دیامر بھاشا ڈیم متاثرین کے فنڈز میں کروڑوں روپے کا سنگین اسکینڈل؛
مفرور کمیٹی ممبر اشرف گل کے خلاف باضابطہ درخواست دائر

(اصغر علی مبارک)
اسلام آباد : دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے حاصل کی جانے والی اراضی کے سرکاری معاوضوں میں 5 کروڑ 68 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ خرد برد اور عوامی دھوکہ دہی کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ ڈیم متاثرین اور موروثی زمینداروں نے فنڈز ہڑپ کر کے روپوش ہونے والے مقامی لینڈ کمپنسیشن کمیٹی کے بااثر ممبر اشرف گل کے خلاف کارروائی کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) ہیڈکوارٹرز اسلام آباد اور علاقائی بیورو پشاور/راولپنڈی میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 9 کے تحت باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔
یشکون قبیلے سے تعلق رکھنے والے متاثرین کے نامزد نمائندے عمر فاروق ولد محمد نبی کی جانب سے دائر کردہ درخواست کے مطابق، حکومتِ پاکستان اور واپڈا (WAPDA) نے ڈیم کی تعمیر کے لیے مقامی غریب عوام کی زمینوں اور املاک کے عوض اربوں روپے کے معاوضہ فنڈز جاری کیے تھے۔ فنڈز کی شفاف تقسیم کے لیے قائم لوکل کمیٹی کے ممبر ملزم اشرف گل ولد احمد گل نے مبینہ طور پر مجرمانہ نیت اور بدنیتی کے تحت بینک افسران اور کمیٹی کے دیگر عناصر سے ساز باز کی۔ ملزم نے 400 سے زائد غریب متاثرین کے اجتماعی و انفرادی معاوضے کے چیکس اور فنڈز غیر قانونی طریقے سے اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کروائے اور رقم نکال کر راتوں رات غائب ہو گیا۔
نیب کو فراہم کردہ مالیاتی تفصیلات کے مطابق ملزم نے جن بڑے کھاتوں پر ہاتھ صاف کیا ان میں اعجاز الحق کا 66 فیصد حصہ (58 لاکھ 80 ہزار روپے)، غلام رحیم کا 31 فیصد حصہ (33 لاکھ روپے)، دیگر اراضی کلیمز (37 لاکھ روپے) اور بحرین کوٹ و دیامر زون کے 400 سے زائد غریب باشندوں کے 500 شیئرز کی رقم (4 کروڑ 40 لاکھ روپے) شامل ہے۔
درخواست گزار نے بتایا کہ ملزم گزشتہ دو ماہ سے اپنے تمام رابطہ نمبرز بند کر کے مکمل طور پر روپوش ہے اور اب وہ اپنے باقی ماندہ اثاثہ جات فروخت کر کے اس لوٹی ہوئی رقم کو منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کرنے اور خود ملک سے فرار ہونے کی کوششیں کر رہا ہے۔
متاثرینِ ڈیم نے چیئرمین نیب اور ڈائریکٹر جنرل سے استدعا کی ہے کہ پبلک منی ہڑپ کرنے والے ملزم اشرف گل کے خلاف ‘چیٹنگ پبلک ایٹ لارج’ کے تحت فوری انکوائری شروع کی جائے، اسٹیٹ بینک کے ذریعے اس کے تمام اکاؤنٹس اور لاکرز منجمد کیے جائیں، وزارتِ داخلہ کے ذریعے ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) پر ڈالا جائے، نادرا کو اس کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کی ہدایت کی جائے اور لوٹی گئی رقم بازیاب کرا کے تمام 400 متاثرہ خاندانوں میں شفاف طریقے سے تقسیم کی جائے۔