سیاسی درجہ حرارت ہائی ججز کیخلاف پی ڈی ایم دھرنا اورانتخابات کیس کی سماعت آج…………… کالم..اندر کی بات…کالم نگار….اصغر علی مبارک..پاکستان میں گرمی اورسیاسی درجہ حرارت ہائی ججز کیخلاف پی ڈی ایم دھرنا اورانتخابات کیس کی سماعت آج ہے, سیاسی تقسیم اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ کوئی بھی ادارہ اس سے محفوظ نہیں۔ پنجاب کے سیاست دان فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کرتے رہے ہیں جبکہ عمران خان نے آئین کی خلاف ورزی کی، اسمبلیوں کی تذلیل کی، اسمبلیوں کو بے توقیر کیا، ریاستی اداروں میں تصادم کروایا، سفارتی سطح پر تعلقات خراب کیے، معاشی حالات دانستہ طور پر خراب کیے، ہر فیصلے کو اپنی پسند نا پسند کی بنیاد پر کیا گویا پورے نظام اور حکومت کو برباد کر کے رکھ دیا۔ اب مدتوں قوم اس کا خمیازہ بھگتے گی عمران خان کی سپریم کورٹ سے رہائی اور پھر اسلام آباد ہائی کورٹ سے نو کیسز میں ضمانت سے حکومتی اتحاد کی جانب سے نہایت سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاس کے بعد سربراہ مولانا فضل الرحمان نےعدلیہ کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے۔ججز کیخلاف پی ڈی ایم سپریم کورٹ کے باہر احتجاج اور دھرنا آج پیر کو دیا جائے گا،پیر کو 14 مئی کو انتخابات کروانے کے کیس کی بھی سماعت ہے اور پی ڈی ایم کی کوشش ہو گی کہ بینچ پر دباؤ ڈالیں۔‘ ’ایمرجنسی کے حالات تو پہلے سے ہیں لیکن عدالتی فیصلے پاکستان کو مارشل لا کی طرف دھکیل رہے ہیں۔‘ حکومت کی تمام تر حکمت عملی ناکام ہوئی ہے اور یہ احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے سامنے بہت بڑا دھرنا دیا جائے گا۔ ہم تین دو کا فیصلہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’اگر ڈبے سے گھی آرام سے نہیں نکلے گا تو پھر ٹیڑھی انگلی سے نکالیں گے، میلی آنکھ سے دیکھا گیا تو ڈنڈا بھی اٹھائیں گے مُکا بھی لہرائیں گے۔‘ پی ڈی ایم کے سربراہ فضل الرحمان نے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کا مقام تبدیل کرنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ملک بھر سے قافلے اسلام آباد پہنچیں کیونکہ پیر کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج اور دھرنا دیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان کے اس فیصلے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے بھی احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا ہوا ہے
وفاقی حکومت چاہتی ہے جے یو آئی ڈی چوک پر احتجاج کرے، تاہم سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج کے پیش نظر حکومتی وزراء نے پی ڈی ایم کے سربراہ سے احتجاج کا مقام تبدیل کرنے کی درخواست کی۔حکومتی وفد نے مولانا سے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کے بجائے ڈی چوک پر دھرنا دینے کی درخواست کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ کچھ روز قبل بھی ملک میں حالات خراب ہوئے، وفاقی حکومت چاہتی ہے ڈی چوک پر احتجاج کریں۔مولانا فضل الرحمان نے وفد کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اعلان کرچکے، اس لئے اب جگہ تبدیل نہیں ہوسکتی، احتجاج سپریم کورٹ کے ججز کیخلاف ہے تو سپریم کورٹ کے باہر ہی ہوگا۔ ہم ماضی میں بھی اسلام آباد میں دو دفعہ دھرنا دیا، لیکن دونوں دھرنوں میں کوئی پتہ بھی نہیں ٹوٹا، نہ کوئی گملہ ٹوٹا۔ امیر جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہماری تاریخ گواہ ہے ہمارا احتجا ج پرامن ہوتا ہے۔ آزادی مارچ میں ہمارے لاکھوں کارکنان تیرہ روز تک اسلام آباد میں بیٹھے رہے۔اس سے قبل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جماعتوں نے ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنے کی درخواست جمع کرا دیں ڈپٹی کمشنر کو جمع کرائی گئی درخواست میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں اجتماع صبح دس بجے ہوگا لہٰذا دھرنے کی اجازت دی جائے۔ دھرنے کے حوالے سے سیکیورٹی اور ٹریفک انتظامات بھی کیے جائیں۔اسلام آباد میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے جبکہ اہم تنصیبات اور عمارتوں کی سیکیورٹی کے لیے فوج پہلے سے ہی تعینات ہے۔ اسی حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔خیال رہے کہ جی ایچ کیو پرحملے میں ملوث دہشتگردوں کی گرفتاریاں شروع ہوچکی ہےایسے ریٹائرڈ فوجی جن کے بارے میں معلومات ہیں ان کے خلاف کارروائی یقیناً فوجی عدالتوں میں ہی فیصلہ ہوگا اور اگر کہیں مماثلت یا موافقت نظر آئی یا امداد کی گواہی ملی تو پھر سب کا معاملہ ایک ہی ہوگا۔آئی ایس پی آر کا بیان ہے تو واضح ہے کہ جن جن کی نشان دہی ہوچکی ہے ان کے خلاف مقدمات تو بن کر رہیں گے، گرفتاریاں بھی ہوں گی اور کارِ سرکار میں مداخلت، فوج پر حملہ، ان مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھی لے جایا جاسکتا ہے۔عمران خان کی تحریک انصاف پر پابندی عائد ہوسکتی ہے اس کو ملک میں بے امنی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے لیکن یہ مسئلے کا حل ہوگا یا نئے مسائل کو جنم دے گا؟عسکری و سول تنصیبات میں توڑ پھوڑ ,جلاؤ گھیراؤ 9 مئی کے واقعات پر تحریک انصاف کے احتجاج میں شریک دہشتگردوں کو ملٹری کورٹس سے سزائیں دینےکا عوامی مطالبہ زورپکڑگیا ہے,کروڑوں محب وطن پاکستانی عوام کا دل ایک سیاسی انتہاپسند جماعت کی کارروائیوں کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہا ہے اور اگر ملٹری کورٹس بنا کر انہیں بغاوت اور ملکی اداروں پر دہشت گردانہ حملوں کے تحت سزائیں نہ دی گئیں تو اس ملک کے اداروں پر سے عوام کااعتماد اٹھ جائے گا اعتماد تو عوام کا پہلے ہی دو دن میں اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو دیکھ کر اٹھ چکا ہے دہشت گردی کورٹ آگر سزائیں دے بھی دیں تو ہائیکورٹ سے مجرم باعزت بری قرار دے دیئے جاتے ہیں.ماضی کی مثالیں موجود ہیں ,پاکستان کے قانون میں ملٹری تنصیبات پر حملوں پر سویلین کے خلاف بھی کورٹ مارشل کیا جاسکتا اتحادی حکومت کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دہشت گردی کی عدالتوں میں سماعت کےبجائے ملٹری کورٹس میں سماعت پر رکاوٹ نہیں بننا چاہیےاحتجاج کے دوران فوجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار افراد کےخلاف فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘ فوجی چھاؤنیوں میں کیے گئے جرم کی نوعیت پر منحصر ہے کہ فوج اپنے قوانین کے تحت کارروائی کرتی ہے یا پولیس سول قوانین کے تحت۔ فوج کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ اپنی تنصیبات میں کیے گئے جرائم کی تحقیقات اور ٹرائل خود کرنے کی درخواست کر سکتی ہے۔‘ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 میں ان جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ٹرائل اس ایکٹ کے تحت اس صورت میں ہوتا ہے جب ان جرائم کا ارتکاب فوجی اہلکار کریں۔ تاہم اسی ایکٹ کے اطلاق کے حوالے سے کچھ شقوں میں یہ قانون بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ فوجی ایکٹ کے تحت کارروائی کی صورت میں ملزم کے خلاف ہونے والی عدالتی کاروائی کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کہا جاتا ہے جبکہ یہ فوجی عدالت جی ایچ کیو ایجوٹنٹ جنرل برانچ کے زیر نگرانی کام کرتی ہے۔ اس عدالت کا صدر ایک حاضر سروس (عموماً لفٹیننٹ کرنل رینک) فوجی افسر ہوتا ہے، استغاثہ کے وکیل بھی فوجی افسر ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ ایجوٹنٹ جنرل برانچ میں قانونی ڈگری رکھنے والے افسران ان عدالتی کارروائیوں کا حصہ بنتے ہیں۔ یہاں ملزمان کو وکیل رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ملزم پرائیویٹ وکیل رکھنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو فوجی افسر ان کی وکالت کرتے ہیں، انھیں ’فرینڈ آف دی ایکیوزڈ‘ کہا جاتا ہے۔خیال رہے کہ یہاں ہونے والی کارروائی کے بعد ملزم اپیل کا حق رکھتا ہے۔9 مئی کے واقعات کو سیاسی اختلاف کا جھاڑو پھیر کر ایک طرف نہیں کیاجاسکتا ان واقعات کی ذمہ داری عمران خان کو لینا پڑے گی۔عمران خان کو دیکھ کرعدالت عظمیٰ کا چیف جسٹس کہے دیکھ کرخوشی ہوئی، کہا آپ کو دیکھ کر اچھا لگا، یہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب تھا، پاک فوج نے پٌاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد احتجاج کے دوران فوجی املاک کو نشانے بنائے جانے پر ’9 مئی کو سیاہ‘ باب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ منظم طریقے سے فوجی تنصیبات پر حملے کرائے گئے۔ایک منظم طریقے سے فوج کی املاک اور تنصیبات پر حملے کرائے گئے اور فوج مخالف نعرے بازی کروائی گئی‘۔ ’9 مئی کا دن ایک سیاہ باب کی طرح یاد رکھا جائے گا‘۔’ایک طرف تو یہ شر پسند عناصر عوامی جذبات کو اپنے محدود اور خود غرض مقاصد کی تکمیل کے لیے بھرپور طور پر ابھارتے ہیں اور دوسری طرف لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہوئے ملک کے لیے فوج کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے نہیں تھکتے جو کہ دوغلے پن کی مثال ہے‘۔
بیان میں کہا گیا کہ ’جو کام ملک کے ابدی دشمن 75 سال نہ کرسکے وہ اقتدار کی ہوس میں مبتلا ایک سیاسی لبادہ اوڑھے ہوئے گروہ نے کر دکھایا ہے‘۔’فوج نے انتہائی تحمل، بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کیا اور اپنی ساکھ کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک کے وسیع تر مفاد میں انتہائی صبر اور برداشت سے کام لیا‘۔ ’مذموم منصوبہ بندی کےتحت پیدا کی گئی اس صورت حال سے یہ گھناؤنی کوشش کی گئی کہ فوج اپنا فوری ردعمل دے جس کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے‘-بیان میں مزید بتایا گیا کہ ’آرمی کے میچور ردعمل نے اس سازش کو ناکام بنا دیا، ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ اس کے پیچھے پارٹی کے چند شرپسند قیادت کے احکامات، ہدایات اور مکمل پیشی منصوبہ بندی تھی اور ہے‘۔ ’جو سہولت کار، منصوبہ ساز اور سیاسی بلوائی ان کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور یہ تمام شر پسند عناصر اب نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے‘۔ ’فوج بشمول تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے، فوجی اور ریاستی تنصیبات اور املاک پر کسی بھی مزید حملے کی صورت میں شدید ردعمل دیا جائے گا جس کی مکمل ذمہ داری اسی ٹولے پر ہوگی جو پاکستان کو خانہ جنگی میں دھکیلنا چاہتا ہے‘۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ’کسی کو بھی عوام کو اکسانے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘۔ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف صوبے میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں فوجی تنصیبات پر منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے گئے۔ پہلے سے طے تھا کہاں کہاں اٹیک کرنا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر ہاؤس کو آگ لگانے والوں نے ہی عسکری ٹاور کو آگ لگائی۔ شواہد موجود ہیں کہ یہ سب منصوبہ بندی سے کیا گیا۔میاںوالی ایئربیس پرجہازوں کوجلانے کا منصوبہ تھا۔. پی ٹی آئی والوں نے انہی عمارتوں کونشانہ بنایا جوطالبان کی ٹارگٹ رہی ہیں، شرپسندوں میں اکثریت مسلح افراد کی تھی، یہ حملہ پاکستان پرکیا گیا، سب کچھ چھوڑ کراس کومنطقی انجام تک پہنچارہے ہیں۔ ایک ایک شرپسند کوانجام تک پہنچائیں گے۔شرپسندوں نے سیف سٹی کے کیمروں کوتوڑا، ریکارڈ بھی جلایا، ان کی لسٹوں میں تمام چیزیں موجود تھیں،108 گاڑیاں گاڑیاں جلائی گئیں،23 عمارتوں کونقصان پہنچایاگیا۔ 6 ارب سے زیادہ کا نقصان ہوا، مزید تخمینہ لگارہے ہیں۔.دوسری جانب توڑپھوڑ، تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ملوث 3 ہزار 185 شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق جناح ہاؤس پر حملہ کرنے والے 300 سے زائد شرپسندوں کو گرفتارجبکہ 300زائد کی پروفائلنگ کاعمل بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔ حساس ادارے،سی ٹی ڈی،سوشل میڈیااکاونٹس اورفوٹیجزکی مددسےشرپسندوں کی شناخت جاری ہے۔