزولِ قرآن پر دلالت کرتی ہیںجیسے سورہ قدر کی پہلی آیت اور سورہ ٔدخان کی تیسری آیت۔
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَة الْقَدْرِ
بے شک ہم نے اسے (یعنی قرآن ِمجید کو) شب ِ قدر میںنازل کیا ہے(سورہ قدر۹۷۔ آیت۱)
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیلٍَ مُّبٰرَکٍَ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ
ہم نے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے، ہم بے شک عذاب سے ڈرانے والے تھے(سورہ ٔدخان۴۴آیت۳)
ان آیاتِ قرآنی سے بخوبی یہ بات روشن ہے کہ قرآنِ مجید، پیغمبر اسلامؐ پرماہِ مبارک رمضان میں نازل ہوا ہےالبتہ اس مہینے میں آنحضرتؐ پر نزولِ قرآن کی کیفیت کیا تھی؟ اس بار ے میں ایک علیحدہ گفتگو کی ضرورت ہے، جس کا یہاں موقع نہیں۔
لہٰذا ماہ ِرمضان میں قرآنِ مجید کا نازل ہونا، اس مہینے کی فضیلت اور بزرگی پرایک اور دلیل ہےقرآنِ مجید جو حق اور باطل کو واضح کرتا ہے، جو تزکیہ و تعلیم کاذریعہ اور انسان کے رشد و کمال کا موجب ہے۔
۴۔ماہ ِرمضان میں شب ِقدر کا وجود
دوسرے تمام مہینوں پر ماہِ رمضان کی فضیلت اور بزرگی کی ایک علامت یہ ہے کہ شب ِ قدر اسی مہینے میں ہے، وہ رات جس کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے کہ:
لَیْلَُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْر
شب ِقدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے(سورہ قدر ۹۷آیت۳)
ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا: اس سے کیا مراد ہے کہ: شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے؟ امام ؑنے جواب دیا: اس سے مراد یہ ہے کہ اس رات میں انجام دیا جانے والا نیک عمل، ایسے ہزار مہینوں میں انجام دیئے جانے والے نیک عمل سے بہتر ہے، جن میں شب ِ قدر نہیں ہوتی(فروع کافی۔ ج ۴ص ۱۵۸)
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ شب ِ قدر، اسلام کے بعد کی تاریخ سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام سے پہلے بھی موجود تھیجیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے:
کتابِ خدا میں، خدا کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہےآسمانوں اور زمین کی خلقت کے آغاز سے اب تک اورجب مہینوں کاآغاز ہوا اس وقت سے ماہِ رمضان موجود رہا ہے اور قلب ِ ماہِ رمضان شب ِ قدر ہے(وسائل الشیعہ ج۷ص۲۵۸)
۵۔خدا کا مہینہ اور شفاعت کرنے والا مہینہ
احادیث میں پیغمبر اسلامؐ اورائمہ معصومین ؑکی زبانی، ماہ ِرمضان کے لئے متعدد نام ذکر ہوئے ہیںمثلاً ماہ ِتوبہ، ماہ ِمواسات، ماہ ِانابہ، ماہ ِمحوِ سیئات، ماہ ِصبر، ماہِ مغفرت، ماہ ِضیافۃاللہ، ماہِ قیام، ماہ ِاسلام، ماہِ طہور، ماہِ تمحیص (ماہ ِتصفیہ)(۱) وغیرہ۔ ۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہ مہینہ ”شھر اللّٰہ“ (اللہ کا مہینہ) ہےجیسے کہ پیغمبر اسلام ؐنے خطبہ شعبانیہ کے آغاز میں فرمایا ہے کہ:
اَیُّهَا النّٰاسُ! اِنَّةُ قَدْ اَقْبَلَ اِلَیْکُمْ شَهرُ اللّٰهِ
اے لوگو! بے شک، اللہ کا مہینہ، تمہاری طرف آرہا ہے(عیون اخبار الرضاج ۱۔ ص ۲۹۵)
یعنی خدا وند ِعالم نے زمانے کے اس حصے کو اپنے آپ سے نسبت دی ہےاور یہی نسبت جسے ”اضافہ تشریفیہ“ کہتے ہیں، ماہِ رمضان کے غیر معمولی شرف اور اسکی منزلت کو نمایاں کرتی ہے۔
ایک اور موضوع قیامت میں ماہِ رمضان کے درخشاں چہرے کے ساتھ ظاہر ہونے کا موضوع ہےماہِ رمضان، میدانِ حشر میں بہترین اورخوشنما ترین صورت میںسامنے آئے گا اور جن لوگوں نے اس کا احترام کیا ہوگا ان کی شفاعت کرے گاخداوندِ عالم اس درخشاں چہرے کو جنتی لباس دے گا، سچے مومن اس کے نزدیک آئیں گے اور دنیا میں جس قدر انہوں نے اس کی اطاعت کی ہوگی ان لباسوں میں سے اسی قدر لباس حاصل کریں گےاور روایات کے الفاظ میں: فَیُشَرِّفُھُمُ اللّٰہُ بِکَراٰماتِہِ (اس طرح خدا وندِعالم اپنی کرامات کے ذریعے انہیں افتخار اور منزلت بخشتا ہےبحار انوارج ۳۷ص۵۳)
۱ان ناموں میں سے بعض کا ذکر صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر ۴۴ میں آیا ہے۔
۶۔ماہِ رمضان کا مخصوص تقدس
دوسرے مہینوں پر ماہِ رمضان کو حاصل مخصوص تقدس کو جو امور واضح کرتے ہیں، ان میں سے ایک امر یہ ہے کہ اس مہینے میں کئے گئے گناہوں کی سزا، دوسرے مہینوں میں کئے گئے گناہوں کی سزا سے کہیں زیادہ شدید ہوگیلہٰذا روایت کی گئی ہے کہ جب حضرت علی ؑکے شیعوں میں سے ”نجاشی“ نام کے ایک شاعر نے ماہ ِرمضان میں شراب پی، تو حضرت علی ؑ نے شراب نوشی کی حد کے طور پرا سے اسی کوڑے لگائےاسکے بعد اسے ایک رات کے لئے قید خانے میں ڈالوایا، اور اگلے دن مزید بیس کوڑے اسے لگائےاس نے عرض کیا: اے امیر المومنین ؑ! آپ نے شراب نوشی کی حد کے طو رپرمجھے اسّی کوڑے مارے، پس اب یہ بیس کوڑے مجھے کیوں مارے گئے ہیں؟
حضرت ؑنے جواب دیا:
هٰذٰا لِتَجَرِّیکَ عَلیٰ شُرْبِ الْخَمْرِ فی شَهرِ رَمضٰان
یہ بیس کوڑے، ماہِ رمضان میں شراب نوشی کی جسارت کی وجہ سے تمہیں مارے گئے ہیں(فروع کافی۔ ج۷ص۲۱۶)
۷۔احادیث کی رو سے ماہ ِرمضان کی فضیلت
پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ معصومین ؑ کے کلام میں، مختلف تعبیروں کے ذریعے ماہِ رمضان کی بزرگی اور فضیلت کو بیان کیا گیا ہےان تعبیروں میں سے ہر تعبیر دوسرے مہینوں پر اس مہینے کی عظمت کی نشاندہی کرتی ہےیہاں آپ کی خدمت میں چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
۱:- پیغمبر اسلامؐ نے ماہ ِشعبان کے آخری جمعے کو، جبکہ ماہِ رمضان کی آمد آمد تھی، مسجدنبوی میں اس مہینے کی فضیلت اور شان میں ایک خطبہ ارشاد فرمایااس خطبے کے ہر حصے میں ماہِ رمضان کی کسی فضیلت کو بیان کیا گیا ہےکیونکہ یہ کافی طویل خطبہ ہے، اس لئے ہم اس کا صرف ابتدائی حصہ یہاں نقل کر رہے ہیں۔
اَیُّهَا النّٰاسُ اِنَّهُ قَدْ اَقْبَلَ اِلَیْکُمْ شَهرُ اللّٰهِ بِالْبَرَکَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ، شَهرٌ هُوَ عِنْدَاللّٰهِ اَفْضَلُ الشُّهُورِ، اَیّٰامُهُ اَفْضَلُ الاَیّٰامِ، وَلَیاٰلِیهِ اَفْضَلُ اللَّیاٰلِی، وَ ساٰعٰاتُهُ اَفْضَلُ السّٰاعٰاتِ، هُوَ شَهرُدُعِیتُمْ فیهِ اِلیٰ ضِیٰافَةِ اللّٰهِ، وَ جُعِلْتُمْ فیهِ مَنْ اَهلِ کَرَامَةِ اللّٰهِ، اَنْفٰاسُکُمْ فیهِ تَسْبیحٌ، وَنَوْمُکُمْ، فیهِ عِبٰادَةٌ وَ عَمَلُکُمْ فیهِ مَقْبُولٌ، وَ دُعاؤُکُمْ فیهِ مُسْتَجٰابٍ
اے لوگو! بے شک خدا کا مہینہ (ماہ ِرمضان) اپنی برکت، رحمت اور مغفرت لئے، تمہاری طرف رواں دواں ہےیہ مہینہ خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے، اس کے دن بہترین دن ہیں، اس کی راتیں بہترین راتیں ہیں، اس کی ساعتیں بہترین ساعتیں ہیںیہ وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں خدا کے یہاں ضیافت پر مدعو کیا گیا ہے اور تم اس مہینے میں خدا کی کرامت کے اہل ہوئے ہو۔
اس مہینے میں تمہاری سانسیں تسبیح کا ثواب رکھتی ہیں اور تمہارا سونا عبادت کا اجر رکھتا ہے، اس مہینے میں تمہارے اعمال درگاہ ِالٰہی میں مقبول اور تمہاری دعائیں قبول ہیں(عیون اخبار الرضاج ۱۔ ص۲۹۵)
خطبے کے اس حصے میں پایا جانے والا قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ ماہِ رمضان میں مومن انسان کا سانس لینا بھی خدا کی تسبیح کا ثواب رکھتا ہےحالانکہ سانس کے ذریعے انسانی بدن کے اندر کی آلودہ ہوا خارج ہوتی ہےاگر یہ ہوا خارج نہ ہو تو انسان کا دم گھٹ جائے اور اسکی موت واقع ہوجائےاس کے باوجود یہی سانس ماہ ِرمضان میں خدا کی تسبیح کا ثواب رکھتی ہےاسی طرح یہاںاس مہینے میں انسان کا سونا بھی عبادت قرار دیا گیا ہےجبکہ صورت یہ ہے کہ عبادت کے لئے نیت اور ہوش و حواس کا ہونا ضروری ہے، نیز اسے اختیارکے ساتھ انجام دیا جانا چاہئےجبکہ نیند کے عالم میں نیت، ہوش اور اختیار و ارادے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاپھر بھی ماہِ رمضان میں یہی نیند درگاہ ِالٰہی میں عبادت تسلیم کی جاتی ہے۔
۲:-صحیفہ سجادیہ میں امام زین العابدین علیہ السلام ایک دعا کے ایک حصے میں اس بات کا شکر ادا کرنے کے بعد کہ خداوند ِعالم نے ماہ ِرمضان کو حق تک پہنچنے کا ایک راستہ قرار دیا ہے، فرماتے ہیں:
فَاَبٰانَ فَضِیلَتَهُ عَلیٰ ساٰئِرِ الشُّهُورِ بِماٰ جَعَلَ لَهُ مِنَ الْحُرُماٰتِ الْمَوْفُورَةِ، وَالْفَضاٰئِلِ الْمَشْهُوْرَةِ
چنانچہ (اللہ نے) دوسرے مہینوں پر اس ماہ کی فضیلت اور برتری کو اس کے انتہائی تقدس اور اس کی آشکارا فضیلتوں کی وجہ سے واضح فرمایا(صحیفہ سجادیہدعا ۴۴)
۳:- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک کلام میں فرمایاہے:
مُحَمَّدٌ فی عِباٰدِ اللّٰهِ کَشَهرِ رَمَضاٰن فِی الشُّهُورِ
بندگانِ خدا کے درمیان محمد کی حیثیت ایسی ہی ہے، جیسی مہینوں کے درمیان ماہِ رمضان کی حیثیت( بحار الانوارج۳۷ص۵۳)
۴:- نیز آنحضرت ؐہی کا ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ اِخْتاٰرَ مِنَ الأَیّاٰمِ الْجُمُعَةَ، وَ مِن الشُّهُورِ شَهرَ رَمَضاٰن، وَ مِنَ اللَّیاٰلِی لَیْلَةَ الْقَدْرِ
بے شک خدا نے دنوں میں سے جمعے کے دن کو منتخب کیا ہے، مہینوں میں سے ماہِ رمضان کو چُنا ہے اورشبوں میں سے شب ِ قدر کا انتخاب کیا ہے( بحار الانوار۔ ج ۳۶ص۳۷۲ اور۲۹۶)
۵:-حضرت سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ :پیغمبر اسلام ؐ نے اپنی ایک گفتگو کے دوران فرمایا: جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے، اور کہا کہ خداوند عالم فرماتا ہے:
شَهرُ رَمَضاٰن سَیّدُ الشُّهُورِ، وَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ سَیِّدَ ةٌاللَّیاٰلی، وَالْفِرْدَوْسُ سَیِّدُ الْجَناٰنَ
ماہ ِرمضان مہینوں کا سردار، شب ِ قدر شبوں کی سردار ہے اور فردوس جنت کے باغات کی سردار ہے(بحار الانوار۔ ج۴۰ص۵۴)
ایک دوسری گفتگو میں آپؐ نے فرمایا:
جمعہ دنوں کا سردار، رمضان مہینوں کا سردار، اسرافیل فرشتوں کا سردار، آدم انسانوں کے سردار، میں پیغمبروں کا سردار اور علی اوصیاء کے سردارہیں(بحار الانوار۔ ج۴۰ص۴۷)
۶:-امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنی ایک گفتگو کے دوران فرمایا:
عِزُّالشُّهُورِ شَهرُ اللّٰهِ شَهرُ رَمَضاٰن، وَقَلْبُ شَهرُ رَمَضاٰنَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ
مہینوں کی عزت، خدا کا مہینہ رمضان ہے اور ماہِ رمضان کا دل شب ِ قدر ہے( تہذیب الاحکام۔ ج ۱۔ ص ۴۰۶)
۷:-پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ شعبانیہ کے ایک حصے میں ماہِ مبارک رمضان کی شان میں فرمایا:
اَنَّ أَبْواٰبَ الْجَناٰنِ فی هٰذَا الشَّهرِ مُفَتَّحَةً فَاسْئلُوا رَبَّکُمْ اَنْ لاٰ یُغْلِقَهاٰ عَلَیْکُمْ، وَ اَبْواٰبَ النِّیرانِ مُغَلقَةٌ فَاسئَلوُا رَبَّکُمْ أَنْ لاٰ یَفْتَحَهاٰ عَلَیْکُمْ، وَ الشّیاٰطینَ مَغْلُولَةٌ فَاسْئَلوُا رَبَّکُمْ اَنْ لاٰ یُسَلِّطَهاٰ عَلَیْکُمْ
بے شک اس مہینے میں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، خدا سے دعا کرو کہ ان دروازوں کو تمہارے اوپر بند نہ کرے اوراس مہینے میں جہنم کے دروازے بند ہیں، خدا سے دعا کرو کہ ان دروازوں کو تمہارے لئے نہ کھولےاور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے، پروردگار سے دعا کرو کہ انہیں تم پر مسلط نہ کرے(عیون اخبار الرضا۔ ج۱ص۲۹۵)
ماہِ رمضان سے استفادہ
آخر میں پہلے تو خود اپنے آپ سے اور پھر محترم قارئین سے وعظ و نصیحت کے عنوان سے انتہائی خلوص کے ساتھ عرض ہے کہ:
ماہِ رمضان اس قدر فضیلت، برکت اور رحمت کی وجہ سے کیا واقعی ہماری گہری فکری اور عملی توجہ کا مستحق نہیں؟
خداوند ِعالم نے اس قدر برکت، لطف اور رحمت کا مہینہ ہمیں نصیب کیا ہےاس سے لا تعلقی یا اس پر شعوری اور سنجیدہ توجہ نہ دینا، کیا ایک اہم موقع ضائع کردینے کے مترادف نہیں ہے؟
وہ مہینہ جس میں خدا نے ہمیں اپنی رحمت کے دسترخوان پر مدعو کیا ہے، اور ہمیں اپنے خوانِ نعمت کا مہمان بنایا ہے، کیا مناسب نہیں کہ ہم اس دعوت کوقبول کریں اور اس دسترخوان کی معنوی برکات سے استفادہ کریں؟
کیا ہمیں پیغمبر اسلام ؐکا یہ فرمان یاد نہیں ہے کہ: اِنَّ الشَّقِیَّ مَنْ حُرِّمَ فی هٰذا الشَّهْرِالْعَظیِمِ(بے شک وہ شخص بدقسمت ہے جو اس عظیم مہینے کی برکات سے محروم رہے۔ عیون اخبار الرضاج ۱۔ ص۲۹۵)
