سعودی وقطری سرمایہ کاری;پاکستان میں اقتصادی ترقی وخوشحالی… …..
صغر علی مبارک) .قطر پاکستان میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا جبکہ سعودی عرب نے سرمایہ کاری کو 2.8 ارب ڈالر تک توسیع دے دی ہےسعودی وقطری سرمایہ کاری سےپاکستان میں اقتصادی ترقی وخوشحالی ہو گی,وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ قطر کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، امیر قطر اور قطری وزیراعظم سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ، سرمایہ کاری اور تجارت پر خصوصی زور دیا گیا۔دوسری طرف سعودی عرب نے بھی پاکستان میں مزید 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد مجموعی حجم دو ارب 80 کروڑ ڈالر ہوگیا ہے۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے ایم او یوز کی تعداد 27 سے بڑھ کر 34 ہو گئی ہے جب کہ حالیہ دورے کے دوران سرمایہ کاری کا حجم دو ارب 20 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر دو ارب 80 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نےسعودی عرب کے تعاون سے پاکستان کو اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سعودی عرب کی حالیہ سرمایہ کاری کا حجم 2.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے سرمایہ کاری معاہدوں کی تعداد بڑھ کر34ہوگئی‘معاہدوں پر دستخطوں کی سیاہی خشک ہونےسے قبل عملدرآمد کاآغازخوش آئند امر ہے، دونوں ملک مل کر ترقی کی منازل طے کریں گے اور دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دیں گے ‘ آنے والے دنوں میں ان معاہدوں پر عملدرآمد میں پیشرفت ہو گی امید ہے کہ جب دوبارہ سعودی عرب آؤں گا تو دونوں ملکوں کے عوام کے لئے مزید اچھی خبروں کے ساتھ آؤں گا. سعودی وزیرسرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح کا کہنا ہے کہ دورہ پاکستان کے دوران 2.2 ارب ڈالر مالیت کے 27 معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے جو صرف ایک آغاز ہے‘بات چیت کے بعد ان معاہدوں کی تعداد 27 سے بڑھ کر 34 ہو گئی ہے جبکہ اس کا حجم میں 2.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ‘5معاہدوںپر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے‘سعودی عرب میں پاکستانی ورکروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائےگا‘آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان سے 300 طبی افرادی قوت سعودی عرب آئے گی۔ ریاض میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف کا کہناتھاکہ انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام میں تعاون پر سعودی عرب کا شکریہ اداکیا، امید ہے کہ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا آخری پروگرام ہو گا، انشااللہ اس کے بعد ہم سخت محنت ، کوششوں اور برادر ملک سعودی عرب کے تعاون کے ساتھ پاکستان کو اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی منزل کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہو ں گے وزیراعظم نے کہاکہ وہ آئندہ ماہ کے وسط میں دوبارہ اپنے گھر آئیں گے‘اس دورے سے قبل ہم نے ان معاہدوں پر بہت سارا کام کرنا ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے۔سعودی عرب کی ٹیم کے ساتھ مل کر ہم معاہدوں کے نظام الاوقات پر عملدرآمد میں کامیاب ہوں گے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کو ایک خاندان کی طرح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ سعودی عرب کی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے قابل ہوں جس سے نہ صرف سعودی عرب کے ترقیاتی پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ بھی ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔ اس موقع پر خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ورکنگ سطح کی میٹنگ ہوئی جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات جو پہلے بھی بلند ہیں کو مزیدنئی بلندیوں تک پہنچانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔خالد بن عبدالعزیز الفالح کے مطابق فیوچر انویسٹمنٹ سمٹ میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اہم خطاب کیا اور اس حوالے سے اپنی حکومت کے وژن کو بھرپور طریقے سے بیان کیا۔