ایران ,اسرائیل کشیدگی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پاکستان کا تاریخی دورہ …….Iranian President Ibrahim Raisi’s historic visit to Pakistan amid Iran-Israel tension……سفر تاریخی ابراهیم رئیسی رئیس جمهور ایران به پاکستان در بحبوحه تنش ایران و اسرائیل..
( اصغر علی مبارک ) ایران ,اسرائیل کشیدگی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پاکستان کے تین روزہ تاریخی دورے پرپاکستان پہنچے ہیں.ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی حجم قابل قبول نہیں ہے، ہم نے پہلے مرحلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اس میں شرکت کی، تقریب میں پاکستان اور ایران نے 8 سمجھوتوں پر دستخط کردیے۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہمارے دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں، ایرانی صدرسے سیکیورٹی اور تجارت سمیت دوطرفہ پہلوؤں پرتبادلہ خیال ہوا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان جو باہمی رشتے ہیں مذہب، تہذیب تجارت کے اس حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی، اس میں شک نہیں کہ 1947 میں ایران ان چند ممالک میں سر فہرست ہے جس نے پاکستان کو تسلیم کیاہمارے رشتے صدیوں پر محیط ہیں، یہ ہے وہ تعلق جس کو آج ہم نے ترقی و خوشحالی اور عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ایران کے لوگ بہت خوبصورت ہیں، آج آپ اسلام آباد آئے ہیں ، آپ بزرگ تہران سے اسلام آباد آئے اور یہ بھی ایک خوبصورت شہر ہے تو یہ خوبصورتی کا ایک حسین مقابلہ پیش کرتا ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جناب صدر آپ فقہ قانون جیسے موضوعات پر کافی معلومات رکھتے ہیں، آپ کی قیادت میں ایران نے ترقی کی اور یہ موقع ہے کہ پاک ایران تعلقات کو بہتر کریں اور سرحدوں پر ترقی اور خوشحالی کے مینار قائم کریں، ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم اس دوستی کو ترقی اور خوشحالی کے سمندر میں بدل دیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہم نے جو اقتصادی ترقی کے فیصلے کیے وہ منظر عام پر آجائیں گے، میں آپ کو ستائش پیش کرنا چاہتا ہوں کہ غزہ کے مسلمانوں پر جو پہاڑ توڑےجارہے ہیں تو آپ نے ایک مضبوط مؤقف اپنایا اور پاکستان اس سلسلے میں غزہ کے بھائی بہنوں کے ساتھ ہے، ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ 34 ہزار مسلمان شہید کردیے گئے، بچے شہید کردیے گئے اور آج بھی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور اقوام عالم خاموش ہے تو اسلامی ممالک کو مل کر ہر فورم پر اپنی بھرپور آواز اٹھانی چاہیے تا وقت کہ فلسطین میں جنگ ختم نہیں ہوجاتی۔

وزیر اعظم نے بتایا کہ اس طرح کشمیر کی وادی ان کے خون سے سرخ ہوچکی ہے، میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے کشمیریوں کے آواز اٹھائی اور مجھے امید ہے کہ کشمیریوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آخر میں میں آپ کا اور آپ کے وقد کا شکرگزار ہوں کہ آپ اپنے دوسرے گھر کا دورہ فرما رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، ایران پاکستان دوستی زندہ باد۔بعد ازاں ایرانی صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیر اعظم اور حکومت پاکستان کا پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور سب کو سلام کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین ہمارے لیےقابل احترام ہے، فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کاخاتمہ ضروری ہے، غزہ کے عوام کی حمایت پرپاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں، غزہ کےعوام کی نسل کشی ہورہی ہے، سلامتی کونسل غزہ کے معاملے پر ذمہ داریاں ادا نہیں کررہی، غزہ کےعوام کو ایک دن ان کاحق اور انصاف مل جائےگا۔
ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ آج دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ تکلیف میں ہیں اور عالمی ادارے بشمول اقوام متحدہ جو انسانی حقوق کی حمایت کا اعلان کرتی ہیں، نے یہ ثابت کردیا کہ وہ نا اہل ہیں، آج پاکستانی اور ایرانی اور باشعور دوسری قومیں اس آپریشن کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

بعد ازاں ایرانی صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیر اعظم اور حکومت پاکستان کا پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور سب کو سلام کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین ہمارے لیےقابل احترام ہے، فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کاخاتمہ ضروری ہے، غزہ کے عوام کی حمایت پرپاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں، غزہ کےعوام کی نسل کشی ہورہی ہے، سلامتی کونسل غزہ کے معاملے پر ذمہ داریاں ادا نہیں کررہی، غزہ کےعوام کو ایک دن ان کاحق اور انصاف مل جائےگا۔

ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ آج دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ تکلیف میں ہیں اور عالمی ادارے بشمول اقوام متحدہ جو انسانی حقوق کی حمایت کا اعلان کرتی ہیں، نے یہ ثابت کردیا کہ وہ نا اہل ہیں، آج پاکستانی اور ایرانی اور باشعور دوسری قومیں اس آپریشن کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

ایرانی صدر نے بتایا کہ آج ہمارے برادر ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات صرف دو ہمسایہ ممالک کے ناطے تک محدود نہیں ہیں، ہمارے تعلقات تاریخی ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ایران اور پاکستان کی قوموں کے درمیان مشترکہ مذہبی رشتہ ہے اور کو کوئی اسے نہیں توڑ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران میں بہت صلاحیت ہیں اور اور دو ملکوں کے درمیان ان ممکنہ صلاحیتوں کا تبادلہ دونوں ملکوں کے فائدے میں ہو گا، آج کی ملاقات میں ہم نے تجارتی، سیاسی اور ثقافتی ہر سطح پر دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ، منشیات کے خلاف جنگ سمیت بہت سے معاملات پر ہمارے مشترکہ مؤقف ہیں اور میں بہت بہادری سے کہہ سکتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان علاقائی، دو طرفہ اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کی رسائی انسانی حقوق کے تعاون پر مبنی ہے۔