پرتشدد کاروائیوں میں پنجاب بھرمیں152 پولیس افسران اوراہلکار شدید زخمی ہوئے جبکہ پنجاب پولیس کے زیر استعمال94 گاڑیوں کی توڑپھوڑ کی اورنذرآتش کیاگیا۔دوسری طرف جی ایچ کیو پرحملے میں ملوث دہشتگردوں کی گرفتاریاں شروع ھوچکی ہیں,.سی سی پی او راولپنڈی نے جی ایچ کیو گیٹ پر حملہ کرنے والے 26 شر پسندوں ,دہشتگردوں کی تصاویر میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ راولپنڈی پولیس اب تک 17مقدمات میں 264 افراد کو گرفتار کرچکی ہے جبکہ مقدمہ نمبر 708 تھانہ آراے بازار (جی ایچ کیو کیس) میں کل گرفتار شرپسندوں کی تعداد 76ہوگئی ہے۔ گزشتہ روز گرفتار ہونے والے شرپسندوں میں احسان، عبداللہ، ادریس، وقاص، ایاز، قمر الزمان، عمر، علی حسین، فرہاد اللہ، عصمت، ابوبکر، قمر زمان، سجاد منیر، نبیل، صداقت، نعمان، عامر شاہد، فرہاد، شہریار، لعل شاہ، اکمل، عدیل، پیرزادہ شہباز، ارشد، منور اور سید قمر شامل ہیں ,ویڈیوز کے ذریعے شناخت کرکے گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، ویڈیو میں پیڑول چھڑکتا ہوا نظر آنے والا شخص بھی گرفتار ہے جبکہ ہجوم کو جی ایچ کیو گیٹ کی جانب جانے کے لیے اکسانے والا شخص بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جی ایچ کیوگیٹ کو توڑنے والوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔پولیس افسر نے بتایا کہ ہنگاموں کے دوران شاہراہیں چلتی رہیں اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی بھی محفوظ رہی، میٹرو بس کا 80 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ 20کے قریب پولیس گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ پر تشدد کاروائیوں میں ایس ڈی پی او وارث خان اور ایس ایچ او رتہ امرال سمیت 29افراد و جوان زخمی ہوئے۔پولیس افسر نے بتایا کہ راولپنڈی میں انٹیلیجنس کا فقدان نہیں تھا، انھوں نے بھرپور تعاون کیا جس کی وجہ سے راولپنڈی میں حالات زیادہ خراب نہیں ہوئے، نقصانات کا تخمینہ حکومت لگا رہی ہے۔ جو جو گھناؤنے جرم میں ملوث ہے انکی تفتیش نہایت جامع ہوگی۔سی پی او کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی انوسٹی گیشن زنیرہ اظفر کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی حساس اداروں سے متعلق مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پہلے سے جیل بھجوائے گئے 90کے قریب ملزمان کو بھی شواہد کی بنیاد پر ان مقدمات میں قانون کے مطابق طلب کیا جا رہا ہے۔پولیس افسر نے بتایا کہ شرپسندوں کی لیڈر شپ کی گرفتاریوں کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں، شرپسند ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ
’’پاکستان میں مارشل لاء کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ فوج آرمی چیف کی قیادت میں متحد ہے۔ پاک فوج میں کسی نے استعفیٰ نہیں دیا۔‘‘اندرونی اور بیرونی پروپیگنڈوں کے باوجود فوج متحد ہےاور رہے گی۔
جنرل عاصم منیر اور سینیئر فوجی قیادت دل و جان سے جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اور کرتی رہے گی مارشل لا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے,جنرل عاصم منیر اور سینیئر فوجی قیادت دل و جان سے جمہوریت کو سپورٹ کرتی ہے اور کرتی رہے گی مارشل لا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے,ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف سمیت پوری عسکری قیادت کا جمہوریت پر یقین ہے۔ پاک فوج متحد ہے اور متحد رہے گی,ترجمان پاک فوج نے ملک میں مارشل لا کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارشل لا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیراعظم شہبازشریف کا عمران خان کی آرمی چیف سے متعلق ’الزام تراشی‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان کا بیان پاک فوج کے خلاف ان کی گھٹیا ذہنیت کا ایک اور ثبوت ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کا الزام آرمی چیف پر عائد کردیا تھا۔وقفے کے دوران بی بی سی کی نامہ نگار کیرولین ڈیوس نے جب ان سے اس تاثر کے بارے میں سوال کیا گیا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں ان کے خلاف ہیں جبکہ عدلیہ ان کی حمایت کر رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیکیورٹی ایجنسیاں نہیں ہیں، یہ ایک آدمی ہے، آرمی چیف‘۔













