سولہ سال بعد حضرت بری امامؒ عرس میں دنیا بھر سے زائرین کی شرکت.

After 16 years, pilgrims from all over the world participated in Hazrat Bari Imam Urs.……….
,,,,,,,,,,,,. ..اصغرعلی مبارک……,,,
حضرت شاہ عبدالطیف المعروف بری امام سرکار کے سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات دارالحکومت اسلام آباد میں اختتام پذیر ہوگئیں۔
عرس تقریبات کا باقاعدہ آغازپندرہ اگست کوسابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے مزار پر چادر پوشی سے ہوا ,
مزار کمیٹی کے چیئر مین اسحاق ڈار ۔راجہ سرفراز سمیت دیگرنے مزار شریف کوغسل دیا تھا ،
عرس مبارک 17اگست تک جاری رہا۔جس میں زائرین نے دنیا بھر سے شرکت کی۔
خیال رہے کہ حضرت شاہ عبدالطیف کاظمی المعروف بری امام سرکار کے سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز16 سال کے وقفہ کے بعد ہواتھا،عرس کی تقریبات کا آغاز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزار شریف پر چادر پوشی کے بعد کیا،تین روزہ عرس کی تقریبات 17 اگست تک جاری رہیں، جس میں ملک بھر سے آئے نعت خواں،قاری قرآن اور قوال ہدیہ عقیدت پیش کیا،
پندرہ اگست کو محفل نعت، سولہ اگست کو محفل سماع اور سترہ اگست کو اختتامی تقریب میں دعا کی گئی تھی،
عرس کے باعث سیکورٹی کے انتہائی غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے,۔سیکورٹی خدشات کے پیش نظر عرس کے قریب قائم قائداعظم یونیورسٹی کو بھی بند رکھاگیا تھا ,
خیال رہے کہ 16 سال کے وقفہ کے بعد حضرت بری امامؒ کا عرس مبارک منعقد کرانے کافیصلہ کیا گیا تھا یہ فیصلہ سابق وفاقی وزیرخزانہ محمداسحاق ڈارکی زیرصدارت مزارحضرت بری امام کمپلیکس کی ترقی اورانتظام وانصرام کیلئے قائم کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔اجلاس میں طارق باجوہ،طارق محمودپاشا، جنرل (ر)افضل جنجوعہ، گوہرزاہد ملک، چیئرمین سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنراسلام آباد اوردیگرافسران نے شرکت کی تھی۔اجلاس میں حضرت بری امامؒ کا عرس مبارک 15 اور16 اگست کومنعقد کرانے کافیصلہ کیاگیا تھا حضرت بری امامؒ کا عرس مبارک 16 سال کے وقفہ کے بعد ہورہا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ حضرت بری امامؒ کا عرس مبارک اب ہرسال باقاعدہ بنیادوں پرمنعقد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے31 جولائی 2023 کو سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے حضرت بری امام مزارکی ڈویلپمنٹ اور انتظامی امور پر قائم کمیٹی کی تشکیل نو کی منظوری دی تھی ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو حضرت بری امام انتظامی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا جبکہ پرائیویٹ ممبران میں طارق باجوہ،طارق محمودپاشا، جنرل (ر)افضل جنجوعہ، گوہرزاہد ملک، چیئرمین سی ڈی اے، ڈپٹی کمشنراسلام آباد سمیت دیگر شامل ہیں۔