سعودی وزیر سرمایہ کاری نے دونوں ممالک کے درمیان معیشت، سرمایہ کاری، تجارت اور عوام کے درمیان تعلقات کو مزید بلندوں پر پہنچانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، جو اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔‘وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کی میزبانی ہمارے لیے باعث اعزاز ہے اور ان کی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے مفید ملاقات ہوئی خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا کہ اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں بہترین مہمان نوازی پر ایک بار پھر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستان اور سعودی عرب اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں، سعودی عرب پاکستان میں جدید ہاسپٹل کمپلیکس تعمیر کرے گا۔شہباز شریف نے مالی معاملات میں پاکستان کے ساتھ تعاون پر سعودی ولی عہد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو سعودی ولی عہد کا وژنری منصوبہ ہے۔‘ پاکستان اور سعودی عرب مل کر ترقی کی منازل طے کریں گے، ’یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سمجھوتوں کی ٹائم لائن پر عمل کریں گے، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بصیرت افروز قیادت میں ہم مشترکہ اہداف حاصل کریں گے۔وزیراعظم شہباز شریف فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس میں شرکت کے لیے سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر تھے، جس کے دوران انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کی ،یاد رہے کہ سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے11 اکتوبر 2024 کو کہا تھا کہ ریاض اور اسلام آباد کو نجی شعبے کے تحت سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے سعودی – پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل (ایس پی ایس سی سی) اور ٹھیکے داری کے فروغ کے لیے سعودی عرب کی مستقل رابطہ کمیٹی کو فعال کرنا ہو گا۔پاکستان اور سعودی عرب نے 2021 میں ایس پی ایس سی سی کے قیام کے لیے معاہدے پر دستخط کیے تھے تاکہ سیاسی، سکیورٹی، معاشی اور ثقافتی تعاون کے شعبوں میں فیصلہ سازی اور عمل درآمد کو تیز اور منظم کیا جا سکے۔ اس کونسل کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون کو بہتر بنانا ، خاص طور پر سرمایہ کاری کے معاہدوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرناہے۔دوسری جانب، سعودی عرب کی مستقل رابطہ کمیٹی برائے ترقیاتی ٹھیکہ داری کا قیام 2022 میں عمل میں آیا تاکہ تعمیراتی شعبے کو بہتر بنایا جا سکے اور منصوبوں میں تاخیر اور مشکلات کو حل کیا جا سکے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور الفالح کی موجودگی میں 10 اکتوبر 2024کوسعودی اور پاکستانی کاروباری اداروں کے درمیان دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئےتھے سعودی وزیر سرمایہ کاری نے کہا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کو حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) فریم ورک، مثال کے طور پر مستقل رابطہ کمیٹی، کے تحت کام کو فعال بنانا چاہیے۔ اس کمیٹی کی قیادت سعودی سیاست دان اور شاہی مشیر محمد بن مزید کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کی طرف سے ان کے ہم منصب پیٹرولیم کے وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کمیٹی میں ہیں۔الفالح نے تھا کہ ’اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے پورٹ فولیو کو شاہی ٹیم کے اندر رکھیں کیونکہ وہ ذاتی طور پر اس بات پر نظر رکھنا چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کا انتظام کیسے کر رہے ہیں۔جی ٹو جی دائرہ کار کے تحت التویجری اور ان کی ٹیم نے سعودی عرب کی وزارت سرمایہ کاری کو سرمایہ کاری سے متعلق ہر معاملے کی قیادت کرنے کا کہا ہے۔ ہر بات جو نجی شعبے کی فنڈنگ، خطرے میں کمی، سرمایہ کاری کے تحفظ، نجکاری اور فنڈنگ سے متعلق ہے۔ ہمیں کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ نجی شعبے کو فعال بنایا جائے۔یاد رہے کہ سعودی وزیر کے ہمراہ وفد میں 130 سے زیادہ کاروباری افراد شامل تھے ، جو توانائی، کان کنی، زراعت، سیاحت، تعمیرات، آئی ٹی اور صنعت سمیت مختلف شعبوں کی نمائندگی کر رہےتھے۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہو ا جب پاکستان دوست ممالک اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور اس کی 350 ارب ڈالر کی معیشت کو سہارا دیا جا سکے، جو ایک طویل اقتصادی بحران کا شکار رہی ہے، جس نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو کم اور کرنسی کو کمزور کر دیا تھا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومتی کاوشوں سے معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، قطر پاکستان میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، سعودی عرب نے سرمایہ کاری کو 2.8 ارب ڈالر تک توسیع دے دی جبکہ سعودی فاسٹ فوڈ چین ’البیک‘ پاکستان آرہی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ دورہ سعودی عرب میں ملاقاتیں تعمیری اور نتیجہ خیز رہیں، وزیراعظم کے سعودی عرب اور قطر کے دورے اہمیت کے حامل تھے، اللہ کا شکر ہے معیشت بحالی کی پٹڑی پر چڑھ چکی ہے، قطرپاکستان میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، قطری سرمایہ کاری سے پاکستانی معیشت کو سپورٹ ملے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی وزیر سرمایہ کاری کے دورہ پاکستان میں 27 معاہدوں پر دستخط ہوئے، مگر اب دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں کی تعداد 27 سے بڑھ کر 34 ہوگئی ہے، دونوں ممالک نے معیشت اور سرمایہ کاری میں اضافے پر اتفاق کیا، ملکی معیشت کی بحالی اور استحکام میں سعودی عرب کا اہم کردار رہا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ منارا کا معاملہ خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہا ہے، سعودی فاسٹ فوڈ چین البیک پاکستان آرہی ہے، کمپنی نے اپنی سپلائی چین پر کام شروع کردیا ہے، تمام شعبوں میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے، تفصیلات وقت آنے پر سامنے لائیں گے۔دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ قطر کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، امیر قطر اور قطری وزیراعظم سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ، سرمایہ کاری اور تجارت پر خصوصی زور دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امیری دیوان دوحا میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی۔ امیر قطر نے وزیراعظم اور ان کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پرتپاک استقبال اور فراخدلی سے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا، وزیر اعظم نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور موجودہ تعاون کو وسیع تر افق تک فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے مختلف شعبوں میں قطر کی ریاست کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی مسلسل معاونت کو سراہا، انہوں نے پاکستان میں اہم اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ قطر کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہےاعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امیری دیوان دوحا میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی وزیراعظم نے پرتپاک استقبال اور فراخدلی سے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا،شہباز شریف نے مختلف شعبوں میں قطر کی ریاست کی طرف سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی مسلسل معاونت کو سراہا، انہوں نے پاکستان میں اہم اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور موجودہ تعاون کو وسیع تر افق تک فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، ملاقات میں سرمایہ کاری اور تجارت پر خصوصی زور دیا گیا۔ ملاقات میں دیگر شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی، دونوں فریقین نے گزشتہ سرمایہ کاری کے وعدوں کے تناظر میں پاکستان میں متعدد شعبوں میں اہم مواقع اور باہمی دلچسپی کی اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے برادرانہ تعلقات کی اہمیت اور اقتصادی شراکت داری کو بڑھانے، تجارتی تبادلے میں اضافے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی دونوں فریقین کی خواہش پر زور دیا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی سے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے، معیشت کے شعبوں میں تعاون کی مختلف راہیں تلاش کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تبادلوں پر گفتگو کی گئی، وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان میں اقتصادی ترقی کی حمایت میں قطر کے کردار پر اظہار تشکر کیا، انہوں نے قطر میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد کی موجودگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک کو جوڑنے والے پُل کا کام کرتا ہے۔ قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے خطے میں ایک اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر پاکستان کی اہمیت پر زور دیا۔ فریقین نے مشترکہ مفادات کو پورا کرنے کے لیے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے قطری فریق کے عزم کا اظہار کیا۔