اس مہینے کی معنوی برکتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ بقول رسولِ کریم ؐ:
جو کوئی اس مہینے میں ایک مومن کی دعوت ِافطار کرے، تویہ ایسا ہے جیسے اس نے ایک غلام کو آزاد کیا ہواور ایسے شخص کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔
اس موقع پر ایک شخص نے سوال کیا:اے اللہ کے رسولؐ !ہم سب لوگ اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ کسی کو افطار کرائیں پیغمبر ؐنے اسے جواب دیا:
اِتَّقُوا النّٰارَ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ اِتَّقُوا النّٰارَ وَلَوْبِشَرْبَةِماٰءٍ
آتش دوزخ سے بچو، چاہے پیاسے کو تھوڑے سے پانی کے ذریعے سیراب کرکے(عیون اخبار الرضا۔ ج۱ص۲۹۵)
یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس مہینے میں، اہم ترین بات یہ ہے کہ انسان گناہوں سے پرہیز کرےلہٰذا جب حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس مہینے کے سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا، تو آنحضرت ؐ نے جواب دیا:
أَفْضَلُ الَأ عْماٰلِ فی هَذَا الشَّهرِ اَلْوَرَعُ عَنْ مَحاٰرِمِ اللّٰهِ
اس مہینے میں بہترین عمل، ان کاموں سے پرہیز کرنا ہے جنہیںخداوند ِعالم نے حرام قرار دیاہے(عیون اخبار الرضاج۱ص۲۹۵)
قرآن سے اُنس ورغبت اور اس سے استفادے کی بہار
ماہ ِرمبارکِ رمضان، قرآنِ مجید کی ولادت، اُس سے اُنس، اُس کی بہار، اُس کی معرفت اور اُس سے فکری اور عملی استفادے کا مہینہ ہے۔
وہ مہینہ جس کی شب ِ قدر میں قلب ِ پیغمبرؐ نے امینِ وحی سے پورا کا پوراقرآن اخذ کیا اور قرآنِ مجید لوح محفوظ سے رسولِ مقبول ؐ کے وسیع اور نورانی قلب پر منعکس ہوا۔
وہ مہینہ جس میں ہم سب روزے، عبادت وپرستش اور دعا و مناجات کے ذریعے معنوی تیاری و آمادگی کے ساتھ قرآنِ کریم کا استقبال کرتے ہیں، او رچاہتے ہیں کہ خالص اللہ کے لئے روزے کے پُربرکت آثار کے سائے میں اور عبادتوں اور دعائوں کے ہمراہ قرآنِ کریم سے اپنے ربط و تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔
قرآن، ماہِ رمضان کے پیکر میں ڈالی جانے والی روح ہے، جس نے اس مہینے کی عظمت اور اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیاہے۔
قرآن ماہِ رمضان کا قلب ہے، اور اس قلب اور اس کی دھڑکنوں کے بغیر روزہ داروں کی معنوی حیات کی رگوں میں حقیقت کا جوہر رواں دواں نہیں ہوسکتا۔
قرآن، دلوں کی بہار اور ماہِ رمضان، قرآن کی بہار ہےلہٰذا امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا ہے:
لِکُلِّ شَیْ ءٍ رَبیعٌ، وَ رِبیعُ القُرآنِ شَهرُ رَمَضان
ہر چیز کی بہار ہے اور قرآن کی بہار ماہ ِرمضان ہے۔
( بحار الانوارج۹۶۔ ص۳۸۶)
قرآنِ مجید کی شان اور عظمت کے بارے میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:
وَ تَفَقَّهُوا فِیهِ فَاِنَّهُ رَبیعُ الْقُلوبِ
اوراس (قرآن) میں غور و فکر کرو، کہ (یہ) دلوں کی بہار ہے۔
( نہج البلاغہ۔ خطبہ۱۱۰)
نیز امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق:
قَلْبُ شَهُرِ رَمَضان لَیْلَةُ الْقَدْرِ
ماہ ِرمضان کا دل، شب ِقدر ہے( بحار الانوار۔ ج۹۶ص۳۸۶)
لہٰذا یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ماہِ رمضان کی برکتوں کا بڑا حصہ قرآنِ کریم سے وابستہ ہےاس مہینے میں ہمیں اپنے دلوں کی کھیتی میں قرآن کے نورانی احکامات کا بیج بوناچاہئے تاکہ وہ ٹھیک ٹھیک نشو ونما پائےہمیں اپنی روح کی غذا کے لئے اس ماہ میں قرآنی پھلوں سے استفادہ کرنا چاہئے اور اس مہینے میںقرآنی برکات کے زیر سایہ اپنے قلب کی قوت کو بڑھانا چاہئے۔
قرانِ کریم سے اس قسم کا استفادہ، اس سے حقیقی اُنس و رغبت کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
قرآنِ مجید سے اُنس ورغبت
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:
مَنْ اَنَسَ بِتَلاوَةِ الْقُرآنِ، لَمْ تُوحِشْهُ مُفارَقَةُ الاِخْوانِ
جو شخص قرآن کی تلاوت سے اُنس ورغبت رکھتا ہے، وہ اپنے بھائیوں کی جدائی سے وحشت زدہ نہیں ہوتا(عزرالحکم)
امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا ہے:
لَوْماتَ مِنْ بِیْنِ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغرِبِ لَما اسْتَوْحَشْتُ، بَعْدَ اَنْ یَکُونَ الْقُرْآنُ مَعِی
اگر مشرق و مغرب کے درمیان پائی جانے والی تمام موجودات نابود ہوجائیں اور میں تنہا رہ جائوںلیکن اس موقع پر قرآن میرے ہمراہ ہو، تو مجھے ذرّہ برابر وحشت محسوس نہ ہوگی( اصول کافی ج۲۔ ص۶۱۰)
اس مقام پریہ سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ قرآنِ کریم سے اُنس و لگائو آخرہے کیا چیز، جو انسان کو اس قدر مضبوط اور پختہ کر تاہے اور اس سے ہر قسم کے اضطراب اورتنائو کو دور کر دیتاہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ: اُنس کے معنی دراصل کسی چیزسے رغبت، پیاراوراس کا ہمدم و ہمنشین ہوجانا ہےجیسے شیرخوار بچے کا اپنی ماںکی آغوش سے اُنسیت رکھناکبھی کبھی کسی چیز سے اُنس اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ وہ ماں کی آغوش سے بچے کے اُنس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے انہیں موت سے ڈرانے والے منافقین سے، فرمایا تھا کہ:
وَاللّٰهِ لاَ بْنُ اَبِی طاٰلِبٍ اَنَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْیِ اُمِّهِ
خدا کی قسم ابو طالب کے بیٹے (علی ؑ) کو موت سے اس سے بھی زیادہ اُنسیت ہے، جتنی اُنسیت شیرخوار بچے کو اپنی ماں کی آغوش سے ہوتی ہے(نہج البلاغہ۔ خطبہ۵)
سچا عارف وہ ہے، جو خدا اور اس کے کلام سے اُنس والفت رکھتا ہو۔ لہٰذا حضرت علی علیہ السلام نے آیت قرآن: یٰاَیُّهَاالْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ (اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب سے دھوکے میں رکھا ہےسورہ انفطار۸۲آیت ۶) کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایاہے کہ: وَکُنْ للّٰهِ مُطیعاً وَ بِذِکْرِهِ اَنِساً (خداوندِعالم کے مطیع وفرمانبردار بنو اور خدا کی یاد سے اُنس و رغبت پیدا کرونہج البلاغہ خطبہ۲۲۳)
لہٰذا اُنس کا حقیقی اور واقعی مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی چیز کے عشق میں مبتلا ہوجائے اور اس کے ساتھ شدید اور اٹوٹ تعلق کے ساتھ اُس کا ہمدم و ہم جان ہوجائےیہ جذبہ اُس چیز سے انسان کے تعلق اور بندھن کو محکم اور مضبوط کرتا ہے جس سے اسے اُنس ہوتا ہے۔
خدا اور کلامِ خدا سے ایسا ہی اُنس، اولیائے الٰہی اور ہر عارف اورسچے مومن کے اوصاف میںسے ہےلہٰذا میر المومنین حضرت علی علیہ السلام، بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
اَللّٰهُمَّ اِنِّکَ اَنَسُ الاَ نِسِینَ لاَ وْلِیاٰئکَ اِنْ اَوْ حَشَتْهُمُ الْغُرْبَةُ اَنَسَهُمْ ذِکْرُکَ
بارِ الٰہا! تو اپنے دوستوں کے ساتھ، تمام اُنس رکھنے والوں سے زیادہ مانوس ہے۔ ۔ اگرتنہائی سے ان کا دل گھبراتا ہے تو تیرا ذکر ان کا مونس و ہمدم ہوتا ہے(نہج البلاغہ۔ خطبہ۲۲۴)
ماہ ِرمضان میں نورِقرآن کی تابانی
کیونکہ ماہ ِرمضان، ماہِ نزولِ قرآن، ماہ ِخدا اور ماہ ِتزکیہ و تہذیب ِ نفس ہے اور قرآنِ مجید اسی مہینے میں واقع شب ِقدرمیں قلب ِپیغمبرؐ پر نازل ہوا ہےلہٰذا ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ماہ ِرمضان، قرآنی نور کی تابانی اور قرآنِ کریم سے اُنس ورغبت کا مہینہ ہے۔
روزہ دار اس مہینے میں خدا کے مہمان ہوتے ہیں اورقرآنِ کریم کے بابرکت دسترخوان کے گرد بیٹھتے ہیںلہٰذا انہیں اس ماہ میں قرآنِ کریم کی تلاوت سے خاص رغبت کا ثبوت دینا چاہئے اور آیاتِ قرآنی میں غوروفکر اور قرآنی مفاہیم سے فکری اور عملی استفادے کے ذریعے اپنے معنوی رشد و کمال میں اضافہ کرنا چاہئے۔
اسی بنیاد پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برس ماہِ شعبان کے آخری جمعے کو اپنے معروف خطبہ شعبانیہ میں ارشاد فرمایا کہ:
هُوَ شَهرُ دُعِیتُمْ فیه اِلیٰ ضِیاٰفَةِ اللّٰهِ وَ مَنْ تَلافِیهِ آیَةً مِنَ الْقُرآنِ کانَ لَهُ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ خَتَمَ الْقُرآنَ فِی غَیْرِهِ مِنَ الشّهُورِ
ماہ ِرمضان وہ مہینہ ہے، جس میں تمہیں خدا نے اپنا مہمان مدعو کیا ہےتم میں سے جو کوئی اس مہینے میں قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا اس کا اجر دوسرے کسی مہینے میں پورے قرآن کی تلاوت کے ثواب کے برابر ہے(عیون اخبار الرضا۔ ج۲۔ ص۲۹۵)
ماہِ رمضان کی دعائوں میں، ہدایت ورہنمائی کی کتاب کے طور پر قرآن اور اس سے اُنس کا بکثرت تذکرہ آیا ہےماہِ رمضان کے ہر دن کی دعائیں، جو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوئی ہیں، ان میں سے دوسرے دن کی دعامیں ہے کہ:
اَللّٰهُمَّ وَ فِقْنی فِیهِ لِقَرا ئَةِ آیاٰتِکَ
بارِ الٰہا! اس دن مجھے آیاتِ قرآن کی قراءت کی توفیق عطا فرما۔
جبکہ بیسویں دن کی دعا میں ہے کہ:
اَللّٰهُمَّ وَ فِّقْنی فِیهِ لِتِلاٰوَةِ الْقُرآنِ بارِ الٰہا! مجھے آج کے دن تلاوتِ قرآن کی توفیق عطا فرما۔
دعائوں کی صورت میں ذکر ہونے والی ان دو عبارتوں میں قرآنِ کریم کی تلاوت، اور اسے کھول کر پڑھنے کی توفیق بھی طلب کی گئی ہے اور تدبر کے ساتھ اور عمل کے ہمراہ قراءت کی توفیق بھی چاہی گئی ہےکیونکہ تلاوت کا لفط دراصل ”تِلو و تالی“ سے ماخوذ ہےجس کے معنی ہیں بغیر کسی فاصلے کے کسی کے پیچھے پیچھے چلنا، اس کی پیروی کرنا۔
واضح ہے کہ اس قسم کی توفیق قرآنِ مجید سے حقیقی اُنس کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیقرآنِ کریم سے اُنس درحقیقت تین بنیادوں سے تشکیل پاتا ہےیہ بنیادیں درج ذیل ہیں:
۱:-آیاتِ قرآن کو پڑھنا۔
۲:- قرآن کی معرفت اور اس میں غور وفکر۔
۳:- قرآنی احکام اور فرامین پر عمل۔
اسی بنیاد پر امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک مختصر تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے فرمایا ہے:
قُرّاءُ الْقُرآنِ ثَلاثَةٌ، رَجُلٌ قَرَءَ الْقُرآنَ فَاتَّخَذَ بِضاعَةً، وَ اسْتَدَرَّبِهِ الْمُلوکَ، وَاسْتطالَ بِهِ عَلَی النّاسِوَرَجُلٌ قَرَءَ الْقُرْآنَ فَحَفِظَ حُرُوفَهُ وَضَیَّعَ حُدُودَهُ، وَ اَقاٰمَهُ اِقاٰمَةَ الْقِدْحِ، فَلا کَثَّرِ اللّٰهُ هٰؤُلاٰءِ مِنْ حَمَلَةِ الْقُرْآنِوَ رَجُلٌ قَرَءَ الْقُرآنَ، فَوَضَعَ دَواءَ الْقُرْآنِ عَلی داٰء قَلْبِهِ، فَاَشهَرَ بِهِ لَیْلَةُ، وَ اَظْمَأ بِهِ نَهاٰرَهُ، وَ قاٰمَ بِهِ فَی مَساٰجِدِهِ، وَ تَجاٰفیٰ بِهِ عَنْ فِراشِهِ، فَبِاوُلئٰکَ یَدْفَعُ اللّٰهُ الْعَزِیزُ الْجَبّٰارُ الْبَلاءََ
قرآن پڑھنے والے لوگ تین قسم کے ہیں:ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو قرائتِ قرآن کو اپنے لئے مال ودولت کمانے کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔ قرائت قرآن کے ذریعے بادشاہوں سے فائدے اٹھاتے ہیں اور لوگوںکے سامنے اپنی بڑائی جتاتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں اور اس کے حروف (اور اس کی تجوید) کا خیال رکھتے ہیں لیکن قرآن میں بیان شدہ حدود و احکام کو ضائع کرتے ہیں۔
(ایسے حاملانِ قرآن کسی صورت قرآن سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے اور اس کے ذریعے نجات حاصل نہ کرسکیںگے)
تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور اس سے اپنے قلب کے امراض کا علاج کرتے ہیں اور اس کی تلاوت (یعنی اسے پڑھنے اور اس پر غور وفکر) کے لئے راتوں کو جاگتے ہیں، اور دن کو بھوکے پیاسے رہتے ہیں اس کے ذریعے مساجد میں کھڑے رہتے ہیں، اورذکرِ الٰہی کے لئے اپنے بستر سے دور رہتے ہیںیہی وہ لوگ ہیں جن کے وجود کی برکت سے اللہ رب العزت مصیبتیں ٹال دیتا ہے، بلائوں کو دور کرتا ہے، دشمن کی شر انگیزیوں سے محفوظ رکھتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے۔
آخر میں امام ؑفرماتے ہیں:
فَوَ اللّٰهِ لَهٰؤلاٰءِ فِی قُرّاء الْقُرآنِ اَعَزُّ مِنَ الْکِبْریتِ الاَحْمَرِ
خدا کی قسم، قرآن پڑھنے والوں میں، اس قسم کے لوگ سرخ گندھک سے بھی زیادہ کامیاب ہیں(اصول کافی ج۲ص۶۲۷)
امام زین العابدین علیہ السلام ختمِ قرآن کے موقع پر ایک دعا کی تلاوت فرماتے تھے، اس دعا کے ایک حصے میں ہے کہ:
اَللّٰهُمَّ فَاِذا اَفَدْتَنَا الْمَعُونَةَعَلیٰ تِلاٰوَتِهِ وَ سَهَّلْتَ جَو اسِیَ اَلْسِنَتِناٰ بِحُسْنِ عِباٰرَتِهِ، فَاجْعَلْنٰا مِمِّنْ یَرْعاٰهُ حَقَّ رِعاٰیَتِهِ