حضرت بری امام مزارکی ڈیولپمنٹ اور انتظامی امور پر قائم کمیٹی کی تشکیل نوکے بعد وزارت داخلہ نے انتظامی کمیٹی کی تشکیل نو کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس میں بتایا گیا کہ اسحاق ڈار حضرت بری امام انتظامی کمیٹی کے چیئرمین مقرر کردیئے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ سید عبد اللطیف کاظمی قادری المعروف امام بری کا تعلق قادریہ سلسلہ سے ہے آپ بری امام ,امام البر ,خشکی کے امام کے لقب سے مشہور ہیں , بری بادشاہ،بری سلطان اور امام بری کے القاب آپ کو دیے گئے ہیں, آپ کا دربار پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کے نواحی گاؤں نور پورشاہاں میں واقع ہے اس سے پہلے یہ جگہ چور پور کہلاتی تھی, سید عبد اللطیف کاظمی قادری ( 1617ء) اور (1026ھ) میں چکوال کے ایک گاؤں کرسال میں پیدا ہوئے یہ شاہجہان کا عہد حکومت تھا سید عبد الطیف کاظمی قادری کے والد سید سخی محمود شاہ کاظمی اپنے پورے خاندان سمیت ہجرت کر کے با غ کلاں آ گئے جو اب آبپارہ کے نام سے مشہور ہےسید عبد اللطیف کاظمی قادری غورغشی اٹک گئے جہاں پر دو سال قیام کے دوران آپ نے فقہ، حدیث، منطق، ریاضی اور علم طب کے متعلق سیکھا کیوں کہ اس دور میں غورغشی ,ضلع اٹک علم کا مرکز جانا جاتا تھا,سید جمال اللہ حیات المیر جو غوث اعظم کے پوتے تھے جو حسن ابدال میں مقیم تھے انکا سلسلہ قادریہ تھا جب تک سخی حیات المیر حیات رہے یہ ان کی صحبت میں رہےضلع ہزارہ کے ایک معزز خاندان کے سردار سید نور محمد کی صاحبزادی بی بی دامن خاتون سے شادی ہوئی ایک بچی پیدا ہوئی جو بہت چھوٹی عمر میں فوت ہو گئیں اس کے بعد آپکی کی زوجہ بھی وفات پا گئیں دوبارہ آپ نے شادی نہ کی, امام بری اسلام آباد کے سرپرست ولی ہیں۔
سید عبد اللطیف کاظمی کے والد کا نام سید سخی محمود شاہ کاظمی ہے سید سخی محمود شاہ کاظمی کا دربار اسلام آباد میں آبپارہ کے مقام پر واقع ہے,شاہ لطیف بری بن محمود شاہ بن سید احمد یا حامد بن بودلا شاہ بن اسکندربن عباس بن عبد الغنی بن سید حسین بن سید آدم بن علی شیر بن عبد الکریم بن وجیہ الدین بن محمد ولی بن محمد ثانی الغازی بن رضا دین بن صدر الدین بن محمد احمد ثابق بن ابو القاسم بن پیر بربریاں بن سلطان عبد الرحمن بن اسحاق ثانی بن موسیٰ اول بن محمد عالم بن قاسم عبد اللہ بن محمد اول بن اسحاق بن موسیٰ کاظم آپ کا نسب کا ذکر سید قمر عباس اعرجی ہمدانی نے اپنی کتاب مدرک الطالب فی نسب آل ابی طالب میں کیا ہے آپ حسینیال مشہدی موسوی سید ہیں,سید عبد الطیف کاظمی قادری نے بہت سے علاقوں کا دورہ کیا جن میں کشمیر، بدخشاں، بخارا، مشہد، بغداد اور دمشق شامل ہیں آپ حج کی غرض سے مکہ مکر مہ بھی گئے اورمدینہ منورہ بھی گئے تقریباً 25 سال کی عمر میں واپس تشریف لائےسید عبد الطیف کاظمی قادری نے نور پور شاہاں میں قیام کے دوران اسلام کی تعلیمات کے ذریعے لا تعداد ہندوؤں کے دلوں میں اسلام کی شمع کو روشن کیا آپ کی کئی چلہ گاہیں ہیں جن میں نیلاں بھوتو، گنگڑ نور پور کے غار میں چلہ کشی کی مرشد نے چلہ کشی کے بعد آکر نکالا اور فرمایا امام البر ہو جو بعد میں بری امام ہو گیا, شاہ عبد الطیف کا وصال 1117ھ بمطابق 1706ء میں نور پور شاہاں اسلام آباد میں ہواآپ کا مزار اسلام آباد کے نواحی گاؤں نور پور شاہاں میں واقع ہے جہاں ہر سال لاکھوں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔ مزار اورنگزیب عالمگیر نے اپنے دور حکومت میں تیار کروایا,سید عبد اللطیف کاظمی قادری بچپن میں مویشی چرایا کرتے تھے ایک بار آپ مویشی چرانے لے کر گئے,
آپ نے مویشیوں کو کھلا چھوڑ دیا کھ مویشی چر لیں اور خود درخت کے نیچے آرام کرنے لگے, آپ کے مویشی چرتے ہوئے کھیتوں میں گھس گئے اور فصل کو نقصان پہنچایا,
آپ مویشی لے کرواپس آ گئے اتنے میں کھیت کا مالک بھی آ پہنچا اس نے عبد اللطیف کاظمی کے والد صاحب کو شکایت لگائی کہ آپ کے مویشیوں نے فصل تباہ کر دی ہے اور چشم دید گواہ بھی موجود ہیں جنھوں نے خود مویشیوں کو کھیت میں گھس کر فصل کو تباہ کرتے دیکھا,