ایرانی صدر نے کہا ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی حجم قابل قبول نہیں ہے، ہم نے پہلے مرحلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، ایرانی عوام نے ان پر لگائی جانے والی غیر قانونی پابندیوں کو موقع میں بدل دیا اور اس موقع سے انہوں نے ملک میں ترقی کی راہ ہموار کی۔ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی ہم منصب ابراہیم رئیسی کا ایوان صدر آمد پر استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیل کی فوجی جارحیت کی شدید مذمت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان فلسطینی کاز کی مستقل اور واضح حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں صدور نے غزہ کے عوام پر اسرائیلی جبر کے خاتمے، انسانی امداد میں اضافے کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مشترکہ مذہب، ثقافت اور تاریخ پر مبنی قریبی برادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان-ایران تعلقات کو دونوں برادر ممالک کے باہمی مفاد میں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے عام انتخابات کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہ مملکت ہونے پر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اصولی مؤقف اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اور ان کے حق خودارادیت کی مسلسل حمایت پر ایران کو سراہا۔
صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک میں دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر کی سطح تک بڑھانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید وسیع اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں برادر ممالک کے مفاد میں اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران کے صدر نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران فلسطینی بھائیوں کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا۔ بعدازاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایرانی صدر کے اعزاز میں عشائیہ کا بھی اہتمام کیا۔
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وزیر اعظم ہاؤس میں شہباز شریف سے ملاقات ہوئی جس دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال کرنے پر وزیراعظم کا شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں ایرانی صدر وزیر اعظم ہاؤس پہنچے، وزیر اعظم شہباز شریف نے ابراہم رئیسی کا استقبال کیا، انہیں وزر اعظم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیر اعظم نے ایرانی صدر سے کابینہ اراکین کا تعارف کروایا، صدر نے ارتھ ڈے کی مناسبت سے پودا لگایا۔ اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے بعد آپ پہلے سربراہ مملکت ہیں جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، پوری قوم آپ کے دورے کا خیر مقدم کرتی ہے۔واضح رہے کہ آج ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 3 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے ۔ایرانی خاتون اول، وزیر خارجہ، کابینہ ارکان، اعلیٰ حکام اور بڑا تجارتی وفد بھی ان کے ساتھ ہیں، وفاقی وزیر حسین پیرزادہ نے نورخان ایئر بیس پر ان کا استقبال کیا، پاکستانی ثقافت کے مطابق بچوں نے ایرانی صدر کو گلدستے پیش کیے۔ اس دورے میں پاکستان اور ایران کے مابین مختلف جہتوں پر گفتگو کی جائے گی، ملاقاتوں میں ایران پاک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، زراعت، تجارت، رابطے، توانائی، عوامی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کا ایجنڈا موجود ہے۔ایرانی صدر ابراہیم ریئسی نے وزیرخارجہ اسحق ڈار سے بھی ملاقات کی، ملاقات میں پاک ایران تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔64 سالہ ابراہیم رئیسی جو ایک سخت گیر عالم کی حیثیت سے معروف ہیں، جون 2021 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہوئے تھے اور انھیں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل وہ ایران کی عدلیہ کے سربراہ تھے اور انتہائی قدامت پسند سیاسی خیالات رکھتے ہیں۔ بہت سے ایرانیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے 1980 کی دہائی میں سیاسی قیدیوں کی بڑے پیمانے پر پھانسیوں میں اُن کے مبینہ کردار کا ذکر کیا ابراہیم رئیسی 1960 میں ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں پیدا ہوئے جہاں مسلمانوں کے مقدس ترین مزارات واقع ہے۔ ان کی اہلیہ جمیلہ تہران کی شاہد بہشتی یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں اور ان کی دو بالغ بیٹیاں ہیں۔ ان کے سسر آیت اللہ احمد علم الہدیٰ ہیں جو مشہد میں نمازِ جمعہ کی امامت کرتے ہیں۔ان کے والد ایک عالم تھے اور ان کی وفات اس وقت ہوئی جب ابراہیم فقط پانچ برس کے تھے۔اُنھوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 15 سال کی عمر میں مقدس شہر قم میں ایک مدرسے میں حصول تعلیم کی غرض سے جانا شروع کیا۔ ایک طالب علم کے طور پر انھوں نے مغربی حمایت یافتہ شاہ ایران کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا۔ شاہ ایران 1979 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب کے بعد معزول ہو گئے تھے۔انقلاب کے بعد انھوں نے عدلیہ میں شمولیت اختیار کی اور کئی شہروں میں پراسیکیوٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں، اس دوران وہ آیت اللہ خامنہ ای کی زیر تربیت بھی تھے جو سنہ 1981 میں ایران کے صدر بنے۔ رئیسی جب تہران میں ڈپٹی پراسیکیوٹر بنے اس وقت وہ صرف 25 سال کے تھے۔ابراہیم رئیسی 2014 میں ایران کے پراسیکیوٹر جنرل مقرر ہونے سے پہلے تہران کے پراسیکیوٹر، پھر سٹیٹ انسپکٹوریٹ آرگنائزیشن کے سربراہ اور عدلیہ کے پہلے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔دو سال بعد آیت اللہ خامنہ ای نے اُنھیں ایران کی سب سے اہم اور امیر ترین مذہبی تنظیموں میں سے ایک ’آستان قدس رضوی‘ کا نگہبان نامزد کیا تھا۔ آستان قدس رضوی مشہد میں آٹھویں امام امام رضا کے مزار کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ تمام فلاحی اداروں اور تنظیموں کا انتظام سنبھالتی ہے۔ 2017 میں رئیسی نے صدارت کا امیدوار بن کر مبصرین کو حیران کر دیا تھا۔ 2019 میں آیت اللہ خامنہ ای نے اُنھیں عدلیہ کے سربراہ کے طاقتور عہدے پر نامزد کیا۔وہ ماہرین کی اسمبلی کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر بھی منتخب ہوئے جو کہ 88 رکنی علما کا ادارہ ہے جوسپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ذمہ دار ہے۔بحیثیت عدلیہ کے سربراہ رئیسی نے اصلاحات نافذ کیں جس کی وجہ سے ملک میں منشیات سے متعلق جرائم کے لیے سزائے موت پانے اور پھانسی کی سزا پانے والوں کی تعداد میں کمی آئی۔جب ابراہیم رئیسی نے 2021 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپنے امیدوار ہونے کا اعلان کیا تو ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ ’ملک کے مجلس عاملہ میں تبدیلیاں لانے اور غربت، بدعنوانی، بدسلوکی اور امتیازی سلوک کے خلاف اقدامات کریں گے۔پاکستان اور ایران کے تعلقات کے درمیان گیس پائپ لائن اور سکیورٹی سمیت ایسے بہت سے مسائل ہیں جو صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے دوران زیرِ بحث آئیں گے۔ایرانی صدر پاکستان کا دورہ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب ایران اسرائیل تنازع عروج پر ہے ایسے دورے پہلے سے طے ہوتے ہیں لیکن اس بار پیچیدگیاں اس لیے نظر آ رہی ہیں کیونکہ اس کے پسِ منظر میں ایران اور اسرائیل میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے اس دورے میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر یقیناً بات چیت ہوگی کیونکہ کوئی نہیں چاہے گا کہ اس کشیدگی کا اثر مغربی ایشیا اور جنوبی ایشیا کی طرف آئے۔ مغربی دُنیا ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دورے کو انتہائی اہم قرار دے رہی ہے۔مغربی ممالک اور خصوصاً امریکہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان اور ایران قریب آئیں اور جو بھی ملک ایران کے قریب جاتا ہے اس پر امریکہ کی طرف سے دباؤ آتا ہےپاکستان کی حکومتیں ہمیشہ ہی امریکہ اور مغربی دنیا کو بتاتی ہیں کہ ’ایران ہمارا پڑوسی ہے اور اس سے ہمارے تاریخی تعلقات ہیں پاکستان انھیں باور کرواتا ہےکہ ایران کے ساتھ تجارتی، اقتصادی اور تعزویراتی تعلقات رکھنا ہماری خواہش ہے بلکہ مجبوری ہے امریکہ کو سوچنا چاہیے کہ اس خطے میں عوامی جذبات ان کے خلاف ہیں اور وہ یہاں تنہائی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔مغربی طاقتوں کو اپنی پالیسیوں پر نہ صرف نظرِثانی کرنی چاہیے بلکہ انھیں خود بھِی اس خطے کے ممالک کے ساتھ انگیجمنٹ بڑھانی چاہیے۔صدر ابراہیم رئیسی کے دورے کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے باوجود یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ سب کچھ نارمل ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ’ایران کی کوشش یہ ہے کہ وہ صدر ابراہیمی رئیسی کے دورے کے دوران پاکستان سے کوئی حمایت کا پیغام لے کر جائے۔ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کی شروعات کے بعد کسی ملک نے ایران کی کھل کر حمایت نہیں کی اور ایسے میں ایران کی کوشش یہ ہوگی کہ وہ دنیا کو یہ تاثر دےکہ ایران کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں اور تناؤ کو کم کریں۔ واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک ڈھکی چھپی جنگ بہت عرصے سے جاری ہے تاہم اس کی شدت میں اضافہ حالیہ دنوں میں اس وقت ہوا جب یکم اپریل کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر ایک میزائل حملے میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سات اراکین سمیت 13 افراد مارے گئے۔ اس حملے کے پیچھے اسرائیل ہی تھا۔ ایران نے اس حملے کے جواب میں 13 اپریل کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیل پر حملہ کیا۔ ایران کے اس حملے پر امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا سمیت دیگر طاقتور ممالک کی جانب سے مذمتی بیان جاری کیے گئے۔ ایران اسرائیل تنازعے کے پس منظر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی حالات کے تناظر میں بھی یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے قبل رواں برس کے آغاز میں پاکستان اور ایران کے تعلقات میں تلخی دیکھنے میں آئی تھی جب دونوں پڑوسی ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی سرزمین پر کیے جانے والے حملوں کو مبینہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں قرار دیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ ایران نے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایک ڈرون حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وہاں شدت پسند گروہ ’جیش العدل‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان نے اس حملے کا جواب دیتے ہوئے ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں کارروائی کی اور دعویٰ کیا کہ اس کی جانب سے وہاں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا سرکاری دورے کے دوران ایرانی صدرکی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ایرانی صدر کے دورے پر پاکستان میں ایرانی سفارتخانے نے بتایا کہ صدر ابراہیم رئیسی کے دورے کا ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ تعلقات کو ترجیح دینا ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خطرات ایک بار پھر 19 اپریل کو اس وقت بڑھتے ہوئے دکھائی دیے جب امریکی حکام نے ایران کے علاقے اصفہان میں ایک اور اسرائیلی حملے کی تصدیق کی۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے اپنے ملک میں ایسے کسی بھی اسرائیلی حملے کی تردید کی 19 اپریل کو ایک بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ’یکم اپریل کو ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اور لاپرواہی پر مبنی حملے نے پہلے سے ہی غیر مستحکم خطے کی سکیورٹی مزید خراب کر دی ہے۔ پاکستان نے اقومِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کو خطے میں مزید مہم جوئی سے باز رکھے اور ’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اس کا احتساب کرے۔دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل متحرک کردار ادا کرتے ہوئے بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کی صورتحال کو بحال رکھے۔ایسی صورتحال میں ایرانی صدر کا دورہ اسلام آباد خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کی ابتدا کے بعد ابراہیم رئیسی نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے کو طاقتور مغربی ممالک کیسے دیکھیں گے؟ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پیر 22 اپریل سے 24 اپریل تک پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ایرانی صدر دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی جائیں گے۔ ایرانی صد وزیراعظم شہبازشریف ، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزراء ایرانی صدر سے ملاقاتیں کریں گے۔ پیر کی شام ایرانی صدر ابراہیم رئیسی صدر پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے۔ ایرانی صدر منگل کو لاہور جائیں گے، لاہور میں ایرانی صدر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور گورنر پنجاب بلیغ الرحمان سے ملاقات کریں گے۔ گورنر پنجاب کی جانب سے ایرانی صدر کو ظہرانہ دیا جائے گا۔ منگل کو ہی ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کراچی پہنچیں گے، کراچی میں ایرانی صدر کی وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ سے ملاقاتیں ہوں گی۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کراچی میں مزار قائد پر حاضری دیں گے۔خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں ایران نے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایک ڈرون حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وہاں شدت پسند گروہ ’جیش العدل‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان نے اس حملے کا جواب دیتے ہوئے ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں کارروائی کی اور دعویٰ کیا کہ اس کی جانب سے وہاں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔پاکستان اور ایران کے تعلقات کے درمیان گیس پائپ لائن اور سکیورٹی سمیت ایسے بہت سے مسائل ہیں جو صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے دوران زیرِ بحث آئیں گے۔ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ایک پرانا منصوبہ ہے جس میں اس وقت ایک نمایاں پیش رفت ہوئی تھی جب2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت کے آخری دنوں میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے ایران کے دورے کے دوران اس کا افتتاح کیا تھا، تاہم اس کے بعد اس میں کوئی خاص پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے ادوار میں اس منصوبے پر کوئی خاص کام نہیں ہوا، تاہم پی ڈی ایم حکومت کے دور میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اس منصوبے پر کام کے لیے جنوری 2023 میں ایک کمیٹی قائم کی تھی اور پھر انوار الحق کاکڑ کی نگراں حکومت کی کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے اس منصوبے کے ایک حصے کی منظوری دی تھی۔دونوں ممالک کے درمیان اس گیس پائپ لائن پر امریکہ کو شدید تحفظات ہیں اور چند ہفتوں قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا تھا کہ ہم ہمیشہ سب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے میں احتیاط سے کام لیں کیونکہ ایسا کرنے سے یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں کوئی ایران پر لگائی گئی امریکی پابندیوں کی زد میں نہ آجائے۔ امریکی اس پائپ لائن کو سپورٹ نہیں کرتے۔پاکستان کو یہ بھی خدشہ ہے کہ ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے کے معاہدے کی خلاف ورزی پر معاملہ بین الاقوامی عدالت لے جا سکتا ہے جہاں پاکستان کو کو 18 ارب امریکی ڈالر کے جُرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےپاکستان ایرانی بارڈر سے بلوچستان کے ضلع گوادر تک 80 کلومیٹر لمبی گیس پائب لائن بچھانے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اسے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے اس گیس پائپ لائن کی تعمیر سے قبل امریکہ کو مطمئن کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں پاکستان کے وزیرِ پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے بتایا تھا کہ ان کی حکومت کا ارادہ ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ کے سامنے سیاسی اور تکنیکی وجوہات رکھیں اور پابندیوں سے استثنا حاصل کریں۔پائپ لائن کا منصوبہ ’پابندیوں کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔ موجودہ امریکی انتظامیہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشدیدگی اور اندورنی سیاسی معاملات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور ایسے میں امکان ہے کہ پاکستان کو اس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کے لیے پابندیوں سے استثنا مل جائے ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کے منصوبے کا افتتاح 2013 میں صدر آصف علی زرداری نے کیا تھا اور وہ ایک بار پھر صدر بن چکے ہیں۔ان کی کوشش ہوگی کہ وہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو یقین دہاںی کروائیں کہ پاکستان جلد ہی گیس پائپ لائن کے حوالے سے اپنے حصے کا کام مکمل کر لے گا۔ایران کے ساتھ ہمارا گیس پائپ لائن کا منصوبہ ہماری معیشت اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات رواں سال جنوری میں اس وقت خراب ہوتے ہوئے نظر آئے جب ایران نے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ڈرون حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے وہاں شدت پسند گروہ جیش العدل کو نشانہ بنایا ہےاکستان نے اس حملے کا جواب دیا اور ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں کارروائی کی اور دعویٰ کیا کہ اس کی جانب سے وہاں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا ایران اور پاکستان کو اقتصادی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہےصدر ابراہیم رئیسی کے دورے سے یہ پیغام بھی جائے گا پاکستان اور ایران ایک دوسرے پر کیے گئے حملوں کے معاملے کو پیچھے چھوڑنے اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہیں,ایران صدر کے دورۂ پاکستان کا تعلق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے زیادہ دونوں ممالک کو درپیش سکیورٹی چینلجز کو حل کرنے سے ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں سکیورٹی کا ایک بڑا مسئلہ حائل ہے۔ ایرانی حکومت پاکستان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حلیف کے طور پر دیکھتی ہے