بارِ الٰہا! جبکہ تو نے (قرآن کی) تلاوت کے سلسلے میںہماری مدد کی، اور اسے اچھے انداز میں پڑھنے کیلئے ہماری زبان کی گرہیں کھول دیںپس ہمیں ایسے لوگوں میں قرار دے جو اس (قرآن) کے حق کا ایسا لحاظ رکھتے ہیں جیسا اسے لحاظ رکھنے کا حق ہے(صحیفہ سجادیہدعانمبر۴۲)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت ِ قرآن: یَتْلُوْنَهُ حَقَّ تِلَاوَتِه (اور مومنین اس کتابِ الٰہی کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں، جیسا اس کی تلاوت کا حق ہےسورہ بقرہ ۲۔ آیت۱۲۱) کی تفسیر میں فرمایا: یَتَّبِعُونَهُ حَقَّ اِتَّباٰعِهِ (جیسا قرآن کی پیروی کا حق ہے، ویسی اس کی پیروی کرتے ہیںتفسیر درالمنثورج۱ص۱۱۱)
ایک دوسرے مقام پر آنحضرتؐ نے فرمایاہے:
رُبَّ تالِ الْقُرآنَ، وَ الْقُرآنُ یَلْعَنُهُ
کتنے ہی قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں، جن پر قرآن لعنت کرتا ہے( بحار الانورج۔ ۹۲ص۱۸۴)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہارعلیہم السلام کے یہ کلمات اور اس بارے میں آپ حضرات کے ایسے دسیوں ارشادات یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم کی ایسی ہی تلاوت اہمیت اور قدر و قیمت رکھتی ہے جو آیاتِ قرآنی میں غور و فکر اوراس کے احکام و فرامین پر عمل کے عزم کے ساتھ ہونیز قرآن سے حقیقی اُنس و لگائو اس میں تدبر و تفکر اور اس پر عمل سے وابستہ ہےوگرنہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے خونخوار دشمن نہروان کے خوارج سب کے سب قاریانِ قرآن تھےلیکن قرآن کی صرف ”ق“ سے آشنا تھایہی وجہ تھی کہ سراپا توحید حضرت علی علیہ السلام کو(نعوذباللہ) کافر قرار دے کر ان سے مصروفِ جنگ تھے۔
اولیائے خدا کے، قرآن سے اُنس و لگائو کے نمونے
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ائمہ معصومین علیہم السلام اور اولیائے الٰہی، قرآنِ کریم سے بہت زیادہ اُنس ورغبت رکھتے تھے اور اس کے ظاہری و باطنی فیوضات سے مستفیض ہوتے تھے۔
یہ ہستیاں، آیاتِ قرآنی کی صرف ظاہری تلاوت پر اکتفا نہیں کرتیں تھیں، بلکہ قرآنی آیات پر غور وفکر، تدبرو تفکر کے ساتھ اس کتاب ِہدایت کی تلاوت میں مشغول ہوتی تھیںٹھہر ٹھہر کر، خوبصورت اور پُرکشش آواز میں، قرآن کے معانی و مفاہیم پرتوجہ کے ساتھ، اور اس پر عمل کے عزم کے ہمراہ اسے پڑھتی تھیں۔
مثال کے طور پر قرآنِ مجید میں سینکڑوں مرتبہ ”یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“ آیا ہےحضرت امام رضا علیہ السلام جب بھی قرآنِ مجید کی تلاوت کے دوران اس جملے پر پہنچتے، اور اسے پڑھتے، فوراً کہا کرتے تھے کہ: لَبَّیْکَ اَللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ (حاضر ہوں، بارِ الٰہا!حاضر ہوںبحار الانوارج۸۵ص۳۴)
آپ ؑ کا یہ طرزِ عمل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام توجہ اور تدبر کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے تھے اوراس تلاوت کے ہمراہ فرامینِ الٰہی پر عمل کا عزم کرتے تھے۔
اب ہم ائمہ اطہارؑاور اولیائے الٰہی کے قرآنِ کریم سے اُنس ورغبت کے کچھ واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
۱:- امام حسین علیہ السلام کو قرآنِ کریم سے اس قدر اُنس اور الفت تھی کہ جب کربلا میںنویں محرم کے دن، عصر کے وقت، دشمن نے آپ ؑ اور آپ ؑکے اصحاب کے خیام پر حملے کا قصد کیا، تو آپ ؑ نے حضرت عباس علیہ السلام سے فرمایا: بھائی! آپ دشمن کے پاس جائیے اور ان سے کہیے کہ وہ ہمیں آج رات کی مہلت دیدیں، کیونکہ: هُوَ یَعْلَمُ اَنِّی اُحِبُّ الصَّلاةَ لَهُ وَ تِلاوَةَ کِتاٰبِهِ (خدا جانتا ہے کہ مجھے نماز اور تلاوتِ قرآن کس قدر عزیز ہےتاریخ طبری ج۶ص۳۳۷، نفس المہمومص۱۱۳)
۲:-امام زین العابدین علیہ السلام جب کبھی سورہ حمدپڑھتے ہوئے اس کی آیت ”مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“ پر پہنچتے تو اس آیت کو ایک خاص خضوع کے ساتھ دہراتے، یہاں تک کہ محسوس ہونے لگتا کہ ابھی آپ کی روح پرواز کر جائے گی(اصول کافی ج۲ص۶۰۲)
آپ ؑ اس قدر خوبصورت اور پیاری آواز میں قرآنِ کریم پڑھا کرتے تھے کہ قریب سے گزرنے والے سقّے (پانی لانے والے) یہ دلنشین آواز سننے کے لئے وہیں ٹھہرجاتے تھے(اصول کافی۔ ج۲ص۶۱۶)
۳:-امام جعفرصادق علیہ السلام دورانِ نماز ایک ایسی خاص ملکوتی حالت کے ساتھ آیاتِ قرآنی کی تلاوت فرماتے تھے کہ آپؑ پر ایک غیر معمولی کیفیت طاری ہوجاتی تھیایک روز، ایسا ہونے کے بعد جب آپؑ کی حالت معمول پر آئی تو وہاںموجود لوگوں نے پوچھا:آپ ؑ پر یہ کیسی کیفیت طاری ہو گئی تھی؟ حضرت ؑنے جواب دیا: ماٰ زِلْتُ اُکَرِّرُ آیاٰتَ الْقُرْآنِ حَتَّی بَلَغْتُ اِلیٰ حاٰلٍ کَاَنَّنِی سَمِعْتُها مُشافِهَةً مَمَّنْ اَنْزَلَهاٰ (میں مسلسل آیاتِ قرآنی دُہرارہا تھا یہاں تک کہ میری حالت یہ ہو گئی کہ گویا میں ان قرآنی آیات کو براہِ راست، قرآن کے نازل کرنے والے کی زبانی سن رہا ہوںبحار الانوار۔ ج۸۴ص۲۴۸)
۴:-حضرت امام علی رضا علیہ السلام، قرآنِ کریم سے اس قدر اُنس و رغبت رکھتے تھے کہ ہر تین روز میں ایک پورا قرآن ختم کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ:اگر میں چاہوں تو تین دن سے بھی کم مدّت میں قرآن ختم کرسکتا ہوں، لیکن میں نے کبھی قرآن کی کوئی آیت اس کے معنی میں غوروفکر اور اس بارے میں سوچے بغیر نہیں پڑھی ہے کہ یہ آیت کس موضوع کے بارے میںہے، اور کس وقت نازل ہوئی ہےیہی وجہ ہے کہ میں تین دن میںایک پورے قرآن کی تلاوت کرتا ہوں، بصورت ِدیگرتین دن سے بھی کم میں پورا قرآن ختم کرلیتا(مناقب ابن شہر آشوب۔ ج ۴۔ ص۳۶۰)جنگِ صفین کے بعد امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے، ایک روز مسجدِکوفہ میں اپنے اصحاب کے سامنے ایک خطبہ ارشاد فرمایااس خطبے میں آپ ؑنے جنگِ صفین میں درجہ شہادت پر فائز ہونے والے اپنے چند خاص اصحاب کو انتہائی دکھ بھرے لہجے میں یاد کیا اور ان کے بارے میں فرمایا:
کہاں ہیں میرے وہ بھائی جو سیدھی راہ پر چلتے رہے، اور حق پر گزر گئے؟ کہاں ہیں عمار؟ اور کہاں ہیں ابن تیہان؟ اور کہاں ہیں ذوالشہادتین؟ اور کہاں ہیں ان جیسے اور دوسرے بھائی کہ جو جانبازی کا عہد و پیمان باندھے ہوئے تھے اور جن کے سروں کو (کاٹ کر) فاسقوں کے پاس روانہ کیا گیا۔
اس کے بعد حضرت ؑاپنی ریشِ مبارک پر ہاتھ رکھ کردیر تک روتے رہےاور پھر اپنے ان ساتھیوں کی چند صفات کا ذکر کیا، اور ان کی پہلی صفت ”تلاوتِ قرآن اور اس کے احکام پر عمل“ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
اَوِّهِ عَلَیٰ اِخْوانِیَ الَّذِیْنَ تَلَوُا الْقُرْاٰنَ فَاَحْکَمُوْهُ، وَتَدَبَّرُوا الْفَرْضَ فَاَقَامُوْهُ
آہ! میرے وہ بھائی جنہوں نے قرآن کو پڑھا تو اس پر کاربند ہوئےاپنے فرئض پر غوروفکر کیا تو انہیں ادا کیا(نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۰)روایات میں آیا ہے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے ایک ممتاز شاگرد ”علی بن مغیرہ“ نے آپ ؑ سے عرض کیا: میں ا پنے والد کی طرح، ماہ ِرمضان میں چالیس قرآن ختم کرتا ہوں کبھی مصروفیات یا تھکن کی وجہ سے یہ تعداد کم ہوجاتی ہے اورکبھی فراغت اوربشاشت کی وجہ سے زیادہپھر (عید)فطر کے دن، ان میں سے ایک ختمِ قرآن کا ثواب پیغمبر اسلامؐ کو ہدیہ کرتا ہوںدوسرے ختمِ قرآن کا ثواب حضرت علی ؑ کو، تیسرے ختمِ قرآن کا ثواب حضرت فاطمہ ؑکو اور اسی طرح دوسرے ائمہ ٔاطہار ؑ کو۔ ۔ یہاں تک کہ آپؑ کوبھی شامل کرتا ہوںاس عمل سے مجھے کیا ثواب ملے گا؟
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
لَکَ بِذٰلِکَ أَنْ تَکُونَ مَعَهُمْ یَوْمَ الْقِیامة
تمہاری جزا یہ ہے کہ تم روز ِقیامت ان لوگوں کے ساتھ ہوگے۔
میں نے کہا: اللہ اکبر! سچ مچ کیا میرا یہ مقام ہوگا؟ امام ؑنے تین مرتبہ فرمایا: ہاں، ہاں، ہاں۔ (اصول کافی ج۲۔ ص۶۱۸)
اس گفتگو کی آخری سطور کو ہم تلاوتِ قرآن کے ثواب کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ کے ایک کلام سے زینت بخشتے ہیں آنحضرتؐ نے فرمایا:
جوشخص ہر رات قرآنِ کریم کی دس آیات پڑھے گا، اس کا نام ”غافلوں“ کے ساتھ نہیں لکھا جائے گااورجو کوئی ہر رات پچاس آیات پڑھے گا، اس کا نام ”ذاکرین“ میں لکھا جائے گا، اور جو کوئی سو آیات پڑھے گا، اس کا نام ”قانتین“ (مخلص اورعاجز بندگانِ خدا) میں، اورجو کوئی دو سو آیات پڑھے گااس کا نام خاشعین میں، اور جو کوئی تین سو آیات پڑھے گا، اس کا نام ”فائزین“ (کامیاب افراد) میں ثبت کیا جائے گااورجو شخص پانچ سو آیات کی تلاوت کرے گا، اس کا نام ”مجتہدین“ (راہِ حق کے متلاشی افراد) میں، اورجو کوئی ایک ہزار آیات پڑھے گا، اس کیلئے نیکیوں کا قنطار ہوگا۔ اور ہر قنطار پندرہ ہزار مثقال سونے کے برابرہوگا اور اس میں کا ہر مثقال چوبیس قیراط کا ہوگا اور اس کا سب سے چھوٹا قیراط کوہ ِاحد کے برابر ہوگا اور سب سے بڑا قیراط زمین سے آسمان کی بلندی جتنا ہوگا(اصول کافی۔ ج۲۔ ص۶۱۸)
قرآن کا اصل مقصد، اس کے احکام پر عمل
البتہ اس جانب متوجہ رہنے کی ضرورت ہے کہ قرآن کے حوالے سے ہماری اہم ترین ذمے داری یہ ہے کہ ہم اس کی تعلیمات اوراس کے احکام پر عمل کریںیعنی قرآنِ مجید ہماری زندگی کے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں ہمارا دستور ِعمل ہواور عملاً گمراہی کی تاریکیوں سے ہدایت کی روشنی کی جانب انسانیت کا رہنما ہوجیسا کہ خود قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اس اہم مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہےسورہ یونس میں ہے کہ :
یٰاَ یُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظٌَ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَ هُدًی وَّ رَحْمٌَ لِّلْمُؤُمِنِیْنَ
اے لوگو! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا کا سامان اور ہدایت اور صاحبانِ ایمان کے لئے رحمت (قرآن) آچکا ہے(سورہ یونس۱۰۔ آیت۵۷)
لہٰذا قرآنِ مجید کو ہمارے لئے وعظ و نصیحت ہونا چاہئےیعنی اسے ہمیں غفلتوں اور لاپرواہیوں سے نکالنا چاہئے اور ہمارے کمال کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرکے، ہماری ترقی اور کمال کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔
اسی طرح اس نسخہ ٔشفا کو ہماری معنوی بیماریوں کا مداوا بھی کرنا چاہئے، اسے ہمارے دلوںکی صفائی اور پاکیزگی کا ذریعہ بھی بننا چاہئےنیز اسے کمال کی جانب ہماری ہدایت و رہنمائی کا وسیلہ اور مومنین کے لئے باعث ِرحمت ہونا چاہئے۔
پس اگر قرآنِ کریم ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں یہ بنیادی کردار ادا نہ کررہا ہو، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن ہمارے درمیان متروک اور مہجور ہےسورہ ابراہیم کی پہلی ہی آیت میں ہے کہ:
كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ
یہ کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ آپ لوگوں کو خدا کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر، نور کی طرف لے آئیں(سورہ ابراہیم ۱۴آیت ۱)
امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ نے تاکید فرمائی ہے کہ:
اللّٰهَ اللّٰهَ فِی الْقُرْاٰنِ لَا یَسْبِقُکُمْ بِالْعَمَلِ بِه غَیْرُکُمْ
قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل میں تم پر سبقت لے جائیں(نہج البلاغہ مکتوب ۴۷)
ہر چیز کے چار وجود ہوتے ہیں: وجودِ ذہنی، وجودِ لفظی، وجودِ تحریری اور وجودِ عینی و خارجی۔
مثلاً اگر انسان پیاسا ہو، تو کتنا ہی وہ زبان سے پانی، پانی، پانی، کہتا رہے، اس کی پیاس نہیں بجھے گیاور کتنا ہی وہ پانی، پانی لکھتا رہے، اس کی تشنگی جوں کی توں رہے گیاور کتنا ہی وہ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا خیال اپنے ذہن میں لائے، پیاسا کا پیاساہی رہے گاصرف اسی صورت میں اس کی تشنگی ختم ہوگی، اس کی پیاس بجھے گی، جب وہ واقعی پانی کی جستجو کرے اور اس کا گلاس اٹھا کر پی جائے۔
بالکل اسی طرح قرآنِ کریم کے الفاظ، تحریر اور اس کی آیات کو ذہن میں لانا نجات و کامیابی کا باعث نہیں بن سکتا، محض یہ عمل انسان کی معنوی ضروریات کی تسکین نہیں کرسکتابلکہ جو چیز باعث ِ نجات ہوگی وہ قرآن سے واقعی وابستگی ہےیعنی اپنی زندگی کو قرآنی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنا، اپنے اعمال کو قرآن کے مطابق انجام دینا، زندگی کے تمام میدانوں میں قرآنی احکام و فرامین کا نفاذ کرنا۔ماہ ِرمضان، خود سازی اور تزکیہ نفس کا مہینہ ہےخداوندِ عالم نے گناہ کی آلودگیوں سے روح کی صفائی کے لئے اس مہینے میں تمام اسباب و وسائل فراہم کر دئیے ہیں اور اپنے مخصوص لطف و رحمت کے ذریعے تہذیب ِ نفس، صفائے باطن اور معنوی کمال کی راہ کے تمام دروازے کھول دئیے ہیں۔