اس پرسید عبد اللطیف کاظمی قادری نے جواب دیا کہ فصل کو کسی نے تباہ نہیں کیا فصل بالکل ٹھیک ہے یہ سن کر کھیت کا مالک نے آپ کے والد صاحب سے کہا کہ آپ خود جا کر کھیتوں کی حالت دیکھیں جب آپ کے والد صاحب کھیتوں میں پہنچے تو وہاں کا نظارہ کچھ اور تھا کھیت لہلہا رہے تھے اور فصلیں بھی بالکل ٹھیک تھیں یہ نظارہ دیکھ کہ کھیت کا مالک حیران رہ گیا کہ اس نے جب دیکھا اس وقت کھیتوں کی حالت اور تھی اور اب اور ہے کھیت کا مالک اپنی بات پر پشیمان ہوا اور معافی مانگ کر واپس چلا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آ پ پیدائشی اللہ کے ولی ہیں,
سید عبد اللطیف کاظمی قادری ایک بار پتھر پر بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے تھے کہ اس علاقے سے بادشاہ وقت اورنگزیب عالمگیر کا اپنی فوج کے ساتھ گذر ہوا رات ہونے کی وجہ سے اورنگزیب عالمگیر نے فوج کو پڑاؤ کا حکم دیا اور لنگر کی تیاری کا بھی حکم دیا جب لنگر تیار ہوا تواورنگزیب عالمگیر نے حکم دیا کہ تمام علاقے کی عوام کو بھی کھانے میں شرکت کی دعوت دی جائے حکم کے مطابق لوگ کھانے کے لیے آ گئے اور کھانا شروع کر دیا اس اثنا میں چند سپاہی اورنگزیب عالمگیر کے پاس حاضر ہوئے اور شکایت لگاتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نے آپ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے یہ سن کر اورنگزیب عالمگیربولا کہ جاؤ اور دوبارہ انہیں ہمارا حکم سناؤ سپاہی چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد جب لوٹے تو انہوں نے دوبارہ وہی جواب دیا جسے سن کر اورنگزیب عالمگیر نے سپاہیوں سے کہا کہ ہم خود جا کر اس شخص کو ملنا چاہتے ہی جب اورنگزیب عالمگیر، سید عبد اللطیف کاظمی قادری کے پاس پہنچا تو تحکمانا انداز میں سید عبد الطیف کاظمی قادری سے مخاطب ہوا ”کیا وہ تم ہی ہوجس نے ہمارا حکم ماننے سے انکار کیا“سید عبد اللطیف کاظمی قادری نے جواب دیا ”’ہاں وہ میں ہی ہوں“اس پر اورنگزیب عالمگیر بولا ”کیا تم نہیں جانتے کہ ہم بادشاہ وقت ہیں اور تم ہماری جاگیر میں موجود ہو“سید عبد اللطیف کاظمی قادری نے جواب دیا ”تم جو بھی ہو جاگیر صرف اللہ کی ہے اور اگر تمھیں جاگیر دیکھنے کا بہت شوق ہے تو ہمارے ساتھ اس پتھر پر بیٹھو ‘“ جب اورنگزیب عالمگیر بیٹھا تو اسے اپنے چاروں طرف ہیرے جواہرات سے بنا دربار نظر آیا اور وہ پتھر جس پرسید عبد اللطیف کاظمی قادری بیٹھے تھے وہ ایک بہت خوبصورت تخت کی صورت میں نظر آیا “ تواورنگزیب عالمگیر سید عبد اللطیف کاظمی قادری سے بولا”مجھے معاف کیجئے گامیں آپ کو نہیں پہچان پا یا تھا اس لیے آپ سے گستاخی کر بیٹھا تھا “یہ سن کرسید عبد اللطیف کاظمی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اورنگزیب عالمگیر کو معاف کیا اوراس کے حق میں دعا بھی فرمائی ,,حضرت بری امام کی طرف بہت سی کرامات منسوب ہیں,’’مراجعت کے بعد عبادت اور ریاضت میں بہت زیادہ انہماک رہنے لگا۔ ایک روز گھر سے بغیر اطلاع نکلے اور باغ کلاں سے تین میل دور’’ کہاہوت ‘‘ نامی گائوں سے باہر ایک غار میں جا بیٹھے۔ قریب ہی گھنے جنگل میں چوروں اور سینہ زوروں کا بسیرا تھا۔وہ کشمیر سے آنے جانے والے قافلوں کو لوٹتے اور مار دھاڑ کر نے کے بعدجنگل میں چھپ جاتے تھے۔ اسی رعایت سے ’’کہاہوت‘‘ کو ’’چور پور‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ کئی برس غار کے اندر ذکر و فکر میں گزرے۔ تب ایک مرد حق آگاہ وہاں آیا۔ یہ حضرت سخی حیات المیرؒ تھے۔ ان سے حضرت شاہ لطیف ؒ نے سلسلہ قادریہ میں بیعت کی اور عرفان کی تعلیم پاکر اپنا سفر جاری رکھا۔ روشنی جب پھیلتی ہے تو اندھیرے خود و بخود چھٹ جاتے ہیں۔ آ پؒ نے سب سے پہلے انہی پشتینی چوروں ڈاکوئوں کو تلقین فرمائی اور راہ راست پر لے آئے۔ اسی رعایت سے چور پور کا نام ’’نور پور‘‘ ہو گیا‘‘۔