Iranian President Ibrahim Raisi’s historic visit to Pakistan amid Iran-Israel tension…
(Asghar Ali Mubarak) In Iran-Israel tension, Iranian President Ibrahim Raisi has arrived in Pakistan on a three-day historic visit. Iranian President Ibrahim Raisi has said that the economic and trade volume between Iran and Pakistan is not acceptable. I have decided to increase the trade volume between the two countries to 10 billion dollars. A signing ceremony was held between Pakistan and Iran on cooperation in various fields, Iranian President Ibrahim Raisi and Pakistani Prime Minister Shahbaz Sharif in it. Pakistan and Iran signed 8 agreements in the ceremony. Addressing the ceremony, the Prime Minister said that we have a long-standing brotherly relationship with Iran. The Iranian President discussed bilateral aspects including security and trade. He said that the mutual relations between the two countries, religion, culture and trade were discussed in detail. There is no doubt that in 1947, Iran is one of the few countries that recognized Pakistan. Our relations span centuries. Yes, this is the relationship that we have to use today for development and prosperity and the betterment of the people. Shahbaz Sharif said that the people of Iran are very beautiful, today you have come to Islamabad, you have come to Islamabad from Tehran. And it is also a beautiful city, so it presents a beautiful competition of beauty. Shahbaz Sharif said that Mr. President, you have a lot of knowledge on topics like jurisprudence and law, under your leadership, Iran has developed and this is an opportunity. Improve Pakistan-Iran relations and establish towers of development and prosperity on the borders, we have got an opportunity to turn this friendship into an ocean of development and prosperity, he said that the economic development decisions we have taken today. will come to light, I want to commend you that you have taken a strong stand on the mountains that are being destroyed on the Muslims of Gaza and Pakistan is with the brothers and sisters of Gaza in this regard, such cruelty has never been seen before. 34,000 Muslims were martyred, children were martyred and even today the resolution of the Security Council is being flouted and the United Nations is silent, so the Islamic countries should raise their voices together in every forum until the war in Palestine is not over. would happen

