Islamabad High Court has declared Imran Khan’s arrest legal………Report, Asghar Ali Mubarak……….Islamabad High Court has declared Imran Khan’s arrest legal. Ordered to lodge an FIR on the arrest of Chairman PTI from the court premises and issued a show cause notice to the Interior Secretary, IG Islamabad for contempt of court. The Rangers arrested him on the orders of the Islamabad High Court, while the Islamabad High Court has declared his arrest in accordance with the law. He was accused of taking the land of Al-Qadir Trust University instead of the town. He said that Bahria Town, which was adjusted for Rs. The original price is five to 10 times more and this land was transferred by Bahria Town in the name of Al-Qadir Trust, this land was donated by Bahria Town and it is signed by the donor of Bahria Town on one side and former first lady Bushra on the other side. Khan, this valuable land was transferred in the name of Al-Qadir Trust which has two trustees in which the first is Bushra Khan and the second is the former Prime Minister.
In a statement issued by Islamabad Police, it has been confirmed that Imran Khan has been arrested in the Al-Qadir Trust case. According to IG Islamabad, the situation is normal, Section 144 is in force, action will be taken in case of violation. According to the available copy of Imran Khan’s arrest warrant, NAB has arrested Imran Khan under Section 9A of NAB Ordinance 1999, NAB has taken action under Section 34A, 18E, 24A. Imran Khan was arrested. According to the NAB statement, Imran Khan is accused of involvement in corruption and corrupt practices. According to the statement issued by NAB Rawalpindi, this case is related to the illegal acquisition and construction of land for Al-Qadir University, in which the main amount is 190 through the National Crime Agency of Great Britain. The recovery of millions of pounds involves illegal gain. After fulfilling the legal procedure of inquiry and investigation conducted by NAB Rawalpindi, the arrest of Imran Khan has been carried out. Because both were trustees of Al-Qadir Trust. None of the call-up notices were answered by the former prime minister or his wife. Former Special Assistant to the Prime Minister Shehzad Akbar is a key figure involved in the said case. /misleads his cabinet by concealing documents, 190 million British pounds was received under the settlement/agreement and was to be deposited in the national exchequer, contrary to the payment of Rs.460 billion in the Bahria Town Karachi case. It has been further stated that the process of issuing a red notice against the fugitive Shahzad Akbar, former special assistant to the former prime minister, has already been initiated.

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی گرفتاری قانونی قرار دے دی…….Islamabad High Court has declared Imran Khan’s arrest legal… ..رپورٹ، اصغر علی مبارک…. …….اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی گرفتاری قانونی قرار دے دی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالتی احاطے سے گرفتار کرنے پر ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کردیا۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کے حکم پر رینجرز نے گرفتار کیا جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی گرفتاری کو قانون کے مطابق قراردیا ہے ۔گزشتہ سال وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ پر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے ساز باز کر کے بحریہ ٹاؤن کے بدلے القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کی زمین لینے کا الزام عائد کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ بحریہ ٹاؤن نے جس کا 50 ارب روپیہ ایڈجسٹ کیا گیا، اس نے 458 کنال کی جگہ کا معاہدہ کیا جس کی مالیت کاغذات میں 93 کروڑ روپے جبکہ اصل قیمت پانچ سے 10 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کے نام پر منتقل کی، اس زمین کو بحریہ ٹاؤن نے عطیہ کیا اور اس میں ایک طرف دستخط بحریہ ٹاؤن کے عطیہ کنندہ کے ہیں اور دوسری جانب سابق خاتون اول بشریٰ خان کے ہیں، یہ قیمتی اراضی القادر ٹرسٹ کے نام پر منتقل کی گئی جس کے دو ہی ٹرسٹی ہیں جس میں پہلی بشریٰ خان ہیں اور دوسرے سابق وزیر اعظم ہیں۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔آئی جی اسلام آباد کے مطابق حالات معمول کے مطابق ہیں، دفعہ 144 نافذ العمل ہے، خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی دستیاب کاپی کے مطابق نیب نے عمران خان کو نیب آرڈیننس 1999 کے سکیشن 9 اے کے تحت گرفتار کیا، نیب نے 34 اے، 18 ای، 24 اے کے تحت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عمران خان کو گرفتار کیا۔ نیب اعلامیے کے مطابق عمران خان پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز میں ملوث ہونےکا الزام ہے، نیب راولپنڈی سے جاری بیان کے مطابق یہ مقدمہ القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے غیرقانونی حصول اور تعمیرات سے متعلق ہے جس میں نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ کے ذریعے بنیادی رقم 190 ملین پاؤنڈز کی وصولی میں غیرقانونی فائدہ شامل ہے۔ نیب راولپنڈی کی جانب سے کی گئی انکوائری اور انویسٹیگیشن کے قانونی طریقہ کار کو پورا کرنے کے بعد عمران خان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے، انکوائری/انویسٹیگیشن کے عمل کے دوران سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو متعدد کال اپ نوٹس جاری کئے گئے کیونکہ دونوں القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹیز تھے۔ سابق وزیراعظم یا ان کی اہلیہ کی طرف سے کسی بھی کال اپ نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا، سابق معاون خصوصی برائے وزیراعظم شہزاد اکبر مذکورہ کیس میں ملوث کلیدی کردار ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وہ اور سابق وزیراعظم تصفیہ معاہدے سے متعلق حقائق/دستاویزات کو چھپا کر اپنی کابینہ کو گمراہ کرتے ہیں، 190 ملین برطانوی پاؤنڈز رقم تصفیہ/معاہدے کے تحت موصول ہوئی تھی اور قومی خزانے میں جمع ہونی تھی، اس کے برعکس رقم کو بحریہ ٹائون کراچی کیس میں 460 ارب روپے کی ادائیگی کے معاملے میں ایڈجسٹ کیا گیا۔مزید کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی مفرور شہزاد اکبر کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرنے کی کارروائی پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔

دریں اثنا چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال ہے، میں تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہوں، بتائیں کہ کیوں کیا، کس مقدمے میں کیا؟وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہونے سے قبل آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے۔
چیف جسٹس کو آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ مجھے میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ عمران خان کو گرفتار کیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ عمران خان کو نیب نے کرپٹ ہریکٹس کے کیس میں گرفتار کیا۔آئی جی اسلام آباد نے نیب وارنٹ کی کاپی عدالت میں پیش کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جتنا میں نے دیکھا، اسٹاف نے بتایا، نیب نے تو گرفتار نہیں کیا، اگر تو قانون کے مطابق نہیں تو میں آرڈر جاری کروں گا۔

عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر نے عدالت کو بتایا کہ ان کی کوشش تھی کہ بائیو میٹرک کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے عمران خان کو گرفتار کریں، رینجرز نے شیشے توڑے، وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ انہوں نے عدالتی آزادی، بنیادی حقوق کی پامالی کی، انصاف تک رسائی ہر کسی کا بنیادی حق ہے، واقعہ عدالتی آزادی پر براہ راست حملہ ہے، قانون کہتا ہے انکوائری کے دوران نیب گرفتار نہیں کر سکتا، نیب تحقیقات کے دوران بھی مخصوص حالات میں گرفتار کرسکتا ہے، عمران خان بائیو میٹرک کرانے کے پراسس میں تھے۔
قبل ازیں عمران خان اسلام آباد میں درج 7 مختلف مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے تھے جہاں انہوں نے وکالت ناموں پر دستخط کیے۔
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ پہلے جب ہم آئے تو 5 درخواستیں لے کر آئے تھے، دروازے بند تھے اور 40 منٹ تک شدید شیلنگ کی گئی، ہم لاہور ہائی کورٹ میں گئے اور حفاظتی ضمانت حاصل کی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان کی تمام 7 درخواستوں پر دستخط اور انگوٹھے لگوا لیں۔خیال رہے کہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے لیے روانہ ہونے سے قبل ایک ویڈیو پیغام سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی توپوں کا رخ پاک فوج کی جانب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عزت صرف ایک ادارے کی نہیں ہر شہری کی ہونی چاہیے اور جو ادارہ اپنی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے وہ مضبوط ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے روانگی سے قبل میں 2 باتیں کرنا چاہتا ہوں، آئی ایس پی آر نے بیان دیا ہے کہ ادارے کی توہین کردی، فوج کی توہین کردی۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’ایک انٹیلی جنس افسر کا نام لے دیا، جس نے 2 مرتبہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کی، آئی ایس پی آر صاحب! ذرا میری غور سے بات سنیں، عزت صرف ایک ادارے کی نہیں ہے، عزت قوم میں ہر شہری کی ہونی چاہیے‘۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ’میں اس وقت قوم کی سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہوں، 50 سال سے قوم مجھے جانتی ہے، مجھے کوئی جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔ایک مرتبہ پھر اپنے الزامات دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس آدمی نے 2 مرتبہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کی اور جب بھی تحقیقات ہوں گی میں یہ ثابت کروں گا یہ وہ آدمی تھا، اور اس کے ساتھ پورا ٹولہ ہے اور اس کے ساتھ کون ہیں وہ بھی آج کے سوشل میڈیا کے زمانے میں سب کو پتا ہے‘۔