آپ کا لقب حضرت بری امام ؒ کیوں مشہور ہوا، اس سلسلے میں ملک محمد اشرف کی کتاب ’’فیضان بری امام ؒ میں بیان کردہ یہ روایت قابل غور ہے کہ نالے میں چلہ کشی کے دوران ان کے مرشد حضرت سخی حیات المیر ؒ وہاں تشریف لائے اور فرمایا
’’ اے لطیف! تمہاری عبادت وریاضت کی تکمیل ہوئی۔ اللہ نے تمہاری عبادت قبول کر لی ہے۔باہر آئو کہ آج یوم تبریک ہے۔ اب تم اس بحرو بر پر امام مقرر کردیئے گئے ہو‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بر امام ؒ امام بر کہا جاتا ہے جس کے معنی خشکی اور زمین کے امام ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے آپ کو امام بری ؒ سرکار اور بری کہنا شروع کردیا۔
حضرت بری امام کی طرف بہت سی کرامات منسوب ہیں۔ ملک محمد اشرف نے لکھا ہے کہ ایک بار آپ خشک شیشم تلے عبادت میں مصروف تھے۔ گنگا جل کی یاترا کیلئے جاتے ہوئے کچھ ہندوئوں نے آپ ؒکو دیکھا تو قریب پہنچ کر رک گئے۔ انہوں نے اپنے سفر کی غرض و غایت بیان کی تو آپؒ نے فرمایا ’’ کسی دریا میں نہانے سے تو گناہ دھلنے سے رہے‘‘ نجات تو عبادت الٰہی اور اعمال صالح میں مضمر ہے‘‘۔
اس پر ایک پنڈت نے طعنہ زنی کی ’’ اگر آپ کی بات ٹھیک ہوتی تو آپ پر خدا کی رحمت کا کوئی نشان ظاہر ہوا ہوتا اور کچھ نہیں تو شیشم کے جس خشک درخت کے نیچے آپ عبادت کر رہے ہیں، وُہی ہرا ہو جاتا‘‘۔ روایت کے مطابق آپ مسکرائے اور فرمایا کہ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں، وہ چاہے تو پل بھر میں یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ یہ کہتے ہی آپ نے درخت کی جانب دیکھا اور دعا کیلئے مجیب الدعوات کے آگے ہاتھ اٹھا دیئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مدت دراز کا سوکھا ہوا درخت سرسبز ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب ہندوئوں نے یہ کرامت دیکھی تو اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔سالانہ عرس کی تین روزہ تقریبات دارالحکومت اسلام آباد میں ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے زائرین کا کہنا ہے کہ ہم لوگ صرف اور صرف امام بری مزار پر سلام پیش کرنے آئے ہیں۔ اب ہم مزار کے اندر جا کر دعا مانگتے ہیں اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اب دربار کا نظم و نسق محکمہ اوقاف نے سنبھال لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑی خوش آئند بات یہ ہے کہ یہاں ناجائز تجاوزات کا رش نہیں , ہم نے منتیں مانی , نذرونیاز کا سلسلہ کیا,مزار شریف پر دعا کی پھولوں کی چادریں چڑھائی ہیں اور اللہ کے ولی سے اپنی محبت کا اظہارکیا ۔
16 سال بعد مزارحضرت بری امامؒ عرس پرسکیورٹی کے بہترین انتظامات تھے مرد اور عورتیں علیحدہ علیحدہ راستوں سے مزار/دربار کے اندر داخل ہوتے رہے،عرس پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹر سے سرچنگ کی جاتی رہی پھرمزار/ دربار کے احاطے میں جانے دیا جاتا ۔زائرین کا کہنا ہے کہ16 سال بعدم زار حضرت بری امامؒ عرس پر بہترین انتظامات مقامی انتظامیہ کے شکرگزار ہیں,

