دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سول و ملٹری قیادت پرعزم…..
..اصغرعلی مبارک ….
دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سول و ملٹری قیادت پرعزم ہیں میر علی کے حالیہ واقعہ نے ایک بار پھر نئی حکومت کو واضح پیغام دیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرتےہوئے فوری آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے یاد رہے کہمیرے حقیقی بھائی مظہر علی مبارک دسمبر 2013 میں راولپنڈی میں دہشت گردی کے حملے میں شہید ہوئے اور ہم شہداء کے خاندانوں کا درد بخوبی جانتے ہیں،
حالیہ واقعات کو دیکھ کر میرا درد ایک بار پھر تازہ ہوگیا جب صدر آصف علی زرداری ، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، اعلیٰ حاضر سروس فوجی اور سول افسران جنرل عاصم منیر نےحالیہ حملے کےشہداء کےخاندانوں سے ملاقات کی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں گذشتہ روز شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بہادر سپوتوں نے مادر وطن کے دفاع کے لیے قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ صدر مملکت نےکہا کہ پاک فوج نے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے نظریات کو مسلسل برقرار رکھا ہے، پاک فوج نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیشہ ورانہ مہارت اور وفاداری کے اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں۔ بہادر بیٹوں نے مادر وطن کے دفاع کے لیے قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا، پوری قوم ہماری مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا عظیم قربانی بہادر بیٹوں کے غیر متزلزل عزم کی مثال ہے جو ان کی شہادت کی صورت میں موجود ہے۔ صدر آصف زرداری اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے نماز جنازہ میں بھی شرکت کی , ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں گذشتہ روز شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف شہید اور کیپٹن محمد احمد شہید کی نمازجنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں صدر آصف زرداری، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، اعلیٰ حاضر سروس فوجی اور سول افسران بھی شریک ہوئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 39 سالہ لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف علی شہید کراچی کے رہائشی تھے جبکہ 23 سالہ کیپٹن محمد احمد بدر شہید تلہ گنگ کے رہائشی تھےیاد رہے کہ گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے 2 افسران اور 5 جوان شہید ہوگئے، جبکہ جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد بھی مارے گئے تھے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں 6 دہشت گردوں پر مشتمل گروہ نے پاک فوج کی سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کی کوشش ناکام بنائی تو دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی، اس کے بعد متعدد خودکش بم حملے ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا اور دہشتگرد حملے میں پاک فوج کے 5 جوان شہید ہوگئے۔ شہدا میں حوالدار صابر (ضلع خیبر کے رہائشی)، نائیک خورشید (ضلع لکی مروت کے رہائشی)، سپاہی ناصر (ضلع پشاور کے رہائشی)، سپاہی راجا (ضلع کوہاٹ کے رہائشی) اور سپاہی سجاد (ضلع ایبٹ آباد کے رہائشی) شامل ہیں۔ کلیئرنس آپریشن کے دوران لیفٹیننٹ کرنل کاشف کی قیادت میں فوجی دستوں نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام 6 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔ تاہم فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف علی (عمر 39 سال، رہائشی کراچی) اور کیپٹن محمد احمد بدر (عمر 23 سال، ضلع تلہ گنگ) نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرلیا۔
واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول کو نشانہ بنایا تو سیاسی طور پر تقسیم ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا تھا ۔ اس مقصد کے تحت ہنگامی بنیادوں پر 20 نکات پر مشتمل ایک نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا جسے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر تسلیم کیا تھا اور اس پر عمل درآمد کا آغازبھی ہوا تھا ۔ اس کے نتیجے میں جہاں ملک میں دہشت گردی کی لہر پر قابو پایا گیا تھا وہیں بعض شعبہ جات میں اصلاحات بھی عمل میں لائی گئی تھیں ۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے قومی اور صوبائی سطح پر اپیکس کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کی سربراہی قومی سطح پر وزیراعظم جبکہ صوبائی سطح پر وزرائے اعلیٰ کرتے تھے۔ اب جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان بھر میں دہشت گردی کارروائیوں کا آغاز کررکھا ہے اور آئے روز ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ایسے میں یہ سوال پھر سر اٹھ گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے اور اگر عمل در آمد کیا گیا ہے تو اس کے نتائج سامنے کیوں نہیں آ رہے؟ کیا اب وہ نیشنل ایکشن پلان اپنا وجود کھو چکا ہے جسکے20 نکات تھے, واضح رہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ 2020 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 14 نکات تک محدود کر دیا تھا۔ 2015 میں بننے والا نیشنل ایکشن پلان اندرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے تھا جبکہ 2021 میں کی گئی نظرثانی کی وجہ سے توجہ بیرونی خطرات کی طرف چلی گئی۔ اس وجہ سے سارا فوکس ہی تبدیل ہو گیا لیکن اگر اس پر بھی عمل درآمد ہو جاتا تو دہشت گردی کی موجودہ لہر کو روکا جا سکتا تھا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی سے نمٹنے کے قومی ادارے نیکٹا کو مضبوط، فعال اور خود مختار بنانا تھا تاکہ وہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے ساتھ رابطے رکھے اور پالیسی سطح پر گائیڈ لائنز فراہم کر سکے۔لیکن نیکٹا ہر مرتبہ ایک نیا ادارہ بنانے کی تجویز دے دیتا تھاجس وجہ سے کنفیوژن پیدا ہوتی گئی۔ نیکٹا پالیسی ساز ادارہ تھا لیکن یہ ریسرچ ڈیٹا کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا تھا جو کام پانچ دس بندے کر سکتے تھے اس کے لیے نئے نئے سیکریٹیریٹ بنائے گئےتھے جس وقت تحریک طالبان کی دہشت گردانہ کارروائیاں جاری تھیں تو نیکٹا نے ایک پالیسی بریف دیا تھا جس میں انھوں نے طالبان کی واپسی کے بارے میں بتایا تھا لیکن اس بریف میں شامل تمام معلومات ثانوی ذرائع یعنی میڈیا کی خبروں سے لی گئی تھیں۔ اپنی پالیسی میں نیکٹا نے طالبان سے نمٹنے یا ان کی ممکنہ کارروائیوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا ۔ قومی سطح پر جو اپیکس کمیٹیاں بنائی گئی تھیں وہ ابتدا میں بہت متحرک تھیں لیکن پالیسی پر نظرثانی کے بعد ان کا وجود بھی ختم ہوچکا تھا جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر بڑی حد تک عمل درآمد کرنا ہی صوبوں نے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کہیں پر نیشنل ایکشن پلان کا وجود نظر نہیں آیا. اگرچہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بڑی قربانیاں دی گئیں۔ ضرب عضب اور ردالفساد جیسے بڑے بڑے آپریشنز کیے گئے جس کی وجہ سے دہشت گردی کی وارداتوں اور دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ہوا لیکن اس کے پس منظر میں جو کام کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا ان پر کام نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اس آپریشن میں شوشل میڈیا پر شہداء کی بے حرمتی کرنے دہشت گردوں کا سر کچلنے کا وقت آن پہنچا ہے اگر اس بار بھی سستی دکھائی گئی تو قوم کبھی معاف نہیں کرے گی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے پر اظہار مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اپنے بیان میں محسن نقوی نے میر علی کے قریب سیکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے پر شدید اظہار مذمت کیا اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے دوران شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف علی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کیپٹن محمد احمد بدر سمیت 7 جوانوں کی بہادری کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور دہشت گردوں کے حملے میں پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے بہادر سپوتوں نے جرأت کے ساتھ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، وطن عزیز کے امن کے لیے اپنی جان نچھاور کرنے والے پاک فوج کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اور مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، شہدا ہمارا افتخار ہیں اور ان کی لازوال قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہیں اور دکھ کی گھڑی میں شہدا کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے شہدا کے خلاف توہین آمیز مہم چلائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں شہید ہونے والے پاک فوج کی سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، ہم شہدا کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ لوگ ملک کی سالمیت کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت نے کل جنوبی وزیرستان میں شہید ہونے والے ان شہدا کے حوالے سے تضحیک آمیز مہم چلائی، میں اس کی مذمت کرتا ہوں، کل رات ان شہدا کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور سوشل میڈیا میں ماضی کی طرح پھر ان شہدا کی قربانیوں پر تنقید کی۔