یہ مہینہ انسانوں کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ رحمت ِالٰہی کے وسیع اور رنگا رنگ دستر خوان سے مستفید ہوں اوراس پر موجود طرح طرح کی معنوی غذائوں کے ذریعے اپنی روح کو تقویت پہنچائیں۔
حدیث ِ قدسی میں آیا ہے کہ خداوندِ عالم نے اپنے نبی حضرت دائود علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ: اِنَّ لِلّٰهِ فِی اَیّٰامِ دَهْرِ کُمْ نَفَحاٰتٌ اَلاٰ فَتَرَ صَّدوُالَهاٰ (بے شک تمہاری زندگی میں خدا کے لئے سودمند لحظات پائے جاتے ہیںہوشیار رہوں اور ان لحظات کی تاک میں رہو اور ہوشیاری اور سنجیدگی کے ساتھ ان سے استفادہ کروبحار الانوار۔ ج ۷۵ص ۱۶۸ )
ماہ ِرمضان اصلاحِ ذات، تہذیب ِنفس اور باطن کو آلودہ کردینے والے ہر قسم کے عوامل سے چھٹکارا پانے کا بہترین موقع ہےہمیں چاہے کہ نہ صرف خود کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیار کریں بلکہ لازم ہے کہ ہوشیاری کے ساتھ اس موقع کی تاک میں رہیں اور کسی صور ت اسے ہاتھ سے نہ نکلنے دیں۔ماہِ رمضان میں خود سازی اور تہذیب ِ نفس کا واحد ذریعہ صرف روزہ ہی نہیں، بلکہ اس مہینے میں مستحب قرار دیئے گئے اعمال میں سے ہر ایک عمل تہذیب ِنفس اور اصلاحِ کردار کے سلسلے میں خاص اثر رکھتا ہےیہ اعمال تلاوتِ قرآنِ مجید، خدا سے دعا و مناجات، یادِ ِخدا، یادِ قیامت، صبر و ثبات کا حصول اورمفلس و محروم افراد کو غذا کی فراہمی ہیں۔ان اعمال میں سے ایک عمل، جس کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ خود سازی کے سلسلے میں انتہائی اہم کردار رکھتا ہے، اور ماہِ رمضان کو اس کا موسمِ بہار کہا گیا ہے، وہ بارگاہِ الٰہی میں ”دعا اور مناجات“ ہے۔رسولِ کریم ؐ اور ائمہ معصومین ؑ کے کلمات و فرمودات میں، دعا کی اہمیت کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔
ایک کلام میں پیغمبرؐ فرماتے ہیں :
الدُّعاٰ ئُ سَلاٰحُ الْمُؤْمِنِ، وَ عَموُدُ الدِّینِ، وَ نُورُ السَّماٰواٰتِ وَ الْاَ رْضِ
دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔
تفسیر مجمع البیانج ۸ص ۵۲۹
یعنی دعا مومن کی تقویت کا باعث، اسکے دین اور عقیدے کے استحکام کا موجب اور ہر جگہ اسکی روح کی نورانیت کا سبب ہےنہایت واضح بات ہے کہ ان خصوصیات کا حامل ہونا خود سازی اور تہذیب ِ نفس کی بنیادی علامات میں سے ہے۔
پیغمبراسلامؐ نے اپنے ایک دوسرے کلام میں فرمایاہے:
الدُّعاٰئُ مُخُّ الْعِباٰدَةِ وَلاٰیَهلِکُ مَعَ الدُّعاٰءِ اَحَدٌ
دعا عبادت کا مغز (جوہر) ہے، دعا کرنے والوں میں سے کوئی ہلاک نہیں ہوتا۔
بحار الانوارج۹۳ص ۳۰۰
یعنی دعا، انسان کی فکر اور سوچ کو تقویت دیتی اور کھولتی ہے، نیز اسے شادابی اورتازگی بخشتی ہے اور جو لوگ دعا و مناجات سے لگائو رکھتے ہیں وہ ان کے نتائج سے استفادہ کرتے ہوئے ہمیشہ عافیت میں رہتے ہیں اور ہر گز ہلاکت میں مبتلا نہیں ہوتے۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے :
الدُّعاءُ مَفاٰتِیحُ النَّجاٰحِ، وَ مَقا لِیدُالْفَلاحِ
دعا، کامیابی کی کنجیاں اور نجات کے خزانے ہیں۔آداب و شرائط کے ساتھ صحیح دعا خود سازی اور تعمیر کردار کی غرض سے رمضان کی روح سے استفادے کیلئے ایک مضبوط اور گہرا عامل ہےنیز مکتب ِ ماہِ رمضان، اپنے مختلف پہلوئوں میں، جن میں سے ایک خدا کے اس مہینے میں دعا بھی ہے پاکیزہ روح، قلب ِسلیم اور خالص نیت کی پرورش و نشوونما کیلئے ایک عالی ترین مکتب ہے۔
ہمیں اہلِ بیت ؑسے دعا کا سلیقہ اور بارگاہ ِالٰہی میں التماس کا ڈھنگ سیکھنا چاہئےدعا کے بنیادی اراکین میں سے ایک رکن یہ بھی ہے کہ ہماری دعائیں معقول، مناسب، پُرمعنی اور صحیح اور جچے تلے اصولوں کی بنیاد پر ہوں۔
پیغمبرؐ اورائمہ اطہار ؑ سے نقل ہونے والی، یا قرآنِ مجید میں نظر آنے والی دعائیں وضاحت کے ساتھ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتی ہیں کہ دعائوں کے مضامین کو اعلیٰ معنی اور گہرائی کا حامل ہونا چاہیےمثال کے طور پربطل توحید حضرت ابراہیم خلیل اللہ(علیہ السلام) نے بیت اللہ کی بنیادوں کی تجدید کے بعد چند دعائیں کیں، جنہیں قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہےانہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا:
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمًَّ مُّسْلِمًَ لَّکَ وَ اَرِنَامَنَا سِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُرَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلاً مِّنْهُمْ یَتْلُوْاعَلَیْهِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمََ وَیُزَ کِّیْهِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ
پروردگار! ہماری محنت کو قبول فرما لے، کہ تو بہترین سننے والا اور جاننے والا ہےپروردگار! ہم دونوں کو اپنا مسلمان اور فرمانبردار قرار دیدے، اورہماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار امت پیدا کرہمیں ہمارے مناسک دکھلا دے، اور ہماری تو بہ قبول فرما کہ تو بہترین توبہ قبول کرنے والامہربان ہےپروردگار! ان کے درمیان ایک رسول کومبعوث فرما جو، ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائےبے شک تو صاحب ِعزت اور صاحب ِ حکمت ہے( سورہ بقرہ ۲آیت ۱۲۷تا۱۲۹)
رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَاٰ مِنًاوَّاجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَرَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًامِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّه مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ رَبَّنَآ اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍغَیْرِذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوَ فَاجْعَلْ اَفْئِدًَ مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْ اِلَیْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْکُرُوْنَرَبَّنَآ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَانُخْفِیْ وَ مَانُعْلِنُ وَمَایَخْفٰی عَلَی اللّٰهِ مِنْ شَیْ ءٍ فَی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآءِ
پروردگار! اس شہر کو محفوظ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھ، پروردگار! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہو گا، اور جو میری معصیت کرے گا، اسکے لئے تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہےپروردگار! میں نے اپنی ذرّیت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے، تاکہ نمازیں قائم کریںاب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ تیرے شکرگزار بندے بن جائیںپروردگار! ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں، یا جس کو چھپاتے ہیں، تو اس سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی( سورہ ابراہیم ۱۴آیت ۳۵تا۳۸)دعا بلائوں کی دوری اور حاجات کی قبولیت کا ذریعہ ہےجیسا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ایک کلام میں فرمایا:
اِدْفَعوُااَمْوَاجَ الْبَلاءِ عَنْکُمْ بِالدُّعاٰءِ قَبْلَ وُرودِ الْبَلاءِ
بلائوں کے طوفان کو آنے سے پہلے، دعا کے ذریعے اپنے آپ سے دور کر دو( بحار الانوارج ۱۳ص ۲۸۹(
٭دعا کے ساتھ نالہ و فریاد، خضوع و خشوع اور راز و نیاز ہوتا ہےاور یہ خصوصیت انسان کے غرور کو توڑتی ہے اور قلب کو معنوی نعمتوں کی قبولیت کیلئے تیار کرتی ہےاسکے نتیجے میں دلی سکون، قوتِ قلب اور عالی ہمتی انسان کو ملتی ہےخداوند ِعالم کا قول ہے :
اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّ خُفْیًَ
تم اپنے رب کو گڑگڑا کر اور خاموشی کے ساتھ پکاروسورہ اعراف۷آیت ۵۵
٭ان سب سے اہم ترین چیز پیغمبر اسلامؐ اورائمہ معصومین ؑسے منقول دعائوں کے بلند معارف اور گہرے اور پُر معنی نکات سے مالا مال مضامین کی جانب ہمار ی توجہ ہے، جو درحقیقت انسان سازی کی عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتے ہیںمثال کے طور پر صحیفہ ٔ سجادیہ کی پہلی دعا اور اسی طرح نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ، دونوں میں یکساں طور سے عالی ترین سطح پر معارف ِاسلامی کو بیان کیا گیا ہے اور معارف اور حقیقی عرفان کے سود مند ترین درس ہمیں دیئے گئے ہیں۔
دعائوں کے مضامین پر گہرا غور و فکر انسان کی معلومات اور معرفت کی سطح بلند کرنے کا باعث ہے اورعالی درجہ تعمیری اور تکامل بخش مفاہیم و اقدار، جن میں سرِ فہرست توحید اور اسکے مختلف پہلو ہیں، کے بارے میں انسان کی شناخت و معرفت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
کچھ لوگوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: ہم دعا کرتے ہیں لیکن وہ قبول نہیں ہوتی، اسکی کیا وجہ ہے؟ امام ؑنے انہیں جواب دیا :
لِاَنَّکُمْ تَدْعوُنَ مَنْ لاٰتَعْرِفوُنَهُ
وجہ یہ ہے کہ تم ایسی ہستی کو پکارتے ہو، جس کی معرفت نہیں رکھتے(بحار الانوار۔ ج ۹۳۔ ص۳۶۸)
یعنی دعا کرتے ہوئے خدا کی معرفت و شناخت اور اصولِ تکامل پر بھی توجہ ہونی چاہئے۔
روزے کے وجوب کا فلسفہ
خداوند ِحکیم نے انسان کو آزاداور خود مختار خلق کیا ہے، اسے خیر و شر کے انتخاب کا اختیار دیا ہے، اور اپنے انبیاؑ کے ذریعے حق اور باطل کے راستے اس کے لئے متعین اور واضح کئے ہیں۔
ایسے لوگ جنہوں نے اﷲ رب العزت کے احکام و فرامین سے ماخوذ زندگی کی صحیح راہ قبول کی ہے، انہوں نے درحقیقت اپنی فطرت سے اٹھنے والی آواز کا مثبت جواب دیا ہے، انبیاؑ کے مکتب کی پیروی کی ہے، اوراپنے آپ کو حیوانات کی سرشت ”مطلق آزادی“ سے محفوظ رکھ کر، خدا کے مقرر کردہ فرائض اور ذمے داریوں کی قبولیت کے اعزاز سے سرفراز ہو کر، اﷲ کے اس عہد نامے پر دستخط کئے ہیں کہ :
اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ اِنَّه لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌوَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ
اولادِ آدم کیا ہم نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ خبردار شیطان کی اطاعت نہ کرنا، کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، اور میری عبادت کرنا کہ یہی صراط مستقیم اور سیدھا راستہ ہےسورہ یٰسن ۳۶- آیت ۶۰، ۶۱
آیاتِ قرآنی اوراحادیث ِمعصومین ؑسے پتا چلتا ہے کہ رُستگار اور نجات یافتہ لوگ فقط خدا پرست اورفرائضِ الٰہی کے پابند افراد ہیںجبکہ اِن کے سوا دوسرے انسان، انسانیت کے شرف و فضیلت سے محروم لوگ ہیں۔
”روزہ“ دین اسلام کے بلند اور ارفع احکام میں سے ایک حکم ہے، جو دنیا و آخرت کی سعادت، تزکیہ نفس، تعمیر کردار اور جسمانی سلامتی کا ضامن ہےجو خدا کی ایک ایسی عظیم نعمت ہے، جسے اﷲ رب العزت نے اپنے بندوں پر واجب کر کے ان پر احسان کیا ہے۔
روزہ، انسان کو گناہ سے باز رکھنے اور سرکش نفس کو سرکوب کرنے والا عامل ہےروزہ، نفس کی اصلاح، اسکی تربیت اورنفسانی خواہشات اور حیوانی غرائز کے کنٹرول میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔
ماہِ مبارک رمضان نزدیک آنے پر مردِ مسلمان اس الٰہی فریضے کی انجام دہی اور خدائی ضیافت سے استفادے کیلئے خود کوآمادہ کرتا ہے اور سب ہی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس پُر فیض اور انتہائی بابرکت مہینے سے زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہوں۔
ماہِ رمضان کی برکتوں بالخصوص روزے کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننے کے لئے ہم آیاتِ قرانی اور احادیث ِ معصومین ؑکی روشنی میں، روزے کے وجوب کے فلسفے اور حکمت کے بارے میں گفتگو کریں گےذیل میں ہم چار پہلوئوں سے روزے کے وجوب کا جائزہ لیں گے۔
۱:-معنوی اور روحانی پہلو
آیات و روایات کے مطابق، روزے کے فلسفے کا معنوی، روحانی اور اخلاقی پہلو دو رخ اور دو ابعاد سے قابل بحث و تحقیق ہے۔
الف : تقویٰ کے رخ سے
ب : بندوں کے خلوص کا امتحان
۲:-روزے کا اُخروی پہلو (قیامت کی یاد دہانی)
۳:- اجتماعی پہلو، عدالت ِ اجتماعی کے قیام کی جانب ایک قدم