The Prime Minister said that thus the valley of Kashmir has become red with their blood, I thank you for raising the voice of Kashmiris and I hope that Kashmiris will get their rights.

President Muslim League (N) said that in the end I am thankful to you and your dignity that you are visiting your second home and as a result our relations will be stronger, long live Iran-Pakistan friendship. Speaking in a joint press conference with Prime Minister Shehbaz Sharif, the Iranian President said, “I want to thank the Prime Minister and the Government of Pakistan for their warm welcome and greet everyone.”

He said that the land of Pakistan is respectable for us, the ongoing Israeli aggression in Palestine must be ended, I salute the people of Pakistan for supporting the people of Gaza, the people of Gaza are being massacred, the Security Council is responsible for the issue of Gaza. Darian is not paying, the people of Gaza will get their right and justice one day.
Ibrahim Raisi said that we are sure that people are suffering in different countries of the world today and international organizations including the United Nations which declare support for human rights have proved that they are incompetent, today Pakistanis and Iranians. And conscious other nations call for an end to this operation.

Later, while speaking in a joint press conference with Prime Minister Shehbaz Sharif, the Iranian President said that I want to thank the Prime Minister and the Government of Pakistan for their warm welcome and greet everyone.

He said that the land of Pakistan is respectable for us, the ongoing Israeli aggression in Palestine must be ended, I salute the people of Pakistan for supporting the people of Gaza, the people of Gaza are being massacred, the Security Council is responsible for the issue of Gaza. Darian is not paying, the people of Gaza will get their right and justice one day.

Ibrahim Raisi said that we are sure that people are suffering in different countries of the world today and international organizations including the United Nations which declare support for human rights have proved that they are incompetent, today Pakistanis and Iranians. And conscious other nations call for an end to this operation.

The Iranian president said that today our relations with our brother country Pakistan are not limited to being two neighboring countries, our relations are historical, I think that there is a common religious bond between the nations of Iran and Pakistan and no one can break it. can

He said that Pakistan and Iran have a lot of potential and the exchange of these potential capabilities between the two countries will be beneficial to both countries. What is the decision?

He said that we have common positions with Pakistan on many issues, including the war against terrorism, the war against drugs, and I can boldly say that cooperation between the two countries at the regional, bilateral and international levels. Access is based on human rights cooperation.