Saudi and Qatari investment; economic development and prosperity in Pakistan.

(Asghar Ali Mubarak)……

Qatar will invest $3 billion in Pakistan, while Saudi Arabia has extended the investment to $2.8 billion.The Saudi and Qatari investment will bring economic development and prosperity in Pakistan.  A joint statement of Prime Minister Shehbaz Sharif’s visit to Qatar has been issued, in the meetings with the Emir of Qatar and the Qatari Prime Minister, special emphasis was placed on the promotion of bilateral relations, investment and trade.

On the other hand, Saudi Arabia has also announced an additional investment of 600 million dollars in Pakistan, after which the total amount has become 2 billion 80 million dollars. During a meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif in Riyadh, Saudi Investment Minister Khalid bin Abdulaziz Al-Falih said that the number of MoUs between Pakistan and Saudi Arabia for investment in various sectors has increased from 27 to 34.While during the recent visit, the volume of investment has increased from 2 billion 20 million dollars to 2 billion 80 million dollars.

Prime Minister Shahbaz Sharif expressed his determination to bring Pakistan to the destination of economic development and prosperity with the cooperation of Saudi Arabia and said that the volume of recent investments of Saudi Arabia in Pakistan has reached 2.8 billion dollars and the number of investment agreements has increased. It is welcome to start implementing the 34 signed agreements before the ink dries.

 The two countries will develop together and further promote bilateral relations. There will be progress in the implementation of these agreements in the coming days. I hope that when I come to Saudi Arabia again, it will be better for the people of both countries. Will come with news.

Saudi Minister of Investment Khalid bin Abdulaziz Al-Falih says that during the visit to Pakistan, 27 agreements worth 2.2 billion dollars were signed, which is only a beginning. The volume has reached 2.8 billion dollars. Implementation of 5 contracts has already started. The number of Pakistani workers in Saudi Arabia will be increased. In the next few weeks, 300 medical personnel from Pakistan will come to Saudi Arabia

During a joint press conference in Riyadh, Shahbaz Sharif said that he thanked Saudi Arabia for its cooperation in the IMF program, hoping that this will be Pakistan’s last program with the IMF.

After this we will be able to take Pakistan on the path of economic development and prosperity with hard work, efforts and the cooperation of our brother country Saudi Arabia. “Before this visit, there is a lot of work to be done on the agreements that are in the interest of the people of both countries.

Together with the Saudi Arabian team, we will be successful in executing the contract schedule. Describing the people of Pakistan and Saudi Arabia as a family, the Prime Minister said that our effort is to be able to prepare skilled manpower according to the needs of Saudi Arabia, which will not only help in advancing the development program of Saudi Arabia will get help but will also be able to play their part in development and prosperity.

On this occasion, Khalid bin Abdulaziz Al-Falihs said that a working level meeting was held with Pakistan, in which the issues related to bringing the already high relations between Pakistan and Saudi Arabia to new heights were discussed. Khalid bin Abdulaziz Al-Falih Accordingly, Pakistani Prime Minister Shehbaz Sharif delivered an important speech at the Future Investment Summit and explained his government’s vision in this regard.

The Saudi Minister of Investment expressed his determination to raise the economy, investment, trade and people-to-people relations between the two countries to higher levels and said that there are millions of Pakistanis living in Saudi Arabia, who consider it as their second home. It is an honor for us to host Prime Minister Shehbaz Sharif and his delegation and he had a useful meeting with Crown Prince Muhammad bin Salman.

Pakistan and Saudi Arabia are strengthening their economic partnership. Saudi Arabia will build a modern hospital complex in Pakistan. Shahbaz Sharif thanked the Saudi Crown Prince for his cooperation with Pakistan in financial matters and said that the Future Investment Initiative is a visionary project of the Saudi Crown Prince. Pakistan and Saudi Arabia will continue to develop together.

We will achieve common goals under the visionary leadership of Saudi Crown Prince Muhammad bin Salman. Also met Bin Salman,

It should be remembered that Saudi Arabia’s Investment Minister Khalid bin Abdulaziz Al-Falih said on October 11, 2024 that Riyadh and Islamabad need to promote investment under the private sector. For this purpose, the Saudi-Pakistan Supreme Coordination Council (SPSCC) and the Permanent Coordination Committee of Saudi Arabia for the promotion of contracting should be activated. Pakistan and Saudi Arabia have agreed to establish the SPSCC in 2021. Meanwhile a joint statement on Prime Minister Shahbaz Sharif’s visit to Qatar has been issued. The statement said that Prime Minister Shahbaz Sharif met the Emir of Qatar, Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani, at the Amiri Diwan in Doha.

Shahbaz Sharif appreciated the continuous support provided by the State of Qatar to Pakistan in various sectors, he highlighted the investment opportunities in important economic sectors in Pakistan.

Prime Minister expressed his desire to strengthen the bilateral relations and promote the existing cooperation to a wider horizon.

The meeting focused on strengthening bilateral relations between the two brotherly countries, with special emphasis on investment and trade.