After 16 years, pilgrims from all over the world participated in Hazrat Bari Imam’s Urs.
,,,,,,,,,,,,. .. Asghar Ali Mubarak……,,,
The three-day celebrations of the annual Urs of Hazrat Shah Abdul Latif popularly known as Bad Imam Sarkar have concluded in the capital Islamabad.
Urs celebrations officially started on August 15 with the laying of chadar at the shrine of former Finance Minister Ishaq Dar.
Chairman of Mazar Committee Ishaq Dar, Raja Sarfraz and others had bathed Mazar Sharif.
Urs Mubarak continued till August 17, in which pilgrims from all over the world participated.
It should be noted that the three-day celebrations of the annual Urs of Hazrat Shah Abdul Latif Kazmi, known as the Bad Imam Sarkar, began after a gap of 16 years. The celebrations continued till August 17, in which Naat Khans, Qur’an reciters and Qawwals from all over the country offered devotion.
Mahfil Naat was held on August 15th, Mahfil Sama on August 16th and prayer was offered at the closing ceremony on August 17th.
Because of Urs, very unusual security arrangements were made. In view of security concerns, Quaid-e-Azam University was also closed near Urs.
It should be noted that after a gap of 16 years, it was decided to organize the Urs Mubarak of Hazrat Bari Imam. This decision was taken in the meeting of the committee formed for the development and management of Hazrat Bari Imam Complex under the chairmanship of former Federal Minister of Finance Muhammad Ishaq Darki. In the meeting, Tariq Bajwa, Tariq Mehmood Pasha, General (Retd) Afzal Janjua, Goharzahid Malik, Chairman CDA, Deputy Commissioner Islamabad and Digraphsran participated. In the meeting, it was recommended to hold the urs of Hazrat Bari Imam on August 15 and 16. Mubarak is happening after a gap of 16 years. It was decided in the meeting that the Urs Mubarak of Hazrat Bari Imam will now be held on a regular basis every year.
It should be remembered that earlier on July 31, 2023, former Prime Minister Shahbaz Sharif approved the reconstitution of the committee on development and administrative affairs of Hazrat Bari Imam Mazar. According to the notification, former Finance Minister Ishaq Dar was appointed as the Chairman of Hazrat Bari Imam Management Committee while Tariq Bajwa, Tariq Mehmood Pasha, General (Rtd) Afzal Janjua, Goharzahid Malik, Chairman CDA, Deputy Commissioner Islamabad and others were among the private members. After the formation of the committee on the development and administrative affairs of Hazrat Bari Imam Mazar, the Ministry of Interior issued a notification for the reorganization of the management committee, in which it was stated that Ishaq Dar has been appointed as the chairman of Hazrat Bari Imam Management Committee. .