The Iranian president said that the economic and trade volume between Iran and Pakistan is not acceptable. We have decided to increase the trade volume between the two countries to 10 billion dollars in the first phase. He turned the sanctions into an opportunity and with this opportunity he paved the way for development in the country. According to the statement issued by the press wing of the President’s House, President Asif Ali Zardari welcomed his Iranian counterpart Ibrahim Raisi on his arrival at the President’s House.
The two leaders also discussed important regional and global developments, especially the situation in the Middle East.
President Asif Ali Zardari expressed deep concern over the deteriorating humanitarian situation in Gaza and strongly condemned Israel’s military aggression against the people of Gaza.
The President said that Pakistan will continue to support the Palestinian cause consistently and clearly. The two presidents emphasized the need to intensify international efforts to end Israeli oppression of the people of Gaza and increase humanitarian aid.
President Asif Ali Zardari said that Pakistan and Iran have close brotherly relations based on common religion, culture and history, Pakistan-Iran relations need to be further strengthened in the mutual interest of both brotherly countries.
The President thanked Dr. Syed Ibrahim Raisi for being the first Head of State to visit Pakistan after the general elections. He appreciated Iran for its principled stance and continuous support for the people of Occupied Jammu and Kashmir and their right to self-determination.
The President said that the two countries have immense potential to increase bilateral trade to the level of 10 billion dollars.
Iranian President Dr. Seyed Ibrahim Raisi emphasized the need to expand and strengthen bilateral relations in all areas of mutual interest and said that economic, trade and cultural relations need to be further strengthened in the interest of the two brotherly countries. The President of Iran appreciated Pakistan’s continuous support for the Palestinian brothers during the ongoing humanitarian crisis in Gaza. Later, President Asif Ali Zardari also organized a dinner in honor of the Iranian President.
Iranian President Ibrahim Raisi met Shehbaz Sharif at the Prime Minister’s House, during which both leaders expressed good wishes for each other. Iranian President Ibrahim Raisi thanked Prime Minister Shehbaz Sharif for the warm welcome he received upon his arrival in Pakistan. Later, the Iranian President arrived at the Prime Minister’s House, Prime Minister Shehbaz Sharif welcomed Abraham Raisi, he was presented with a guard of honor at the Prime Minister’s House, and the national anthems of both countries were played. The Prime Minister introduced the cabinet members to the Iranian President, the President planted a sapling on the occasion of Earth Day. On this occasion, Shahbaz Sharif said that after the general elections, you are the first head of state who is visiting Pakistan, the entire nation welcomes your visit. He arrived in Pakistan. The Iranian First Lady, Foreign Minister, Cabinet members, senior officials and a large trade delegation are also with him. Federal Minister Hussain Pirzada welcomed him at Noor Khan Air Base. According to Pakistani culture, children presented bouquets to the Iranian President. what In this visit, various dimensions between Pakistan and Iran will be discussed, the agenda of the meetings is to further strengthen Iran-Pak relations, promote relations in various fields including agriculture, trade, communication, energy, public relations. President Ibrahim Raisi also met with Foreign Minister Ishaq Dar. In the meeting, Pakistan-Iran relations were discussed in detail, matters of mutual interest and the situation in the region were also discussed.Ibrahim Raisi, 64, who is known as a hard-line cleric, was elected in June 2021 elections and is considered a close associate of Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei. He was previously the head of Iran’s judiciary and has very conservative political views. Many Iranians and human rights activists have cited his alleged role in the mass executions of political prisoners in the 1980s. His wife Jameela teaches at Shahid Behishti University in Tehran and they have two adult daughters. His father-in-law is Ayatollah Ahmad Alam Al-Huda, who leads Friday prayers in Mashhad. His father was a scholar and died when Ibrahim was only five years old. He followed in his father’s footsteps. At the age of 15, he started attending a seminary in the holy city of Qom for the purpose of education. As a student, he participated in protests against the Western-backed Shah of Iran. The Shah of Iran was deposed after the Islamic Revolution led by Ayatollah Ruhollah Khomeini in 1979. After the revolution, he joined the judiciary and served as a prosecutor in several cities, during which he served as Ayatollah Khamenei. was also under the training of who became the president of Iran in 1981. Raisi was only 25 years old when he became deputy prosecutor in Tehran. Ibrahim Raisi served as Tehran’s prosecutor, then head of the State Inspectorate Organization and first deputy head of the judiciary before being appointed Iran’s Prosecutor General in 2014. Two years later, Ayatollah Khamenei named him the custodian of ‘Astan Quds Rizvi’, one of the most important and richest religious organizations in Iran. Astan Quds Rizvi manages the mausoleum of the eighth Imam Imam Reza in Mashhad as well as all the welfare institutions and organizations associated with it. In 2017, Raisi surprised observers by becoming a presidential candidate. In 2019, Ayatollah Khamenei nominated him to the powerful post of head of the judiciary. He was also elected as the deputy chairman of the Assembly of Experts, an 88-member body of clerics responsible for electing the Supreme Leader. Judiciary Chief Raisi implemented reforms that reduced the number of people sentenced to death and hanged for drug-related crimes in the country. When Ibrahim Raisi announced his candidacy for the 2021 presidential election. What he did say was that he would ‘bring about changes in the country’s executive council and take steps against poverty, corruption, abuse and discrimination. There are many issues between Pakistan and Iran, including gas pipeline and security. which will be discussed during the visit of President Ibrahim Raisi to Pakistan. The Iranian President is visiting Pakistan at a time when the Iran-Israel conflict is at its peak. Because there is serious tension between Iran and Israel in the background, the situation in the Middle East will definitely be discussed in this visit, because no one wants this tension to affect West Asia and South Asia. The western world is calling the visit of Iranian President Ibrahim Raisi very important. The western countries and especially the United States will never want Pakistan and Iran to come close and any country that comes close to Iran is under pressure from the United States and Pakistan. Governments always tell America and the Western world that Iran is our neighbor and we have historical relations with it. Public sentiment in the region is against them and they are becoming isolated here. Western powers should not only review their policies, but they themselves should increase engagement with the countries of the region. The purpose may be that Iran wants to send a message that despite the tension with Israel in the Middle East, everything is normal. During the ongoing tension in the Middle East, Iran’s attempt is to make Pakistan during the visit of President Ebrahimi Raisi. Take a message of support from After the start of tension with Israel, no country has openly supported Iran and in such a situation, Iran’s effort will be to give the impression to the world that Iran’s relations with Pakistan are good. He went to avoid increasing tension and reduce tension. It should be noted that a covert war between Iran and Israel has been going on for a long time, but its intensity increased in recent days when on April 1, a missile attack on the Iranian embassy in Damascus, the capital of Syria, killed the Quds of the Revolutionary Guards. 13 people including seven members of the force were killed. Israel was behind this attack. Iran responded by attacking Israel on April 13 with missiles and drones. Statements of condemnation were issued by other powerful countries including the United States, Great Britain, France and Canada on this attack by Iran. This visit is of special importance in the context of the Iran-Israel conflict as well as the current political and economic conditions of Pakistan.

سفر تاریخی ابراهیم رئیسی رئیس جمهور ایران به پاکستان در بحبوحه تنش ایران و اسرائیل
(اصغر علی مبارک) در رابطه با تنش ایران و اسرائیل، ابراهیم رئیسی رئیس جمهور ایران در یک سفر تاریخی سه روزه وارد پاکستان شده است، گفت که حجم اقتصادی و تجاری بین ایران و پاکستان قابل قبول نیست برای افزایش حجم مبادلات تجاری بین دو کشور به 10 میلیارد دلار مراسم امضای همکاری بین پاکستان و ایران در زمینه های مختلف برگزار شد که ابراهیم رئیسی رئیس جمهور ایران و شهباز شریف نخست وزیر پاکستان در آن 8 تفاهم نامه امضا کردند رئیس جمهور ایران در این مراسم با بیان اینکه روابط دیرینه ای برادرانه با ایران داریم، گفت: روابط دوجانبه بین دو کشور از جمله مسائل امنیتی و تجاری است بدون شک در سال 1947 ایران یکی از معدود کشورهایی است که روابط ما را در طول قرن ها به رسمیت شناخته است شهباز شریف گفت که مردم ایران خیلی زیبا هستند، امروز از تهران به اسلام آباد آمده اید و این یک مسابقه زیبای زیبایی است رئیس جمهور، شما دانش زیادی در موضوعاتی مانند فقه و حقوق دارید، ایران تحت رهبری شما توسعه یافته است و این یک فرصت است. برای اینکه این دوستی را به اقیانوسی از توسعه و شکوفایی تبدیل کنیم، گفت: تصمیمات توسعه اقتصادی که ما امروز گرفته‌ایم آشکار می‌شود، می‌خواهم از شما تمجید کنم که در قبال کوه‌هایی که در حال نابودی هستند، موضع محکمی گرفته‌اید. مسلمانان غزه و پاکستان در این زمینه در کنار برادران و خواهران غزه هستند، تا کنون 34 هزار مسلمان به شهادت رسیده اند، کودکان نیز به شهادت رسیده اند و حتی امروز نیز قطعنامه شورای امنیت و سازمان ملل زیر پا گذاشته می شود. ساکت است، بنابراین کشورهای اسلامی باید با هم صدای خود را در هر مجمعی بلند کنند تا زمانی که جنگ در فلسطین تمام نشود

نخست وزیر گفت که به این ترتیب دره کشمیر از خون آنها سرخ شده است، از شما تشکر می کنم که صدای کشمیری ها را بلند کردید و امیدوارم کشمیری ها به حق خود برسند.

