عسکری تنصیبات پر حملے پاکستان کی سلامتی پر حملے قرا ر………….. پاکستان کے خلاف جنگ قرا ر…. کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک…….. سول و عسکری تنصیبات پر حملے پاکستان کے خلاف جنگ ہیں اور یہ حملے کرنے والے ملک کے دشمن ہیں۔ 9 مئی کو راولپنڈی، میانوالی اور لاہور میں پُرتشدد واقعات کے دوران پی ٹی آئی کے مسلح جتھوں نے عسکری تنصیبات پر حملے کیے۔پی ٹی آئی کے شرپسندوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عسکری تنصیبات سمیت عوامی و سرکاری املاک پر حملے کیے، یہ عمل پاکستان کے خلاف جنگ کے مترادف ہےجن لوگوں نے عسکری تنصیبات، فوجی اڈوں اور عسکری شخصیات کی رہائش گاہوں پر حملے کیے ان کے مقدمات آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے یہ کہنا تھا وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا, جنہوں قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دئیےگئے ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ حکومت نئی عدالتیں اور نئے قوانین نہیں بنا رہی,دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عسکری تنصیبات پر حملہ ملکی سالمیت پر حملے کے مترادف ہے۔ 9 مئی کولاء اینڈآرڈرکی صورتحال پیداہوئی تھی۔ 9 مئی کی رات شاہراہ فیصل پر ایسالگا جیسے جنگ ہوئی ہے۔خیال رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں فوجی اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ سلامتی کمیٹی نے فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے فیصلے کی تائید کی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین واقعات ہوئے جن سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے، عسکری تنصیبات پر حملوں کے بعد جتنا غم و غصہ کیا جائے وہ کم ہے، ہمیں ایسے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا۔ ان افسوسناک واقعات نے کروڑوں پاکستانیوں کو افسردہ کیا جبکہ تمام طبقات نے انتہائی غم و غصے کی صورت حال میں وقت کو گزارا، نو مئی کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہےجناح ہاؤس صرف عمارت نہیں بلکہ لہو کی عبارت سے بنا گھر ہے، ہمارے بہادر جوانوں نے 65 کی جنگ اور ضرب عضب میں قربانیاں دیں ہم فوجی تنصیبات پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ تباہ کن کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کے زمرے میں آتے ہیں، عسکری تنصیبات پر حملوں کے بعد جتنا غم و غصہ کیا جائے وہ کم ہے، ہمیں ایسے کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا۔خیال رہے کہ پاکستان کی سپیشل کور کمانڈرز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف متعلقہ پاکستانی قوانین، آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔فورم نے فوجی تنصیبات اور سرکاری و نجی املاک کے خلاف سیاسی طور پر محرک اور اکسانے والے واقعات کی سخت ترین ممکنہ الفاظ میں مذمت کی۔ کمانڈروں نے ان افسوس ناک اور ناقابل قبول واقعات پر فوج کے رینک اور فائل کے دکھ اور جذبات کا بھی اظہار کیا۔ فورم نے سیاسی شرپسندوں کی جانب سے کی گئی جلاؤ گھیراؤ اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور بتایا کہ آرمی کے رینک اور فائل میں عسکری تنصیبات کے نقصانات اور جلاؤ گھیراؤ پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے اردو میں جاری پریس ریلیز کے مطابق کانفرنس میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جسے ایک سیاسی جماعت کی قیادت نے محض اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ فورم نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کسی بھی حلقے کی جانب سے قیامِ امن و امان کے لیے رکاوٹ ڈالنے والوں سےآہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ فورم کو آگاہ کیا گیا کہ ’شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی، تاریخی عمارتوں کو نذرِ آتش کرنے اور فوجی تنصیبات کی توڑ پھوڑ پر مشتمل ایک مربوط منصوبے پر عمل درآمد کرایا گیا تاکہ ادارے کی بدنامی ہو سکے جبکہ یہ سارا عمل ایک ذاتی سیاسی ایجنڈے کے حصول کے لیے تھا۔ آرمی چیف نے اس سارے معاملے پر فوجی فارمیشنز کی جانب سے تحمل اور پختہ ردِ عمل کو سراہا۔ فورم نے واضح کیا کہ کسی بھی ایجنڈے کے تحت فوجی تنصیبات اور مقامات پر حملہ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتیں گے شرکا نے بیرونی طور پر سپانسر شدہ اور اندرونی سہولت یافتہ عناصر کے منظم پروپیگنڈہ پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ فورم نے یہ بھی واضح کیا کہ شرمناک پروپیگنڈہ کا مقصد مسلح افواج اور پاکستان کی عوام کے درمیان خلیج جبکہ مسلح افواج کے رینک اینڈ فائل کے اندر دراڑ پیدا کرنا ہے۔ فورم کا کہنا تھا کہ دُشمن قوتوں کے شیطانی پروپیگنڈہ کی عوام کی حمایت سے شکست دی جائے گی۔ شرکا نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ افواجِ پاکستان عوام کی بھرپور حمایت سے پاکستان کے دشمنوں کے ایسے تمام مذموم عزائم کو ناکام بنائے گی۔ کانفرنس نے سوشل میڈیا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دلانے کے لیے متعلقہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد پر زور دیا۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان جاری سیاسی عدم استحکام کو ختم کرنے کیے ترجیحاً قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے، معاشی سرگرمیوں دوبارہ بحال کیا جاسکے اور جمہوری عمل کو مضبوط کیا جاسکے۔خیال رہے کہ 9 مئی کو جناح ہاؤس پر شرپسندوں کے حملے کی ہوش رُبا اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔9 مئی کو دوپہر 2:35 سے لیکر 2:40 تک پُرتشدد مظاہرین زمان پارک لاہور میں اکٹھے ہونا شروع ہوئے، 2:55 سے 3:20 کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر شرپسند قائدین لبرٹی چوک پہنچے اور سہ پہر 4:05 پر مشتعل ہجوم نے کینٹ کا رُخ کیا۔
4:05 پر پہلے سے شرپسندوں کا ایک ٹولہ شیرپاوٴ برج پر پہنچا ہوا تھا، شام 5:15 پر جناح ہاوٴس پر پہلا دھاوا بولا گیا، جو 25-30 افراد پر مشتمل تھا لیکن اُسے واپس دھکیل دیا گیا، 5:27 پر شرپسندوں نے جناح ہاوٴس بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ دوبارہ انٹری کی اور 5:30 سے 6 بجے تک ان شرپسندوں نے بھرپور انداز میں جناح ہاوٴس میں شدید توڑ پھوڑ کرکے اسے شدید نقصان پہنچایا۔ 6:07 پر جناح ہاوٴس کو مکمل جلا دیا گیا، 6:10 پر فورٹریس سے شرپسندوں کی مزید کمک جناح ہاوٴس پہنچ گئی، جنھوں نے تباہ کاریوں میں اپنا کردار ادا کیا، 6:13 پر مزید ایک اور جتھا دھرم پورہ سے جناح ہاوٴس پہنچ گیا، 6:30 سے 7:55 تک تقریباً 2 ہزار لوگوں نے اجتماعی طور پر جناح ہاوٴس کو مکمل تباہ کردیا اور تباہی کا یہ سلسلہ رات 8 بجے تک جاری رہا۔
شرپسندوں نے ملٹری انجینئرنگ سروسز کے دفتر پر بھی حملہ کرکے تباہی مچائی، اس کے علاوہ ملک کے باقی علاقوں میں تقریباً 2 سو سے زائد جگہوں پر دو سے تین گھنٹے کے وقت میں ان شرپسندوں نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، جو سارے پاکستان نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ ان ہوش رُبا انکشافات سے یہ واضح ہوتا ہے کے جناح ہاوٴس پر پوری منصوبہ بندی اور کوآرڈینیشن کے ساتھ منظم طریقے سے حملہ کیا گیا تھا، جس میں چند شرپسند رہنماوٴں کی براہ راست شرکت اور رہنمائی شامل تھی۔مزید یہ کہ 9 مئی کے قابل مذمت واقعات کے بعد سے افواج پاکستان کے حق میں ریلیاں نکالے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ افواج پاکستان کی حمایت اور عسکری تنصیبات پر حملوں کیخلاف کراچی، حیدرآباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ، گوجرانوالہ، نصیرآباد، جیکب آباد، نوشہرو فیروز، بہاولپور، حافظ آباد، حب گجرات اور بھمبر آزاد کشمیر سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں. شرکاء نے پاک فوج سے اظہار یکجہتی کی اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے، ریلیوں میں مقررین نے پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا، ریلی سے خطاب کرتے ہوئےمقررین کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہے، انتشار پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے، چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور ان لوگوں پر پابندی لگانی چاہیے۔خیال رہے کہ 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنان احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے نہ صرف پر تشدد رویہ اختیار کیا بلکہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان بھی پہنچایا۔مظاہرین نے پنجاب میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور کی رہائش گاہ اور عسکری ٹاور میں گھس کر توڑ پھوڑ کی او اسے آگ بھی لگادی،اس کے علاوہ میانوالی کے فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا اور شہدا کی یادگاروں کو بھی اکھاڑ پھینکا۔اس کے علاوہ پشاور میں احتجاجی مظاہرین نے تاریخی ریڈیو پاکستان کی عمارت کو نذرِ آتش کردیا، کراچی میں 2 بسوں ،رینجرز کی چوکی اور ایک واٹر ٹینکر سمیت متعدد موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگائی گئی۔