ایران-امریکا , تاریخی ’اسلام آباد معاہدہ‘ گزشتہ رات ختم

( اصغر علی مبارک )
17 جون 2026کو طے پانے والا تاریخی ’اسلام آباد معاہدہ‘ گزشتہ رات ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاسی و دفاعی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کا خاتمہ سفارتی حلقوں کے لیے انتہائی غیر متوقع قرار دیا جا رہا ہے
ایران -امریکا کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی سے17 جون کو طے پانے والا ’اسلام آباد معاہدہ‘ گُزشتہ رات ختم ہوا, اس نازک صورتحال کے باوجود پاکستان اور قطر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کر کے ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد معاہدے کی روح کے مطابق عمل درآمد کو ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ قرار دیا ہے۔ امریکی سفارت کار نیٹلی اے بیکر سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”خطے میں پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری انتہائی اہم ہیں اور پاکستان علاقائی امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔“ تاہم، امریکا کے سابق سفارت کار جوئی ہوڈ کا ماننا ہے کہ فی الحال جنگ میں آنے والا یہ سکوت زیادہ دیر قائم نہیں رہے گا۔ انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ”دونوں فریق دوبارہ ہتھیار اور سامان جمع کر رہے ہیں۔ جون کا معاہدہ ناکامی کے لیے ہی بنا تھا کیونکہ اس میں ایران کو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی گنجائش مل گئی تھی۔ اس وقت دونوں فریقین ضائع شدہ وقت اور مطالبات پر اڑے ہوئے ہیں اور فی الحال کسی نئے معاہدے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔“
ایران اور امریکا کے درمیان رواں سال فروری میں جنگ شروع ہوئی تھی جس سے خلیج فارس میں بحری جہازوں کی آمد و رفت اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی۔ تنازع کو حل کرنے کے لیے 17 جون کو پاکستان اور قطر کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان چودہ نکات پر مشتمل ایک عارضی معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد جنگ کو مستقل طور پر روکنا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقین کو زیادہ سے زیادہ ساٹھ دنوں کے اندر حتمی معاہدہ کرنا تھا، لیکن یہ بات چیت جلد ہی ناکامی کا شکار ہو گئی۔
معاہدے کی طے شدہ ساٹھ دن کی مدت کے بارے میں تنازع پیدا ہو چکا ہے۔
قبل ازیں، ذرائع نے عرب خبر رساں ادارے کو بتایا کہ دونوں ممالک نے بات چیت کی مدت میں توسیع پر اتفاق کیا ہے، تاہم ایران نے اس کی تردید کر دی۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور جولائی میں دوبارہ جنگ شروع کر دی، اس لیے 60 دن کی کوئی ایسی رعایت باقی نہیں بچی جسے بڑھایا جائے۔ ایران کے اعلیٰ عسکری کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”ایران کی دفاعی حکمت عملی اب نئے سخت ترین دفاعی پالیسی کے تحت حملہ آور حکمت عملی میں تبدیل ہونے کے لیے تیار ہے۔“دوسری طرف ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “ان اقدامات کا ایران کے مؤقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”امریکی انتظامیہ جنگ، دباؤ اور پابندیوں کے ایک ناختم ہونے والے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ امریکا نے تمام راستے آزما لیے لیکن ناکام رہا، اور آئندہ بھی ان ناکام طریقوں کا کوئی نیا نتیجہ نہیں نکلے گا۔“ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ”امریکا کی طرف سے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کے بعد اب اس ساٹھ دن کی مہلت کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔“ اس کشیدگی کا سب سے بڑا مرکز آبنائے ہرمز بنا ہوا ہے جہاں سے دنیا کے کل تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ جنگ اور پابندیوں کے باعث اس راستے سے تیل بردار جہازوں کا گزرنا تقریباً بند ہو چکا ہے۔ ہفتے کو اس راستے سے صرف پانچ جہاز گزرے جبکہ اتوار کو ایک بھی جہاز نہ گزر سکا۔ سپلائی متاثر ہونے کے خوف سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ننانوے ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ معمول کی آمد و رفت شروع کرنے سے پہلے اس پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور جنگ سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے، جبکہ امریکا ایران پر راستے بلاک کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔ امریکا ایران امن معاہدے کی مدت ختم، 17 جون کو پاکستان اور قطر کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان 14 نکات پر مشتمل ایک عارضی معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد جنگ کو مستقل طور پر روکنا تھا۔