رئیس جمهور مسلم لیگ (ن) در یک کنفرانس مطبوعاتی مشترک گفت: در پایان از شما و کرامت شما سپاسگزارم که به خانه دوم خود سفر می کنید و در نتیجه روابط ما قوی تر خواهد شد، زنده باد دوستی ایران و پاکستان شهباز شریف نخست وزیر، رئیس جمهور ایران گفت: می خواهم از استقبال گرم نخست وزیر و دولت پاکستان تشکر کنم و به همه سلام کنم.

وی گفت: سرزمین پاکستان برای ما قابل احترام است، تجاوزات مستمر اسرائیل در فلسطین باید پایان یابد، من به مردم پاکستان برای حمایت از مردم غزه درود می فرستم، مردم غزه در حال قتل عام هستند، شورای امنیت مسئول این است. موضوع غزه پرداخت نمی شود، مردم غزه روزی به حق و عدالت خود خواهند رسید.
ابراهیم رئیسی گفت: ما مطمئن هستیم که امروز در کشورهای مختلف دنیا مردم در رنج هستند و سازمان‌های بین‌المللی از جمله سازمان ملل که از حقوق بشر حمایت می‌کنند ثابت کرده‌اند که امروز پاکستانی‌ها و ایرانی‌ها بی‌کفایت هستند پایان این عملیات

رئیس جمهور ایران بعداً در کنفرانس مطبوعاتی مشترک با شهباز شریف نخست وزیر گفت که می خواهم از استقبال گرم نخست وزیر و دولت پاکستان تشکر کنم و به همه سلام کنم.

وی گفت: سرزمین پاکستان برای ما قابل احترام است، تجاوزات جاری اسرائیل در فلسطین باید پایان یابد، من به مردم پاکستان برای حمایت از مردم غزه درود می فرستم، مردم غزه در حال قتل عام هستند، شورای امنیت مسئول این است. موضوع غزه پرداخت نمی شود، مردم غزه روزی به حق و عدالت خود خواهند رسید.

ابراهیم رئیسی گفت: ما معتقدیم که امروز در کشورهای مختلف دنیا مردم در رنج هستند و سازمان‌های بین‌المللی از جمله سازمان ملل که از حقوق بشر حمایت می‌کنند ثابت کرده‌اند که امروز پاکستانی‌ها و ایرانی‌ها بی‌کفایت هستند به این عملیات

رئیس جمهور ایران گفت: امروز روابط ما با کشور برادرمان پاکستان به دو کشور همسایه بودن محدود نمی شود، روابط ما تاریخی است، به نظر من یک پیوند مذهبی مشترک بین ملت های ایران و پاکستان وجود دارد و هیچکس نمی تواند آن را قطع کند. می توان

وی گفت: پاکستان و ایران پتانسیل های زیادی دارند و تبادل این توانمندی های بالقوه بین دو کشور به نفع هر دو کشور خواهد بود؟

وی گفت: ما در بسیاری از موضوعات از جمله جنگ با تروریسم، مبارزه با مواد مخدر مواضع مشترکی با پاکستان داریم و به جرأت می توانم بگویم همکاری دو کشور در سطح منطقه ای، دوجانبه و بین المللی مبتنی بر حقوق بشر است مشارکت.