It should be remembered that Syed Abdul Latif Kazmi Qadri, known as Imam Bari, belongs to the Qadiriya family. His court is located in Noorpurshahan, a suburb of Islamabad, the capital of Pakistan. Before this place was called Chorpur, Syed Abdul Latif Kazmi Qadri was born in Kursal, a village of Chakwal in 1617 and 1026. Syed Abdul Latif Kazmi Qadri’s father Syed Sakhi Mehmood Shah Kazmi migrated with his entire family to Bagh Kalan, which is now known as Abpara. learned jurisprudence, hadith, logic, mathematics and medicine because Ghorghoshi, district of Attock was known as the center of knowledge during this period. As long as Sakhi Hayat Al-Meer was alive, he remained in his company. He was married to Bibi Daman Khatun, the daughter of Syed Noor Muhammad, the head of a respectable family in Hazara district. His wife also died, he did not marry again, Imam Bari is the patron saint of Islamabad.
Syed Abdul Latif Kazmi’s father’s name is Syed Sakhi Mahmood Shah Kazmi. The court of Syed Sakhi Mahmood Shah Kazmi is located at Abpara in Islamabad. Al-Ghani bin Sayyid Hussain bin Sayyid Adam bin Ali Sher bin Abd al-Kareem bin Wajiya al-Din bin Muhammad Wali bin Muhammad Al-Ghazi bin Reza Din bin Sadr al-Din bin Muhammad Ahmad Thabiq bin Abul Qasim bin Pir Berberian bin Sultan Abd al-Rahman bin Ishaq Al-Thani bin Musa I bin Muhammad Alam bin Qasim Abd Allah bin Muhammad I bin Ishaq bin Musa Kazim mentioned his lineage by Syed Qamar Abbas Irji Hamdani in his book Madrak al-Talib Fi Nasab Al Abi Talib. He visited many places including Kashmir, Badakhshan, Bukhara, Mashhad, Baghdad and Damascus. He also went to Makkah and Madinah for the purpose of Hajj. He came back at the age of 25. During his stay in Pur Shahan, through the teachings of Islam, he lit the candle of Islam in the hearts of many Hindus. There are many shrines, including Neelan Bhutto, the Murshid of the shrine in the cave of Gangad Nurpur. He took it out and said it must be Imam Al-Bar, who later became the Bad Imam. Shah Abdul-Taf passed away in 1117 AH according to 1706 AH in Nurpur Shahan, Islamabad. give The shrine was built by Aurangzeb Alamgir during his reign.Syed Abdul Latif Kazmi Qadri used to graze cattle in his childhood. Once he went to graze cattle.
You left the cattle open to graze and rested under the tree itself, your cattle entered the fields while grazing and damaged the crops.
You returned with the cattle, while the owner of the field also came, he complained to Abdul Latif Kazmi’s father that your cattle had destroyed the crop and there are eyewitnesses who themselves entered the field. Seen destroying the crop,
To this question, Abdul Latif Kazmi Qadri replied that no one destroyed the crop, the crop is perfectly fine, the owner of the field asked your father to go and see the condition of the fields yourself when your father was in the fields. When he reached there, the view was different, the fields were flourishing and the crops were also perfectly fine. The owner of the field was surprised to see that the condition of the fields was different when he saw it, and now the owner of the field is different. Repented and apologized and went back, it shows that you are a born guardian of Allah.