۴:-جسمانی پہلو، جسم کی صحت وسلامتی
معنوی اور روحانی پہلو
آیات و روایات کے مطابق، روزے کے فلسفے کا معنوی، روحانی اوراخلاقی پہلو دو رخ اور دو ابعاد سے قابل بحث و تحقیق ہےخداوندِ عالم، قرآنِ مجید میں فرماتا ہے کہ :
یٰاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ
اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں، جس طرح تمہارے پہلے والوں پر فرض کئے گئے تھے، شاید تم اسی طرح متقی بن جائوسورہ بقرہ ۲- آیت ۱۸۳
یہ آیہ شریفہ، اس انسان ساز عبادت کا فلسفہ، ایک مختصر لیکن انتہائی پُر معنی جملے ”لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ“ (شاید تم اسی طرح متقی بن جائو) میں بیان کرتی ہے۔
روزہ، انسانی زندگی کے تمام میدانوں اور تمام پہلوئوں میں، تقویٰ اور پرہیز گاری کی روح کی پرورش کا ایک موثر عامل ہے۔
روزہ، مختلف رخ اور جہات رکھتا ہے، جن میں سے سب سے اہم ترین اسکا معنوی، اخلاقی اور تربیتی پہلو ہےروزہ انسان کی روح اور ارادے کو قوی کرتا ہے اوراسکی نفسانی خواہشات کو متوازن بناتا ہے۔
روزہ دار کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ روزے کی حالت میں کھانے پینے اور اسی طرح جنسی لذت سے پرہیز کرے اورعملاً یہ بات ثابت کرے کہ وہ حیوان نہیں ہے جواپنی خواہشات کی تسکین کیلئے اِدہر اُدہر منھ مارتا پھرتا ہےبلکہ وہ اپنے سرکش نفس کو لگام دے سکتا ہے، اور اپنی نفسانی خواہشات پر غلبہ پا سکتا ہےدرحقیقت روزے کا سب سے بڑا مقصد، اسکا یہی روحانی اور معنوی اثر ہے۔
ایسے انسان جو طرح طرح کی لذیذ غذائوں اور ٹھنڈے میٹھے مشروبات تک دسترس رکھتے ہیں، اور جوں ہی انہیں بھوک یا پیاس محسوس ہوتی ہے، بے دریغ ان اشیا سے استفادہ کرتے ہیں، وہ نہروں کے کنارے اگنے والے درختوں کی طرح ہیںناز و نعم میں پرورش پانے والے یہ درخت ذرا سی سختی پر پژمردہ ہو جاتے ہیں اگر انہیں صرف چند دن پانی نہ ملے تو مرجھا کر خشک ہو جاتے ہیں ,لیکن صحرائوں، سنگلاخ پہاڑوں اور خشک میدانی علاقوں میں اگنے والے درخت جو ابتدا ہی سے جلتے سورج، تیز وتند ہوائوں اور سخت سردیوں کا سامنے کرتے ہیں اور طرح طرح کی محرومیوں کے ساتھ نشو و نما پاتے ہیں، وہ مضبوط، سخت جان اور دیر تک قائم رہنے والے ہوتے ہیں۔
روزہ بھی انسان کی روح کے ساتھ یہی عمل انجام دیتا ہےاور وقتی اور عارضی پابندیوں کے ذریعے اسے سخت کوش اور مضبوط قوت ِارادی کا مالک بناتا ہے، اوراسے مشکلات کے خلاف مقابلے کی طاقت فراہم کرتا ہے اور سرکش خواہشاتِ نفسانی کوکنٹرول کرکے انسانی قلب کو نور اور پاکیزگی بخشتا ہے۔
روزہ، ایک انتہائی اہم عبادت ہےاگر مخصوص آداب و شرائط کے ساتھ، اور جس طرح اللہ رب العزت چاہتا ہے اُس طرح انجام پائے تو تعمیر کردار اور تزکیہ و تہذیب ِنفس کے سلسلے میں بہت زیادہ تاثیر کاحامل ہے۔
روزہ، انسانی نفس کو گناہوں اوراخلاقِ بد سے پاک کرنے اور اسے معنوی و انسانی ارتقا اور نشو و نما کے لئے آمادہ کرنے کے سلسلے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔
روزہ رکھنے والا انسان گناہوں کو ترک کرنے کے ذریعے، نفس امارہ کو لگام دے کر، اسے کنٹرول کر کے، اپنے اختیار میں لیتا ہے۔
روزہ داری کے ایام، گناہوں کو ترک کرنے اور ریاضت ِ نفس کا زمانہ ہیں، جہاد بالنفس اور پرہیز گاری کی مشق کادور ہیں اس زمانے میں انسان اپنے نفس کو گناہوں اور غلاظتوں سے پاک کرنے کے علاوہ جائز لذتوں، جیسے کھانے پینے سے بھی اجتناب برتتا ہے اور اس عمل کے ذریعے اپنے نفس کو جِلا اور نورانیت بخشتا ہےکیونکہ بھوک باطن کی جِلا اور خدا کی جانب توجہ کا باعث ہوتی ہےانسان اکثر بھوک کے عالم میں اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے، جبکہ پیٹ بھرا ہونے کی صورت میں، وہ اس کیفیت سے عاری ہوتا ہے۔اسلام نے پُرخوری کی مذمت کی ہے اور انسان کو کم خوری کی تاکید کی ہےکیونکہ انسان شکم سیری کی حالت میں دعا و مناجات کی لذت نہیں اٹھا پاتاجبکہ بھوک کی حالت میں عبادات و مناجات میں زیادہ لذت محسوس کرتا ہے۔
رسولِ مقبول صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم کا ارشاد ہے:
لاتشبعوا فیطفی نورالمعرفة من قلوبکم
پُرخوری نہ کرو، کیونکہ اس سے تمہارے قلب میں معرفت کا نوربجھ جاتا ہے(مستدرک الوسائل – ج ۳- ص ۸۱)
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے:
نعم العون علی اسرالنفس و کسرعا دتها التجوع
بھوک، نفس کی بہترین مددگار اور اسکی عادتوں کا خاتمہ کرتی ہے(حوالہ سابق)
حضرت علی علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ: خداوند ِعالم نے شب ِمعراج رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے فرمایا:
یا احمد! لوذقت حلاوةالجوع، والصمت، والخلوة، وماورثوامنها قال:یارب!ما میراث الجوع؟ قال: الحکمة، وحفظ القلب، والتقرب التی، والحزن الدائم، وخفّة بین الناس، و قول الحق، ولا یبالی عاش بیسر او بعسر
اے احمد! کاش آپ بھوک، خاموشی، تنہائی اور ان کے آثار کی مٹھاس کو چکھتےرسول اﷲ ؐنے عرض کیا : بارِالٰہا! بھوک کا فائدہ کیا ہے؟ فرمایا: حکمت، قلب کی حفاظت، میرا تقرب، دائمی حزن، کم خرچی، حق گوئی اور سختی میں ہو یا آسانی میں بیباکیمستدرک الوسائل۔ ج۳۔ ص۸۲علامہ محمد حسین طباطبائی ؒ آیہ شریفہ ”لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ“ (سورہ بقرہ۲- آیت ۱۸۳) کی تفسیر میں فرماتے ہیں :اسلام کی تعلیمات ِعالیہ اور اسکے بیانات ِوافیہ سے پتا چلتا ہے کہ پاک پروردگار کی ذات اس بات سے منزہ ہے کہ اسے کسی چیز کی احتیاج و نیاز ہواوروہ ہر قسم کے نقص اور کمی سے مبرا ہےپس عبادات کا فائدہ صرف اور صرف بندے کوہوتا ہے، خدا کونہیں، اور گناہوں کا بھی یہی حال ہےخداوندِ عالم قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَ نْفُسِکُمْ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا (اب تم نیک عمل کرو گے، تواپنے لئے اور بُرا کرو گے، تو اپنے لئےسورہ بنی اسرائیل ۱۷- آیت ۷)
پس اطاعت یا معصیت کے اثرا ت خود انسان پر عائد ہوتے ہیں جو صرف اور صرف نیاز اور تہیدستی کی خصوصیت کا حامل ہے: یٰاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَی ﷲِ وَاللّٰهُ هُوَا لْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (اے انسانو! تم سب بارگاہِ الٰہی کے فقیر ہو، اور اﷲ صاحب ِ دولت اور قابلِ حمد و ثنا ہے سورہ فاطر ۳۵- آیت ۱۵)
روزے کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے ”لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ“ یعنی یہ حکم اس لئے وضع کیا گیا ہے کہ تم پرہیز گار بن جائو، اس لئے نہیں کہ پروردگار کو تمہارے روزے کی ضرورت ہے۔
البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ روزے کے ذریعے حصولِ تقویٰ کی امید کی جا سکتی ہےکیونکہ انسان فطرتاً یہ بات محسوس کرتا ہے کہ اگر کوئی عالمِ طہارت اور قدس سے تعلق پیدا کرنا چاہے اور کمال و روحانیت کے مرتبے پر پہنچنے کا خواہشمند ہو اور چاہتا ہو کہ معنوی ارتقا کے درجات طے کرے، تواس کے لئے سب سے پہلے جو چیز ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ وہ بے لگامی اور خواہشات ِنفسانی سے پرہیز کرے، سرکش نفس کو کنٹرول کرے اور اسے بے لگام ہو کر جہاں دل چاہے منھ مارنے کی اجازت نہ دے، مادی زندگی کے مظاہر میں ڈوب جانے اور انہی سے دل لگانے سے خود کو پاک رکھے۔
مختصر یہ کہ جو چیز اسکے اور خدا کے درمیان رکاوٹ ہو، اس سے دور رہےاور یہ تقویٰ شہوتوں پر قابو پانے اور نفسانی خواہشات سے دور رہنے کے ذریعے حاصل ہوتا ہےاورجوچیز عام لوگوں کے حال سے مناسب ہے، وہ یہ ہے کہ جن امور کی تمام ہی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے، جیسے کھانا پینا اور جائز شہوات کی جانب میلان، تو ان پر کنٹرول سے کام لیں، تاکہ اس مشق کے ذریعے انہیں قوتِ ارادی حاصل ہو، اور ناجائز نفسانی خواہشات سے بھی دور رہ سکیں اور تقربِ الٰہی کی سمت بڑھیںکیونکہ جوشخص جائز اور مباح امور(کو چھوڑنے کے سلسلے) میں خدا کی بات مانتا ہے وہ ناجائز اور حرام امور (کو چھوڑنے کے سلسلے) میں اسکی بہتر اطاعت اور فرمانبرداری قبول کرے گا(تفسیر المیزان ج ۳۔ ص۹)
ایسا شخص جو ماہِ رمضان میں روزے رکھے، اور اس ایک مہینے میں ارتکاب ِگناہ اور برے اخلاق و کردار سے اجتناب کرے، وہ ماہِ مبارکِ رمضان کے بعد بھی ترکِ گناہ اور اخلاقِ بد سے پرہیز کی اس حالت کو باقی رکھ سکتا ہے۔
روزہ، ایک ایسی عبادت ہے جس میں جائز لذتوں کو چھوڑنے اور گناہوں سے دوری کی باعث، روزہ دار شخص کا دل پاک ہو جاتا ہے اوروہ خدا کے سوا کسی اور کے ذکر اور فکر سے آزاد رہتا ہے۔
روزے کا اہم ترین فلسفہ تقویٰ کا حصول ہےاخلاقی خوبیوں اور انسانی خصلتوں کا حصول، خدا کی طرف سے واجب کئے گئے اس حکم کا لازمہ ہےکیونکہ (روزے کے عبادت ہونے سے قطع نظر) بھوک انسان کو ان میلانات اور کششوں سے بازرکھتی ہے جو اسے سرکشی اور گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں اور اسکے اندر انسانی خُلق وخُو کو زندہ کرتی ہےلہٰذا تقویٰ، اپنی اصلاح کرنے والے انسان کی بلند ترین خصوصیت ہے۔
تقویٰ کے بارے میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے :
فَاءِنَّ تَقْوَیٰ ﷲِ دَوَاُ دَاءِ قُلُوبِکُمْ، وَ بَصَرُ عَمَیٰ أَ فْئِدَتِکُمْ، وَشِفَاءَ مَرَضِآ اَجْسَادِکُمْوَصَلَاحُ فَسَادِ صُدُورِکُمْ، وَطُهُورُ دَنَسِ أَنْفُسِکُمْ، وَ جِلَاءُ غَشَاءِ أَبْصَارِکُمْ، وَأَمْنُ فَزَعِ جَأْشِکُمْ، وَ ضِیَائُ سَوَادِ ظُلْمَتِکُمْ
بے شک تقویٰ تمہارے قلوب کی بیماری کی شفا بخش دوا، فکر و شعور کی تاریکیوں کے لئے اجالا، جسموں کی بیماریوں کے لئے شفا، سینے کی تباہ کاریوں کے لئے اصلاح، نفس کی کثافتوں کے لئے پاکیزگی، آنکھوں کی تیرگی کے لئے نور، دل کی دہشت کے لئے ڈھارس اور جہالت کے اندھیروں کے لئے روشنی ہے(نہج البلاغہ – خطبہ ۱۹۶)
ب : بندوں کے خلوص کا امتحان
اخلاص کا شمار، معنوی ارتقا و کمال کے اعلیٰ ترین مراحل میں ہوتا ہےاخلاص کے اثر سے قلب نورِ الٰہی کی ضیا پاشیوں کا مرکز بن جاتا ہے اور حکمت و دانش، دل سے نکل کر زبان پر جاری ہو جاتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے : فَرَضَ اللّٰهُ وَ الصِّیَامَ اَبْتِلَاءً لِا خْلَاصِ اَلْخَلْقِ (اﷲ نے روزہ واجب کیا ہے، تاکہ اسکے ذریعے لوگوں کا اخلاص آزمائےنہج البلاغہ – کلمات قصار ۲۵۲)
حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے معروف خطبہ فدک میں ہے کہ :۔۔۔ فرض ﷲ الصیام تثبیتاً للاخلاص (خداوندِ عالم نے اخلاص کے ثبوت کیلئے روزہ واجب کیا ہےبحارالانوار – ج ۹۳- ص ۳۶۸)
ان روایات سے، روزے اور اخلاص کے درمیان پائے جانے والے ایک خاص تعلق کاپتا چلتا ہےبندوں کا اخلاص جانچنے کی خاطر روزہ واجب کرنا، اخلاص کی اہمیت کی بھی علامت ہے۔
ایسا انسان جو نفسانی خواہشات سے پرہیز کرتا ہے اور ایک ماہ کے عرصے پر محیط ایک خاص زمانے میں، اپنے آپ کو فقہی اور اخلاقی احکامات ملحوظ رکھنے کا پابند بناتا ہے، اگر اسکے اعمال اخلاص کے ساتھ نہ ہوں تو وہ کسی خاص معنوی قدر و قیمت کے حامل نہیں ہوں گے۔
لہٰذا ایک ایسا انسان جو روزے کی سختیاں اور مشکلات برداشت کرتا ہے، اسے اخلاص کا مالک ہونا چاہئےیعنی اسکے اعمال صرف اور صرف خدا کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہونے چاہئیں۔
احادیث میں ملتا ہے کہ اس عمل کی کوئی قدر و قیمت نہیں جس میں اخلاص نہ ہوحتیٰ روزہ بھی جو اس قدر اہمیت اور فضیلت رکھتا ہے کہ خدا کو مطلوب ہے اور اسکے بارے میں خود خداوند ِ عالم نے فرمایا ہے کہ : الصوم لی وانا اجزی بہ (روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکی پاداش دیتا ہوںوسائل الشیعہ – ج۷- ص ۲۹۲)
وہی عبادت درگاہِ خداوندی میں قبولیت کا شرف پاتی ہے اور قرب و کمال کا سبب بنتی ہے جو ہر قسم کے دکھاوے، خود پسندی اور خود نمائی سے پاک ہو اور جسے صرف اور صرف رضائے الٰہی کے حصول کے لئے انجام دیا گیا ہو۔
اخلاص، عمل کی قدر وقیمت اور قبولیت کا پیمانہ ہےجس قدر اخلاص زیادہ ہو گا، اُسی قدر عمل بھی مکمل ہو گا۔
درحقیقت تقویٰ کے حصول کی شرط ”اخلاص“ ہےاور یہ تو آپ جان ہی چکے ہیں کہ روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہےاگر کوئی شخص ماہ ِرمضان کی عبادتوں کو اخلاص کے ساتھ انجام دے، تو اس نے خداوندِ عالم کا حقیقی مہمان بن کر قرب ِالٰہی کے مقام اور معنوی و اخلاقی مقامات حاصل کر لئے ہیں۔