واضح رہے کہ گزشتہ سال وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ پر بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض سے ساز باز کر کے بحریہ ٹاؤن کے بدلے القادر ٹرست کی زمین لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اسی بحریہ ٹاؤن نے جس کا 50 ارب روپیہ ایڈجسٹ کیا گیا، اس نے 458 کنال کی جگہ کا معاہدہ کیا جس کی مالیت کاغذات میں 93 کروڑ روپے جبکہ اصل قیمت پانچ سے 10 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین بحریہ ٹاؤن نے القادر ٹرسٹ کے نام پر منتقل کی، اس زمین کو بحریہ ٹاؤن نے عطیہ کیا اور اس میں ایک طرف دستخط بحریہ ٹاؤن کے عطیہ کنندہ کے ہیں اور دوسری جانب سابق خاتون اول بشریٰ خان کے ہیں، یہ قیمتی اراضی القادر ٹرسٹ کے نام پر منتقل کی گئی جس کے دو ہی ٹرسٹی ہیں جس میں پہلی بشریٰ خان ہیں اور دوسرے سابق وزیر اعظم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ بحریہ ٹاؤن کی 50 ارب روپے کی رقم انہوں نے برطانیہ منتقل کی اور اسے مروجہ قانون کے تحت منتقل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ رقم وہاں ٹریس ہو گئی اور برطانوی حکام اور نیشنل کرائم ایجنسی نے اس رقم کو اپنے قبضے میں لے لیا۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ برطانوی حکام نے پاکستانی حکام سے رابطہ کر کے انہیں آگاہ کیا کہ یہ رقم غیر قانونی ذرائع سے ہمارے پاس پہنچی ہے اور ہم نے اسے قبضے میں لے لیا، اس کی ملکیت حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام کی ہے تو یہاں سے ایسٹ ریکوری یونٹ کے شہزاد اکبر نے ریاست کی طرف سے اس معاملے کو دیکھا لیکن انہوں نے اس رقم کو پاکستان کے عوام کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنا حصہ مبینہ طور پر 5 ارب روپے طے کر کے دو نمبری کا طریقہ کار بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ 200 کنال مزید ہے، اس میں 100 کنال اراضی بنی گالا میں ہے اور یہ مسماۃ فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی ہے، اس کے علاوہ مارچ 2021 میں مزید 100 کنال اراضی بھی فرح شہزادی کے نام پر منتقل کی گئی، اگست میں مزید 40 کنال اراضی منتقل کی گئی۔خیال رہے کہ ہفتے کے روز اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشیدگی کے درمیان چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سے اظہار یکجہتی کے لیے پی ٹی آئی کی نکالی گئی احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر پر سخت تنقید کی تھی۔

عمران خان نے ایک حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسر کا نام لے کر الزام لگایا تھا کہ مجھے کچھ ہوا تو اس شخص کا نام یاد رکھنا جس نے مجھے پہلے بھی دو بار مارنے کی کوشش کی۔

اس کے ردِعمل میں گزشتہ روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے بغیر کسی ثبوت کے ایک حاضر سروس سینئر فوجی افسر پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جو من گھڑت، بدنیتی پر مبنی، افسوسناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال سے یہ ایک مستقل طرز عمل بن گیا ہے جس میں فوجی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اشتعال انگیز اور سنسنی خیز پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہم متعلقہ سیاسی رہنما سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قانونی راستہ اختیار کریں اور جھوٹے الزامات لگانا بند کریں۔

فوج کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی حاضر سروس جنرل کے خلاف بیان دینے پر عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے عمران خان نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا فوجی افسران قانون سے بالاتر ہیں۔

سابق وزیراعظم کہا کہ کیا ایک ایسے شخص جو گزشتہ چند ماہ کے دوران 2 قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنا، کے طور پر میں شہباز شریف سے درج ذیل سوالات پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ کیا بطور پاکستانی شہری مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں ان لوگوں کو نامزد کروں جو میرے خیال کے مطابق مجھ پر قاتلانہ حملے کے ذمہ دار تھے؟