Syed Abdul Latif Kazmi Qadri was once mentioning Allah while sitting on a stone that Aurangzeb Alamgir, the king of the time, passed through this area with his army at night, so Aurangzeb Alamgir ordered the army to halt and prepare an anchor. When the langar was ready, Aurangzeb Alamgir ordered that the people of the entire area should be invited to participate in the meal. According to the order, people came to eat and started eating. Meanwhile, some soldiers attended Aurangzeb Alamgir. After hearing that a person had refused to obey his order, Aurangzeb Alamgir said, “Go and tell them our order again.” Aurangzeb Alamgir said to the soldiers that we want to go and meet this person. When Aurangzeb Alamgir reached Syed Abdul Latif Kazmi Qadri, he addressed Syed Abdul Latif Kazmi Qadri in a commanding manner, “Are you the one who sent us?” refused to obey the order” Syed Abdul Latif Kazmi Qadri replied “Yes he is me” Aurangzeb Alamgir said to him “Don’t you know that we are kings and you are in our domain” Syed Abdul Latif Kazmi Qadri replied, “Whoever you are, the estate belongs to Allah alone, and if you are very fond of seeing the estate, then sit with us on this stone.” On which Abdul Latif Kazmi Qadri was sitting, he appeared in the form of a very beautiful throne.” Then Aurangzeb Alamgir said to Syed Abdul Latif Kazmi Qadri, “Excuse me, I did not recognize you, so I was sitting rudely to you.” Sun Kursid Abdul Latif Kazmi Qadri (may Allah have mercy on him) forgave Aurangzeb Alamgir and also prayed for him.Many blessings are attributed to Hazrat Bari Imam. One day he left home without notice and sat in a cave outside a village called “Kahahot”, three miles from Bagh Kalan. In the dense forest nearby, there was an abode of thieves and thugs. They used to rob the caravans coming from Kashmir and hide in the forest after beating them. With this exception, “Kahahot” was also called “Chorpur”. Many years were spent in meditation inside the cave. Then a man came there who knew the truth. This was Hazrat Sakhi Hayat Al Meer. Hazrat Shah Latif swore allegiance to him in the chain of Qadria and continued his journey after learning mysticism. When light spreads, darkness automatically dissolves. You were the first to exhort these Pashtun thieves and robbers and brought them to the right path. With this concession, the name of Chorpur became “Noorpur”.
Why did his title Hazrat Bari Imam become famous, in this regard, this tradition described in Malik Muhammad Ashraf’s book “Faizan Bari Imam” is worthy of consideration that his mentor Hazrat Sakhi Hayat Al-Meer was there during the funeral ceremony in the canal. He brought and said
O Latif! Your worship has been completed. Allah has accepted your worship. Come out today is a day of celebration. Now you have been appointed as Imam on this Bahro Bur. This is the reason why he is called Imam Bar, which means Imam of land and land. With the passage of time, people started calling him Imam Bari (Sarkar) and Bari.
Many virtues are attributed to Hazrat Bari Imam. Malik Muhammad Ashraf has written that once he was engaged in worshiping under dry shesham. While going on a pilgrimage to the Ganga Jal, some Hindus saw him and stopped near him. When he explained the purpose and goal of his journey, he said, “By bathing in a river, one’s sins are washed away.” Salvation lies in divine worship and righteous deeds.
A pandit taunted him, “If you were right, some sign of God’s mercy would have appeared on you, and if nothing else, the dry shesham tree under which you are worshiping would have turned green.” ‘. According to tradition, he smiled and said that it is not a big deal, he can do all this in a moment if he wants. As soon as he said this, he looked at the tree and raised his hands in front of Mujib-ud-Dawaat for supplication. Soon the dry tree became green. It is said that when the Hindus saw this miracle, they accepted Islam at the same time. The three-day celebrations of the annual Urs in the capital Islamabad, pilgrims from different parts of the country say that we people have only come to offer greetings at the shrine of Imam Bari. Now we go inside the mausoleum and pray and the best thing is that the endowment department has taken over the management of the shrine. No, we took vows, performed Nazronias, placed prayer wreaths on Mazar Sharif and expressed our love for Allah’s Wali.
After 16 years, Hazrat Bari Imam’s shrine had the best arrangements for Urs security, men and women kept entering the shrine/Durbar through separate routes, the Urs was searched with walk-through gates and metal detectors, then they were allowed to enter the shrine/Durbar premises. The visitors say that after 16 years, they are grateful to the local administration for the best arrangements on the Urs of Hazrat Bari Imam.