اس تمام ہنگاموں کے بعد اب ان پر تشدد احتجاج میں حصہ لینے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور فوجی قیادت اعلان کرچکی ہے کہ عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ملٹری ایکٹ اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پیر کو کور کمانڈر کانفرنس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا تھا کہ عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔خیال رہے کہ لاہور کور کمانڈر ہاؤس میں حملے کے دوران اس گھر کی چاردیواری میں 499 افراد موجود تھے جن میں سے 142 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ ورکرز اور کارکنان کو الگ لسٹ میں رکھا ہے
پاکستانی فوج نے تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران عسکری تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث مظاہرین کے خلاف آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔نو مئی کو پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد مشتعل مظاہرین نے کور کمانڈر ہاؤس لاہور، راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو جبکہ پشاور سمیت کئی دیگر مقامات میں عسکری تنصیات پر جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی تھی۔مسلح افواج کی کور کمانڈر کانفرنس کے بعد فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ شرپسندی میں ملوث افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے ان حملہ آوروں کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی منظوری دی ہے
پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔
















فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے اور یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل (جیگ) برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔
اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس (عموماً لفٹیننٹ کرنل رینک) فوجی افسر ہوتا ہے، استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔ یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔
اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں، انھیں ’فرینڈ آف دی ایکیوزڈ‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔
سنہ 2015 میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ نے21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی متفقہ منظوری دی تھی۔
ان ترامیم کے تحت مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکے گی:سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے, پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے,
فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والے,اغوا برائے تاوان کے مجرم,غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے,مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے,کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین,,دھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے لے جانے میں ملوث افراد,
دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے والے,بیرونِ ملک سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے.آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت کسی بھی سویلین کا معاملہ 31 ڈی میں لا کر اس کا کورٹ مارشل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اس سویلین کے خلاف کسی تھانے میں مقدمہ کے اندارج اور مجسٹریٹ کی اجازت ضروری ہے۔خاص کر جب فوج کو سویلین حکومت کی مدد کے لیے بلایا جائے، ان حالات میں فوج کو یہ اختیارات حاصل ہیں سیکرٹ ایکٹ میں سیکشن 2 ون ڈی میں کسی سویلین کے ٹرائل کا پورا طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت: سب سے پہلے اس شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے پھر اسے سیشن جج کے پاس پیش کیا جاتا ہے جس کے بعد مقدمے کو ملٹری کورٹ میں ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔ اس میں سزاؤں کا انحصار جرم کی نوعیت پر ہے اور اس میں دو سال سے لے کر عمر قید اور سزائے موت تک کی سزائیں ہوسکتی ہیں۔ خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے تناظر میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے امن و امان کے قیام کے لیے آئین کی شق 245 کے تحت فوج تعینات کی گئی تھی. چونکہ اس معاملے میں فوج کو سویلین حکومت کی مدد کے لیے بلایا گیا تھا اور جب فوج سویلین حکومت کی مدد کو آئے اس صورت میں فوج کو لا اینڈ آرڈر کے لیے کچھ اضافی اختیارات بھی مل جاتے ہیں۔