۲:-روزے کا اُخروی پہلو (قیامت کی یاد دہانی)
روزے کے واجب کئے جانے کا دوسرا قابلِ بحث وگفتگو پہلو، اسکا اُخروی پہلو ہےجو دراصل قیامت کے دن کی یاد دلانا ہےیعنی جو انسان روزہ رکھ کر بھوک اور پیاس کی سختیاں برداشت کرتا ہے، اسے روزِ قیامت کی بھوک اور پیاس کا خیال آتا ہے۔ قیامت کے دن کی سختیوں کی جانب اس کا یوں متوجہ ہونا، اسکے کردار اور عمل پر قابلِ لحاظ اثر مرتب کرتا ہے۔
اگر انسان اپنے اعمال و کردار کی جانب متوجہ رہے، خود کو وعظ و نصیحت کرتا رہے اور ہمیشہ یہ خیال اسکے دل میں رہے کہ اسے ایک دن اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے، اسکی ایک ایک حرکت اور ایک ایک سکوت کا حساب دینا ہے، تو اسکا یہ احساس اسکے مزاج اور اخلاق پر نہایت مثبت اثرات مرتب کرے گاجس کے نتیجے میں وہ بارگاہِ الٰہی سے زیادہ سے زیادہ اجر وثواب کا حقدار بن جائے گا۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے:
فان قال:فلم امروابالصوم؟ قیل لکی یعرفواالم الجوع، والعطش، فیستد لواعلی فقر الاٰخرة، ولیکون الصائم خاشعًا ذلیلاً مستکینًا ماجورًا محتسبًا، عارفًاصابرًالما اصابه من الجوع والعطش، فیستوجب الثوابمع مافیه من الانکسار عن الشهوات، و لیکون ذٰلک واعظًالهم فی العاجل، ورائضًا لهم علی اداء ما کلّفهم و دلیلاًلهم فی الاٰجل، ولیعرفواشدّة مبلغ ذٰلک علی اهل الفقروا لمسکنة فی الدّنیا، فیودّوا الیهم ما افترض ﷲتعالیٰ لهم فی اموالهم(بحارالانوار – ج ۹۳- ص ۳۶۹)
اگر کوئی پوچھے کہ روزے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ تواسکا جواب یہ ہے: تاکہ انہیں معلوم ہوکہ بھوک اور پیاس کی تکلیف کیا ہوتی ہے، اور اس ذریعے سے وہ آخرت کے فقروفاقے کو محسوس کریں، نیز (اس کے ذریعے) ان میں خضوع وخشوع اور فروتنی پیدا ہو اور وہ اسکا اجر حاصل کریں، اور یہ سمجھیں کہ ان کا اجر خدا کے پاس ہے، انہیں خدا کی معرفت حاصل ہو، انہیں بھوک اور پیاس سے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کریں، تاکہ ثواب کے مستحق قرار پائیںاس کے ساتھ ساتھ (روزے کے ذریعے) ان میں موجود خواہشاتِ نفسانی کمزور ہوں، (روزہ) دنیا میں ان کیلئے وعظ و نصیحت کا موجب ہو اور فریضے کی انجامدہی کے لئے ایک مشق ہو، اور آخرت میں ان کے لئے رہنما ہو اورانہیں معلوم ہو کہ دنیا میں فقراو مساکین کس مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔ خدا نے ان کے اموال میں فقرا ومساکین کا جو حق واجب کیا ہے وہ انہیں ادا کریں۔
یہ حدیث، جس میں امام رضا علیہ السلام نے روزے کے واجب ہونے کا فلسفہ بیان فرمایا ہے، اس میں روزے کے اُخروی پہلو، یعنی روزِ قیامت کی بھوک اور پیاس کی یاد دہانی کے علاوہ فقرا اور مساکین کی مشکلات کی جانب توجہ کابھی ذکر ہےجس کا تعلق روزے کے اجتماعی پہلو سے ہے، جس پر آئندہ سطور میں ہم روشنی ڈالیں گے۔
ایک دوسرے مقام پر امام رضا علیہ السلام ہی نے ارشاد فرمایا ہے کہ :
انما امروا بالصوم لکی یعرفوا الم الجوع والعطش فیستدلوا علی فقر الآخرة
لوگوں کو روزے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ وہ بھوک اور پیاس کو محسوس کریں، اور اس کے توسط سے آخرت کے فقر اور بے چارگی کو درک کریں( من لایحضرا لفقیہ ج ۲ص ۴۳)
پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے، خطبہ شعبانیہ میں فرمایا ہے :
وذکروا بجوعکم وعطشکم جوع یوم القیامۃ وعطشہ۔
اور روزے میں تمہاری بھوک اور پیاس کے ذریعے تمہیں قیامت کی بھوک اور پیاس یاد دلائے( بحار الانوارج ۹۶ص ۳۵۶)
اس باب میں بیان ہونے والی روایات سے مجموعاً جو بات سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس برداشت کرا کے، اسے آخرت کی جانب متوجہ کیا جائے اور ایسا انسان جوروزے کی سختیاں اور مشکلات برداشت کرتا ہے، وہ اس موقع پر قیامت کے دن کے فقر اور مشکلات کی جانب متوجہ ہو۔
۳:- اجتماعی پہلو‘ عدالت ِ اجتماعی کے قیام کی جانب ایک قدم
روزے کا اجتماعی پہلو کسی سے پوشیدہ نہیںروزہ افرادِ معاشرہ کے درمیان مساوات اور برابری کا ایک درس ہےروزہ رکھ کر صاحب ِحیثیت افراد بھی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے بھوکے اور نادار افراد کی کیفیت محسوس کرتے ہیں، اور اپنی شبانہ روز کی خوراک میں کفایت شعاری کے ذریعے ان کی مدد کا اہتمام کر سکتے ہیں۔
البتہ بھوکے اور نادار افراد کی حالت بیان کر کے بھی شکم سیر افراد کو ان کے حال کی جانب متوجہ کیا جاسکتا ہےلیکن اگر یہ مسئلہ حسی اور عینی پہلو حاصل کر لے تو اسکا اثربڑھ جاتا ہےروزہ اس اہم سماجی مسئلے کو حسی رنگ دیتا ہےلہٰذا امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک معروف روایت میں آیا ہے کہ جب آپ ؑسے روزے کے وجوب کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ ؑ نے فرمایا :
اما العلة فی الصیام لیستوی به الغنی والفقیر، و ذٰلک لانّ الغنّی لم یکن لیجد مسّ الجوع، فیرحم الفقیر، لاّن الغنّی کلّما اراد شیئا قدر علیه، فاراد اﷲعزّوجلّ ان یستوی بین خلقه، و ان یذیق الغنیّ مسّ الجوع والالم، لیرقّ علی الضّعیف و یرحم الجائع
روزہ اس وجہ سے واجب کیا گیا ہے، تاکہ اسکے ذریعے امیر اور غریب برابر ہوجائیںکیونکہ دولت مند افراد نے بھوک کا ذائقہ نہیں چکھا ہوتاکہ (جس کے زیرِ اثر) وہ غریبوں پر رحم کریںکیونکہ دولت مندوں کے لئے ہر وہ چیز فراہم ہو جاتی ہے جو وہ چاہتے ہیںلہٰذا خدا نے چاہا کہ اپنے بندوں کے درمیان مساوات پیداکرے، اورصاحبانِ مال ودولت کو بھی بھوک اور اس کے درد و رنج کا ذائقہ چکھائے، تاکہ وہ کمزور و لاچارافراد پر مہربانی اور بھوکوں پر رحم کریں( بحارالانوار۔ ج ۹۶ص ۳۷۱)
حمزہ بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کیا کہ: خداوندِ عزوجل نے روزہ کیوں فرض کیا ہے؟ اس کے جواب میں امام ؑنے مجھے تحریر کیا کہ : لیجد الغنیّ مسّ الجوع فیمنّ علی الفقیر (تاکہ صاحبانِ دولت بھوک کا مزہ چکھیں اورفقیر پر احسان کریں۔ بحارالانوار۔ ج۹۶۔ ۳۶۹)
ان روایات کے مجموعی مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ روزے کے وجوب کی وجوہ میں سے ایک وجہ، عدالت ِ اجتماعی کے قیام کے سلسلے میں ا قدام ہےتاکہ دولت مند اور صاحب ِ حیثیت افرادروزے کے ذریعے محروم اور مفلس افراد کی بھوک، غربت اور بے چارگی کا درد محسوس کریں اور فقرا اورمساکین کی مدد کریں۔
معاشرے میں بھوکے، غریب اور محتاج افراد ایک کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں، جبکہ دولت مند اور صاحب ِ ثروت افراد کی بھی کمی نہیں، کتنا اچھا ہو کہ دولت مند افراد، ماہِ مبارک رمضان میں محروم اور فقیر افراد کی فکر کریں، اور معاشرے میں عدلِ اجتماعی کے قیام کے لئے ایک قدم اٹھائیں اور حتیٰ الامکان ان لوگوں کی مدد کریں۔
ذرا بتایئے اگر دولت مند ممالک کے لوگ، سال کے صرف چند دن روزہ رکھ لیں اور بھوک کا مزہ چکھیں توکیا پھر بھی دنیا میں بھوک و افلاس باقی رہ سکتاہے؟
۴:-جسمانی پہلو‘ جسم کی صحت وسلامتی
آج اور اسی طرح قدیم طب میں بیماریوں کے علاج کے سلسلے میں ”امساک“ کا معجزآسا اثر ثابت شدہ ہےبہت سی بیماریوں کی اصل وجہ حد سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانا ہےکیونکہ جسم کا حصہ نہ بننے والا اضافی غذائی مواد، بدن کے مختلف حصوں میں مزاحم چربی کی صورت میں، یا خون میں اضافی شوگر، یا کولیسٹرول کی شکل میں باقی رہ جاتا ہےیہ اضافی مواد، بدن کے مختلف حصوں میں دراصل مختلف جراثیم اور متعدی بیماریوں کی نشو و نما کے لئے بدبودار کیچڑ کی سی حیثیت رکھتا ہےان بیماریوں سے مقابلے کا بہترین راستہ، امساک (Control)اور روزے کے ذریعے اس کیچڑ کو بدن سے ختم کرنا ہے۔
روزہ اس کوڑے، اور بدن میں جذب نہ ہونے والے اضافی مواد کو جلا کردرحقیقت بدن کو جھاڑ پونچھ دیتا ہے۔
روزہ، نظامِ ہضم کے لئے ایک طرح کا آرام (Rest) اور اسکی سروس اور مرمت کاموثر عامل ہےکیونکہ یہ نظام سال بھر مستقل مصروف ِکار رہتا ہے، لہٰذا اس کیلئے یہ آرام ضروری ہے۔
اس بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ اسلام، روزہ دار انسان کو سحر اور افطار میں حد سے زیادہ کھانے پینے سے گریز کا حکم دیتاہےتاکہ جسمانی صحت وسلامتی کے سلسلے میں روزہ اپنا مکمل اثر دکھائےبصورتِ دیگر ممکن ہے اسکا بالکل الٹا نتیجہ برآمد ہو۔
پیغمبر اسلامؐ کی ایک معروف حدیث ہے: صوموا تصحوا (روزہ رکھو تاکہ تندرست ر ہوبحار الانوار – ج ۹۶- ص ۲۵۵)
ایک دوسرے مقام پر پیغمبر اسلام ؐفرماتے ہیں: المعدة بیت کل داء والحمیة راس کل داء (معدہ تمام بیماریوں کا گھر، اور امساک سب سے بہترین علاج ہے)
لہٰذا روزہ جسمانی صحت اور معدے کو آرام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہےبالخصوص سال میں ایک مہینے کے روزے، ان لوگوں کی صحت و سلامتی کے لئے بہت مفید ہوتے ہیں، جو پُرخوری کے عادی ہوں۔
روم سے تعلق رکھنے والے ایک عالم کے مطابق : سب سے پہلی بیماری کا تعلق پُرخوری سے ہے اور پہلا علاج بھی کھانے پینے سے پرہیز ہےاسی بات کو آج سے چودہ سو برس قبل، اسلام کے عظیم پیشوا، حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے وحی سے الٰہام لیتے ہوئے، دنیائے انسانیت کے سامنے، ان الفاظ میں بیان کر دیا تھا کہ: المعدة بیت کل داء و الحمیة راس کل داء۔
امریکہ سے تعلق رکھنے والا ”ڈاکٹر کارلو“ لکھتا ہے: بیمار شخص کو چاہئے کہ ہر سال کچھ عرصے کیلئے کھانے پینے سے پرہیز کرے، کیونکہ جب تک غذا جسم کو ملتی رہتی ہے، میکروب نشو و نما پاتے رہتے ہیںلیکن جب انسان کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے تو میکروب کمزور پڑنے لگتے ہیںوہ مزید کہتا ہے کہ: روزہ جسے اسلام نے واجب کیا ہے وہ جسم کی سلامتی کا سب سے بڑا ضامن ہے(تفسیر نمونہج۱ص ۶۳۲)
کتاب ”طب النبی ؐ“ میں پیغمبر اسلام ؐسے ایک حدیث نقل کی گئی ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا:
لاتمیتوا القلب بکثرة الطعام والشراب، فان القلب یموت کا لزرع اذا کثر علیه الماء
اپنے دلوں کو زیادہ کھانے اور زیادہ پینے کے ذریعے نہ مارو، کیونکہ ایسے شخص کا دل (جس کا معدہ کھانے پینے کی اشیا سے بھرا ہوا ہو) مر جاتا ہےاس کھیتی کی مانند، کہ جب اس میں حد سے زیادہ پانی آجائے تو وہ برباد ہو جاتی ہے۔ روزے کا سب سے بڑا فلسفہ تقویٰ کا حصول، تہذیب ِ نفس اور معنوی کمالات اور اخلاقی صفات سے آراستہ ہونا ہےاور ان اعلیٰ مراتب تک پہنچنے کے لئے چند مقدمات سے گزرنا لازم ہے جن میں سے ایک جسمانی صحت وسلامتی بھی ہے اور اسلام نے اس نکتے پربھی توجہ دی ہے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِج فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُط وَ مَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ ﷲ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا ﷲ عَلٰی مَا هَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo
(البقرة، 2: 185)
’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، ﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا، اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر سکو اور اس لیے کہ اس نے تمہیں جو ہدایت فرمائی ہے اس پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس لیے کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔‘‘
اَلأَحَادِیْثُ النَّبَوِیَّةُ
1. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّیَاطِیْنُ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.
أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب هل یقال رمضان أو شهر رمضان ومن رأی کله واسعا، 2/672، الرقم: 1800، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل شهر رمضان، 2/758، الرقم: 1079، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب فضل شهر رمضان، 4/126، الرقم: 2097.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ دیا جاتا ہے۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
2. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: إِذَا جَائَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتْ الشَّیَاطِیْنُ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ.
أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل شهر رمضان، 2: 758، الرقم: 1079، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب فضل شهر رمضان، 4/127، الرقم: 2100، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/357، الرقم: 8669، والبیهقي في السنن الکبری، 4/202، الرقم: 7695.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام مسلم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
3. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِذَا کَانَ أَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، صُفِّدَتِ الشَّیَاطِیْنُ، وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ یُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، فَلَمْ یُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَیُنَادِي مُنَادٍ: یَا بَاغِيَ الْخَیْرِ، أَقْبِلْ، وَیَا بَاغِيَ الشَّرِّ، أَقْصِرْ، وَ ِﷲِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذٰلِکَ کُلَّ لَیْلَةٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل شهر رمضان، 3/66، الرقم: 682، وابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في فضل شهر رمضان، 1/526، الرقم: 1642، وابن حبان في الصحیح، 8/221، الرقم: 3435.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے شیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک ندا دینے والا پکارتا ہے: اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ تعالیٰ کئی لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔ ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
4. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: أَتَاکُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَکٌ فَرَضَ ﷲ عَلَیْکُمْ صِیَامَهُ تُفْتَحُ فِیْهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِیْهِ أَبْوَابُ الْجَحِیْمِ وَتُغَلُّ فِیْهِ مَرَدَةُ الشَّیَاطِیْنِ ِﷲِ فِیْهِ لَیْلَةٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَیْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ.
أخرجه النسائي في السنن، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف علی معمر فیه، 4/142، الرقم: 2106، وفي السنن الکبری، 2/66، الرقم: 2416، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/270، الرقم: 8867، ، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/60، الرقم: 1492، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/143.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس ماہ رمضان آیا۔ یہ مبارک مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور بڑے شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔ اس (مہینہ) میں ﷲ تعالیٰ کی ایک ایسی رات (بھی) ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کے ثواب سے محروم ہوگیا سو وہ محروم ہو گیا۔‘‘
اِس حدیث کو امام نسائی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔
5. عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُوْلُ: هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَ تُفْتَحُ فِیْهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُغَلُّ فِیْهِ الشَّیَاطِیْنُ. بُعْدًا لِمَنْ أَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَهُ إِذَا لَمْ یُغْفَرْلَهُ فِیْهِ فَمَتَی؟
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَیْبَةَ وَالطَّبَرَانِيُّ.
أخرجه ابن أبي شیبة في المصنف، 2/270، الرقم: 8871، والطبراني في المعجم الأوسط، 7/323، الرقم: 7627، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/60، الرقم: 1492.
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آگیا ہے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔ اس میں شیاطین کو (زنجیروںمیں) جکڑ دیا جاتا ہے۔ وہ شخص بڑا ہی بد نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا لیکن اس کی بخشش نہ ہوئی۔ اگر اس کی اس (مغفرت کے) مہینہ میں بھی بخشش نہ ہوئی تو (پھر) کب ہو گی؟‘‘
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔
6. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم کَانَ یَقُوْلُ: اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَی الْجُمُعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ مَا بَیْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْکَبَائِرَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه.
أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الطهارة، باب الصلوات الخمس والجمعة إلی الجمعة ورمضان إلی رمضان مکفرات لما بینهن ما اجتنبت الکبائر، 1/209، الرقم: 233، والترمذي في السنن، أبواب الصلاة، باب ما جاء في فضل الصلوات الخمس، 1/418، الرقم: 214، وابن ماجه عن أبي أیوب الأنصاري في السنن، کتاب الطهارة وسننها، باب تحت کل شعرة جنابة، 1/196، الرقم: 598، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/359، 414، 484، الرقم: 8700، 9345، 10290، وأبو یعلی في المسند، 11/371، الرقم: 6486، وابن حبان في الصحیح، 5/24، الرقم: 1733.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے لے کر دوسرا جمعہ پڑھنا اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے روزے رکھنا، ان کے درمیان واقع ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں، جب تک کہ انسان گناہ کبیرہ نہ کرے۔‘‘
اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
7. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ: أَظَلَّکُمْ شَهْرُکُمْ هَذَا بِمَحْلُوْفِ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم مَا مَرَّ بِالْمُسْلِمِیْنَ شَهْرٌ خَیْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَلَا مَرَّ بِالْمُنَافِقِیْنَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ بِمَحْلُوْفِ رَسُوْلِ ﷲِ لَیَکْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ قَبْلَ أَنَّ یُدْخِلَهُ وَیَکْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَائَهُ قَبْلَ أَنَّ یُدْخِلَهُ وَذَلِکَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ یُعِدُّ فِیْهِ الْقُوَّةِ مِنَ النَّفَقَةِ لِلْعِبَادَةِ وَیُعِدُّ فِیْهِ الْمُنَافِقُ اتِّبَاعَ غَفَلاَتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِهِمْ. رَوَاهُ ابْنُ خُزَیْمَةَ وَأَحْمَدُ وَالْبَیْهَقِيُّ.
أخرجه ابن خزیمة في الصحیح، 3/188، الرقم: 1884، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/374، الرقم: 8857، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/304، الرقم: 3607، والطبراني في المعجم الأوسط، 9/21، الرقم: 9008، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/58، الرقم: 1485.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلفاً فرمایا: تم پر ایسا مہینہ سایہ فگن ہوگیا ہے کہ مسلمانوں پر اِس سے بہترمہینہ اور منافقین پر اس سے بڑھ کر برا مہینہ کبھی نہیں آیا۔ پھر دوبارہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلفاً ارشاد فرمایا: ﷲ تعالیٰ اس مہینے کاثواب اور اس کی نفلی عبادت اس کے آنے سے پہلے لکھ دیتا ہے اور اس کی بدبختی اور گناہ بھی اس کے آنے سے پہلے لکھ دیتا ہے، کیونکہ مومن اس میں انفاق کے ذریعے قوت حاصل کر کے عبادت کرنے کو تیاری کرتا ہے اور منافق مومنوں کی غفلتوں اور ان کے عیب تلاش کرنے کی تیاری کرتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ، احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
8. عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: احْضُرُوْا الْمِنْبَرَ فَحَضَرْنَا. فَلَمَّا ارْتَقَی دَرَجَةَ قَالَ: آمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقَی الدَّرْجَةَ الثَّانِیَةَ، قَالَ: آمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقَی الدَّرْجَةَ الثَّالِثةَ قَالَ: آمِیْنَ فَلَمَّا نَزَلَ، قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، سَمِعْنَا مِنْکَ الْیَوْمَ شَیْئًا مَا کُنَّا نَسْمَعُهُ، قَالَ: إِنَّ جِبْرِیْلَ عَرَضَ لِي فَقَالَ: بُعْدًا لِمَنْ أَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَهُ قُلْتُ آمِیْنَ. فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّانِیَّةَ قَالَ: بُعْدًا لِمَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ، قُلْتُ: آمِیْنَ، فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّالِثَةَ، قَالَ: بُعْدًا لِمَنْ أَدْرَکَ أَبَوَاهُ الْکِبَرَ عِنْدَهُ أَوْ أَحَدُهُمَا فَلَمْ یُدْخِلاَهُ الْجَنَّةَ. قُلْتُ: آمِیْنَ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ خُزَیْمَةَ وَالْبَیْهَقِيُّ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: صَحِیْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، 4/170، الرقم: 7256، وابن حبان في الصحیح، 2/140، الرقم: 409، وابن خزیمة في الصحیح، 3/192، الرقم: 1888، والبیهقی في السنن الکبری، 4/304، الرقم: 8287، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/270، الرقم: 8871، والطبراني في المعجم الأوسط، 9/17، الرقم: 8994، والمعجم الکبیر، 19/144، الرقم: 315، وأبو یعلی في المسند، 10/308، الرقم: 5922، والبزار في المسند، 4/241، الرقم: 1405، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/330، الرقم: 2591.
’’حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منبر کے پاس آجاؤ، ہم آ گئے۔ جب ایک درجہ چڑھے تو فرمایا: ’’آمین‘‘ جب دوسرا چڑھے تو فرمایا: ’’آمین‘‘ اور جب تیسرا چڑھے تو فرمایا: ’’آمین‘‘۔ جب اترے تو ہم نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! ہم نے آج آپ سے ایک ایسی چیز سنی ہے جو پہلے نہیں سنا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل ں میرے پاس آئے اور کہاجسے رمضان ملا لیکن اسے بخشا نہ گیا وہ بدقسمت ہوگیا۔ میں نے کہا: آمین۔ جب میں دوسرے درجے پر چڑھا تو انہوں نے کہا: جس کے سامنے آپ کا نام لیا گیا اور اس نے درود نہ بھیجا وہ بھی بد قسمت ہوگیا۔ میں نے کہا: آمین جب میں تیسرے درجے پر چڑھا تو انہوں نے کہا: جس شخص کی زندگی میں اس کے ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک بوڑھا ہوگیا اور انہوں نے اسے (خدمت و اِطاعت کے باعث) جنت میں داخل نہ کیا، وہ بھی بدقسمت ہوگیا۔ میں نے کہا: آمین۔‘‘
اسے امام حاکم، ابن حبان، ابن خزیمہ، بیہقی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
9. عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ الْغِفَارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَأَهَلَّ رَمَضَانُ فَقَالَ: لَوْ یَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا رَمَضَانُ لَتَمَنَّتْ أُمَّتِي أَنْ یَکُوْنَ السَّنَةَ کُلَّهَا. رَوَاهُ الْبَیْهَقِيُّ وَابْنُ خُزَیْمَةَ.
أخرجه البیهقي في شعب الإیمان، 3/313، الرقم: 3634، وابن خزیمة في الصحیح، 3/190، الرقم: 1886، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/62، الرقم: 1495.
’’حضرت ابو مسعود غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رمضان کا مہینہ شروع ہوچکا تھا کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر لوگوں کو رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کا پتہ ہوتا تو وہ خواہش کرتے کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘
اِس حدیث کو امام بیہقی اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے۔
10. عَنْ سَلْمَانَ رضی الله عنه قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فِي آخِرِ یَومٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ: یَا أَیُّهَا النَّاسُ، قَدْ أَظَلَّکُمْ شَهْرٌ عَظِیْمٌ شَهْرٌ مُبَارَکٌ شَهْرٌ فِیْهِ لَیْلَةٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ جَعَلَ ﷲ صِیَامَهُ فَرِیْضَةً وَقِیَامَ لَیْلِهِ تَطَوُّعَا. مَنْ تَقَرَّبَ فِیْهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَیْرِ کَانَ کَمَنْ أَدَّی فَرِیْضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَمَنْ أَدَّی فِیْهِ فَرِیْضَةً کَانَ کَمَنْ أَدَّی سَبْعِیْنَ فَرِیْضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ. وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ وَشَهْرٌ یَزَدَادُ فِیْهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ. مَنْ فَطَّرَ فِیْهِ صَائِمًا کَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوْبِهِ وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ وَکَانَ لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئٌ قَالُوْا: لَیْسَ کُلُّنَا نَجِدُ مَا یُفَطِّرُ الصَّائِمَ. فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: یُعْطِي ﷲ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَی تَمْرَةٍ أَوْ شَرْبَةِ مَاءِ أَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَ أَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ. مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوْکِهِ غَفَرَ ﷲ لَهُ وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ وَاسْتَکْثِرُوْا فِیْهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ خَصْلَتَیْنِ تُرْضَوْنَ بِهِمَا رَبَّکُمْ وَخَصْلَتَیْنِ لَا غِنَی بِکُمْ عَنْهُمَا. فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضَوْنَ بِهِمَا رَبَّکُمْ فَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲ وَتَسْتَغْفِرُوْنَهُ وَأَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنَی بِکُمْ عَنْهُمَا فَتَسْأَلُوْنَ ﷲ الْجَنَّةَ. وَتَعُوْذُوْنَ بِهِ مِنَ النَّارِ وَمَنْ أَشْبَعَ فِیْهِ صَائِماً سَقَاهُ ﷲ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لاَ یَظْمَأُ حَتَّی یَدْخُلَ الْجَنَّةَ.
رَوَاهُ ابْنُ خُزَیْمَةَ وَالْبَیْهَقِيُّ.
أخرجه ابن خزیمه في الصحیح، 3/191، الرقم: 1887، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/305، الرقم: 3609، والمنذري فيالترغیب والترهیب، 2/58، الرقم: 1483، والحارث في المسند، 1/412، الرقم: 312.
’’حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظیم الشان اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہو گیا ہے۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض کیا ہے اور راتوں کے قیام کو نفل۔ جو شخص اس میں قرب الٰہی کی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے اسے دیگر مہینوں میں ایک فرض ادا کرنے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور جو شخص اس میں ایک فرض ادا کرتا ہے گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ اور صبر کا ثواب جنت ہی ہے۔ یہ غم خواری کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کی افطاری کراتا ہے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ نیز اسے اس (روزہ دار) کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک روزہ افطار کرانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ثواب اللہ تعالیٰ ایک کھجور کھلانے یا پانی پلانے یا دودھ کا ایک گھونٹ پلا کر افطاری کرانے والے کو بھی دے دیتا ہے۔ اس مہینے کا ابتدائی حصہ رحمت ہے۔ درمیانہ حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس مہینے میں اپنے ملازم پر تخفیف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیتا ہے۔ اس میں چار کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو۔ دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے اور دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں۔ جن دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کروگے ان میں سے ایک لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور دوسرا اس سے بخشش طلب کرنا ہے۔ جن دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوسرا یہ ہے کہ دوزخ سے پناہ مانگو۔ جو شخص روزہ دار کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ اسے جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابن خزیمہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
11. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما: أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: أُعْطِیَتْ أُمَّتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ خَمْسًا لَمْ یُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي: أَمَّا وَاحِدَةٌ فَإِنَّهٗ إِذَا کَانَ أَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ نَظَرَ ﷲ ل إِلَیْهِمْ وَمَنْ نَظَرَ ﷲ إِلَیْهِ لَمْ یُعَذِّبْهٗ أَبَدًا. وَأَمَّا الثَّانِیَةُ فَإِنَّ خُلُوْفَ أَفْوَاهِهِمْ حِیْنَ یُمْسُوْنَ أَطْیَبُ عِنْدَ ﷲِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ. وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَإِنَّ الْمَـلَائِکَةَ تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ فِي کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَةٍ. وَأَمَّا الرَّابِعَةُ فَإِنَّ ﷲ ل یَأْمُرُ جَنَّتَهٗ فَیَقُوْلُ لَهَا: اسْتَعِدِّيْ وَتَزَیَّنِيْ لِعِبَادِيْ أَوْشَکُوْا أَنْ یَسْتَرِیْحُوْا مِنْ تَعَبِ الدُّنْیَا إِلٰی دَارِي وَکَرَامَتِي. وَأَمَّا الْخَامِسَةُ فَإِنَّهٗ إِذَا کَانَ آخِرُ لَیْلَةٍ غُفِرَ لَهُمْ جَمِیْعًا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَهِيَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: لَا، أَلَمْ تَرَ إِلَی الْعُمَّالِ یَعْمَلُوْنَ فَإِذَا فَرَغُوْا مِنْ أَعْمَالِهِمْ وُفُّوْا أُجُوْرَهُمْ؟ رَوَاهُ الْبَیْهَقِيُّ.
أخرجه البیهقي في شعب الإیمان، 3/303، الرقم: 3603، وفي فضائل الأوقات، 1/145، الرقم: 36، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/56، الرقم: 1477.
’’حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ تحفے ملے ہیں جو اس سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملے۔ پہلا یہ ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو ﷲ تعالیٰ ان کی طرف نظرِ التفات فرماتا ہے اور جس پر اُس کی نظرِ رحمت پڑجائے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔ دوسرا یہ ہے کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو ﷲ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ فرشتے ہر دن اور ہر رات ان کے لیے بخشش کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ چوتھا یہ ہے کہ ﷲ ل اپنی جنت کو حکم دیتاہے کہ میرے بندوں کے لیے تیاری کرلے اور مزین ہو جا، تاکہ وہ دنیا کی تھکاوٹ سے میرے گھر اور میرے دارِ رحمت میں پہنچ کر آرام حاصل کریں۔ پانچواں یہ ہے کہ جب (رمضان کی) آخری رات ہوتی ہے ان سب کو بخش دیا جاتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: کیا یہ شبِ قدر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہو جاتے ہیں تو انہیں پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے؟‘‘ اِس حدیث کو امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔
12. عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم ذَاکِرُ ﷲِ فِي رَمَضَانَ مَغْفُوْرٌ لَهُ، وَسَائِلُ ﷲِ فِیْهِ لَا یَخِیْبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَیْهَقِيُّ.