انہوں نے مزید کہا کہ ’فوج میں جمہوریت نہیں ہے، جو کچھ ہو رہا ہے اس سے فوج کو بدنام کیا جا رہا ہے‘۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’وہ (آرمی چیف) پریشان ہیں کہ اگر میں اقتدار میں آیا تو میں انہیں ڈی نوٹیفائی کر دوں گا، جس پر میں نے انہیں پیغام بھیجنے کی پوری کوشش کی ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا‘۔عمران خان نے کہا کہ ’یہ سب براہ راست اس کے حکم سے ہو رہا ہے، وہ وہی ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اگر میں جیت گیا تو اسے ڈی نوٹیفائی کر دیا جائے گا‘وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائےگی، دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، قانون اپنے آہنی ہاتھوں سے ان لوگوں کو اپنی گرفت میں لےگاوزیراعظم نے کہا کہ عمران خان کا بیان اعتراف ہے کہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا وہ عمران خان کے کہنے پر ہوا، بیان ثبوت ہے کہ شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی اور حساس تنصیبات اور عمارتوں پر حملے کے پیچھے منصوبہ بندی عمران خان کی تھی۔ جنرل سید عاصم منیر سے عمران خان کو تکلیف یہ ہے کہ وہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی عمران خان، ان کی اہلیہ، فرح گوگی اور پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کی بدترین کرپشن سے آگاہ ہیں۔وزیراعظم کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ آرمی کے انتہائی ڈیکوریٹڈ، رینک اینڈ فائل میں ہردلعزیز اور میرٹ پر آرمی چیف بننے والے جنرل سید عاصم منیر کے خلاف ہرزہ سرائی بدنیتی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ شمشیر اعزاز اور حافظ قرآن ایماندار آرمی چیف سے عمران خان خوفزدہ ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی بہادر فوج کے سپہ سالار کے خلاف اس نوعیت کی گھٹیا گفتگو دہشت گردوں کی حمایت ہے، پوری قوم مسلح افواج اور آرمی چیف کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کورکمانڈر ہاؤس تاریخی جناح ہاؤس لاہور پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کو 72 گھنٹوں میں گرفتارکرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائےگی، دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، قانون اپنے آہنی ہاتھوں سے ان لوگوں کو اپنی گرفت میں لےگا,خیال رہے کہ 9 مئی کو شرپسندوں نے جناح ہاؤس لاہور (کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ) پر حملہ کرکے اسے تباہ کردیا تھا اور سامان لوٹنے کے بعد اسے آگ لگادی تھی، حملہ آوروں نے قائداعظم محمد علی جناح کا پیانو ، رائٹنگ ٹیبل ڈیسک اور تلوار بھی جلا ڈالی تھی، یہ نوادرات بانی پاکستان نے حکومت پاکستان کو عطیہ کی تھیں اوربطور قومی ورثہ یہاں محفوظ تھیں۔لاہور میں سیف سٹی اتھارٹی کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نےکہا کہ اس طرح کا کوئی کام پاکستانی نہیں سوچ سکتا، یہ بد ترین حرکت کرنے والوں کو آئین اور قانون میں درج سزائیں دی جائیں گی، کورکمانڈر ہاؤس تاریخی جناح ہاؤس جل چکا ہے اور مکمل طور پر تباہ ہوگیا، ان واقعات پرپوری قوم غمگین ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران نیازی اور ان کا جتھا پاکستان کےدشمنوں سے کم نہیں، جوکام شرپسند 75 برس میں نہ کرسکے وہ پی ٹی آئی کےشرپسندوں نےکیا، منصوبہ بندی کے تحت سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور شہیدوں اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی۔