آرمی ایکٹ کے سیکشن ٹو ون ڈی میں دو ایسی شقیں موجود ہیں جن کے تحت عام شہریوں پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جن میں پہلی، جاسوسی یا عسکری راز فراہم کرنا اور دوسری فوجیوں کو حکم نہ ماننے پر اکسانا یا پھر فوج کے ادارے کے خلاف اکسانا شامل ہے۔ پہلی شق کے مطابق اگر کوئی شہری دشمن کو کوئی راز فراہم کرتا ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں تو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے گرفتار اور فوج میں اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔دوسری شق کے مطابق اگر کوئی شخص کسی کو فوجی کمان کے خلاف بغاوت، فساد برپا کرنے کے لیے اشتعال دلانے، اُکسانے یا ترغیب یا تحریک دینے کا سبب بنے تو اس صورت میں بھی فوج اس کے خلاف آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کے تحت مقدمہ چلا سکتی ہے,’چاہے ایسا کسی تقریر کے ذریعے ہی کیا گیا ہو، اگر اس سے فوج کے خلاف اکسانے کا تاثر بھی ملے تو اس صورت میں بھی اس شخص کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔‘’اگر کوئی شخص تقریر میں کہتا ہے کہ فوج یا اپنی کمان کا حکم نہ مانیں تو اس پر بھی یہ قانون لگے گا۔‘آرمی ایکٹ میں شامل آفیشل سیکرٹ ایکٹ برطانوی دورِ حکومت (سنہ 1923 ) میں بنایا گیا تھا اور تب سے چلتا آ رہا ہے۔اس کے مطابق اگر کوئی دشمن یا کسی بھی شخص کو فوج سے متعلق کوئی خفیہ معلومات فراہم کرے تو اس ایکٹ کے تحت اس ملزم کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔یاد رہےکہ عسکری تنصیبات پر حملوں کے تناظر میں ان افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے جنھوں نے مبینہ طور پر ان مقامات پر حملے کا منصوبہ بنایا یا اس کی ہدایت جاری کی۔ ’اس صورت میں فوج کو ان سویلینز کے خلاف ٹو ون ڈی کے تحت ٹرائل کا اختیار حاصل ہے۔‘یہاں سیکشن 59 اور 60 لگائے گئے ہیں اور سیکشن 60 کا مطلب ہے سہولت کاری یعنی اگر کوئی شخص جائے وقوعہ، اس شہر میں یا پاکستان میں موجود بھی نہیں ہے اور ملک سے باہر ہے لیکن وہ فوج کے خلاف اکسانے میں مدد کا باعث بنا ہے تو اس پر بھی ٹو ون ڈی کا اطلاق ہو گا۔سیکشن ٹو ون ڈی میں پروسیجر فالو کرنا لازم ہو گا، یعنی ایف آر درج کرنے سے لے کر ثبوتوں کی موجودگی اور آرٹیکل 10 (اے) کے تحت ملزمان کو فیئر ٹرائل کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے اور اگر پروسیجر فالو نہیں ہوتا تو اسے ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ اگر ملک میں جوڈیشل سسٹم چل رہا ہو تو سویلینز کے مقدمات کو سول کورٹ میں بھیجے جانے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔یہاں یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے کہ ٹرائل ملٹری کورٹس کے ذریعے ہو گا یا سویلین عدالت کے ذریعے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ جوڈیشل سسٹم صحیح طرح کام نہیں کر رہا تو وہ مقدمات ملٹری کورٹس کو بھجوا سکتی ہے۔جن تین سویلنز کو سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے دور میں سزائے موت دی گئی تھی انھیں ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا کیونکہ ان کے خلاف نہ تو ایف آئی آر درج تھی نہ انھیں کونسل تک رسائی دی گئی اور آرٹیکل 10 (اے) کے تحت یہ دونوں لازم ہیں ۔ماضی میں بے شمار سویلینز پر ایسے مقدمات درج کیے گئے جن میں سے کچھ کے کیسز ابھی تک ہائیکورٹ میں زیِرالتوا ہیں۔حالیہ مثال میجر جنرل ریٹائرڈ ظفر مہدی عسکری کے بیٹے حسن عسکری ہیں جنھیں جولائی 2021 میں پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی جسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔حسن عسکری پر الزام تھا کہ انھوں نے سنہ 2020 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر اُن کی مدت ملازمت میں توسیع ملنے اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔ انھوں نے اس خط کی نقول پاکستانی فوج کے متعدد جرنیلوں کو بھی بھیجی تھیں۔حسن عسکری کے والد کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں دی گئی درخواست میں بتایا گیا تھا کہ ان پر مقدمہ گوجرانوالہ چھاؤنی میں چلا جہاں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے انھیں مجرم گردانتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی۔جنرل (ر) باجوہ کے دور میں 25 سویلینز کا ملٹری ٹرائل ہوا اور ان میں سے تین کو سزائے موت جبکہ دیگر کو 10-14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔2021 میں ایک فوجی عدالت نے ادریس خٹک کو جاسوسی کے الزام میں 14 برس قید کی سزا سنائی تھی۔