12: أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 6/195، الرقم: 6170، 7/226، الرقم: 7341، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/311، الرقم: 3627، والدیلمي في مسند الفردوس، 2/242، الرقم: 3141، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/64، الرقم: 1501، والهیثمي في مجمع الزوائد، 2/64.
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں ﷲ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا بخش دیا جاتا ہے اور اس ماہ میں ﷲ تعالیٰ سے مانگنے والے کو نامراد نہیں کیا جاتا۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی اور بیہقی وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِج
(البقرة، 2: 187)
’’اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو‘‘
اَلأَحَادِیْثُ النَّبَوِیَّةُ
1. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم: تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السَّحُوْرِ بَرَکَةً. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.
أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصوم، باب برکة السحور، 2/678، الرقم: 1823، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور وتأکید استحبابه واستحباب تأخیره وتعجیل الفطر، 2/ 770، الرقم: 1095، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل السحور، 3/88، الرقم: 708، والنسائي في السنن، کتاب الصوم، باب الحث علی السحور، 4/140، الرقم: 2144، وعبد الرزاق في المصنف، 4/227، الرقم: 7598.
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
2. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوْا الْفِطْرَ. مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ.
أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب الصیام، باب تعجیل الافطار، 2/692، الرقم: 1856، ومسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور وتأکید استحبابه واستحباب تأخیره وتعجیل الفطر، 2/771، الرقم: 1098، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في تعجیل الإفطار، 3/82، الرقم: 699، ومالک في الموطأ، کتاب الصیام، باب ما جاء في تعجیل الفطر، 1/ 288، الرقم: 634، والشافعي في المسند، 1/104، وعبد الرزاق في المصنف، 4/226، الرقم: 7592.
’’حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
3. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم و َزَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ تَسَحَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا قَامَ نَبِيُّ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم إِلَی الصَّلَاة فَصَلَّی قُلْنَا لِأَنَسٍ: کَمْ کَانَ بَیْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُوْرِهِمَا وَدُخُوْلِهِمَا فِي الصَّلَاة. قَالَ قَدْرُ مَا یَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِیْنَ آیَةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْبَیْهَقِيُّ.
أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب مواقیت الصلاة، باب وقت الفجر، 1/215، الرقم: 551، وفي أبواب التهجد، باب من شحر فلم ینحم حتی صلی الصبح، 1: 381، الرقم: 1083، وأحمد بن حنبل في المسند، 3/234، الرقم: 13485، والبیهقي في السنن الکبری، 1/455، الرقم: 1979، وابن حجر عسقلاني في تلخیص الحبیر، 2/199، الرقم: 901.
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت نے سحری کھائی۔ جب دونوں اپنی سحری سے فارغ ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھی۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں شامل ہونے میں کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا کہ جتنی دیر میں کوئی آدمی پچاس آیتیں پڑھے۔‘‘
اس حدیث کو امام بخاری، احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
4. عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ کُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي ثُمَّ یَکُوْنُ سُرْعَةٌ بِي أَنْ أُدْرِکَ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُوْلِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم.
رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَ أَبُوْ یَعْلی وَالطَّبَرَانِيُّ.
أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب مواقیت الصلاة، باب وقت الفجر، 1/210، الرقم: 552، وأبو یعلی في المسند، 13/528، الرقم: 7533، والطبراني في المعجم الکبیر، 6/165، الرقم: 5871، وابن خزیمة في الصحیح، 3/215، الرقم: 1942، والرویاني في المسند، 2/190، الرقم: 1020.
’’ابو حازم نے حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنے گھر والوں میں سحری کھایا کرتا تھا۔ پھر جلدی کرتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھ سکوں۔‘‘ اس حدیث کو امام بخاری، ابو یعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔
5. عَنْ أَبِي عَطِیَّةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوْقٌ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْنَا: یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ، رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وآله وسلم أَحَدُهُمَا یُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ یُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَیُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ قَالَتْ: أَیُّهُمَا الَّذِي یُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَیُعَجِّلُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قُلْنَا: عَبْدُ ﷲِ یَعْنِي ابْنَ مَسْعُوْدٍ قَالَتْ کَذَلِکَ کَانَ یَصْنَعُ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم زَادَ أَبُوْ کُرَیْبٍ وَالْآخَرُ أَبُوْ مُوْسَی. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور وتأکید استحبابه واستحباب تأخیره وتعجیل الفطر، 2/771، الرقم: 1099، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في تعجیل الإفطار، 3/83، الرقم: 702، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب ما یستحب من تعجیل الفطر، 2/305، الرقم: 2354، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب ذکر اختلاف علی سلیمان بن مهران في حدیث عائشة في تأخیر السحور واختلاف ألفاظهم، 4/144، الرقم: 2161.
’’ابو عطیہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مسروق حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے، ہم نے عرض کیا: اے اُم المومنین! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو اصحاب میں سے ایک جلد روزہ افطار کر کے جلد نماز پڑھتے ہیں، دوسرے تاخیر سے روزہ افطار کر کے تاخیر سے نماز پڑھتے ہیں۔ ام المومنین نے پوچھا: وہ کون ہے جو جلد افطار کرتا اور جلد نماز پڑھتا ہے! ہم نے عرض کیا: وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ہیں! حضرت عائشہ نے فرمایا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی یہی معمول تھا۔ ابو کریب کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ دوسرے صاحب حضرت ابو موسیٰ ہیں۔‘‘
اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔
6. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: قَالَ ﷲُ ل: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في تعجیل الإفطار، 3/83، الرقم: 700، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/237، الرقم: 7240، وأبو یعلی في المسند، 10/378، الرقم: 5974، وابن حبان في الصحیح، 8/275، الرقم: 3507، والطبراني في المعجم الأوسط، 1/54، الرقم: 149، والبیهقي في السنن الکبری، 4/ 237، الرقم: 7909.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے سب سے پسندیدہ بندے وہ ہیں، جو روزہ جلد افطار کرتے ہیں۔‘‘
اِس حدیث کو امام ترمذی اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔
7. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا یَزَالُ الدِّیْنُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِأَنَّ الْیَهُوْدَ وَالنَّصَارَی یُؤَخِّرُونَ.
رَوَاهُ أَبُوْ دَاوٗدَ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ.
أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب ما یستحب من تعجیل الفطر، 2/305، الرقم: 2353، وابن أبي شیبة في المصنف، 2/ 277، الرقم: 8944، وأحمد بن حنبل فيالمسند، 2/450، الرقم: 9809، والنسائي في السنن الکبری، 2/253، الرقم: 3313، وابن حبان في الصحیح، 8/273، الرقم: 3503، والحاکم في المستدرک، 1/596، الرقم: 1573.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ دیر کیا کرتے ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام ابو داود اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔
8. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا یَزَالُ النَّاسُ بِخَیْرٍ مَا عَجَّلُوْا الْإِفْطَارَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.
أخرجه ابن ماجه في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في تعجیل الإفطار، 1/541، الرقم: 1697، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/147، الرقم: 21350، والطبراني في المعجم الکبیر، 6/191، الرقم: 5963، وعبد بن حمید في المسند، 1/168، الرقم: 458، وأبو نعیم في حلیة الأولیائ، 7/136.
’’سہل بن سعد سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔
9. عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَةَ قَالَ: دَعَانِي رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم إِلَی السَّحُوْرِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ: هَلُمَّ إِلَی الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ.
رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ.
أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب من سمی السحور الغدائ، 2/303، الرقم: 2344، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/126، والطبراني في المعجم الکبیر، 18/251، الرقم: 628، والمزي في تهذیب الکمال، 5/230، الرقم: 1019، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/89، الرقم: 1618.
’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان میں سحری کھانے کے لئے بلایا تو فرمایا: صبح کے مبارک کھانے کی طرف آؤ۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابو داود اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔
10. عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ فَصْلُ مَا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ أَهْلِ الْکِتَابِ أَکْلَةُ السَّحَرِ.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.
أخرجه مسلم في الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور وتأکید استحباب تأخیره وتعجیل الفطر، 2/770، الرقم: 1096، والترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل السحور، 3/88، الرقم: 708، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب في توکید السحور، 2/302، الرقم: 2343، والنسائي في السنن، کتاب الصیام، باب فصل ما بین صیامنا وصیام أهل الکتاب، 4/146، الرقم: 2166، وأحمد بن حنبل في المسند، 4/197، الرقم: 17797، والدارمي في السنن، 2/11، الرقم: 1697.
’’حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں صرف سحری کھانے کا فرق ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی اور ابو داود نے روایت کیا ہے۔
11. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ الْحَارِثِ یُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم وَهُوَ یَتَسَحَّرُ فَقَالَ: إِنَّهَا بَرَکَةٌ أَعْطَاکُمُ ﷲُ إِیَّاهَا فَـلَا تَدَعُوْهُ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
أخرجه النسائي في السنن، کتاب الصیام، باب فضل السحور، 4/ 145، الرقم: 2162، وفي السنن الکبری، 2/ 79، الرقم: 2472، والمقدسي في فضائل الأعمال، 1/45، الرقم: 181، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/ 90، الرقم: 1621.
’’عبد اﷲ بن حارث حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری تناول فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اللہ کی دی ہوئی برکت ہے، تم اسے ترک نہ کیا کرو۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔
12. عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: نِعْمَ سَحُوْرُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ.
رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب من سمی السحور الغدائ، 2/ 303، الرقم: 2345.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابو داود نے روایت کیا ہے۔
13. عَنْ أَبِي سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: اَلسَّحُوْرُ أَکْلُهُ بَرَکَةٌ فَـلَا تَدَعُوْهُ وَلَوْ أَنْ یَجْرَعَ أَحَدُکُمْ جُرْعَةً مِنْ مَائٍ فَإِنَّ اﷲَ ل وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ صَحِیْحٍ.
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3/12، 44، الرقم: 11101، 11414، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/90، الرقم: 1623، وقال: رواہ أحمد وإسنادہ قوي.
’’حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کرنا سراپا برکت ہے، لہٰذا اسے نہ چھوڑو، اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ کے ذریعے ہی ہو۔ اللہل اور فرشتے سحری کھانے والوں کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔‘‘
اسے امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
14. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: اسْتَعِیْنُوْا بِطَعَامِ السَّحْرِ عَلَی صِیَامِ النَّهَارِ وَبِالْقَیْلُوْلَةِ عَلَی قِیَامِ اللَّیْلِ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَابْنُ خُزَیْمَةَ وَالْحَاکِمُ.
أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في السحور، 1/540، الرقم: 1693، وابن خزیمة في الصحیح، 3/214، الرقم: 1939، والحاکم في المستدرک، 1/588، الرقم: 1551، والبیهقي في شعب الایمان، 4/183، الرقم: 4742، والقرطبي في الاستذکار، 2/83، الرقم: 3.
’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کے کھانے کے ذریعے دن کے روزہ (کو پورا کرنے) کے لئے مدد لو اور قیلولہ (دوپہر کو کچھ دیر کی نیند) کے ذریعے رات کے قیام کے لئے مدد لو۔‘‘ اِس حدیث کو امام ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔
15. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّ لِلّٰهِ عِنْدَ کُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ وَذَلِکَ فِي کُلِّ لَیْلَةٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ.
أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب الصیام، باب ما جاء في فضل الصیام، 1: 525، الرقم: 1643، وأحمد بن حنبل عن أبي أمامة في المسند، 5/256، الرقم: 22256، والطبراني في المعجم الکبیر، 8/284، الرقم: 8088، 8089، والبیهقي في شعب الإیمان، 3/304، الرقم: 3605.
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر افطار کے وقت اور ہر رات میں لوگوں کو دوزخ سے آزاد کیا جاتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔
16. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: إِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأحْمَدُ.
أخرجه ابن حبان في الصحیح، 8/245، الرقم: 3467، و احمد بن حنبل في المسند، 3/ 12، الرقم: 11101، و المنذری في الترغیب و الترهیب، 2/89، الرقم: 1617، و الهیثمي في مجمع الزوائد، 3/150.
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لئے دعا کرتے ہیں۔‘‘
اِس حدیث کو امام ابن حبان اور احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔
17. عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: ثَـلَاثَةٌ لَیْسَ عَلَیْهِمْ حِسَابٌ فِیْمَا طَعِمُوْا إِذَا کَانَ حَلَالاً: الصَّائِمُ وَالْمُتَسَحِّرُ وَالْمُرَابِطُ فِي سَبِیْلِ ﷲِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
أخرجه الطبراني في المعجم الکبیر، 11/359، الرقم: 12012، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/90، الرقم: 1622.
’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تین آدمیوں کے کھانے کا کوئی حساب نہیں ہوگا بشرطیکہ (ان کا کھانا) حلال ہو۔ روزہ دار کا، سحری کرنے والے کا، مجاہد کا۔‘‘
اِس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔
18. عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَی سُنَّتِي مَالَمْ تَنْتَظِرْ بِفِطْرِهَا النُّجُومَ. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ.
أخرجه ابن حبان في الصحیح، 8/277، الرقم: 3510، والحاکم في المستدرک، 1/ 599، الرقم: 1584، وابن خزیمة في الصحیح، 3/275، الرقم: 2061، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/ 91، الرقم: 1628، والهیثمي في موارد الظمآن، 1/224، الرقم: 891، والمنذري في الترغیب والترهیب، 2/91، الرقم: 1628، والهیثمي في مجمع الزوائد، 3/154.
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت اس وقت تک میری سنت پر قائم رہے گی جب تک افطاری کرنے کے لیے ستاروں (کے نظر آنے) کا انتظار نہیں کرے گی۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن حبان نے روایت کیا ہے۔
19. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ النَّبِيُّ صلی الله علیه وآله وسلم یُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّيَ عَلَی رُطَبَاتٍ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَیْرَاتٌ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تُمَیْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتابي الصوم، باب ما جاء ما یستحب علیہ الإفطار، 3/79، الرقم: 696، وأبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب ما یفطر علیہ، 2/306، الرقم: 2356، والمقدسي في فضائل الأعمال، 1/52، الرقم: 216، والنووي في ریاض الصالحین، 1/290، الرقم: 290.
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مغرب کی) نماز سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے روزہ کھولتے، اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے۔ ‘‘
اِس حدیث کو امام ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔
20. عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا کَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَیْرَ أَنَّهُ لَا یَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَیْئًا.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب الصوم، باب ما جاء في فضل من فطر صائما، 3/171، الرقم: 807، وابن ماجه في السنن، کتاب الصوم، باب في ثواب من فطر صائما، 1/555، الرقم: 1746، وعبد الرزاق في المصنف، 4/311، الرقم: 7905، وأحمد بن حنبل في المسند، 5/192، الرقم: 21720، والدارمي في السنن، 2/14، الرقم: 1702، والطبراني في المعجم الأوسط، 2/7، الرقم: 1048.
’’حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے روزہ دار کا روزہ افطار کرایا اس کے لیے اس کی مثل ثواب ہے، اس کے بغیر کہ روزہ دار کے ثواب میں کچھ کمی ہو۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
21. عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم کَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: اَللّٰهُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلَی رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ.
رَوَاهُ أَبُوْدَاوٗدَ وَابْنُ أَبِي شَیْبَةَ.
أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الصوم، باب القول عند الإفطار، 2/306، الرقم: 2358، وابن أبي شیبۃ عن أبي ہریرة في المصنف، 2/344، الرقم: 9744، والطبراني في المعجم الکبیر، 12/146، الرقم: 12720، وابن المبارک في الزهد، 1/495، الرقم: 1410.
’’حضرت معاذ بن زہرہ کو یہ خبر پہنچی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب افطار کرتے تو فرماتے۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا۔‘‘
اس حدیث کو امام ابو داود اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔
:نے روایت کیا ہے۔