رئیس‌جمهور ایران با بیان اینکه حجم تجارت بین ایران و پاکستان قابل قبول نیست، گفت: تصمیم داریم در مرحله اول حجم تجارت دو کشور را به 10 میلیارد دلار برسانیم وی مسیر توسعه را در کشور هموار کرد بر اساس بیانیه ستاد خبری مجلس رئیس جمهور، آصف علی زرداری رئیس جمهور در بدو ورود به خانه رئیس جمهور از همتای ایرانی خود استقبال کرد.
رهبران دو کشور همچنین درباره تحولات مهم منطقه ای و جهانی به ویژه وضعیت خاورمیانه گفتگو کردند.
رئیس جمهور آصف علی زرداری نسبت به وخامت اوضاع انسانی در غزه ابراز نگرانی عمیق کرد و تجاوز نظامی اسرائیل به مردم غزه را به شدت محکوم کرد.
رئیس جمهور گفت که پاکستان به حمایت مداوم و واضح از آرمان فلسطین ادامه خواهد داد. روسای جمهور دو کشور بر تشدید تلاش های بین المللی برای پایان دادن به ظلم اسرائیل به مردم غزه و افزایش کمک های بشردوستانه تاکید کردند.
رئیس جمهور آصف علی زرداری گفت: پاکستان و ایران دارای روابط نزدیک برادرانه مبتنی بر دین، فرهنگ و تاریخ مشترک هستند و باید روابط پاکستان و ایران به نفع دو کشور برادر تقویت شود.
رئیس جمهور از دکتر سید ابراهیم رئیسی به خاطر اینکه اولین رئیس کشوری است که پس از انتخابات سراسری به پاکستان سفر می کند، تشکر کرد. وی از مواضع اصولی ایران و حمایت مستمر از مردم جامو و کشمیر اشغالی و حق تعیین سرنوشت آنها قدردانی کرد.
رئیس جمهور گفت: دو کشور پتانسیل زیادی برای افزایش تجارت دوجانبه به سطح 10 میلیارد دلار دارند.
دکتر سیدابراهیم رئیسی رئیس جمهور ایران بر لزوم گسترش و تقویت روابط دوجانبه در همه زمینه های مورد علاقه تاکید کرد و گفت: روابط اقتصادی، تجاری و فرهنگی به نفع دو کشور برادر نیازمند تقویت بیش از پیش است. رئیس جمهور ایران از حمایت مستمر پاکستان از برادران فلسطینی در جریان بحران انسانی در غزه قدردانی کرد. بعداً آصف علی زرداری رئیس جمهور نیز ضیافت شامی را به افتخار رئیس جمهور ایران ترتیب داد.
ابراهیم رئیسی رئیس جمهور ایران با شهباز شریف در خانه نخست وزیری دیدار کرد و در جریان آن، ابراهیم رئیسی رئیس جمهور ایران از شهباز شریف به دلیل استقبال گرم وی به پاکستان تشکر کردند. پس از آن رئیس جمهور ایران وارد خانه نخست وزیر شد، شهباز شریف نخست وزیر از ابراهیم رئیسی استقبال کرد، در خانه نخست وزیر با گارد افتخار به وی اهدا شد و سرود ملی دو کشور نواخته شد. نخست وزیر اعضای کابینه را به رئیس جمهور معرفی کرد، رئیس جمهور به مناسبت روز زمین یک نهال غرس کرد. شهباز شریف به همین مناسبت گفت که شما اولین رئیس کشوری هستید که به پاکستان سفر می کنید، بانوی اول ایران، وزیر امور خارجه، اعضای کابینه و مقامات ارشد کشور از سفر شما استقبال می کنند حسین پیرزاده، وزیر فدرال نیز در کنار وی هستند در این سفر ابعاد مختلف پاکستان و ایران مورد بحث و بررسی قرار خواهد گرفت، دستور کار این دیدارها تقویت بیشتر روابط ایران و پاکستان، ارتقای روابط در زمینه های مختلف از جمله کشاورزی، تجارت، ارتباطات، انرژی و روابط عمومی است در این دیدار با اسحاق دار، روابط پاکستان و ایران به تفصیل مورد بحث و بررسی قرار گرفت.ابراهیم رئیسی 64 ساله که به عنوان یک روحانی تندرو شناخته می شود، در انتخابات ژوئن 2021 انتخاب شد و از نزدیکان آیت الله خامنه ای رهبر معظم انقلاب به شمار می رود. او پیش از این رئیس قوه قضائیه ایران بود و دیدگاه های سیاسی بسیار محافظه کارانه ای دارد. بسیاری از ایرانیان و فعالان حقوق بشر به نقش او در اعدام های دسته جمعی زندانیان سیاسی در دهه 1980 اشاره کرده اند. همسرش جمیله در دانشگاه شهید بهشتی تهران تدریس می کند و دو دختر بالغ دارند. پدر همسرش آیت الله احمد علم الهدی است که امام جمعه مشهد بود و در سن 15 سالگی از دنیا رفت به منظور تحصیل در حوزه علمیه شهر مقدس قم حضور یافت. در دوران دانشجویی در تظاهرات علیه شاه ایران که مورد حمایت غرب بود شرکت کرد. شاه ایران پس از انقلاب اسلامی به رهبری آیت الله روح الله خمینی در سال 1358 خلع شد. پس از انقلاب به قوه قضائیه پیوست و در چندین شهر نیز تحت تعلیمات وی قرار گرفت. رئیسی تنها 25 سال داشت که معاون دادستان تهران شد، سپس رئیس سازمان بازرسی کل کشور و معاون اول قوه قضائیه شد. او را تولیت آستان قدس رضوی یکی از مهم ترین و غنی ترین تشکل های مذهبی ایران نامید. آستان قدس رضوی مدیریت مقبره امام هشتم رضا (ع) در مشهد و کلیه موسسات و سازمان های رفاهی مرتبط با آن را بر عهده دارد. رئیسی در سال 1396 با نامزدی ریاست جمهوری ناظران را شگفت زده کرد. آیت‌الله خامنه‌ای در سال ۱۳۹۸ او را به عنوان نایب رئیس مجلس خبرگان رهبری انتخاب کرد زمانی که ابراهیم رئیسی نامزدی خود را برای انتخابات ریاست جمهوری 2021 اعلام کرد، این بود که در شورای اجرایی کشور تغییراتی ایجاد خواهد کرد گام هایی در برابر فقر، فساد، سوء استفاده و تبعیض بین پاکستان و ایران وجود دارد که از جمله آنها می توان به خط لوله گاز و امنیت آن اشاره کرد مناقشه ایران و اسرائیل در اوج خود قرار دارد زیرا در پس زمینه تنش جدی بین ایران و اسرائیل وجود دارد، در این سفر قطعاً وضعیت خاورمیانه مورد بحث قرار خواهد گرفت، زیرا هیچ کس نمی خواهد این تنش بر غرب آسیا و جنوب آسیا تأثیر بگذارد. . جهان غرب سفر ابراهیم رئیسی رئیس جمهور ایران را بسیار مهم می خواند کشورهای غربی و به ویژه آمریکا هرگز نمی خواهند پاکستان و ایران به هم نزدیک شوند و هر کشوری که به ایران نزدیک شود تحت فشار آمریکا و پاکستان است. دولت ها همیشه به آمریکا و جهان غرب می گویند که ایران همسایه ماست و ما با آن روابط تاریخی داریم و احساسات عمومی در منطقه علیه آنهاست و قدرت های غربی نه تنها باید در سیاست های خود تجدید نظر کنند تعامل با کشورهای منطقه ممکن است این باشد که ایران بخواهد این پیام را بفرستد که با وجود تنش با اسرائیل در خاورمیانه همه چیز عادی است، تلاش ایران این است که پاکستان را در طول این مدت انجام دهد سفر ابراهیم رئیسی رئیس جمهور پیام حمایت از پس از شروع تنش با اسرائیل، هیچ کشوری آشکارا از ایران حمایت نکرده است و در چنین شرایطی تلاش ایران بر این خواهد بود که این تصور را به جهانیان بدهد که روابط ایران با پاکستان خوب است. لازم به ذکر است که جنگ پنهانی بین ایران و اسرائیل از مدت ها پیش در جریان بوده است، اما شدت آن در روزهای اخیر افزایش یافته است که در روز اول آوریل، حمله موشکی به سفارت ایران در دمشق، پایتخت سوریه، کشته شد. قدس سپاه پاسداران 13 نفر از جمله هفت نفر از نیروها کشته شدند. اسرائیل پشت این حمله بود. ایران در 13 آوریل با موشک و پهپاد به اسرائیل حمله کرد. از سوی دیگر کشورهای قدرتمند از جمله آمریکا، بریتانیا، فرانسه و کانادا این حمله ایران را محکوم کردند. این سفر در شرایط کنونی سیاسی و اقتصادی پاکستان در کنار پیشینه مناقشه ایران و اسرائیل از اهمیت ویژه ای برخوردار است.