ساؤتھ ایشین گیمز:دوستی کے رشتے، کھیلوں کے ناطے: 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کا میلہ سجنے کو تیار؛ ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل کا اسلام آبادمیں اجلاس
(رپورٹ، اصغر علی مبارک)
پاکستان میں مارچ 2027ء میں ہونے والے 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز (سیف گیمز) کے باقاعدہ اور شاندار انعقاد کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ اس میگا ایونٹ کو “دوستی کے رشتے، کھیلوں کے ناطے” کے خوبصورت اور امن پسند نعرے کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد کھیلوں کے زبردست مقابلوں کے ذریعے پورے جنوبی ایشیا میں محبت، اخوت اور پائیدار بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔اس سلسلے میں ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل (SAOC) کی ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک انتہائی اہم اجلاس ، 23 اگست کو وفاقی دارالحکومت میں منعقد ہو رہا ہے، جس کی صدارت کونسل کے صدر عارف سعید کریں گے۔
نیپال اور مالدیپ کے وفود کا والہانہ استقبال;
کھیلوں کے ذریعے خطے کو متحد کرنے اور دوستی کے رشتوں کو مضبوط بنانے کے اس مشن میں شرکت کے لیے غیر ملکی مہمانوں کی اسلام آباد آمد کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ان کا روایتی پاکستانی مہمان نوازی کے ساتھ شاندار استقبال کیا گیا:
نیپال کا وفد: نیپال اولمپک کمیٹی کے صدر جیون رام شری ستھا، نائب صدر چتورا نند راج ویدیا اور نیشنل اسپورٹس کونسل کی رکن سکا سُوال شریستھا اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
مالدیپ کا وفد: مالدیپ اولمپک کمیٹی کے صدر محمد عبدالستار اور سیکریٹری جنرل تموح احمد سعید بھی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
بھارتی وفد: بھارتی اولمپک کمیٹی کا وفد اس اہم ترین اجلاس میں ویڈیو لنک (آن لائن) کے ذریعے شریک ہو کر انتظامات پر بریفنگ لے گا۔
افتتاحی پروگرام کی ممکنہ تفصیلات
ذرائع کے مطابق لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والی افتتاحی تقریب کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور یادگار ترین تقریب بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں:
ثقافتی رنگ اور ڈیجیٹل شو: تقریب میں پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی ثقافت کے خوبصورت رنگ پیش کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ترین تھری ڈی (3D) میپنگ، لیزر لائٹ شو اور ڈرون شو کے ذریعے اسٹیڈیم کو جگمگایا جائے گا۔
مارچ پاسٹ اور مشعل برداری:
جنوبی ایشیائی ممالک کے کھلاڑی اپنے روایتی لباس میں مارچ پاسٹ کریں گے۔ گیمز کی آفیشل مشعل پاکستان کے نامور اور عالمی شہرت یافتہ اولمپئنز روشن کریں گے۔
کھیلوں کا ترانہ اور لائیو پرفارمنس: پاکستان کے معروف گلوکاروں کی آواز میں تیار کردہ آفیشل تھیم سانگ “دوستی کے رشتے، کھیلوں کے ناطے” لائیو پرفارم کیا جائے گا، جو خطے کے اتحاد کی علامت بنے گا۔کھیلوں کا تفصیلی شیڈول اور مقامات (Venues)14ویں ساؤتھ ایشین گیمز میں مجموعی طور پر 27 کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوں گے، جنہیں پاکستان کے تین بڑے شہروں میں زون کے حساب سے تقسیم کیا گیا ہے:
لاہور زون (مرکزی حب): افتتاح اور اختتامی تقاریب کے علاوہ یہاں کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، سوئمنگ (تیراکی)، بیڈمنٹن، باسکٹ بال، باکسنگ، جوڈو، کراٹے، تائیکوانڈو، کبڈی، رگبی، ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، فینسنگ، گالف اور شوٹنگ کے معرکے سجیں گے۔اسلام آباد زون: وفاقی دارالحکومت میں ایتھلیٹکس، اسکوائش، ٹینس، ٹیبل ٹینس، والی بال، وشو، بلgenericیارڈ اور اسنوکر، اور ٹرائیتھلون کے مقابلے شیڈول کیے گئے ہیں۔فیصل آباد زون: فیصل آباد اور راولپنڈی کے مضافاتی مقامات پر روئنگ (کشتیاں رانی) اور دیگر انڈور کھیلوں کے باقاعدہ مقابلے ہوں گے۔
غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے رہائشی اور وی آئی پی انتظاماتحکومتِ پاکستان نے مہمان کھلاڑیوں اور آفیشلز کی آسائش کے لیے بہترین انتظامات کو حتمی شکل دی ہے:
فائیو اسٹار ہوٹلز کا انتخاب:
اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد کے تمام فائیو اسٹار ہوٹلز کو آفیشل پارٹنر کے طور پر بک کیا جا رہا ہے تاکہ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی رہائش مل سکے۔کھیلوں کے مقامات سے قربت:
ہوٹلوں کا انتخاب اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ اسٹیڈیمز اور اسپورٹس کمپلیکسز سے کم ترین فاصلے پر ہوں تاکہ کھلاڑیوں کا سفری وقت بچایا جا سکے۔
خصوصی کیٹرنگ اور طبی سہولیات: ہوٹلوں میں تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے ذائقوں کے مطابق حلال اور ہیلتھ ڈائیٹ کا خصوصی مینو تیار کیا جائے گا، جبکہ ہر ہوٹل میں 24 گھنٹے طبی عملہ اور ایمبولینس سروس دستیاب ہوگی۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان نے ان گیمز کے لیے 11 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے رکھی ہے، جس کے تحت اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن کا کام تیز کر دیا گیا ہے۔
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی ہدایت پر وزارتِ داخلہ نے غیر ملکی کھلاڑیوں اور وفود کے لیے ریاست کے سربراہ کے برابر فول پروف سیکیورٹی پلان تیار کیا ہے، جس کی لائیو مانیٹرنگ سینٹرل کمانڈ سے کی جائے گی۔ساؤتھ ایشین اسپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے بانی صدر اصغر علی مبارک کے مطابق اصغر علی مبارک کے مطابق، یہ گیمز اور اسلام آباد کا یہ اجلاس پاکستان کی کھیلوں کے میدان میں ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، جو جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان “دوستی کے رشتے، کھیلوں کے ناطے” کو مزید مضبوط بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔




