اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے امریکہ-ایران تنازع کے دوران پاکستان کے اہم کردار کی تعریف

، پاکستان کثیر الجہتی نظام کا مضبوط حامی ہے،عالمی امن و سلامتی اور تنازعات کے حل کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
اسلام آباد۔ (رپورٹ۔اصغر علی مبارک):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کثیر الجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کا مضبوط حامی ہے،عالمی امن و سلامتی اور تنازعات کے حل کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے،اقوام متحدہ کو عالمی تنازعات اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مرکزی کردار ادا کرنا چاہیئے،بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے باز آ جائےاور سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کے دوران بات چیت کے لیے ثالث کے طور پر بھرپور کردار ادا کرنے پر پاکستان کی قیادت کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ تمام فریق تنازعات ختم کریں، سفارت کاری کی طرف واپس آئیں اور عالمی قانون کے مطابق بحری امدورفت کے حقوق اور آزادیوں کو مکمل بحال کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں،ان کا دورہ پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان دیرینہ اور قریبی تعاون کا مظہر ہے،اس سے کثیر الجہتی نظام کے لیے ہمارے مشترکہ عزم اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی بھی عکاسی ہوتی ہے،پاکستان کی اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے اور پاکستان کثیر الجہتی نظام کا مضبوط حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھنے ، اس پر عملدرآمد، عالمی امن و سلامتی اور امن کے قیام کے لئے تعاون اور عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں،اقوام متحدہ کے ساتھ دیرینہ اور قریبی تعاون مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی قیادت اور کثیر الجہتی نظام،بین الاقوامی قانون، بات چیت اور تنازعات کے پر امن حل کے لئے ان کے اصولی عزم کو سراہتے ہیں وہ پاکستان کے عظیم دوست ہیں، ہم 2022 ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے عوام کے ساتھ ان کی یکجہتی اور بحالی اور تعمیر نو کے لئے بین الاقوامی امداد کے حوالے سے ان کے تعاون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ پاکستان اور اقوام متحدہ کے تعاون،موجودہ بین الاقوامی چیلنجو ں اور عالمی و علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے جن میں عالمی و علاقائی سکیورٹی صورتحال،مغربی ایشیا،مشرق وسطی و فلسطین،جنوبی ایشیا ،جموں و کشمیر، افغانستان، دہشت گردی،امن مشنز کے مستقبل ،عالمی ترقی،موسمیاتی تبدیلی اور کثیر الجہتی نظام کا مستقبل شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت سلامتی کونسل کا منتخب رکن ہے،پاکستان نے بالخصوص بات چیت،سفارتکاری، تنازعات کے پرامن حل اور عالمی امن اور سلامتی کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 مذاکرات، ثالثی اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، ہم قرارداد پر عملدرامد کے لیے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہتے ہیں ،اقوام متحدہ کو عالمی تنازعات اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مرکزی کردار ادا کرنا چاہیئے اور سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا ہر ممکن موقع دینا چاہیئے ہم نے اس سلسلے میں پاکستان کی کاوشوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے پاکستان نے خلیجی خطے میں مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے فعال اور تعمیری کردار ادا کیا ہے،تصادم کی بجائے تعاون ،تنازعہ کی بجائے مذاکرات اور طاقت کے استعمال کی بجائے پرامن حل کو فروغ دیا ہے،ہم پاکستان کی ثالثی کاوشوں اور سفارتی کردار کے لیے سیکرٹری جنرل کی حمایت کو سراہتے ہیں،پاکستان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے یو این 80 اقدام کی حمایت کرتا ہے،ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات اور خدشات اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں،ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کوششیں بڑھائی جائیں گی پاکستان اقوام متحدہ کے مقاصد کے حصول کے لیے ممبر ممالک کے ساتھ مل کر کوشاں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم تنازعہ جموں و کشمیر اور اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس تنازعہ کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے مسلسل موقف کو سراہتے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے معاملے سے بھی آگاہ کیا ہے جو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، ہم نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کے لئے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال کا معاملہ بھی اجاگر کیا ہے ،مجھے امید ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی برادری ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مدد کریں گے۔پاکستان اقوام متحدہ کے منشور، مقاصد و اصولوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستان کو یکجہتی اور حل کا ذریعہ سمجھتا ہے،پاکستان نے مشکل حالات میں بھی ہمدردی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے،پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی ،عشروں تک تنازعات سے متاثرہ لاکھوں افغانوں کے لیے دروازے کھلے رکھے،اقوام متحدہ افغانوں کی رضاکارانہ، باوقار اور محفوظ واپسی کی حمایت کرتا ہے ،پاکستان عالمی سطح پر مباحثوں میں اپنا اہم اور ضروری نکتہ نظر پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے پر پاکستان کی قیادت کو سلام پیش کرتا ہوں، اس سلسلے میں پاکستان کی کاوشیں قابل تحسین ہیں اور انہی کوششوں کے نتیجے میں 17 جون کی اسلام اباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے،جنگ بندی ہوئی اور مستقبل میں مذاکرات کے لیے فریم ورک تیار کیا گیا ہر پاکستانی کو اس اہم کردار پر فخر ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ تمام فریق تنازعات ختم کریں، سفارت کاری کی طرف واپس آئیں اور عالمی قانون کے مطابق بحری امدورفت کے حقوق اور ازادیوں کو مکمل بحال کریں۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو حق خود ارادیت دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا،اس خطے میں بھی امن اور سلامتی مذاکرات اور تعاون سے ہی ممکن ہے،پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دو سال میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور کثیر الجہتی نظام کو مضبوط بنانے، مذاکرات، اور ثالثی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ،پاکستان اقوام متحدہ کے امن دستوں میں طویل عرصے سے نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور اور پاکستان کے بہادر اہلکاروں نے دنیا میں امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے، ہم ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،ہم اقوام متحدہ کی قرارداد 2823 کی تیاری کے لئے پاکستان اور ڈنمارک کا قابل کردار ہے ۔انہوں نے کہا کہ 156 ممالک نے قرارداد کی سرپرستی کی جو سلامتی کونسل کی تاریخ میں تعداد میں سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے باعث بھاری جانی نقصان برداشت کیا ہے،اقوام متحدہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے،2022ء میں پاکستان کو سیلاب سے شدید نقصان ہوا ایسی تباہی اس سے پہلے میں نے نہیں دیکھی لیکن پاکستان کے عوام نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھرپور یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کیا عالمی سطح پر کاربن گیسوں کا اخراج میں معمولی حصہ ہونے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔قبل ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی جس میں فلسطین، جموں و کشمیر، افغانستان سمیت علاقائی اور عالمی امن و سلامتی سے متعلق امور،انسداد دہشت گردی اور کثیرالجہتی نظام کے مستقبل سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزارت خارجہ میں ہونے والی ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کیا اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے پاکستان کے مطالبے کا اعادہ کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا، جن میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات میں پاکستان کی سہولت کاری بھی شامل ہے۔ انہوں نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو مؤثر ترین ذریعہ قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عالمی ادارے کے لیے پاکستان کی دیرینہ خدمات کے ساتھ ساتھ مذاکرات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہاھے۔