وزیر اطلاعاتکا کہنا تھا کہ میں شواہد کے ذریعے بتاؤں گا کہ تحریک انصاف کی ٹیم نے ان اکاؤنٹس کے ذریعے یہ توہین آمیز مہم چلائی ہے ، یہ ملک ہے تو سیاست ہے، یہ ملک سب سے پہلے ہے۔ بعد ازاں انہوں نے کہا آئی ایس پی آر کے کہ کچھ پیروڈی اکاؤنٹس بنائے گئے جس میں شہدا کی تضحیک کی گئی، ان پر تنقید کی گئی، یہ لوگ پہلے بھی یہ کام کرتے رہے ہیں، ان اکاؤنٹس پر عمران خان کی تصویریں لگی ہیں، یہ فعل کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ جن لوگوں نے عوام کے جذبات مجروح کیے ہیں ان کی شناخت کی جارہی ہے، اور یہ بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا، ان لوگوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے اور ابھی بھی یہ اکاؤنٹس آپریشنل ہیں، سیاسی تنقید سب پر کریں مگر شہدا کی کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے۔ جب لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر گرا تھا تب بھی یہی لوگ تھے تنقید کرنے والے اور کچھ پاکستان مخالف لابی ہے سرحد کے پار انہوں نے بھی حصہ ڈالا تھا اس میں، لیکن آپ لوگ اس میں حصہ نا ڈالیں، شہدا ہمارے سر کا تاج ہیں۔ قومی یکجہتی کے لیے سب کو اکھٹا ہونا چاہیے، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ شہدا کی تضحیک قابل قبول نہیں ہے، جو بھی اپنے لیڈر کی تسکین کی خاطر اس طرح کی گھناؤنی حرکتیں کرتے ہیں انہیں قانون کے کٹھرے میں پیش کیا جائے گا۔ وہ لوگ جو ان اکاؤنٹس کو سہولت دے رہے ہیں ہم ان کی نشاندہی کر رہے ہیں، جو پاکستان اور بیرون ملک لوگ ہیں اس میں ملوث ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں سے نمٹنے سے متعلق سخت پالیسی اپنائی جائے۔ سہولت کاروں کے بغیر دہشتگردی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دہشتگردی کو بہر صورت جیسے بھی ہے یہیں پر ختم کرنا ہوگا۔ قوم صرف دہشت گردوں کا خاتمہ دیکھنے کی خواہشمند ہے تاکہ وہ اپنی آنے والی نسل کو ایک بہتر ماحول دے سکے
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں عام شہریوں کے علاوہ پولیس اور فوج کے جوانوں اور افسروں کی قربانیاں بھی دے چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہماری ان قربانیوں کا اب عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا جانے لگا ہے لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ماضی میں پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور فوجی آپریشنز کیے اور ان کا کافی حد تک خاتمہ کردیا تھا لیکن اب افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں، جو پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں اور ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ٹی ٹی پی دوبارہ متحرک ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک بار پھر ہمیں ان ہی بے رحم قاتلوں کا سامنا ہے جو اس سے پہلے بھی آگ و خون کا وحشیانہ کھیل کھیلتے رہے ہیں۔ پاکستانی عوام اور ریاستی اداروں نے جانی اور مالی قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کرکے اس فتنہ کو دبایا تھا لیکن افغانستان سے امریکا کے انخلاء کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کا تسلسل جاری ہے، جس میں نہ صرف عام شہری نشانہ بنے ہیں بلکہ پاک فوج کو نشانہ بنایا گیا ۔سوال یہ ہے کہ سہولت کاری کی شکل میں ایسا کون سا پل موجود ہے جو دہشت گردوں کے رابطوں اور ان کی سرگرمیوں کو مکمل طو ر پر ختم نہیں کرسکا۔پاکستانی ریاستی اداروں کو سہولت کاری اور رابطہ کاری کے نیٹ ورک کا یہ پل ہر صورت توڑنا ہوگا دہشتگردی کی حالیہ واقعات نے سوچ کے بہت سے دروازے کھول دیئے ہیں۔ ہمیں اپنی صفوں میں موجود دہشت گردوں کے حمایتیوں کو تلاش کر کے سنگین سزائیں دینا ہوں گی، تاکہ دشمن ہماری کامیابیوں کا اثر زائل نہ کر سکے .












