Balochistan: Mastung: Suicide attack on Eid Milad procession killed 52 people.. Asghar Ali Mubarak…………
Islamabad/Mustung: The death toll in the suicide attack on the Eid Milad procession in Mastung has exceeded 52. A policeman is also among those martyred in the blast.
District Health Officer (DHO) Abdul Razzaq Shahi confirmed the casualties while earlier Chief Executive Officer (CEO) Nawab Ghous Bakhsh Hospital Mastung Dr. Saeed Mirwani said that the death toll was 52 and more than 130 people were injured. The bodies of 28 people have been transferred to Nawab Ghosbakh Raisani Memorial Hospital, the hospital staff is present and all resources are being used, more than 20 injured have been referred to Quetta after medical assistance, said Assistant Commissioner Mastung Attaullah Munam. that the explosion took place near the gathering of people to celebrate Eid Milad-un-Nabi, may God bless him and grant him peace. Meanwhile, SHO Muhammad Javed Lahri confirmed that a policeman was killed among the victims.
Earlier Balochistan Information Minister John Achakzai said that the relief teams have been dispatched to Mastung. The critically injured are being shifted to Quetta, and emergency has been declared in all hospitals.
Achakzai said that foreign elements affected religious harmony and peace in Balochistan. “The blast is a heartbreaking incident,” he lamented.
He also said that Caretaker Chief Minister Ali Mardan Domki has directed the authorities to arrest those responsible for the blast. Directed.
Apart from them, Caretaker Federal Interior Minister Sarfraz Bugti condemned the blast and expressed deep sorrow over the loss of life.
In one of his statements released on social media, he said that the attack on innocent people who came to participate in the Eid Milad-ul-Nabi procession is a very heinous act, terrorists have no religion or religion.
He said that no effort will be spared in treating the injured. Terrorist elements do not deserve any concession, they are following a zero tolerance policy to deal with terrorists.
After the explosion, the Punjab Police said that its dedicated personnel are performing the duties of guarding mosques for Friday prayers across the province. Political leaders strongly condemned the incident and said that those who take innocent lives unjustly are cruel and terrorists. He hoped that the law enforcement agencies would arrest the criminals soon.
It may be recalled that 11 people including JUI(F) senior leader Hafiz Hamdullah were injured in the blast in Mastung earlier this month. A week before this blast, a Levies official was shot dead by unknown assailants at a bus stand while two passers-by were also injured. In May this year, a police constable was martyred as a result of an attack on a polio team in Mustang.
In October last year, 3 people were killed and 5 injured as a result of a remote control bomb blast in Mustang.
In July 2018, at least 128 people, including politician Nawabzada Siraj Raisani, were killed and more than 200 injured in a horrific suicide blast in the same district.
اسلام آباد/ مستونگ: مستونگ میں عید میلاد کے جلوس پر خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 52 سے تجاوز کر گئی۔ دھماکے میں شہید ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر (ڈی ایچ او) عبدالرزاق شاہی نے ہلاکتوں کی تصدیق کی جب کہ اس سے قبل چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) نواب غوث بخش ہسپتال مستونگ ڈاکٹر سعید میروانی نے بتایا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد 52 اور 130 سے زائد افراد زخمی ہیں۔28 افراد کی لاشیں نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال منتقل کی گئیں، ہسپتال کا عملہ موجود ہے اور تمام وسائل بروکار لارہے ہیں، 20 سے زائد زخمیوں کو طبی امداد کے بعد کوئٹہ ریفر کردیا گیا ہے،اسسٹنٹ کمشنر مستونگ عطا اللہ منعم نےبتایا کہ دھماکا جشن عید میلاد النبی صل اللہ علیہ وسلم کےجلوس کے لیے جمع افراد کے قریب ہوا دریں اثناء ایس ایچ او محمد جاوید لہری نے متاثرین میں ایک پولیس اہلکار کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔
قبل ازیں بلوچستان کے وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے بتایا کہ امدادی ٹیمیں مستونگ روانہ کر دی گئی ہیں۔ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے، اور تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
اچکزئی نےبتایا کہ غیر ملکی عناصر نے بلوچستان میں مذہبی ہم آہنگی اور امن کو متاثر کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “دھماکا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔”
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نگراں وزیر اعلیٰ علی مردان ڈومکی نے حکام کو دھماکے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نگران وزیر اعلیٰ علی مردان ڈومکی نے حکام کو دھماکے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ان کے علاوہ، نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عید میلاد النبی کے جلوس میں شرکت کے لیے آئے معصوم لوگوں پر حملہ انتہائی قبیح عمل ہے، دہشت گردوں کا کوئی دین اور مذہب نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔ دہشت گرد عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
دھماکے کے بعد پنجاب پولیس نے کہا کہ اس کے مستعد اہلکار صوبہ بھر میں نماز جمہ کے لیے مساجد کی حفاظت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ناحق معصوم جانیں لیتے ہیں وہ ظالم اور دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرموں کو جلد گرفتار کر لیں گے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں مستونگ میں ہونے والے دھماکے میں جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما حافظ حمداللہ سمیت 11 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکے سے ایک ہفتہ قبل ایک لیویز اہلکار کو ایک بس اسٹینڈ پر نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا جب کہ وہاں سے گزرنے والے دو افراد زخمی بھی ہو ئے تھے۔ رواں سال مئی مستونگ میں پولیو ٹیم پر حملے کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل شہید ہو گیا تھا۔
گزشتہ سال اکتوبر میں مستونگ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے تھے۔
جولائی 2018 میں اسی ضلع میں خوفناک خودکش دھماکے میں سیاستدان نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت کم از کم 128
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے شہر ہنگو کے دوابہ تھانے کی حدود میں ہونے والے 2 دھماکوں کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 4 افراد جاں بحق جب کہ 12 زخمی ہوگئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) ہنگو نثار احمد نے گفتگو میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلا دھماکا تھانے کے داخلی دروازے پر ہوا جس کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوع پر جمع ہوگئی، اس کے چند منٹ بعد پولیس اسٹیشن کے احاطے میں واقع مسجد کے اندر ایک اور دھماکا ہوا۔
نثار احمد نے کہا کہ دھماکے کے نتیجے میں مسجد کی چھت منہدم ہوگئی جس کے ملبے تلے 30 سے 40 افراد دبے ہوئے ہیں۔
ڈی پی او نے بتایا کہ دوسرا دھماکا نماز جمعہ کے خطبے کے دوران ہوا، دھماکے کے باعث مسجد کی چھت منہدم ہوگئی، اہلکار نے مزید کہا کہ ملبے تلے تقریباً 30 سے 40 افراد کے دبے ہونے کی اطلاع ہے۔
اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری طلب کر لی گئی ہے۔
جائے وقوع پر موجود ڈان ڈاٹ ٹی وی کے نمائندے نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور علاقے کے مقامی افراد ریسکیو آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں۔
موقع پر موجود شہری زمان خان نے بتایا کہ جس وقت دھماکا ہوا اس وقت مسجد کے اندر تقریباً 60 سے 70 افراد موجود تھے۔
عینی شاہد کے مطابق مشتبہ خودکش حملہ آور نے مسجد کے گیٹ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے مزاحمت کی جس کے دوران اکثر لوگ مسجد کے احاطے سے نکل گئے اور دوسرے خودکش بمبار نے مسجد کے اندر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلیٰ اعظم خان نے پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکام کو ریسکیو آپریشن تیز تر کرنے کی ہدایت کی۔
مزید انہوں نے متعلقہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کریں اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔
نگران وزیراعلیٰ نے ہنگو بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی بھی نافذ کر دی۔
افراد جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔







